🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. فَصْلٌ فِيمَا جَاءَ فِي الْبَوْلِ مِنْ قِيَامٍ
کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 491
عَنِ الْمِقْدَامِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْهُ، مَا بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جو آدمی تجھے یہ بات بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے تو تو اس کی تصدیق نہ کر، کیونکہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کا نزول شروع ہوا، اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 491]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 12، والنسائي: 1/ 26، وابن ماجه: 307، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25559»
وضاحت: فوائد: … دراصل سیدہ عائشہ ؓکو ان احادیث کا علم نہیں تھا، جن کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابٌ فِي التَّبَاعُدِ وَالِاسْتِثَارِ عِنْدَ التَّخَلِّي فِي الْفَضَاءِ وَالْكَفِّ عَنِ الْكَلَامِ وَرَدِّ السَّلَامِ
قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور¤سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 492
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَرَأَيْتُهُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَاتَّبَعْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ أَوِ الْقَدَحِ، فَجَلَسْتُ لَهُ بِالطَّرِيقِ وَكَانَ إِذَا أَتَى حَاجَتَهُ أَبْعَدَ
سیدنا عبدالرحمن بن ابو قراد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے جا رہے تھے، پس جب میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے تو میں پانی کے برتن کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا اور راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بیٹھ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور جایا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 492]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 17، وابن ماجه: 334، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18134»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 493
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَسْتَدْبِرْهُ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی قضائے حاجت کے لیے آئے، وہ پردہ کرے، اور اگر اسے کوئی چیز نہ ملے تو وہ ریت کا ایک ڈھیر جمع کر کے اس کی طرف پیٹھ کر لے، کیونکہ شیطان بنو آدم کی دبروں سے کھیلتا ہے، جس نے ایسے کیا، اس نے اچھا کیا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 493]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حصين الحميري ولجھالة ابي سعد الخير۔ أخرجه ابوداود: 35، وابن ماجه: 337، 338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8825»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن قضائے حاجت کے وقت لوگوں سے دور جانے اور پردہ کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 494
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسَيْنِ، قَالَ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ دَرَقَةٌ أَوْ شِبْهُهَا فَاسْتَتَرَ بِهَا فَبَالَ جَالِسًا، قَالَ: فَقُلْنَا: أَيَبُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ: فَجَاءَنَا فَقَالَ: ( (أَوَمَا عَلِمْتُمْ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ قَرَضَهُ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ) )
سیدنا عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے پاس ایک ڈھال یا اس سے ملتی جلتی کوئی چیز تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ پردہ کیا اور بیٹھ کر پیشاب کیا، ہم نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورت کی طرح پیشاب کرتے ہیں؟ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے اور فرمایا: کیا تم جانتے نہیں ہو کہ بنو اسرائیل کے ساتھی کو کیا سزا ہوئی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب بنو اسرائیل کے کسی فرد کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس مقام کو کاٹتا تھا، لیکن ان کے ساتھی نے ان کو ایسا کرنے سے منع کر دیا، پس اس وجہ سے اس کو قبر میں عذاب دیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 494]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 22، وابن ماجه: 346، والنسائي: 1/ 26، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17760 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17912»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 495
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، قَالَ: فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (وَيْحَكَ، أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ) ) الْحَدِيثَ
اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: بعض لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو عورت کی طرح پیشاب کر رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی اور فرمایا: تیرا ناس ہو، کیا تو نہیں جانتا کہ بنو اسرائیل کے ساتھی کو کیا سزا ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 495]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17910»
وضاحت: فوائد: … عورت سے تشبیہ دینے کی دو وجوہات ہیں، ایک بیٹھنا اور دوسری پردہ کرنا۔ بنو اسرائیل کی مثال ذکر کرنے سے مقصود یہ تھا کہ اُن لوگوں نے اس معاملے میں تساہل برتا، سو وہ عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 496
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَخْرُجُ الرَّجُلَانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ كَاشِفَيْنِ عَوْرَتَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو آدمی اس طرح نہ نکلیں کہ وہ دونوں پائخانہ کر رہے ہوں، شرمگاہوں کو ننگا کر رکھا ہو اور اس حالت میں گفتگو بھی کر رہے ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسی صورت پر سخت ناراض ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 496]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔أخرجه ابوداود: 15، وابن ماجه: 342، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11330»
وضاحت: فوائد: … صحیح ابن حبان کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَقْعُدُ الرَّجُلَانِ عَلَی الْغَائِطِ یَتَحَدَّثَانِ یَرٰی کُلٌّ مِّنْھُمَا عَوْرَۃَ صَاحِبِہٖ فَاِنَّ اللّٰہَ یَمْقُتُ عَلٰی ذَالِکَ)) … دو آدمی پائخانہ کرنے کے لیے اس طرح نہ بیٹھیں کہ وہ دونوں باتیں کر رہے ہوں اور ہر ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھ رہا ہو، کیونکہ اللہ ایسی صورتحال سے ناراض ہوتا ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی اِس ناراضگی کا تعلق بے پردگی اور گفتگو، دونوں چیزوں کے اکٹھا صادر ہونے کے ساتھ ہے۔ قضائے حاجت کے دوران صرف بات کرنا جائز ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے: سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ پیشاب کر رہے تھے، اس نے سلام کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ((اِذَا رَاَیْتَنِیْ عَلٰی مِثْلِ ھٰذِہِ الْحَالَۃِ فَلَا تُسَلِّمْ عَلَیَّ، فَاِنَّکَ اِنْ فَعَلْتَ ذَالِکَ لَمْ اَرُدَّ عَلَیْکَ)) … جب تو مجھے اس حالت میں دیکھے تو مجھ پر سلام نہ کر، پس اگر تو نے ایسے کیا تو میں تیرا جواب نہیں دوں گا۔ (ابن ماجہ: ۳۴۶)شیخ البانی نے کہا: حدیث ِ مبارکہ کا ظاہری مفہوم تو یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب کی حالت میں ہی یہ بات ارشاد فرمائی، لہٰذا ثابت ہوا کہ قضائے حاجت کے دوران گفتگو کرنا جائز ہے۔ (سلسلہ صحیحہ: ۱۹۷)اسی طرح نہانے کے دوران بھی بات کرنا جائز ہے، جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام ہانی کی آمد پر بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدہ عائشہ ؓجب اکٹھے نہاتے تو بات کر لیتے تھے، سیدنا ایوب ننگی حالت میں نہا رہے تھے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی اور ان کی بات ہوئی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. فَصْلٌ فِي كَرَاهَةِ رَدِّ السَّلَامِ أَوِ الِاشْتِغَالِ بِذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى حَالَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف¤رہنے کی کراہیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 497
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ غَيْرُ مُتَوَضِّئٍ فَقَالَ: ثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْحُضَيْنِ أَبِي سَاسَانَ عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ فَرَدَّ عَلَيْهِ، وَقَالَ: ( (إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلَّا عَلَى طَهَارَةٍ) ) قَالَ: فَكَانَ الْحَسَنُ مِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ يَكْرَهُ أَنْ يَقْرَأَ أَوْ يَذْكُرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَطْهُرَ
سیدنا مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور پھر جواب دیا اور فرمایا: مجھے اس چیز نے تیرا جواب دینے سے روکا کہ میں طہارت کے بغیر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ناپسند کرتا ہوں۔ اسی حدیث کی وجہ سے جناب حسن رحمہ اللہ طہارت کے بغیر قراءت کرنے یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 497]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 17، وابن ماجه: 350، والنسائي: 1/ 37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19243»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 498
عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَلَّمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ وُضُوئِهِ قَالَ: ( (لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ (وَفِي رِوَايَةٍ) إِلَّا أَنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا عَلَى طَهَارَةٍ) )
سیدنا مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وضو سے فارغ ہوئے تو فرمایا: مجھے اس چیز نے تیرے سلام کا جواب دینے سے روکا کہ میں باوضو نہیں تھا۔ ایک روایت میں ہے: میں نے بغیر طہارت کے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کو ناپسند کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 498]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 17، وابن ماجه: 3500، والنسائي: 1/ 37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21042»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 499
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ أَوْ قَدْ بَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى تَوَضَّأَ ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے یا پیشاب کر چکے تھے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وضو کیا اور پھر میرا جواب دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 499]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21043»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 500
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّاهِبِ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَالَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ بِيَدِهِ إِلَى الْحَائِطِ، يَعْنِي أَنَّهُ تَيَمَّمَ
سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر چکے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک اس کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوار پر ہاتھ مار کر تیمم کر لیا۔ (پھر سلام کا جواب دیا) [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 500]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22305»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں مذکورہ اور اس موضوع کی دیگر احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی آدمی قضائے حاجت کر رہا ہو تو اس وقت اس کو سلام نہیں کہنا چاہیے، وگرنہ وہ جواب کا مستحق نہیں ہو گا، پچھلے باب کے آخر میں اس کی دلیل گزر چکی ہے، وضو کے بغیر سلام کا جواب دینا اور ذکر کرنا بالاتفاق جائز ہے، البتہ استحباب اور افضلیت اس میں ہے کہ ذکر ِ الہی کے لیے وضو کا اہتمام کیا جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں