🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 201 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 201
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: " يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ سورة البقرة آية 96 قَالَ:" هُوَ قَوْلُ الأَعَاجِمِ إِذَا عَطِسَ أَحَدُهُمْ، يُقَالُ لَهُ: زِهْ هَزَارْ سَالْ"، يَعْنِي أَلْفَ سَنَةٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت ﴿يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”یہ عجمیوں کا قول ہے، جب ان میں سے کوئی چھینکتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے: زہ ہزار سال، یعنی ہزار سال جئے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 201]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده رجاله ثقات، لكنه ضعيف لتدليس الأعمش
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. قَوْلُهُ تَعَالَى: {مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلهِ وَمَلائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلهِ وَمَلائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 202 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 202
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ " أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ:" وَجِبْرِيلَ وَمِيكَايِيلَ" .
یحییٰ بن وثاب رحمہ اللہ اس آیت ﴿مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ﴾ کی تلاوت اس طرح کرتے تھے: «وَجِبْرِيلَ وَمِيكَايِيلَ» [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح، والأعمش وإن لم يصرح بالسماع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْـزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ اللهِ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْـزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ اللهِ» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 203 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 203
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ : كَيْفَ نَقْرَأُ:" وَاتَّبَعُوا سورة البقرة آية 102، أَوِ اتُّبِعُوا؟، قَالَ:" هُمَا سَوَاءٌ، اقْرَأْ قِرَاءَتَكَ الأُولَى" .
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”ہم «وَاتَّبَعُوا» پڑھیں یا «اتَّبَعُوا» ؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”دونوں برابر ہیں، اپنی پہلی قراءت ہی پڑھو۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 203]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 204 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 204
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خُصَيْفٌ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:" وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ سورة البقرة آية 102، قَالَ:" كَانَ سُلَيْمَانُ إِذَا نَبَتَتِ الشَّجَرَةُ، قَالَ: لأَيِّ دَاءٍ أَنْتِ؟، فَتَقُولُ: لِكَذَا وَكَذَا، فَلَمَّا نَبَتَتْ شَجَرَةُ الْخُرْنُوبَةِ الشَّامِيَّ، قَالَ: لأَيِّ شَيْءٍ أَنْتِ؟، قَالَتْ: لِمَسْجِدِكَ أُخَرِّبُهُ، قَالَ: تُخَرِّبِينَهُ؟!، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: بِئْسَ الشَّجَرَةُ أَنْتِ!، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ تُوُفِّيَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ فِي مَرْضَاهُمْ: لَوْ كَانَ لَنَا مِثْلُ سُلَيْمَانَ، فَأَخَذُوا الشَّيَاطِينَ، فَأَخَذُوا كِتَابًا، فَجَعَلُوهُ فِي مُصَلَّى سُلَيْمَانَ، فَقَالُوا: نَحْنُ نَدُلُّكُمْ عَلَى مَا كَانَ سُلَيْمَانُ يُدَاوِي بِهِ، فَانْطَلَقُوا فَاسْتَخْرَجُوا ذَلِكَ الْكِتَابَ، فَإِذَا فِيهِ سِحْرٌ وَرُقًى، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ سورة البقرة آية 102". وَذَكَرَ أَنَّهَا فِي قِرَاءَةِ أُبَيٍّ: " وَمَا يُتْلَى عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ" سَبْعَ مِرَارٍ،" فَإِنْ أَبَى إِلا أَنْ يَكْفُرَ عَلَّمَاهُ، فَيَخْرُجُ مِنْهُ نَارٌ أَوْ نُورٌ حَتَّى يَسْطَعَ فِي السَّمَاءِ، قَالَ: الْمَعْرِفَةُ الَّتِي كَانَ يَعْرِفُ" .
خصیف رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے قول ﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ﴾ کے بارے میں کہا: جب کوئی درخت اگتا تو حضرت سلیمان علیہ السلام اس سے پوچھتے: تو کس بیماری کے لیے ہے؟ وہ کہتا: فلاں فلاں کے لیے، جب شامی حُرنوبہ کا درخت اگا تو انہوں نے پوچھا: تو کس چیز کے لیے ہے؟ اس نے کہا: تیری مسجد کو خراب کرنے کے لیے، انہوں نے فرمایا: تو اسے خراب کرے گی؟ اس نے کہا: ہاں، انہوں نے فرمایا: تو بدترین درخت ہے! پھر جلد ہی ان کا وصال ہو گیا، لوگ اپنی بیماریوں میں کہنے لگے: کاش ہمارے پاس سلیمان جیسا کوئی ہوتا! شیاطین نے ایک کتاب لی اور اسے حضرت سلیمان علیہ السلام کے مصلے میں رکھ دیا اور کہا: ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ سلیمان کس چیز سے علاج کرتے تھے، لوگ گئے اور وہ کتاب نکالی تو اس میں جادو اور تعویذات تھے، تب اللہ عزوجل نے نازل فرمایا: ﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ﴾، اور ذکر کیا کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قراءت میں ہے: ﴿وَمَا يُتْلَىٰ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ﴾، سات مرتبہ، اگر وہ کفر سے باز نہ آیا تو اسے سکھایا، پھر اس سے آگ یا نور نکلتا جو آسمان میں چمکتا، انہوں نے کہا: یہ وہ معرفت تھی جو وہ جانتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 204]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده حسن إلى خصيف، لكن خصيفًا لم يذكر المصدر الذي تلقى ذلك عنه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 205 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 205
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ مُجَاهِدٍ، فَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ لَهُ مُجَاهِدٌ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ الْمَلائِكَةَ حِينَ جَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَى أَعْمَالِ بَنِي آدَمَ وَمَا يَرْكَبُونَ مِنَ الْمَعَاصِي الْخَبِيثَةِ، وَلَيْسَ يَسْتُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَلائِكَةِ شَيْءٌ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَقُولُ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا إِلَى بَنِي آدَمَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ كَذَا وَكَذَا، مَا أَجْرَأَهُمْ عَلَى اللَّهِ! يُعِيبُونَهُمْ بِذَلِكَ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ:" قَدْ سَمِعْتُ الَّذِي تَقُولُونَ فِي بَنِي آدَمَ، فَاخْتَارُوا مِنْكُمْ مَلَكَيْنِ، أُهْبِطْهُمَا إِلَى الأَرْضِ، وَأَجْعَلْ فِيهِمَا شَهْوَةَ بَنِي آدَمَ، فَاخْتَارُوا هَارُوتَ وَمَارُوتَ، فَقَالُوا: يَا رَبِّ، لَيْسَ فِينَا مِثْلُهُمَا، فَأُهْبِطَا إِلَى الأَرْضِ، وَجَعَلَ فِيهِمَا شَهْوَةَ بَنِي آدَمَ، وَمُثِّلَتْ لَهُمَا الزُّهَرَةُ فِي صُورَةِ امْرَأَةٍ، فَلَمَّا نَظَرَا إِلَيْهَا، لَمْ يَتَمَالَكَا أَنْ تَنَاوَلا مِنْهَا مَا اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ، وَأَخَذَتِ الشَّهْوَةُ بِأَسْمَاعِهِمَا وَأَبْصَارِهِمَا، فَلَمَّا أَرَادَا أَنْ يَطِيرَا إِلَى السَّمَاءِ، لَمْ يَسْتَطِيعَا فَأَتَاهُمَا مَلَكٌ، فَقَالَ: إِنَّكُمَا قَدْ فَعَلْتُمَا مَا فَعَلْتُمَا، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا، أَوْ عَذَابَ الآخِرَةِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرَ: مَاذَا تَرَى؟، قَالَ: أَرَى أَنْ أُعَذَّبَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ أُعَذَّبَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعَذَّبَ سَاعَةً وَاحِدَةً فِي الآخِرَةِ، فَهُمَا مُعَلَّقَانِ مُنَكَّسَانِ فِي السَّلاسِلِ، وَجُعِلا فِتْنَةً" .
خصیف رحمہ اللہ نے کہا: میں مجاہد رحمہ اللہ کے ساتھ تھا، ہمارے پاس قریش کا ایک آدمی گزرا، مجاہد نے اس سے کہا: ہمیں بتاؤ جو تم نے اپنے باپ سے سنا، اس نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا کہ جب فرشتوں نے بنی آدم کے اعمال اور ان کی گندی نافرمانیوں کو دیکھنا شروع کیا، اور لوگوں کو فرشتوں سے کچھ بھی نہیں چھپتا، تو کچھ فرشتوں نے ایک دوسرے سے کہا: بنی آدم کو دیکھو، وہ کیسے کیسے کام کرتے ہیں، اللہ پر کتنے دلیر ہیں، وہ ان پر تنقید کرتے تھے، اللہ عزوجل نے ان سے فرمایا: میں نے تمہاری باتیں بنی آدم کے بارے میں سن لیں، اپنے میں سے دو فرشتوں کا انتخاب کرو، میں انہیں زمین پر اتاروں گا اور ان میں بنی آدم کی شہوت ڈال دوں گا، انہوں نے ہاروت اور ماروت کو چنا، انہوں نے کہا: اے رب! ہم میں ان جیسا کوئی نہیں، چنانچہ وہ زمین پر اتارے گئے اور ان میں بنی آدم کی شہوت ڈال دی گئی، زہرہ ان کے سامنے عورت کی شکل میں ظاہر کی گئی، جب انہوں نے اسے دیکھا تو خود کو نہ روک سکے اور اس سے وہ کچھ لیا جو اللہ کو بہتر معلوم ہے، شہوت نے ان کے کانوں اور آنکھوں پر قبضہ کر لیا، جب وہ آسمان کی طرف اڑنا چاہتے تو نہ اڑ سکے، ایک فرشتہ ان کے پاس آیا اور کہا: تم نے جو کیا سو کیا، اب دنیا کا عذاب چنو یا آخرت کا، ایک نے دوسرے سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا: میرا خیال ہے کہ دنیا میں عذاب سہوں پھر عذاب سہوں، یہ مجھے آخرت میں ایک گھڑی کے عذاب سے زیادہ پسند ہے، چنانچہ وہ دونوں زنجیروں میں الٹے لٹکائے گئے اور فتنہ بنا دیے گئے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 205]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لضعف خصيف من قبل حفظه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 206 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 206
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ أَحْسَبُهُ، قَالَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِي: " ارْمُقِ الْكَوْكَبَةَ، فَإِذَا طَلَعَتْ أَيْقِظْنِي"، فَلَمَّا طَلَعَتْ أَيْقَظْتُهُ، فَاسْتَوَى جَالِسًا، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَيَسُبُّهَا سَبًّا شَدِيدًا، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، نَجْمًا سَامِعًا مُطِيعًا، مَا لَهُ يُسَبُّ؟، فَقَالَ:" هَا، إِنَّ هَذِهِ كَانَتْ بَغِيًّا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَلَقِيَ الْمَلَكَانِ مِنْهَا مَا لَقِيَا" .
مجاہد رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، غالباً سفر میں، انہوں نے مجھ سے کہا: ستاروں کے جھرمٹ کو دیکھتے رہو، جب وہ طلوع ہو تو مجھے جگا دینا، جب وہ طلوع ہوا تو میں نے انہیں جگایا، وہ بیٹھ گئے اور اسے بہت برا بھلا کہنے لگے، میں نے کہا: ابا عبدالرحمن! اللہ آپ پر رحم کرے، یہ تو ایک سننے والا اور فرمانبردار ستارہ ہے، اسے کیوں برا کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: سنو! یہ بنی اسرائیل میں ایک بدکار عورت تھی، اس سے دو فرشتوں کو وہی کچھ سہنا پڑا جو سہنا پڑا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 206]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده حسن لذاته، وهو صحيح لغيره عن ابن عمر موقوفًا عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 207 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 207
حَدَّثَنَا سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الحَارِثٍ السُّلَمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ: " مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟، فَقَالَ: مِنَ الْعِرَاقِ، قَالَ: كَيْفَ تَرَكْتَ النَّاسَ وَرَاءَكَ؟، قَالَ: تَرَكْتُ النَّاسَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَلِيًّا سَوْفَ يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ:" لَوْ شَعَرْنَا، مَا زَوَّجْنَا نِسَاءَهُ، وَلا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ، إِنَّ الشَّيَاطِينَ كَانَتْ تَسْتَرِقُ السَّمْعَ فِي السَّمَاءِ، فَإِذَا سَمِعَ أَحَدُهُمْ كَلِمَةَ حَقٍّ كَذَبَ مَعَهَا أَلْفَ كِذْبَةٍ، فَأُشْرِبَتْهَا قُلُوبُ النَّاسِ وَاتَّخَذُوهَا دَوَاوِينَ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهَا سُلَيْمَانُ، فَدَفَنَهَا تَحْتَ كُرْسِيِّهِ، فَلَمَّا مَاتَ سُلَيْمَانُ، قَامَ شَيَاطِينُ بِالطَّرِيقِ، فَقَالَتْ: أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَنْزِ سُلَيْمَانَ الْمُمَنَّعِ الَّذِي لا كَنْزَ لَهُ مِثْلُهُ؟، فَاسْتَخْرَجُوهَا، قَالُوا: سِحْرٌ، وَإِنَّ بَقِيَّتَهَا هَذَا يَتَحَدَّثُ بِهِ أَهْلُ الْعِرَاقِ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَ سُلَيْمَانَ فِيمَا قَالُوا مِنَ السِّحْرِ: وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ سورة البقرة آية 102" إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک شخص ان کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: عراق سے، انہوں نے پوچھا: وہاں کے لوگوں کو کیسے چھوڑا؟ اس نے کہا: میں لوگوں کو اس بات پر گفتگو کرتے چھوڑ آیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس دوبارہ آئیں گے، انہوں نے فرمایا: اگر ہمیں معلوم ہوتا تو نہ ان کی بیویوں کی شادی کرتے اور نہ ان کا ورثہ تقسیم کرتے، میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں، شیاطین آسمان سے چھپ کر باتیں سنتے تھے، جب ان میں سے کوئی ایک سچی بات سنتا تو اس کے ساتھ ہزار جھوٹ ملاتا، لوگوں کے دلوں میں وہ باتیں بٹھا دی گئیں اور انہوں نے انہیں دیوان بنا لیا، حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے جان لیا اور اپنے تخت کے نیچے دفن کر دیا، جب ان کا وصال ہوا تو شیاطین نے راستے پر کھڑے ہو کر کہا: کیا میں تمہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس نایاب خزانے کی طرف نہ بتاؤں جس کا کوئی خزانہ برابر نہیں؟ لوگوں نے اسے نکالا، کہا: یہ جادو ہے، اور اس کا باقی حصہ آج کل اہل عراق بیان کرتے ہیں، اللہ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے عذر کو جادو کے الزام سے بری کرنے کے لیے نازل فرمایا: ﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ﴾ سے آخر آیت تک۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 207]
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 406، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3068، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10927، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 207»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. قَوْلُهُ تَعَالَى: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 208 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 208
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ قَانِفٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقْرَأُ:" مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نَنسَاهَا" فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقْرَأُ: مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا سورة البقرة آية 106، فَقَالَ:" إِنَّ الْقُرْآنَ لَمْ يُنَزَّلْ عَلَى الْمُسَيِّبِ، وَلا عَلَى آلِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: سَنُقْرِئُكَ فَلا تَنْسَى سورة الأعلى آية 6، وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ سورة الكهف آية 24" .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نَنْسَاهَا﴾ پڑھ رہے تھے، میں (قانف الثقفی رحمہ اللہ) نے کہا: سعید بن مسیب رحمہ اللہ ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِيهَا﴾ پڑھتے ہیں، تو فرمایا: قرآن مسیب یا آل مسیب پر نازل نہیں ہوا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَىٰ﴾، ﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ﴾ ۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 208]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 2970، 3946، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10929، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 208»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لجهالة القاسم بن عبد الله بن ربيعة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 209 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 209
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ عَطَاءٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: " مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا سورة البقرة آية 106، قَالَ:" أَوْ نُؤَخِّرُهَا" .
عطاء رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِيهَا﴾ کے بارے میں فرمایا: یعنی ”یا ہم اسے مؤخر کر دیں“۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 209]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ إِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ إِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 210 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 210
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ قَوْمًا عُمِّيَتْ عَلَيْهِمُ الْقِبْلَةُ، فَصَلَّى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ إِلَى نَاحِيَةٍ، ثُمَّ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ،" فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115" .
عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: کچھ لوگوں پر قبلہ مشتبہ ہو گیا، تو ہر شخص نے اپنی طرف نماز پڑھی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس کا ذکر کیا، تو اللہ نے اپنے رسول پر یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ یعنی جہاں بھی منہ کرو، وہیں اللہ کا رخ ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف جدًّا؛ لإرساله، ولضعف حجاج بن أرطأة من قبل حفظه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں