🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب مَا جَاءَ فِي: «مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ» :
باب: آرام پانے والے اور جس سے آرام حاصل کیا گیا ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 950 ترقیم شاملہ: -- 2203
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: " يَسْتَرِيحُ مِنْ أَذَى الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ ".
یحییٰ بن سعید اور عبدالرزاق نے عبداللہ بن سعید سے، انہوں نے محمد بن عمرو سے، انہوں نے کعب بن مالک کے بیٹے (معبد) سے، انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (سابقہ حدیث کے مانند) روایت بیان کی اور یحییٰ کی حدیث میں ہے: ”وہ (مومن بندہ) اللہ کی رحمت میں آکر دنیا کی اذیت اور تکان سے آرام حاصل کر لیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2203]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی یہی روایت نقل کرتے ہیں اور یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ”مومن بندہ دنیا کی تکلیفوں اور مشقتوں سے نجات پا کر اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کر لیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2203]
ترقیم فوادعبدالباقی: 950
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. باب فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ:
باب: نماز جنازہ میں تکبیروں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 951 ترقیم شاملہ: -- 2204
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى، وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دن نجاشی فوت ہوئے، لوگوں کو ان کی وفات کی اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے ساتھ باہر جنازہ گاہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2204]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دن نجاشی فوت ہوا، لوگوں کو اس کی موت کی اطلاع دی اور انہیں لے کر نماز گاہ گئے اور جنازہ کے لیے چار تکبیریں کہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2204]
ترقیم فوادعبدالباقی: 951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 951 ترقیم شاملہ: -- 2205
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وأبي سلمة بن عبد الرحمن أنهما حدثاه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَفَّ بِهِمْ بِالْمُصَلَّى، فَصَلَّى فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ "،
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حبشہ والے (حکمران) نجاشی کی، جس دن وہ فوت ہوئے، موت کی خبر دی اور فرمایا: ”اپنے بھائی کے لیے بخشش کی دعا کرو۔“ ابن شہاب نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے حدیث سنائی کہ ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ گاہ میں ان کی صفیں بنوائیں، نماز (جنازہ) پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2205]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس دن شاہِ حبشہ نجاشی فوت ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کی موت کی خبر دی اور فرمایا: ”اپنے بھائی کے لیے بخشش کی دعا کرو۔“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری عیدگاہ میں صف بندی فرمائی اور نمازِ جنازہ پڑھی اور اس پر چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2205]
ترقیم فوادعبدالباقی: 951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 951 ترقیم شاملہ: -- 2206
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ كَرِوَايَةِ عُقَيْلٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا.
صالح نے دونوں سندوں کے ساتھ ابن شہاب سے عقیل (بن خالد) کی روایت کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2206]
امام صاحب نے مذکورہ بالا سندوں سے اپنے تین اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2206]
ترقیم فوادعبدالباقی: 951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 952 ترقیم شاملہ: -- 2207
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ".
سعید بن میناء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصمحہ نجاشی کی نماز جنازہ ادا کی تو اس پر چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2207]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اصمحہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی اور اس میں چار تکبیریں کہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2207]
ترقیم فوادعبدالباقی: 952
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 952 ترقیم شاملہ: -- 2208
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدٌ لِلَّهِ صَالِحٌ أَصْحَمَةُ "، فَقَامَ فَأَمَّنَا وَصَلَّى عَلَيْهِ.
عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج اللہ کا ایک نیک بندہ اصمحہ فوت ہو گیا ہے۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہماری امامت کرائی اور اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2208]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج ایک نیک انسان، اصمحہ فوت ہو گیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہماری امامت فرمائی اور اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2208]
ترقیم فوادعبدالباقی: 952
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 952 ترقیم شاملہ: -- 2209
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ "، قَالَ: فَقُمْنَا فَصَفَّنَا صَفَّيْنِ.
ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تمہارا ایک بھائی وفات پا گیا ہے، لہذا تم لوگ اٹھو اور اس پر نماز (جنازہ) پڑھو۔“ (جابر رضی اللہ عنہما نے) کہا: اس پر ہم اٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری دو صفیں بنائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2209]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھائی فوت ہو گیا ہے، اٹھو اور اس کا جنازہ پڑھو۔“ تو ہم نے اٹھ کر دو صفیں باندھ لیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2209]
ترقیم فوادعبدالباقی: 952
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 953 ترقیم شاملہ: -- 2210
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: " إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ "، يَعْنِي: النَّجَاشِيَ، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ: " إِنَّ أَخَاكُمْ ".
زہیر بن حرب، علی بن حجر، اور یحییٰ بن ایوب نے کہا: ہمیں اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابومہلب سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ایک بھائی وفات پا گیا ہے لہذا تم اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو۔“ آپ کی مراد نجاشی سے تھی۔ اور زہیر کی روایت میں «إن أخالكم» (تمہارا ایک بھائی) کی بجائے «إن أخاكم» (تمہارا بھائی) کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2210]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھائی فوت ہو چکا ہے، تو اٹھو اور اس کا جنازہ پڑھو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد نجاشی تھا، زہیر کی روایت میں «إِنَّ أَخَا لَكُمْ» کی بجائے «أَخَاكُمْ» ہے۔ (مقصد ایک ہی ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2210]
ترقیم فوادعبدالباقی: 953
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ:
باب: قبر پر نماز جنازہ پڑھنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 954 ترقیم شاملہ: -- 2211
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا "، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ: فَقُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا؟، قَالَ: الثِّقَةُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَسَنٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: " انْتَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرٍ رَطْبٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفُّوا خَلْفَهُ، وَكَبَّرَ أَرْبَعًا "، قُلْتُ لِعَامِرٍ: مَنْ حَدَّثَكَ؟، قَالَ: الثِّقَةُ مَنْ شَهِدَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ،
حسن بن ربیع اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عبداللہ بن ادریس نے شیبانی سے حدیث سنائی، انہوں نے شعبی سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے دفن کیے جانے کے بعد ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ شیبانی نے کہا: میں نے شعبی سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حدیث کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: ایک قابل اعتماد ہستی، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ یہ حسن کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابن نمیر کی روایت میں ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گیلی (نئی) قبر کے پاس تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز (جنازہ) پڑھی اور انہوں نے (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ میں نے عامر (بن شراحیل شعبی) سے پوچھا: آپ کو (یہ حدیث) کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: ایک قابل اعتماد ہستی جو اس جنازے میں شریک تھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2211]
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر (میت کے) دفن کے بعد نماز پڑھی اور اس میں چار تکبیرات کہیں“، شیبانی کہتے ہیں: میں نے شعبی سے پوچھا: ”آپ کو یہ حدیث کس نے سنائی؟“ انہوں نے کہا: ”ایک قابل اعتماد شخصیت، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے۔“ یہ حسن کی روایت ہے اور ابن نمیر کی روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نئی اور تازہ قبر پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔“ میں (شیبانی) نے عامر (شعبی) سے پوچھا: ”تمہیں یہ حدیث کس نے بیان کی؟“ انہوں نے کہا: ”ایک قابل اعتماد جو اس جنازے میں شریک تھا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2211]
ترقیم فوادعبدالباقی: 954
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 954 ترقیم شاملہ: -- 2212
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا "،
ہشیم، عبدالواحد بن زیاد، جریر، سفیان، معاذ بن معاذ اور شعبہ سب نے شیبانی سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی اور ان میں سے کسی کی روایت میں نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2212]
امام صاحب نے تقریباً سات اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کی ہے، لیکن ان میں سے کسی کی روایت میں یہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس پر چار تکبیریں کہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2212]
ترقیم فوادعبدالباقی: 954
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں