صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1748 ترقیم شاملہ: -- 6239
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، قَالَ: فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَرُوا فَاهَا بِعَصًا ثُمَّ أَوْجَرُوهَا، وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا، فَضَرَبَ بِهِ أَنْفَ سَعْدٍ فَفَزَرَهُ، وَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے مصعب بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں پھر زہیر سے سماک کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور شعبہ کی حدیث میں (محمد بن جعفر نے) مزید یہ بیان کیا کہ لوگ جب میری ماں کو کھانا کھلانا چاہتے تو لکڑی سے اس کا منہ کھولتے، پھر اس میں کھانا ڈالتے، اور انہی کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پر ہڈی ماری اور ان کی ناک پھاڑ دی، حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پھٹی ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6239]
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ اپنے باپ (حضرت سعد رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ میرے بارے میں چار آیات اتری ہیں، آگے اوپر کی روایت کے ہم معنی روایت ہے، شعبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جب وہ لوگ انہیں (حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ماں کو) کھانا کھلانا چاہتے تو ان کا منہ ڈنڈے سے کھولتے، پھر اس میں کھانا ڈال دیتے اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پر مارا اور اسے پھاڑ دیا، اس لیے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پھٹی ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6239]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1748
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2413 ترقیم شاملہ: -- 6240
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، فِيَّ نَزَلَتْ: وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ سورة الأنعام آية 52، قَالَ: " نَزَلَتْ فِي سِتَّةٍ أَنَا، وَابْنُ مَسْعُودٍ مِنْهُمْ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ قَالُوا لَهُ تُدْنِي هَؤُلَاءِ ".
سفیان نے مقدام بن شریح سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے (آیت) «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ» ”اور ان (مسکین مومنوں) کو خود سے دور نہ کریں جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں“ کے بارے میں روایت کی، کہا: یہ چھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ میں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان میں شامل تھے، مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا: ان لوگوں کو اپنے قریب نہ کریں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6240]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، یہ آیت میرے بارے میں اتری: ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ﴾ [سورة الأنعام: 52] ”جو لوگ اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں، ان کو دھتکاریے نہیں“۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، یہ آیت چھ آدمیوں کے بارے میں اتری، میں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما بھی ان میں سے ہیں، مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا، آپ ان کو قریب کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6240]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2413
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2413 ترقیم شاملہ: -- 6241
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ نَفَرٍ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اطْرُدْ هَؤُلَاءِ لَا يَجْتَرِئُونَ عَلَيْنَا، قَالَ: وَكُنْتُ أَنَا، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ، وَبِلَالٌ، وَرَجُلَانِ لَسْتُ أُسَمِّيهِمَا، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقَعَ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ سورة الأنعام آية 52.
اسرائیل نے مقدام بن شریح سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم چھ شخص تھے تو مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”ان لوگوں کو بھگا دیجیے، یہ ہمارے سامنے آنے کی جرات نہ کریں۔“ (حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے) کہا: (یہ لوگ تھے) میں، ابن مسعود، ہذیل کا ایک شخص، بلال اور دو اور شخص جن کا نام میں نہیں لوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو اللہ نے چاہا سو آیا، آپ نے اپنے دل میں کچھ کہا بھی، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی: «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ» ”اور ان لوگوں کو دور نہ کیجیے جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں صرف اس کی رضا چاہتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6241]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم چھ شخص تھے تو مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ان لوگوں کو بھگا دیجیے، یہ ہمارے سامنے آنے کی جرات نہ کریں۔ (حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے) کہا: (یہ لوگ تھے) میں، ابن مسعود رضی اللہ عنہ، ہذیل کا ایک شخص، بلال رضی اللہ عنہ اور دو اور شخص جن کا نام میں نہیں لوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو اللہ نے چاہا سو آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل میں کچھ کہا بھی، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ﴾ [سورة الأنعام: 52] ”اور ان لوگوں کو دور نہ کیجیے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، صرف اس کی رضا چاہتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6241]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2413
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2414 ترقیم شاملہ: -- 6242
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: " لَمْ يَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ طَلْحَةَ ، وَسَعْدٍ "، عَنْ حَدِيثِهِمَا ".
معتمر کے والد سلیمان نے کہا: میں نے حضرت ابوعثمان سے سنا، کہا: ان ایام میں سے ایک میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیا تو جنگ کے دوران میں آپ کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔ (یہ میں) ان دونوں کی بتائی ہوئی بات سے (بیان کر رہا ہوں)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6242]
حضرت ابوعثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان بعض دنوں میں، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں سے جنگ لڑی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما کے سوا کوئی بھی نہیں رہا تھا، یہ بات انہوں نے خود ابوعثمان کو بتائی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6242]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2414
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
6. باب مِنْ فَضَائِلِ طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2415 ترقیم شاملہ: -- 6243
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ ".
سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے دن لوگوں کو پکارا: (کون ہے جو ہمیں دشمنوں کے اندر کی خبر دے گا؟) تو زبیر رضی اللہ عنہ آگے آئے (کہا: میں لاؤں گا) پھر آپ نے ان کو (دوسری بار) پکارا تو زبیر رضی اللہ عنہ ہی آگے بڑھے پھر ان کو (تیسری بار) پکارا تو بھی زبیر رضی اللہ عنہ ہی آگے بڑھے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا حواری (خاص مددگار) ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6243]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے روز لوگوں کو ایک کام کے لیے دعوت دی تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دعوت دی تو زبیر رضی اللہ عنہ نے دعوت قبول کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر لوگوں کو دعوت دی تو زبیر رضی اللہ عنہ نے «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے خصوصی مددگار ہوتے ہیں اور میرا حواری خصوصی معاون، زبیر رضی اللہ عنہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6243]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2415
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2415 ترقیم شاملہ: -- 6244
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
ہشام بن عروہ اور سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6244]
یہی روایت امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6244]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2415
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2416 ترقیم شاملہ: -- 6245
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ ابْنِ مُسْهِرٍ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: " كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مَعَ النِّسْوَةِ فِي أُطُمِ حَسَّانَ، فَكَانَ يُطَأْطِئُ لِي مَرَّةً، فَأَنْظُرُ وَأُطَأْطِئُ لَهُ مَرَّةً، فَيَنْظُرُ فَكُنْتُ أَعْرِفُ أَبِي، إِذَا مَرَّ عَلَى فَرَسِهِ فِي السِّلَاحِ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ "، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي، فَقَالَ: وَرَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ أَبَوَيْهِ، فَقَالَ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي.
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں اور حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ جنگ خندق کے دن عورتوں کے ساتھ حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے قلعے میں تھے، کبھی وہ میرے لیے کمر جھکا کر کھڑے ہو جاتے اور میں (ان کی کمر پر کھڑا ہو کر مسلمانوں کے لشکر کو) دیکھ لیتا، کبھی میں کمر جھکا کر کھڑا ہو جاتا اور وہ دیکھ لیتے۔ میں نے اس وقت اپنے والد کو پہچان لیا تھا جب وہ اپنے گھوڑے پر (سوار ہو کر) بنو قریظہ کی طرف جانے کے لیے گزرے۔ (ہشام بن عروہ نے) کہا: مجھے عبداللہ بن عروہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے (روایت کرتے ہوئے) بتایا کہا: میں نے یہ بات اپنے والد کو بتائی تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! تم نے مجھے دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کا ایک ساتھ ذکر کرتے ہوئے کہا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان!“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6245]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں اور حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما جنگ خندق کے دن عورتوں کے ساتھ حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے قلعے میں تھے، کبھی وہ میرے لیے کمر جھکا کر کھڑے ہو جاتے اور میں (ان کی کمر پر کھڑا ہو کر مسلمانوں کے لشکر کو) دیکھ لیتا، کبھی میں کمر جھکا کر کھڑا ہو جاتا اور وہ دیکھ لیتے۔ میں نے اس وقت اپنے والد کو پہچان لیا تھا جب وہ اپنے گھوڑے پر (سوار ہو کر) بنو قریظہ کی طرف جانے کے لیے گزرے۔ (ہشام بن عروہ نے) کہا: مجھے عبداللہ بن عروہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے (روایت کرتے ہوئے) بتایا، انہوں نے کہا: میں نے یہ بات اپنے والد کو بتائی تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! کیا تم نے مجھے دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کا ایک ساتھ ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا: «فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں!“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6245]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2416
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2416 ترقیم شاملہ: -- 6246
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ كُنْتُ أَنَا، وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْأُطُمِ الَّذِي فِيهِ النِّسْوَةُ يَعْنِي نِسْوَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُرْوَةَ، فِي الْحَدِيثِ، وَلَكِنْ أَدْرَجَ الْقِصَّةَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ.
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ اس قلعے میں تھے جس میں عورتیں یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تھیں، اس کے بعد ابن مسہر کی اسی سند کے ساتھ روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث (کی سند) میں عبداللہ بن عروہ کا ذکر نہیں کیا لیکن (ان کا بیان کیا ہوا سارا) قصہ اس روایت میں شامل کر دیا جو ہشام نے اپنے والد سے اور انہوں نے (عبداللہ) ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6246]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب غزوہ خندق پیش آیا تو میں اور حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما اس قلعے میں تھے جس میں عورتیں یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تھیں، اس کے بعد ابن مسہر کی اسی سند کے ساتھ روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث (کی سند) میں عبداللہ بن عروہ کا ذکر نہیں کیا لیکن (ان کا بیان کیا ہوا سارا) قصہ اس روایت میں شامل کر دیا جو ہشام نے اپنے والد سے اور انہوں نے (حضرت عبداللہ) ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6246]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2416
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2417 ترقیم شاملہ: -- 6247
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ ".
عبدالعزیز بن محمد نے سہیل (بن ابی صالح) سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑ پر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، تو چٹان (جس پر یہ سب ہیں) ہلنے لگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ، تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے علاوہ اور کوئی نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6247]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑ پر کھڑے تھے، آپ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ، طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ بھی تھے، تو ایک چٹان نے حرکت کی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پرسکون ہو جا، ٹھہر جا، کیونکہ تجھ پر بس نبی، صدیق یا شہید ہی ہے۔“ «اهْدَأْ» کا لفظ «اسْكُنْ» کے ہم معنی ہے، جس کا مطلب ”ساکن ہو جا، ٹھہر جا“ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6247]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2417
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2417 ترقیم شاملہ: -- 6248
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى جَبَلِ حِرَاءٍ، فَتَحَرَّكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْكُنْ حِرَاءُ، فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ، وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
یحییٰ بن سعید نے سہیل بن ابی صالح سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہ حراء پر تھے۔ وہ ہلنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہر جا، تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے سوا اور کوئی نہیں۔“ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور (آپ کے ساتھ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6248]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑ پر کھڑے تھے تو اس نے حرکت کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حراء! ٹھہر جا، کیونکہ تم پر صرف نبی یا صدیق یا شہید ہے۔“ اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ، طلحہ رضی اللہ عنہ، زبیر رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6248]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2417
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة