المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
41. باب النهي عن قتل النساء والولدان
عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1043
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ نَافِعِ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ" أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ" .
سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی غزوہ میں ایک مقتولہ عورت ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1043]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3014، صحیح مسلم: 1744»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
42. باب سقوط المأثم عن من أصابهم في البيات
شب خون (رات کے حملے) میں نادانستہ ہلاکت پر گناہ نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1044
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَسْأَلُ عَنِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَبِيتُونَ فَيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيهِمْ، قَالَ: هُمْ مِنْهُمْ" .
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابواء یا ودان نامی جگہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو میں نے سنا، آپ سے مشرکین کے ان علاقوں کے متعلق پوچھا گیا جہاں وہ (مسلمان) شبخون مارتے ہیں تو ان کے بچوں اور عورتوں کو بھی مار دیتے ہیں؟ فرمایا: وہ بھی انہی میں سے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1044]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3012، صحیح مسلم: 1745»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
43. باب الحد الذي إذا بلغه الغلام خرج من حد الذرية
وہ عمر جس کو پہنچ کر لڑکا بچپن کی حد سے نکل جاتا ہے (بالغ کہلاتا ہے)
حدیث نمبر: 1045
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ: كَانُوا يَوْمَ بَنِي قُرَيْظَةَ يَنْظُرُونَ إِلَى شَعْرَةِ الرَّجُلِ، فَإِنْ كَانَتْ قَدْ خَرَجَتْ قَتَلُوهُ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ خَرَجَتْ تَرَكُوهُ، فَنَظَرُوا إِلَى شَعْرِي فَلَمْ تَكُنْ خَرَجَتْ، فَتَرَكُونِي" .
سیدنا عطیہ قرشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ بنو قریظہ کے دن وہ (صحابہ) زیر ناف بالوں کو دیکھتے تھے، جس کے بال اگے ہوتے تو اسے قتل کر دیتے اور جس کے بال نہ اگے ہوتے اسے چھوڑ دیتے، انہوں نے مجھے دیکھا تو میرے بال نہیں اگے تھے چنانچہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1045]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الحميدي: 912، مسند الإمام أحمد: 4/310-384، سنن أبي داود: 4404-4405، سنن النسائي: 3460، سنن الترمذي: 1584، سنن ابن ماجه: 2541، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (6478) امام ابن حبان رحمہ اللہ (2581) اور حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنیر: 6/671) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (3/35) نے صحیح الاسناد کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
44. باب النهي عن قتل الرسل
قاصدوں (سفیروں) کے قتل کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1046
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِرَجُلٍ يَعْنِي رَسُولَ مُسَيْلِمَةَ: " لَوْلا أَنَّكَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُكَ" .
سیدنا عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص یعنی مسیلمہ (کذاب) کے قاصد کو کہا: اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1046]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف والحديث حسن، له شواهد: مسند الإمام أحمد: 1/406، السنن الكبرى للنسائي: 8676، مسند أبي يعلى: 5247، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4878) نے صحیح کہا ہے۔ سفیان ثوری مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث حسن، له شواهد
45. باب ما جاء في ترك دعاء المشركين قبل القتال
قتال سے پہلے مشرکین کو (اسلام کی) دعوت دینے کے ترک کا بیان
حدیث نمبر: 1047
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: ثنا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى أَسْأَلُهُ، هَلْ كَانَتِ الدَّعْوَةُ قَبْلَ الْقِتَالِ؟ فَكَتَبَ إِلَيَّ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ الإِسْلامِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تَسْقِي عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ فَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا"، حَدَّثَنِي بِهَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ.
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے نافع کو یہ پوچھنے کے لیے خط لکھا کہ کیا قتال سے پہلے دعوت دینا ضروری ہے؟ تو انہوں نے مجھے لکھ بھیجا کہ یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنی مصطلق پر حملہ کیا تو وہ بالکل غافل تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے، آپ نے انہیں قتل کیا، ان کی عورتوں اور بچوں کو قید کیا، جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا بھی انہی قیدیوں میں سے تھیں۔ یہ حدیث مجھے سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی ہے جو خود اس لشکر میں شامل تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2541، صحیح مسلم: 1730»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
46. باب ترك الاستعانة بالمشركين
مشرکین سے مدد لینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1048
حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّرَسُوسِيُّ ، قَالَ: ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَازٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَجُلا، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ بَدْرًا: أَخْرُجُ مَعَكَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جنگ بدر کے لیے جاتے ہوئے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں آپ کے ساتھ (جہاد کے لیے) جانا چاہتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1817»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
47. باب العدد الذي لا يخرج المرء بالفرار منهم
دشمن کی وہ تعداد جن کے سامنے سے بھاگنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 1049
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كُتِبَ عَلَيْهِمْ أَنْ لا يَفِرَّ رَجُلٌ مِنْ عَشَرَةٍ، وَأَنْ لا يَفِرَّ عِشْرُونَ مِنْ مِائَتَيْنِ فَخُفِّفَ عَنْهُمْ، فَقَالَ: الآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ سورة الأنفال آية 66، وَكَتَبَ عَلَيْهِمْ أَنْ لا يَفِرَّ مِائَةٌ مِنْ مِائَتَيْنِ، وَلا عَشَرَةٌ مِنْ عِشْرِينَ" .
سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان پر فرض تھا کہ ایک آدمی دس (آدمیوں) کے مقابلے سے نہ بھاگے اور بیس آدمی دو سو (آدمیوں) کے مقابلے سے نہ بھاگیں، پھر ان پر نرمی کی گئی اور ارشاد فرمایا: ﴿الْآنَ خَفَّفَ اللهُ عَنْكُمْ﴾ (الأنفال: 66) (اب اللہ نے تم پر نرمی کر دی ہے) اور ان پر فرض کر دیا کہ سو آدمی دو سو کے مقابلے سے اور دس آدمی بیس آدمیوں کے مقابلے سے نہ بھاگیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1049]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4652»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
48. باب الفار من الزحف إلى فئة
میدانِ جنگ سے بھاگ کر اپنی کسی جماعت سے جا ملنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 1050
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً، فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَتَخَبَّأْنَا فِي الْبُيُوتِ، ثُمَّ ظَهَرْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: هَلَكْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، فَقَالَ:" بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ، أَنَا فِئَتُكُمْ" .
سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں روانہ کیا، (ہم لوگ وہاں سے بھاگ گئے اور مدینہ آکر گھروں میں چھپ گئے، پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوئے تو ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم تو ہلاک ہو گئے، ہم تو (میدان جنگ سے) بھاگ آئے ہیں، فرمایا: آپ مضطرب نہیں، بلکہ پلٹ کر حملہ کرنے والے ہیں اور میں آپ کی جماعت میں شامل ہوں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 2/70، سنن أبي داود: 2647، سنن الترمذي: 1716، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب کہا ہے۔ یزید بن ابی زیاد راوی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف الحفظ ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
49. باب الرخصة في تحريف الكلام في الحرب
جنگ میں (حکمتِ عملی کے تحت) بات گھمانے کی رخصت
حدیث نمبر: 1051
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْحَرْبُ خَدْعَةٌ" .
سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑائی دھوکہ دہی کا نام ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1051]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3030، صحیح مسلم: 1739»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
50. باب من يجوز أمانه، ورد السرية على العسكر
کس کی دی ہوئی امان معتبر ہے اور دستے کا لشکر کی طرف لوٹنا
حدیث نمبر: 1052
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مَكَّةَ، قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّ الإِسْلامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلا شِدَّةً، وَلا حِلْفَ فِي الإِسْلامِ، وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، وَتُرَدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ، وَلا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُؤْمِنِ، لا جَلَبَ، وَلا جَنَبَ، وَلا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلا فِي دُورِهِمْ" .
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا: اے لوگو! زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی (امن و امان وغیرہ کا) معاہدہ تھا تو اسلام نے اسے تقویت پہنچائی ہے، اسلام میں کوئی حلف نہیں ہے، مخالفین کے مقابلے میں مسلمان ایک دوسرے کی مدد کریں، ان میں سے ادنیٰ مسلمان بھی پناہ دے سکتا ہے، اسی طرح دور کا رہائشی بھی پناہ کو توڑ سکتا ہے اور جو فوجی دستہ بڑے لشکر سے الگ ہو کر کسی مہم پر جائے تو وہ اپنے اس بڑے لشکر کو بھی مال غنیمت میں شریک کرے، کسی مؤمن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے، کافر کی دیت مؤمن کی دیت سے آدھی ہے، جلب ہے نہ جب بلکہ زکوٰۃ لوگوں کی جائے رہائش سے ہی لی جائے۔ (جلب کا معنی ہے کہ مصدق دفتر میں بیٹھ کر زکوٰۃ وصول کرے اور جب یہ ہے کہ زکوٰۃ دینے والے اپنے مال کو اصل مقام سے کہیں دور لے جائیں۔) [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1052]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 3/180، سنن أبي داود: 4583، سنن النسائي: 8410-8411، سنن ابن ماجه: 2644، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2280) نے صحیح کہا ہے۔ محمد بن اسحاق نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، عبدالرحمن بن حارث نے مسند الامام احمد (2/215) میں اس کی متابعت کر رکھی ہے۔ یہ روایت نمبر 345 میں گزر چکی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن