🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ:
باب: جنازہ کے لئے کھڑے ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 960 ترقیم شاملہ: -- 2223
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ ".
محمد بن رافع نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی، کہا: مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ وہ (نگاہوں سے) اوجھل ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2223]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ایک جنازے کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کھڑے ہو گئے، حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2223]
ترقیم فوادعبدالباقی: 960
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 960 ترقیم شاملہ: -- 2224
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَيْضًا، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ ".
ابن جریج سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے ابوزبیر نے یہ خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ وہ (نگاہوں سے) اوجھل ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2224]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی ایک یہودی کے جنازے کی خاطر کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2224]
ترقیم فوادعبدالباقی: 960
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 961 ترقیم شاملہ: -- 2225
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ ، وَسَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ كَانَا بِالْقَادِسِيَّةِ، فَمَرَّتْ بِهِمَا جَنَازَةٌ فَقَامَا، فَقِيلَ لَهُمَا: إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَقَالَا: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ، فَقِيلَ: إِنَّهُ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ: " أَلَيْسَتْ نَفْسًا "،
شعبہ نے عمرو بن مرہ سے اور انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی کہ حضرت قیس بن سعد اور سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما قادسہ میں (مقیم) تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے، اس پر ان دونوں سے کہا گیا کہ وہ اسی زمین (کے ذمی) لوگوں میں سے ہے، تو ان دونوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: یہ تو یہودی (کا جنازہ) ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ ایک جان نہیں؟“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2225]
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ حضرت قیس بن سعد اور حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما قادسیہ کے مقام پر تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے، انہیں بتایا گیا کہ وہ اس زمین کا (کافر) باشندہ ہے، تو ان دونوں نے جواب دیا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ یہودی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَلَيْسَتْ نَفْسًا» ”کیا وہ ذی روح (جاندار) نہیں ہے؟“” [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2225]
ترقیم فوادعبدالباقی: 961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 961 ترقیم شاملہ: -- 2226
وحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِيهِ فَقَالَا: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّتْ عَلَيْنَا جَنَازَةٌ ".
اعمش نے عمرو بن مرہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اس میں ہے: ان دونوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہمارے سامنے سے ایک جنازہ گزرا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2226]
امام صاحب یہی روایت ایک دوسرے استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے کہ ان دونوں نے جواب دیا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2226]
ترقیم فوادعبدالباقی: 961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. باب نَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ:
باب: جنازہ کے لئے کھڑا ہونا منسوخ ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 962 ترقیم شاملہ: -- 2227
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، أَنَّهُ قَالَ: رَآنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ وَنَحْنُ فِي جَنَازَةٍ قَائِمًا، وَقَدْ جَلَسَ يَنْتَظِرُ أَنْ تُوضَعَ الْجَنَازَةُ، فَقَالَ لِي: مَا يُقِيمُكَ؟، فَقُلْتُ: أَنْتَظِرُ أَنْ تُوضَعَ الْجَنَازَةُ لِمَا يُحَدِّثُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَقَالَ نَافِعٌ : فَإِنَّ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَنِي، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ ".
لیث نے یحییٰ بن سعید سے اور انہوں نے واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نافع بن جبیر نے مجھے کھڑے ہونے کی حالت میں دیکھا جبکہ ہم ایک جنازے میں شریک تھے اور وہ خود بیٹھ کر جنازے کو رکھ دیے جانے کا انتظار کر رہے تھے۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا: ”تمہیں کس چیز نے کھڑا کر رکھا ہے؟“ میں نے کہا: ”میں انتظار کر رہا ہوں کہ جنازہ رکھ دیا جائے کیونکہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ (اس کے بارے میں) حدیث بیان کرتے ہیں۔“ تو نافع نے کہا: ”مجھے مسعود بن حکم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ہے، انہوں نے کہا: ’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ابتداء میں جنازوں کے لیے) کھڑے ہوئے، پھر (بعد میں) بیٹھتے رہے۔‘“ اور انہوں (نافع) نے یہ روایت اس لیے بیان کی کہ نافع بن جبیر نے واقد بن عمرو کو دیکھا وہ جنازے کے رکھ دیے جانے تک کھڑے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2227]
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ سے روایت ہے کہ نافع بن جبیر نے مجھے، جبکہ ہم ایک جنازے میں تھے، کھڑے دیکھا اور وہ اس انتظار میں بیٹھ چکے تھے کہ اسے قبر میں اتار دیا جائے، تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”تم کیوں کھڑے ہو؟“ میں نے کہا: ”اس انتظار میں کہ جنازہ رکھ دیا جائے، کیونکہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ یہی بیان کرتے ہیں۔“ تو نافع نے کہا: ”مجھے مسعود بن حکم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، پھر بیٹھ گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2227]
ترقیم فوادعبدالباقی: 962
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 962 ترقیم شاملہ: -- 2228
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جميعا، عَنْ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍأَخْبَرَهُ، أَنَّ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ فِي شَأْنِ الْجَنَائِزِ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَامَ ثُمَّ قَعَدَ "، وَإِنَّمَا حَدَّثَ بِذَلِكَ لِأَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، رَأَى وَاقِدَ بْنَ عَمْرٍ وَقَامَ حَتَّى وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ،
عبدالوہاب نے کہا: میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، کہا: مجھے واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ انصاری نے خبر دی کہ نافع بن جبیر نے ان کو خبر دی کہ ان کو مسعود بن حکم انصاری نے بتایا کہ انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ جنازوں کے بارے میں کہتے تھے: ”(پہلے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تھے (بعد میں) بیٹھے رہتے۔“ اور انہوں (نافع) نے یہ روایت اس لیے بیان کی کہ نافع بن جبیر نے واقد بن عمرو کو دیکھا وہ جنازے کے رکھ دیے جانے تک کھڑے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2228]
مسعود بن حکم انصاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو جنازوں کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، پھر بیٹھ گئے۔“ نافع بن جبیر رحمہ اللہ نے یہ روایت اس لیے بیان کی کہ انہوں نے واقد بن عمرو کو جنازہ رکھے جانے تک کھڑے ہوئے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2228]
ترقیم فوادعبدالباقی: 962
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 962 ترقیم شاملہ: -- 2229
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابن ابی زائدہ نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2229]
”امام صاحب نے ایک دوسرے استاد سے یہی روایت نقل کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2229]
ترقیم فوادعبدالباقی: 962
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 962 ترقیم شاملہ: -- 2230
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا، وَقَعَدَ فَقَعَدْنَا يَعْنِي فِي الْجَنَازَةِ "،
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے محمد بن منکدر سے حدیث سنائی، کہا: میں نے مسعود بن حکم سے سنا، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوئے اور آپ بیٹھنے لگے تو ہم بھی بیٹھنے لگے، یعنی جنازے میں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2230]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہوئے دیکھا تو ہم بھی کھڑے ہو گئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو ہم بھی بیٹھ گئے، یعنی جنازہ میں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2230]
ترقیم فوادعبدالباقی: 962
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 962 ترقیم شاملہ: -- 2231
یحییٰ قطان نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2231]
امام صاحب نے دوسرے دو اساتذہ سے بھی یہی روایت نقل کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2231]
ترقیم فوادعبدالباقی: 962
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ فِي الصَّلاَةِ:
باب: نماز جنازہ میں میت کے لئے دعا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 963 ترقیم شاملہ: -- 2232
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ سَمِعَهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ، فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ "، قَالَ: حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذَلِكَ الْمَيِّتَ، قَالَ: وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا،
ابن وہب نے کہا: مجھے معاویہ بن صالح نے حبیب بن عبید سے خبر دی، انہوں نے اس حدیث کو جبیر بن نفیر سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پڑھایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو یاد کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم فرما اور اسے عافیت دے، اسے معاف فرما اور اس کی باعزت ضیافت فرما اور اس کے داخل ہونے کی جگہ (قبر) کو وسیع فرما اور اس (کے گناہوں) کو پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا اور اسے اس گھر کے بدلے میں بہتر گھر، اس کے گھر والوں کے بدلے میں بہتر گھر والے اور اس کی بیوی کے بدلے میں بہتر بیوی عطا فرما اور اس کو جنت میں داخل فرما اور قبر کے عذاب سے اور آگ کے عذاب سے اپنی پناہ عطا فرما۔“ کہا: یہاں تک ہوا کہ میرے دل میں آرزو پیدا ہوئی کہ یہ میت میں ہوتا! (معاویہ نے) کہا: مجھے عبدالرحمان بن جبیر نے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (حبیب بن عبید کی) اسی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2232]
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پڑھایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے یہ الفاظ یاد کر لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حضور عرض کر رہے تھے: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ» ”اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحمت فرما، اس کو عافیت دے (عذاب سے بچا)، اس کو معاف کر دے، اس کی باعزت مہمانی فرما، اس کی قبر کو وسیع فرما دے، (جہنم کی آگ اور اس کی سوزش و جلن کی بجائے) پانی سے، برف سے اور اولوں سے اسے نہلا دے، اور اسے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے، جس طرح تو نے اجلے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف فرما دیا ہے اور اس کو اس کے گھر کے بدلے اچھا گھر اور اس کے گھر والوں کے بدلے میں اچھے گھر والے اور اس کی رفیقہ حیات کے بدلہ میں اچھی رفیقہ حیات (بیوی) عطا فرما دے، اور اس کو جنت میں داخل فرما اور اسے عذابِ قبر یا آگ کے عذاب سے پناہ دے۔“ حدیث کے راوی حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا سن کر میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش یہ میت میں ہوتا۔“ امام صاحب رحمہ اللہ نے اپنے ایک اور استاد سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2232]
ترقیم فوادعبدالباقی: 963
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں