🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے“ سے اُن کی مراد ماہِ شبعان ہے . آپ اس مہنے کے روزے رمضان کے روزوں کے ساتھ ملادیتے تھے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لا يَصُومُ، وَكَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ أَوْ عَامَّةَ شَعْبَانَ"
سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کی کیفیت کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا کہ آپ (اسقدر مسلسل) روزے رکھتے کہ ہم کہتے کہ آپ ناغہ نہیں کریں گے اور پھر روزے رکھنا چھوڑ دیتے، حتّیٰ کہ ہم کہنا شروع ہو جاتے کہ آپ اب روزے نہیں رکھیں گے۔ آپ سارا ماہ شعبان یا اکثر شعبان کے روزے رکھتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2133]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 730، 1147، 1159، 1969، 1970، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 738، ومالك فى (الموطأ) برقم: 394، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 49، 1102، 1166، 1283، 1626، 2078، 2133، 2213، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 353، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 761، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1340، 1341، والترمذي فى (جامعه) برقم: 439، 737، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1515، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 942، 1196، 1710، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 607، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24707»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ایک مہینے میں مسلسل روزے رکھنا اور پھرمسلسل روزے نہ رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2134
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قَالا: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَرَى أَنَّهُ لا يُرِيدُ يُفْطِرُ مِنْهُ شَيْئًا، وَيُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَرَى أَنَّهُ لا يُرِيدُ يَصُومُ مِنْهُ شَيْئًا. وَكُنْتَ لا تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلا رَأَيْتَهُ، وَلا نَائِمًا إِلا رَأَيْتَهُ" . هَذَا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ. وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَوْمِهِ تَطَوُّعًا
جناب حمید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ آپ کسی مہینے روزے رکھتے رہتے حتّیٰ کہ ہم خیال کرتے کہ آپ اس مہینے میں کوئی ناغہ نہیں کرنا چاہتے۔ اور پھر کسی مہینے روزے رکھنا چھوڑ دیتے حتّیٰ کہ ہم خیال کرتے کہ آپ اس مہینے میں کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ اور تم رات کے جس حصّے میں آپ کو نماز پڑھتے دیکھنا چاہو تو دیکھ سکتے ہو اور اگر تم آپ کو سویا ہوا دیکھنا چاہو تو دیکھ سکتے ہو۔ یہ روایت اسماعیل بن جعفر کی ہے۔ اور جناب خالد بن حارث کی روایت میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نماز اور روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2134]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1141، 1972، 1973، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1157، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2134، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2617، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1626، والترمذي فى (جامعه) برقم: 769، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4809، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12194»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2135
أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى أَعْرِفَ عَنْهُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى أَقُولَ: مَا هُوَ بِصَائِمٍ، وَكَانَ أَكْثَرُ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے حتّیٰ کہ مجھے معلوم ہو جاتا۔ اور آپ روزے رکھنا چھوڑ دیتے حتّیٰ کہ میں کہتی کہ آپ روزے نہیں رکھیں گے اور آپ اکثر روزے شعبان میں رکھتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2135]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2135، وانفرد به المصنف من هذا الطريق» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ہمیشہ نفلی روزے رکھنے والوں کے لئے اللہ تعالی نے جنّت میں جو بالا خانے تیار کر رکھے ہیں، اُن کا بیان بشرطیکہ روایت صحیح ہو

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2136
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا خَبَرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ أَبِي شَيْبَةَ 63 ؛ فَإِنَّ ابْنَ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا، يُرَى ظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا، وَبُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا". فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَنْ هِيَ؟ قَالَ:" هِيَ لِمَنْ قَالَ طَيِّبَ الْكَلامِ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَدَامَ الصِّيَامَ، وَقَامَ لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ"
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جنّت میں ایسے بالاخانے ہیں کہ ان کے بیرونی حصّے کا نظارہ اندر سے کیا جاسکتا ہے اور اندر سے بیرونی حصّہ دکھائی دیتا ہے۔ تو ایک اعرابی کھڑا ہوا اور اُس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، یہ بالا خانے کس کے لئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اُس کے لئے ہیں جو پاکیزہ شیریں گفتگو کرتا ہے، بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے، ہمیشہ روزے رکھتا ہے اور رات کو اُس وقت اللہ کی رضا کے لئے نفل پڑھتا ہے جبکہ لوگ سوئے ہوتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2136]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2136، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1984، 2527، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 26257، 35105»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2137
وَأَمَّا خَبَرُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ مُعَانِقٍ ، أَوْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرْفَةً، قَدْ يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَلانَ الْكَلامَ، وَتَابَعَ الصِّيَامَ، وَصَلَّى بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ"
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ جنّت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا بیرونی منظر اندر سے دیکھا جاسکتا ہے اور اندرونی نظارہ باہر سے دکھائی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بالا خانے اس شخص کے لئے تیار کیے ہیں جو کھانا کھلاتا ہے، نرم گفتگو کرتا ہے، پے درپے روزے رکھتا ہے اور رات کو نفل نماز پڑھتا ہے جبکہ لوگ سوئے ہوتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2137]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2137، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 509، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8571، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23372، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 20883، والطبراني فى(الكبير) برقم: 3466، 3467»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
روزہ دار کے پاس روزہ نہ رکھنے والے کھائیں تو فرشتے روزے دار کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2138
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مَوْلاةٍ يُقَالُ لَهَا: لَيْلَى ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ يَعْنِي جَدَّةَ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ:" تَعَالَى فَكُلِي". فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّائِمُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلائِكَةُ"
جناب حبیب بن زید کی دادی سیدہ ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ روزے سے تھیں۔ اُنہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی آجاؤ اور کھانا کھالو۔“ اُنہوں نے عرض کی کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب روزے دار کے پاس کھانا کھایا جائے تو فرشتے اُس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2138]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2138، 2139، 2140، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3430، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3254، والترمذي فى (جامعه) برقم: 784، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1748، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8605، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27701»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2139
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، أَوْ حَبِيبٍ الأَنْصَارِيِّ، شَكَّ عَلِيٌّ، قَالَ: سَمِعْتُ مَوْلاةً لَنَا يُقَالُ لَهَا: لَيْلَى ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ بِمِثْلِهِ سَوَاءً. وَزَادَ" حَتَّى يَفْرُغُوا، أَوْ يَقْضُوا أَكْلَهُ". شُعْبَةُ L3795 شَكَّ. قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ وَكِيعٌ: حَبِيبٌ
جناب علی بن خشرم کی سند سے سیدہ ام عمار ہ بنت کعب رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ بیان کیا ہے۔ ”حتّیٰ کہ وہ کھانے سے فارغ ہوجائیں، یا وہ کھانا ختم کرلیں۔“ امام شعبہ کو شک ہے کون سے الفاظ کہے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2139]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2138، 2139، 2140، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3430، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3254، والترمذي فى (جامعه) برقم: 784، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1748، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8605، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27701»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2140
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ لَيْلَى ، عَنْ مَوْلاتِهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّائِمُ إِذَا أَكَلَ عِنْدَهُ الْمَفَاطِيرُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلائِكَةُ حَتَّى يُمْسِيَ"
سیدہ ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب روزہ نہ رکھنے والے روزے دار کے پاس کھاتے ہیں تو فرشتے اُس کے لئے شام تک دعائیں کرتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2140]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2138، 2139، 2140، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3430، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3254، والترمذي فى (جامعه) برقم: 784، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1748، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8605، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27701»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں