🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ:
باب: قبر پر نماز جنازہ پڑھنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 954 ترقیم شاملہ: -- 2213
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، جَمِيعًا، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ عَلَى الْقَبْرِ نَحْوَ حَدِيثِ الشَّيْبَانِيِّ، لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ: " وَكَبَّرَ أَرْبَعًا ".
اسماعیل بن ابی خالد اور ابوحصین نے شعبی سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے قبر پر نماز پڑھنے کے بارے میں شیبانی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، ان کی حدیث میں (بھی) «وكبر أربعا» (آپ نے چار تکبیریں کہیں) کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2213]
”امام صاحب نے اپنے کئی اور اساتذہ سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر نماز پڑھنے کی حدیث بیان کی ہے، لیکن ان میں سے کسی کی روایت میں نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیرات سے نماز پڑھائی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2213]
ترقیم فوادعبدالباقی: 954
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 955 ترقیم شاملہ: -- 2214
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى عَلَى قَبْرٍ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2214]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2214]
ترقیم فوادعبدالباقی: 955
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 956 ترقیم شاملہ: -- 2215
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، واللفظ لأبي كامل، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَوْ شَابًّا، فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهَا أَوْ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَاتَ، قَالَ: " أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي "، قَالَ: فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا أَوْ أَمْرَهُ، فَقَالَ: " دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ "، فَدَلُّوهُ " فَصَلَّى عَلَيْهَا "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔۔۔ یا ایک نوجوان تھا۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت۔۔۔ یا اس مرد۔۔۔ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں (صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے کہا: وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں کو مجھے اطلاع نہیں دینی چاہیے تھی؟“ کہا: گویا ان لوگوں نے اس عورت۔۔۔ یا اس مرد۔۔۔ کے معاملے کو معمولی خیال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر دکھاؤ۔“ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی قبر دکھائی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر فرمایا: ”اہل قبور کے لیے یہ قبریں تاریکی سے بھری ہوئی ہیں اور میری ان پر نماز پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے لیے ان (قبروں) کو منور فرما دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2215]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک حبشن (حبشی عورت) یا حبشی جوان مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گم پایا (اس کو نہ دیکھا) تو اس عورت یا مرد کے بارے میں پوچھا، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا: وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟“ راوی کا خیال ہے گویا کہ سب نے اس کے معاملے کو حقیر خیال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر دکھاؤ۔“ ساتھیوں نے اس کی قبر دکھائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انسان کا جنازہ پڑھا، پھر فرمایا: ”یہ قبریں قبر والوں کے لیے اندھیرے سے بھری ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ میری ان پر نماز پڑھنے سے ان کو (قبروں کو) ان کے لیے (اموات) کے لیے روشن اور منور فرما دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2215]
ترقیم فوادعبدالباقی: 956
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 957 ترقیم شاملہ: -- 2216
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: " كَانَ زَيْدٌ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا، وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا "، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا ".
عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے کہا: زید رضی اللہ عنہ (بن ارقم) ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے، انہوں نے ایک جنازے پر پانچ تکبیریں کہیں، میں نے ان سے (اس کے بارے میں) پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بسا اوقات) اتنی (پانچ) تکبیریں کہا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2216]
عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چار تکبیرات کہا کرتے تھے، اور انہوں نے ایک جنازہ پر پانچ تکبیریں کہیں تو میں نے ان سے پوچھا، انہوں نے جواب دیا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی (بعض دفعہ) ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2216]
ترقیم فوادعبدالباقی: 957
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ:
باب: جنازہ کے لئے کھڑے ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 958 ترقیم شاملہ: -- 2217
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ، فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ "،
سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے اور انہوں نے حضرت عامر بن ربعیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازے کو دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ تم کو پیچھے چھوڑ دے (آگے نکل جائے) یا اسے رکھ دیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2217]
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو اس کی خاطر کھڑے ہو جاؤ، حتیٰ کہ وہ تمہیں پیچھے چھوڑ جائے یا اسے (گردنوں سے اتار) رکھ دیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2217]
ترقیم فوادعبدالباقی: 958
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 958 ترقیم شاملہ: -- 2218
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ## لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا، فَلْيَقُمْ حَتَّى تُخَلِّفَهُ، أَوْ تُوضَعَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُخَلِّفَهُ "،
لیث اور یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی ہے اور یونس کی حدیث میں ہے کہ انہوں (عامر بن ربعیہ رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ فرما رہے تھے۔ (اسی طرح) قتیبہ بن سعید اور ابن رمح نے لیث سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت عامر بن ربعیہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص جنازے کو دیکھے، تو اگر وہ جنازے کے ساتھ چل نہیں رہا، تو کھڑا ہو جائے حتیٰ کہ وہ (جنازہ) اس کو پیچھے چھوڑ دے یا اس کو پیچھے چھوڑنے سے پہلے اس کو رکھ دیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2218]
ترقیم فوادعبدالباقی: 958
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 958 ترقیم شاملہ: -- 2219
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، جَمِيعًا، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ جُرَيْجٍ،## قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ فَلْيَقُمْ حِينَ يَرَاهَا، حَتَّى تُخَلِّفَهُ إِذَا كَانَ غَيْرَ مُتَّبِعِهَا ".
ایوب، عبیداللہ، ابن عون اور ابن جریج سب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ لیث بن سعد کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، البتہ ابن جریج کی حدیث یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جنازے کو دیکھے تو اگر وہ اس کے پیچھے (ساتھ) چلنے والا نہیں، تو اس کو دیکھتے ہی کھڑا ہو جائے حتیٰ کہ وہ اس کو پیچھے چھوڑ جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2219]
امام صاحب مزید کئی اساتذہ کی اسانید سے لیث بن سعد کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔ ابن جریج کی حدیث یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے تو وہ اسے دیکھتے ہی کھڑا ہو جائے، حتیٰ کہ وہ اسے پیچھے چھوڑ جائے، جبکہ وہ اس کے ساتھ نہ جا سکتا ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2219]
ترقیم فوادعبدالباقی: 958
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 959 ترقیم شاملہ: -- 2220
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اتَّبَعْتُمْ جَنَازَةً فَلَا تَجْلِسُوا حَتَّى تُوضَعَ ".
ابوصالح نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی جنازے کے پیچھے (ساتھ) جاؤ تو نہ بیٹھو یہاں تک کہ اس کو رکھ دیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2220]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی جنازہ کے ساتھ جاؤ، تو اس وقت تک نہ بیٹھو، جب تک اسے (زمین پر) رکھ نہ دیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2220]
ترقیم فوادعبدالباقی: 959
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 959 ترقیم شاملہ: -- 2221
وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازے کو دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور جو شخص جنازے کے پیچھے (ساتھ) جائے تو وہ نہ بیٹھے یہاں تک کہ اس (جنازے) کو رکھ دیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2221]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازے کو دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، اور جو جنازے کے ساتھ جائے وہ اس کے رکھنے تک نہ بیٹھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2221]
ترقیم فوادعبدالباقی: 959
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 960 ترقیم شاملہ: -- 2222
وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " مَرَّتْ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْنَا مَعَهُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا يَهُودِيَّةٌ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا ".
عبیداللہ بن مقسم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے، پھر ہم نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! یہ تو ایک یہودی عورت (کا جنازہ) ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت خوف اور گھبراہٹ (کا باعث) ہے، پس جب تم جنازے کو دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2222]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے، پھر ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو ایک یہودن ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت دہشت ناک ہے یا گھبراہٹ کا باعث ہے، اس لیے جب جنازہ کو دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2222]
ترقیم فوادعبدالباقی: 960
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں