صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب تَسْجِيَةِ الْمَيِّتِ:
باب: میت کو کپڑے کے ساتھ ڈھانپ دینے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 942 ترقیم شاملہ: -- 2183
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد ، قَالَ عَبْدُ أَخْبَرَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: " سُجِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَ بِثَوْبِ حِبَرَةٍ "،
صالح بن کیسان نے ابن شہاب زہری سے روایت کی، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے خبر دی کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آپ کو دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2183]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمنی دھاری دار چادر میں ڈھانپ دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2183]
ترقیم فوادعبدالباقی: 942
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 942 ترقیم شاملہ: -- 2184
وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّبِهَذَا الْإِسْنَادِ سَوَاءً.
معمر اور شہاب نے ابن شہاب زہری سے اسی سند کے ساتھ بالکل اسی طرح حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2184]
مصنف نے اپنے دوسرے دو اساتذہ سے بھی یہی روایت نقل کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2184]
ترقیم فوادعبدالباقی: 942
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
15. باب فِي تَحْسِينِ كَفَنِ الْمَيِّتِ:
باب: میت کو اچھے کپڑوں میں کفن دینا چاہیئے۔
ترقیم عبدالباقی: 943 ترقیم شاملہ: -- 2185
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ وَقُبِرَ لَيْلًا، فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ، حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا، أَنْ يُضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلَى ذَلِكَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحَسِّنْ كَفَنَهُ ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، آپ نے اپنے اصحاب میں سے ایک آدمی کا تذکرہ فرمایا جو فوت ہوا تو اس کو معمولی (کپڑے میں) کفن دیا گیا اور رات ہی کو دفن کر دیا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی آدمی کو رات کو دفن کرنے سے ڈانٹ کر روکا یہاں تک کہ اس کی (شان کے شایان) طریقے سے نماز جنازہ ادا کی جائے، الا یہ کہ کوئی انسان اس پر مجبور ہو جائے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اسے اچھا کفن دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2185]
ابوزبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا اور اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی کا تذکرہ فرمایا، جسے مرنے کے بعد حقیر سے چھوٹے کپڑے میں کفن دیا گیا اور رات ہی کو دفن کر دیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر سرزنش و توبیخ فرمائی کہ کسی آدمی کو جنازہ پڑھے بغیر رات کو دفن کر دیا جائے، الا یہ کہ کوئی انسان ایسا کرنے پر مجبور ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2185]
ترقیم فوادعبدالباقی: 943
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
16. باب الإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ:
باب: جنازے کو جلدی لے جانے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 944 ترقیم شاملہ: -- 2186
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ لَعَلَّهُ، قَالَ: تُقَدِّمُونَهَا عَلَيْهِ، وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ "،
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جنازے (کو لے جانے) میں جلدی کرو، اگر وہ (میت) نیک ہے تو جس کی طرف تم اس کو لے جا رہے ہو وہ خیر ہے، اگر وہ اس کے سوا ہے تو پھر وہ شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2186]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازہ کو جلدی لے جاؤ، اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو، اگر وہ اس کے سوا ہے، تو پھر تم شر کو اپنی گردنوں سے اتارو گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2186]
ترقیم فوادعبدالباقی: 944
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 944 ترقیم شاملہ: -- 2187
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ.
معمر اور محمد بن ابی حفصہ دونوں نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہی حدیث) روایت کی، لیکن معمر کی حدیث میں ہے، انہوں نے کہا: میں اس کے سوا اور کچھ نہیں جانتا کہ انہوں (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے اس حدیث کو مرفوع (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) بیان کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2187]
مصنف نے اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی یہی روایت نقل کی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میرے علم میں اس نے اس حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2187]
ترقیم فوادعبدالباقی: 944
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 944 ترقیم شاملہ: -- 2188
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَرَّبْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ كَانَ شَرًّا تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ ".
ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جنازے میں جلدی کرو، اگر (میت) نیک ہے تو تم نے اسے بھلائی کے قریب کر دیا اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2188]
مصنف اپنے تین اساتذہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جنازہ لے جاؤ کیونکہ اگر میت نیک ہے تو تم اسے بھلائی کے قریب کر رہے ہو اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو تم شر کو اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔““ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2188]
ترقیم فوادعبدالباقی: 944
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
17. باب فَضْلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ وَاتِّبَاعِهَا:
باب: جنازہ کے پیچھے جانا اور نماز جنازہ پڑھنے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 945 ترقیم شاملہ: -- 2189
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، واللفظ لهارون، وحرملة، قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ "، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟، قَالَ: مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ، انْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ، وَزَادَ الْآخَرَانِ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَيْهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَلَمَّا بَلَغَهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَقَدْ ضَيَّعْنَا قَرَارِيطَ كَثِيرَةً،
ابوطاہر، حرملہ، یحییٰ اور ہارون بن سعید ایلی۔۔۔ اس روایت کے الفاظ ہارون اور حرملہ کے ہیں۔۔۔ میں سے ہارون نے کہا: ہمیں حدیث سنائی اور دوسرے دونوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے عبدالرحمن بن ہرمز اعرج نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے میں شریک رہا یہاں تک کہ نماز جنازہ ادا کر لی گئی تو اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس (جنازے) میں شریک رہا حتیٰ کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔“ پوچھا گیا: دو قیراط سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بڑے پہاڑوں کے مانند۔“ ابوطاہر کی حدیث یہاں ختم ہو گئی۔ دوسرے دو اساتذہ نے اضافہ کیا: ابن شہاب نے کہا: سالم بن عبداللہ بن عمر نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز جنازہ پڑھ کر لوٹ آتے تھے، جب ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پہنچی تو انہوں نے کہا: یقیناً ہم نے بہت سے قیراطوں میں نقصان اٹھایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2189]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے میں شریک رہا یہاں تک کہ نماز جنازہ ادا کر لی گئی تو اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے اور جو اس کے ساتھ رہا حتی کہ اس کو دفن کر دیا گیا، تو اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔“ پوچھا گیا: ”دو قیراط سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بڑے پہاڑوں کے مانند۔“ ابوطاہر کی حدیث یہاں ختم ہو گئی۔ دوسرے دو اساتذہ بیان کرتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ بن عمر نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز جنازہ پڑھ کر لوٹ آتے تھے، جب ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پہنچی تو کہنے لگے: ”ہم نے تو یقیناً بہت سارے قیراط ضائع کر دیے (ان کے ثواب سے محروم رہ گئے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2189]
ترقیم فوادعبدالباقی: 945
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 945 ترقیم شاملہ: -- 2190
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْلِهِ: " الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ "، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَى: " حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا "، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: " حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ "،
عبدالاعلیٰ اور عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ روایت) ان الفاظ: ”دو عظیم پہاڑوں تک“ بیان کی اور اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ اور عبدالاعلیٰ کی حدیث میں ہے: ”یہاں تک کہ اس (کے دفن) سے فراغت ہو جائے۔“ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے: ”یہاں تک کہ اس کو لحد میں رکھ دیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2190]
یہی روایت مصنف اپنے چار اور اساتذہ سے دو بڑے پہاڑوں تک بیان کرتے ہیں، اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کرتے، عبدالاعلیٰ کی روایت «حَتَّى تُدْفَنَ» میں کی جگہ «حَتَّى يُفْرَغَ» تھا ”حتیٰ کہ اس سے فارغ ہوا جائے“ اور عبدالرزاق کی حدیث میں «حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ» ہے یعنی ”حتیٰ کہ لحد میں اتار یا رکھ دیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2190]
ترقیم فوادعبدالباقی: 945
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 945 ترقیم شاملہ: -- 2191
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي رِجَالٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، وَقَالَ: " وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ ".
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے کئی لوگوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس طرح معمر کی حدیث ہے اور کہا: ”اور جو اس کو دفن کیے جانے تک اس کے ساتھ رہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2191]
یہی روایت ایک اور استاد سے مروی ہے، اس میں ہے: ”جو شخص اس کے دفن ہونے تک اس کے ساتھ رہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2191]
ترقیم فوادعبدالباقی: 945
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 945 ترقیم شاملہ: -- 2192
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، وَلَمْ يَتْبَعْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ تَبِعَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ "، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟، قَالَ: أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ ".
سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی اور اس کے پیچھے (قبرستان) نہیں گیا تو اس کے لیے ایک قیراط (اجر) ہے اور اگر وہ اس کے پیچھے گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔“ پوچھا گیا: دو قیراط کیا ہیں؟ فرمایا: ”ان دونوں میں سے چھوٹا احد پہاڑ کے مانند ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2192]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی اور اس کے ساتھ (قبر پر نہیں گیا تھا) تو اسے ایک قیراط اجر ملے گا، پس اگر وہ اس کے ساتھ (قبرپر) گیا (اور دفن تک وہاں رہا) تو اسے دو قیراط ثواب ملے گا“ پوچھا گیا، دو قیراط کی حقیقت کیا ہے؟ فرمایا: ”ان میں سے چھوٹا احد پہاڑ کے مانند ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2192]
ترقیم فوادعبدالباقی: 945
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة