🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب فَضْلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ وَاتِّبَاعِهَا:
باب: جنازہ کے پیچھے جانا اور نماز جنازہ پڑھنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 945 ترقیم شاملہ: -- 2193
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ فَقِيرَاطَانِ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَا الْقِيرَاطُ؟، قَالَ: مِثْلُ أُحُدٍ.
ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی تو اس کے لیے قیراط ہے اور جو اس کے ساتھ گیا حتیٰ کہ اسے قبر میں اتار دیا گیا تو (اس کے لیے) دو قیراط ہیں۔“ (ابوحازم نے) کہا: میں نے کہا: ”اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، قیراط کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”احد پہاڑ کے مانند۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2193]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی تو اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس کے ساتھ گیا، حتیٰ کہ اسے قبر میں رکھ دیا گیا تو (اس کے لیے) دو قیراط ہیں۔“ (ابو حازم نے) کہا: میں نے پوچھا: ”اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ! قیراط کی مقدار کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”احد پہاڑ کے مانند۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2193]
ترقیم فوادعبدالباقی: 945
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 945 ترقیم شاملہ: -- 2194
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ، إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ "، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَكْثَرَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَبَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا، فَصَدَّقَتْ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ.
نافع نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص جنازے کے پیچھے چلا تو اس کے لیے قیراط اجر ہے۔“ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں کثرت سے احادیث سنائی ہیں، اس کے بعد انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرمائی، اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یقیناً ہم نے بہت سے قیراطوں (کے حصول) میں کوتاہی کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2194]
نافع بیان کرتے ہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا گیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو جنازہ کے ساتھ (نماز تک) رہا اسے ایک قیراط کے برابر اجر ملے گا۔“ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں بہت احادیث سناتے ہیں“، اس کے بعد انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیج کر ان سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی، تو اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”ہم نے تو یقیناً بہت سے قیراط ضائع کر دیے۔“ (قراریط، قیراط کی جمع ہے) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2194]
ترقیم فوادعبدالباقی: 945
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 945 ترقیم شاملہ: -- 2195
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ، كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنْ أَجْرٍ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ "، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَى عَائِشَةَ، يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيُخْبِرُهُ مَا قَالَتْ، وَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصْبَاءِ الْمَسْجِدِ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، حَتَّى رَجَعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ، فَقَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَى الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ.
داود بن عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد عامر سے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ صاحب مقصود خباب رضی اللہ عنہ نے آکر کہا: ”اے عبداللہ بن عمر! کیا آپ نے سنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا کہتے ہیں؟ بلاشبہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلا اور اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر اس کے ساتھ رہا حتیٰ کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کے لیے بطور اجر دو قیراط ہیں، ہر قیراط احد (پہاڑ) کے مانند ہے اور جس نے اس کی نماز جنازہ ادا کی اور لوٹ آیا اس کا اجر احد پہاڑ جیسا ہے۔‘“ (یہ بات سن کر) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خباب رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا (تاکہ) وہ ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں دریافت کریں اور پھر واپس آکر ان کو بتائیں کہ انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کیا کہا۔ (اس دوران میں) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد کی کنکریوں سے ایک مٹھی بھر لی اور ان کو اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ کرنے لگے یہاں تک کہ پیغام رساں ان کے پاس واپس آگیا، اس نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے، اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے وہ کنکریاں جو ان کے ہاتھ میں تھیں زمین پر دے ماریں، پھر کہا: یقیناً ہم نے بہت قیراطوں (کے حصول) میں کوتاہی کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2195]
داؤد بن عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد عامر بن سعد سے بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ مقصورہ والے خباب آ کر کہنے لگے: ”اے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما! کیا آپ وہ بات سنتے ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص جنازہ کے ساتھ اس کے گھر سے نکلا اور اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر اس کے ساتھ رہا، حتیٰ کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کو اجر کے دو قیراط ملیں گے، ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے، اور جس نے اس کی نماز جنازہ ادا کی اور لوٹ آیا اسے ایک احد کے برابر اجر ملے گا۔““ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خباب رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں پوچھیں اور پھر انہیں واپس آ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے جواب سے آگاہ کریں۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد کی کنکریوں سے مٹھی بھر لی اور ان کو الٹ پلٹ کرنے لگے حتیٰ کہ فرستادہ نے آ کر بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کر دی ہے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جو کنکریاں ان کے ہاتھ میں تھیں زمین پر دے ماریں، پھر کہا: ”ہم نے بہت سارے قیراط ضائع کر دیے۔“ (ان کے ثواب سے محروم ہو گئے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2195]
ترقیم فوادعبدالباقی: 945
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 946 ترقیم شاملہ: -- 2196
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ "،
شعبہ نے کہا: ہمیں قتادہ نے سالم بن ابی جعد سے حدیث سنائی، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ پڑھی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور اگر وہ اس کے دفن میں شامل ہوا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں، (ایک) قیراط احد (پہاڑ) کے مانند ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2196]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ پڑھی، اسے ایک قیراط اجر ملے گا، اور اگر وہ دفن تک حاضر رہا تو اسے دو قیراط اجر ملے گا، اور قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2196]
ترقیم فوادعبدالباقی: 946
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 946 ترقیم شاملہ: -- 2197
وحَدَّثَنِي ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قال: وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ كُلُّهُمْ، عَنْ قَتَادَةَبِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ، وَهِشَامٍ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِيرَاطِ؟، فَقَالَ: " مِثْلُ أُحُدٍ ".
ہشام، سعید اور ابان نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ سابقہ حدیث کے مانند روایت کی، سعید اور ہشام کی حدیث میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”احد (پہاڑ) کے مانند۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2197]
امام صاحب اپنے کئی دوسرے اساتذہ سے یہی روایت نقل کرتے ہیں، سعید اور ہشام کی حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احد کی مثل ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2197]
ترقیم فوادعبدالباقی: 946
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ مِائَةٌ شُفِّعُوا فِيهِ:
باب: جس شخص کا جنازہ سو آدمی پڑھیں اس میت کے لیے ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 947 ترقیم شاملہ: -- 2198
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعِ عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مَيِّتٍ تُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ مِائَةً، كُلُّهُمْ يَشْفَعُونَ لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ "، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ شُعَيْبَ بْنَ الْحَبْحَابِ ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سلام بن ابی مطیع نے ایوب سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دودھ شریک بھائی عبداللہ بن یزید سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی (مسلمان) مرنے والا جس کی نماز جنازہ مسلمانوں کی ایک جماعت جن کی تعداد سو تک پہنچی ہو ادا کرے، وہ سب اس کی سفارش کریں تو اس کے بارے میں ان کی سفارش قبول کر لی جاتی ہے۔“ (سلام نے) کہا: میں نے یہ حدیث شعیب بن حجاب کو بیان کی تو انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2198]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میت پر مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت نماز پڑھے جن کی تعداد سو کو پہنچ جائے، وہ سب اللہ کے حضور میں اس میت کے حق میں سفارش کریں (یعنی اس کی مغفرت اور رحمت کی دعا کریں) تو ان کی یہ سفارش ضرور قبول ہو گی۔“ سلام بن ابی مطیع کہتے ہیں: ”میں نے یہ روایت شعیب بن حجاب کو سنائی تو انہوں نے مجھے یہی روایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2198]
ترقیم فوادعبدالباقی: 947
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. باب مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ أَرْبَعُونَ شُفِّعُوا فِيهِ:
باب: جس میت کی چالیس لوگ نماز جنازہ پڑھیں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 948 ترقیم شاملہ: -- 2199
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، والوليد بن شجاع السكوني ، قال الْوَلِيدُ: حَدَّثَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ، فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا لَهُ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: تَقُولُ هُمْ أَرْبَعُونَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَخْرِجُوهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ فِيهِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ہارون بن معروف، ہارون بن سعید ایلی اور ولید بن شجاع میں سے ولید نے کہا: مجھے حدیث سنائی اور دوسرے دونوں نے کہا: ہمیں حدیث سنائی، ابن وہب نے، انہوں نے کہا: مجھے ابوصخر نے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ قدید یا عسفان میں ان کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے کہا: ”کریب! دیکھو اس کے (جنازے کے) لیے کتنے لوگ جمع ہو چکے ہیں۔“ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ اس کی خاطر (خاصے) لوگ جمع ہو چکے ہیں تو میں نے ان کو اطلاع دی۔ انہوں نے پوچھا: تو کہتے ہو کہ وہ چالیس ہوں گے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ تو انہوں نے فرمایا: اس (میت) کو (گھر سے) باہر نکالو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی مسلمان فوت ہو جاتا ہے اور اس کے جنازے پر (ایسے) چالیس آدمی (نماز ادا کرنے کے لیے) کھڑے ہو جاتے ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں ان کی سفارش کو قبول فرما لیتا ہے۔“ ابن معروف کی روایت میں ہے: انہوں نے شریک بن ابی نمر سے، انہوں نے کریب سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ (اس سند میں شریک کے والد اور ابونمر کے بیٹے عبداللہ کا نام لیے بغیر دادا کی طرف منسوب کرتے ہوئے شریک بن ابی نمر کہا گیا ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2199]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام حضرت کریب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے کا انتقال مقام قدید یا مقام عسفان میں ہو گیا، تو انہوں نے کہا: ”اے کریب! دیکھو کس قدر لوگ جمع ہو چکے ہیں۔“ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ اس کی خاطر کافی لوگ جمع ہو چکے ہیں، تو میں نے ان کو اطلاع دی۔ انہوں نے پوچھا: ”تیرے خیال میں وہ چالیس ہوں گے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جنازہ باہر نکالو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس مسلمان آدمی کا انتقال ہو جائے، اس کی نماز ایسے چالیس آدمی پڑھیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراتے ہوں (اور وہ نماز میں اس کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا کریں) تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ان کی سفارش کو قبول فرما لیتا ہے۔““ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2199]
ترقیم فوادعبدالباقی: 948
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب فِيمَنْ يُثْنَى عَلَيْهِ خَيْرٌ أَوْ شَرٌّ مِنَ الْمَوْتَى:
باب: میتوں میں سے جس کی اچھی یا بری تعریف کی جائے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 949 ترقیم شاملہ: -- 2200
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ "، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ "، قَالَ عُمَرُ: فِدًى لَكَ أَبِي وَأُمِّي، مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ، فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ، فَقُلْتَ: وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ "،
عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی صفت بیان کی گئی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔“ اس کے بعد ایک اور جنازہ گزرا تو اس کی بری صفت بیان کی گئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔“ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں! ایک جنازہ گزرا اور اس کی اچھی صفت بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا: ’واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔‘ ایک اور جنازہ گزرا اور اس کی بری صفت بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا: ’واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔‘ (اس کا مطلب کیا ہے؟)“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی تم لوگوں نے اچھی صفت بیان کی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے بری صفت بیان کی اس کے لیے آگ واجب ہو گئی، تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو، تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو، تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2200]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی تعریف کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی“، ایک اور جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی“، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں! ایک جنازہ گزرا اور اس کی تعریف اور خیر کا تذکرہ کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی“، دوسرا جنازہ گزرا اور اس کی برائی اور مذمت بیان کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی““، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی تم لوگوں نے بھلائی اور خیر کا ذکر کیا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی بیان کی اس کے لیے آگ واجب ہو گئی، تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو، تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو، تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2200]
ترقیم فوادعبدالباقی: 949
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 949 ترقیم شاملہ: -- 2201
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ "، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَتَمُّ.
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے انس سے عبدالعزیز کی (سابقہ) حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، البتہ عبدالعزیز کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2201]
امام صاحب دوسرے اساتذہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جنازہ گزرا“، عبدالعزیز کے ہم معنی روایت بیان کی ہے لیکن عبدالعزیز کی روایت اس کے مقابلہ میں کامل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2201]
ترقیم فوادعبدالباقی: 949
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب مَا جَاءَ فِي: «مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ» :
باب: آرام پانے والے اور جس سے آرام حاصل کیا گیا ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 950 ترقیم شاملہ: -- 2202
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ، فَقَالَ: " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟، فَقَالَ: الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ "،
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے، انہوں نے معبدبن کعب بن مالک سے اور انہوں نے حضرت قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا: ”آرام پانے والا ہے یا اس سے آرام ملنے والا ہے۔“ انہوں (صحابہ) نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! آرام پانے والا یا جس سے آرام ملنے والا ہے سے کیا مراد ہے؟“ تو آپ نے فرمایا: ”بندہ مومن دنیا کی تکلیف سے آرام پاتا ہے اور فاجر بندے (کے مرنے) سے لوگ، شہر، درخت اور حیوانات آرام پاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2202]
ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آرام پانے والا ہے یا لوگوں کو اس سے آرام (چھٹکارہ) حاصل ہو گیا ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! «مُسْتَرِيحٌ» اور «مُسْتَرَاحٌ مِنْهُ» سے کیا مراد ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن بندہ دنیا کی تکلیفوں اور مشقتوں سے آرام پاتا ہے اور برے بندے سے، بندوں، علاقوں، درختوں اور حیوانات کو آرام مل جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2202]
ترقیم فوادعبدالباقی: 950
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں