🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. فَصْلٌ فِي جَوَازِ الذِّكْرِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ
وضو کے بغیر اللہ تعالیٰ کاذکر اور قرآن کی تلاوت کرنے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 501
عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَالَ ثُمَّ تَلَا شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً
ابو سلام رحمہ اللہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور پھر پانی کو چھونے سے پہلے قرآن مجید کے کچھ حصے کی تلاوت کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 501]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18242»
وضاحت: فوائد: … جہاں تک زبانی طور پر اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کا مسئلہ ہے تو یہ دونوں کام وضو کے بغیر درست ہیں، مزید دلائل اور آثار سے بھی اس رائے کی تائید ہوتی ہے، البتہ قرآن مجید کو چھونے کے لیے وضو کرنا چاہیے، اس کی وضاحت اپنے مقام پر آئے گی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابٌ فِيمَا يَقُولُ الْمُتَخَلِّي عِنْدَ دُخُولِهِ وَخُرُوجِهِ
قضائے حاجت کرنے والے کا داخل ہوتے وقت اور نکلتے وقت دعا پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 502
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ»اے اللہ! میں خبیث جنوں اور خبیث جننیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 502]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 142، 6322، ومسلم: 375، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11969»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 503
عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ قَالَ: ( (أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَيْثِ أَوِ الْخَبَائِثِ) ) قَالَ شُعْبَةُ: وَقَدْ قَالَهُمَا جَمِيعًا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء کو آتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ»میں خبث اور خبیث سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 503]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14044»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کے جامع ترمذی وغیرہ میں یہ الفاظ ہیں: ((أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَیْثِ أَوِ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ۔))
اَلْخُبْث: ناپاکی، گندگی، برائی، کراہت، مذمت
اَلْخَبَیْث: ناپاک، گندا، برا، مکروہ، مذموم، اذیت رساں

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 504
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ) )
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک ان طہارت خانوں میں شیطان حاضر ہوتے ہیں، اس لیے جب کوئی آدمی ان میں داخل ہو تو وہ یہ دعا پڑھا کرے: «اللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» … اے اللہ! بیشک میں خبیث جنوں اور خبیث جننیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 504]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 6، وابن ماجه: 296، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19501»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 505
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ قَالَ: ( (غُفْرَانَكَ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے باہر آتے تو کہتے: «غُفْرَانَكَ»(اے اللہ!) میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 505]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 30، والترمذي: 7، وابن ماجه: 300، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25220 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25735»
وضاحت: فوائد: … بیت الخلاء میں داخل ہونے والا صرف بسم اللہ بھی پڑھ سکتا ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے ثابت ہوتا ہے۔ سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سِتْرُ مَا بَیْنَ اَعْیُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِیْ آدَمَ اِذَا دَخَلَ اَحَدُھُمُ الْخَلَائَ اَنْ یَّقُوْلَ بِسْمِ اللّٰہِ۔)) … جنوں کی آنکھوں اور بنو آدم کی شرم گاہوں کے مابین یہ پردہ ہے کہ جب کوئی آدمی بیت الخلاء میں داخل ہو تو وہ بسم اللہ پڑھے۔ (ترمذی: ۵۵۱، ابن ماجہ: ۳۰۱) ابن ماجہ کی وہ حدیث ضعیف ہے، جس میں بیت الخلاء سے خارج ہوتے وقت یہ دعا بتلائی گئی ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّیْ الْاَذٰی وَعَافَانِیْ۔ (اس حدیث کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے، اس کو ضعیف قرار دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ (دیکھیں انجاز الحاجۃ: ۳۰۱)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ أَوِ اسْتِدْبَارِهَا وَقْتَ الْحَاجَةِ
قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے یا پیٹھ کرنے سے منع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 506
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّبَيْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَبُولُ أَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ) ) وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذَلِكَ
سیدنا عبداللہ بن حارث زبیدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں پہلا آدمی ہوں، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’تم میں سے کوئی آدمی قبلہ رخ ہو کر پیشاب نہ کرے۔‘ اور میں پہلا آدمی ہوں، جس نے لوگوں کو یہ حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 506]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔جه حب۔ أخرجه ابن ماجه: 317، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17852»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 507
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلِ الْأَسْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ
سیدنا معقل بن ابو معقل اسدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب یا پائخانہ کرتے وقت دو قبلوں کی طرف منہ کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 507]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي زيد مولي بني ثعلبة۔ أخرجه ابوداود: 10، وابن ماجه: 319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17992»
وضاحت: فوائد: … دوسرے قبلہ سے مراد بیت المقدس ہے، جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلۂ اول تھا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 508
عَنْ رَافِعٍ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ وَهُوَ بِمِصْرَ: مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَذِهِ الْكَرَايِيسِ؟ يَعْنِي الْكُنُفَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا) )
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، جبکہ وہ مصر میں تھے: میں نہیں جانتا کہ میں ان طہارت خانوں کو کیسے استعمال کروں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’جب کوئی پیشاب یا پائخانہ کرنے کے لیے جائے تو وہ قبلہ کی طرف منہ نہ کرے اور نہ پیٹھ۔‘ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 508]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 21، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23911»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 509
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلَا يَسْتَقْبِلَنَّ الْقِبْلَةَ وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّبْ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ) )
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی قضائے حاجت کے لیے آئے تو وہ قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، اسے چاہیے کہ وہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کر لے۔ وہ کہتے ہیں: جب ہم شام میں آئے تو دیکھا کہ طہارت خانے قبلہ رخ بنائے گئے تھے، پس ہم پھر جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 509]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 144، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23921»
وضاحت: فوائد: … مشرق یا مغرب کی طرف منہ کر لے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کا تعلق ان لوگوں سے ہے، جو قبلہ سے شمال اور جنوب کی سمتوں میں بستے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کے مخاطَب اہل مدینہ تھے اور مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ کی شمال میں واقع ہے، جو لوگ قبلہ کی مشرق اور مغرب کی جہتوں میں بستے ہیں، ان کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ نہ کریں، تاکہ کعبہ کی طرف منہ نہ ہو اور نہ پیٹھ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 510
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ، إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا) ) وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ ( (وَلَا يَسْتَطِيبُ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے والد کی طرح ہوں، جب تم قضائے حاجت کے لیے آؤ تو نہ قبلہ کی طرف منہ کیا کرو اور نہ پیٹھ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (استنجا میں) لید اور بوسیدہ ہڈی استعمال کرنے سے منع کیا اور نیز فرمایا: آدمی دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 510]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 8، وابن ماجه: 312، وأخرجه مختصرا مسلم: 265، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7362»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں