🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. بَابٌ فِي ارْتِيَادِ الْمَكَانِ الرَّخْوِ وَمَا لَا يَجُوزُ التَّخَلِّي فِيهِ
قضائے حاجت کے لیے نرم جگہ کو تلاش کرنے کا بیان اور ان مقامات کی تفصیل جہاں قضائے حاجت جائز نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 481
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْشِي فَمَالَ إِلَى دَمْثٍ فِي جَنْبِ حَائِطٍ فَبَالَ ثُمَّ قَالَ: ( (كَانَ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِذَا بَالَ أَحَدُهُمْ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ بَوْلِهِ تَتَبَّعَهُ فَقَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ) ) وَقَالَ: ( (إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدِ لِبَوْلِهِ) )
سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے، پس ایک دیوار کے پہلو میں نرم جگہ کی طرف مائل ہوئے اور وہاں پیشاب کیا اور پھر فرمایا: جب بنو اسرائیل کا کوئی آدمی پیشاب کرتا اور اگر پیشاب اس کو لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچیوں سے کاٹتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لیے جب تم میں سے کوئی آدمی پیشاب کرے تو وہ نرم جگہ تلاش کر لیا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 481]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: اذا اراد احكم ان يبول فليرتد لبوله وھذا اسناد ضعيف لابھام الرجل الراوي عنه ابو التياح۔ أخرجه ابوداود: 3، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19766»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری (۲۲۶) اور صحیح مسلم(۲۷۳) میں ہے جب پیشاب ان کے کپڑے کو لگ جاتا تھا تو وہ اس کو کاٹتے تھے،جن روایات میں جِلْد کے الفاظ ہیں، ان سے مراد ان کے چمڑے کے لباس ہیں، لیکن کسی راوی نے روایت بالمعنی کرتے ہوئے جَسَد کے الفاظ کہہ دیئے۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباری) نرم جگہ کو تلاش کرنے والے روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس سلسلے میں شریعت کا مدّعا یہ ہے کہ آدمی قضائے حاجت کرتے وقت ایسی جگہ اور ایسا طریقہ اختیار کرے کہ اس کا جسم اور کپڑے، پیشاب اور پائخانہ سے سالم رہ سکیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 482
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ) ) قِيلَ: مَا الْمَلَاعِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (أَنْ يَقْعُدَ أَحَدُكُمْ فِي ظِلٍّ يُسْتَظَلُّ فِيهِ أَوْ فِي طَرِيقٍ أَوْ فِي نَقْعِ الْمَاءِ) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لعنت والے تین مقامات سے بچو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ لعنت والے مقامات کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سائے کو استعمال کیا جاتا ہو، اس میں یا راستے میں یا پانی کے گھاٹ میں پیشاب کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 482]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2715»
وضاحت: فوائد: … مقامات سے مراد ایسے افعال ہیں کہ جن کی وجہ سے فاعل پر لعن طعن کی جاتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 483
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ) ) قَالُوا: وَمَا اللَّعَّانَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ فِي ظِلِّهِمْ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو لعنت کرنے والی چیزوں سے بچو۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ لعنت کرنے والی چیزیں کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی لوگوں کے راستے میں یا سائے میں قضائے حاجت کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 483]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8840»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ تین مقاما ت پر قضائے حاجت نہیں کرنی چاہیے: ایسا سایہ کہ جس کو بطورِ سایہ استعمال کیا جاتا ہو، راستہ اور پانی کا گھاٹ۔ یہ بھی ان احادیث کی فقہ ہے کہ قضائے حاجت کے بعد لیٹرین کی مکمل صفائی کرنی چاہیے، تاکہ بعد میں آنے والے کو تکلیف نہ ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الْبَوْلِ فِيهَا
ان مقامات کا بیان، جہاں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 484
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُعَاذٌ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْجُحْرِ، وَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ، فَإِنَّ الْفَأْرَةَ تَأْخُذُ الْفَتِيلَةَ فَتَحْرِقُ أَهْلَ الْبَيْتِ، وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَخَمِّرُوا الشَّرَابَ وَغَلِّقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ) ) قَالُوا لِقَتَادَةَ: مَا يَكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ؟ قَالَ: يُقَالُ: إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہرگز بل میں پیشاب نہ کرے، اور جب تم نے سونا ہو تو چراغ کو بجھا دیا کرو، کیونکہ چوہیا اس کی بتی پکڑ کر گھر والوں کو جلا سکتی ہے، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور رات کو دروازے بند کر دیا کرو۔ لوگوں نے قتادہ رحمہ اللہ سے کہا: بل میں پیشاب کرنے کو کیوں ناپسند کیا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ یہ جنوں کے مسکن ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الصحيح، وصحح ھذا الحديث ابن خزيمة وابن السكن۔ أخرجه ابوداود: 29، والنسائي: 1/33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21056»
وضاحت: فوائد: … بِل میں پیشاب کرنا منع ہے، اس کی ایک وجہ قتادہ نے بیان کی ہے، لیکن درج ذیل دو وجوہات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہیں: اسی بِل سے سانپ، بچھو یا کوئی اور جانور نکل کر بندے کو نقصان نہ پہنچا دے۔ اس بِل میں موجود جانور کو کوئی تکلیف نہ ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 485
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فِيهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوِسْوَاسِ مِنْهُ) )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی اپنے غسل خانے میں پیشاب کرے، کیونکہ عام وسوسے اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 485]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: فان عامة الوسواس منه فھو موقوف، وھذا اسناد رجاله ثقات الا ان الحسن البصري لم يصرح بسماعه من عبد الله بن المغفل۔ أخرجه ابوداود: 27، وابن ماجه: 304، والترمذي: 21، والنسائي: 1/ 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20844»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 486
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ فِي مُسْتَحَمِّهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوِسْوَاسِ مِنْهُ
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی اپنے غسل خانے میں پیشاب کرے، کیونکہ عام وسوسے اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 486]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20837»
وضاحت: فوائد: … بہرحال غسل خانے میں پیشاب کرنا منع ہے، اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، مثلا: اس جگہ کا ناپاک ہو جانا، وہاں سے بد بو آنا، اس کی وجہ سے وسوسے پیدا ہونا، فطرت کا اس چیز کو سخت ناپسند کرنا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 487
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ سِنِينَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَرْبَعَ سِنِينَ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ وَأَنْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ وَأَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ وَأَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ، وَلْيَغْتَرِفُوا (وَفِي رِوَايَةٍ: وَلْيَغْتَرِفَا) جَمِيعًا
حُمید بن عبدالرحمن حِمیری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ایسے صحابی کو ملا، جن کو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار برسوں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف ملا تھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ہم ہر روز کنگھی کریں یا غسل خانے میں پیشاب کریں یا بیوی خاوند کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا خاوند بیوی کے بچے ہوئے پانی سے نہائے، ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھا نہا لیں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 487]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 81، والنسائي: 1/ 130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17137»
وضاحت: فوائد: … میاں بیوی کا ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے نہانے کا مسئلہ پہلے گزر چکا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. فَصْلٌ فِيمَا جَاءَ فِي الْبَوْلِ مِنْ قِيَامٍ
کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 488
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا مُوسَى كَانَ يَبُولُ فِي قَارُورَةٍ وَيَقُولُ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذَا أَصَابَ أَحَدَهُمُ الْبَوْلُ قَرَضَ مَكَانَهُ، قَالَ حُذَيْفَةُ: وَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ لَا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي نَتَمَاشَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَيْنَا إِلَى سُبَاطَةٍ فَقَامَ يَبُولُ كَمَا يَبُولُ أَحَدُكُمْ، فَذَهَبْتُ أَتَنَحَّى عَنْهُ، فَقَالَ: ( (أُدْنُهُ) ) فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ان کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ (پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کے لیے) ایک شیشی میں پیشاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب بنو اسرائیل کے کسی فرد کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو کاٹتا تھا، تو انہوں نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تمہارا یہ ساتھی اس قدر سختی نہ کرے، میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، پس جب ہم کوڑا کرکٹ والی ایک جگہ کے پاس پہنچے تو تمہاری طرح ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں یہ دیکھ کر دور ہٹنا شروع ہو گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 488]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 225، ومسلم: 273، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23248 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23637»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 489
(وَمِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى) عَنِ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كُنْتَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ فَتَنَحَّيْتُ فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَتَبَاعَدْتُّ مِنْهُ، فَأَدْنَانِي حَتَّى صِرْتُ مِنْ عَقِبَيْهِ فَبَالَ قَائِمًا وَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ
(دوسری سند) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا ہٹ کر ایک قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کے پاس آ گئے، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہو گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے قریب کر لیا، یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا اور پھر پانی منگوا کر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 489]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23630»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 490
عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ وَحَمَّادٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، قَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ: فَفَحَّجَ رِجْلَيْهِ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے گندگی والے ڈھیر پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ٹانگوں کو کھلا کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 490]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح من حديث حذيفة۔ أخرجه ابن ماجه: 306، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18150 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18331»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا سہل بن سعد، سیدنا انس بن مالک، سیدنا علی، سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا عروہ بن زبیر سے کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مروی ہے۔ اسی طرح جب ایک بدو نے مسجد ِ نبوی میں کھڑے ہو پیشاب کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعد میں اس کو صرف مسجد کے آداب کے حوالے سے بات کی تھی، کھڑے ہونے سے منع نہیں کیا تھا، پہلے یہ حدیث گزر چکی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام طور پر تو بیٹھ کر ہی قضائے حاجت کرتے تھے، مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا جواز بھی پیدا ہو گیا ہے، بالخصوص جب عذر ہو۔ جس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کھڑے ہونے کی وجہ گھٹنے کے اندرونی حصے میں تکلیف بتائی گئی ہے، وہ ضعیف ہے، امام دارقطنی اور امام بیہقی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
مزید دو روایات اور ان کی حقیقت:
سیدنا جابر کہتے ہیں: ((نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنْ یَّبُوْلَ الرَّجُلُ قَائِمًا …)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ہے کہ آدمی کھڑے ہو پیشاب کرے۔ (ابن ماجہ: ۳۰۹، یہ حدیث ضعیف ہے)سیدنا عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: ((یَا عُمَرُ! لَاتَبُلْ قَائِمًا۔)) … اے عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا کر۔ (ابن ماجہ: ۳۰۸، یہ حدیث بھی ضعیف ہے)
اس باب میں کوئی ایسی صحیح روایت نہیں ہے، جس میں کھڑے ہو پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہو، البتہ بعض موقوف آثار میں اس سے منع کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں