🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
87. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن المرء إنما يعصم ماله ونفسه بالإقرار لله إذا قرنه بالشهادة للمصطفى بالرسالة صلى الله عليه وسلم-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ انسان کا جان و مال اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ اللہ کا اقرار کرے اور اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 218
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ، وَأَنْزَلَ الِلَّهِ فِي كِتَابِهِ، فَذَكَرَ قَوْمًا اسْتَكْبَرُوا، فَقَالَ: إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ سورة الصافات آية 35، وَقَالَ: إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى سورة الفتح آية 26، وَهِيَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَمُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ" ، اسْتَكْبَرَ عَنْهَا الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“، جو شخص یہ کہہ دے کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“، وہ اپنی جان اور اپنے مال کو مجھ سے محفوظ کر لے گا، البتہ اس کے حق کا معاملہ مختلف ہے، اور اس شخص کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آیت نازل فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کا تذکرہ کیا جنہوں نے تکبر اختیار کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ يَسْتَكْبِرُونَ﴾ [سورة الصافات: 35] ”بے شک یہ وہ لوگ ہیں، جب ان سے یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو یہ لوگ تکبر کرتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ﴿إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَىٰ﴾ [سورة الفتح: 26] ”جب ان لوگوں کے دلوں میں کفر تھا، جب انہوں نے وہ ہٹ دھرمی اختیار کی جو زمانہ جاہلیت کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر سکینت نازل کی اور انہیں تقویٰ کے کلمے پر لازم کر دیا۔“ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) یہاں تقویٰ کے کلمے سے مراد یہ کہنا ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ مشرکین نے حدیبیہ کے موقع پر اس بارے میں تکبر کا اظہار کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 218]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2946، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 21، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2248، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 218، 220، 174، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1432، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3090، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2640، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2606، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 71، 3927، والدارقطني فى (سننه) برقم: 892، 1884، 1885، 1886، وأحمد فى (مسنده) برقم: 68»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (407/ 2): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عمرو بن عثمان: صدوق، وأبوه ثقة، وباقي السند على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن المرء إنما يحقن دمه وماله بالإقرار بالشهادتين اللتين وصفناهما إذا أقر بهما بإقامة الفرائض-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ انسان کا خون اور مال اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ دونوں شہادتوں کا اقرار فرائض کی ادائیگی کے ساتھ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 219
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقَدْ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مَنَي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّ الإِسْلامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کریں، اور زکات ادا کریں، جب وہ ایسا کر لیں گے، تو وہ اپنی جانیں اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اسلام کے حق کا معاملہ مختلف ہے، اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 219]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 25، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 22، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 219، 175، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5222، 6597، 16833، والدارقطني فى (سننه) برقم: 898، 899، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8510»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - وهو مكرر (175): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، وقد تقدم تخريجه برقم "175".
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89. باب فرض الإيمان - المرء إنما يحقن دمه وماله إذا آمن بكل ما جاء به المصطفى صلى الله عليه وسلم من الله جل وعلا-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - انسان کا خون اور مال اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور ہر اُس چیز کو مانے جو آپ اللہ جل وعلا کی طرف سے لے کر آئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 220
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَآمَنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مَنَي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے اس بات کا حق دیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں جب تک وہ یہ اعتراف نہیں کر لیتے کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں“ اور وہ مجھ پر اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان نہیں لے آتے، جب وہ ایسا کریں گے تو وہ اپنی جانیں اور اپنے مال محفوظ کر لیں گے، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 220]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2946، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 21، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2248، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 220،174، 218، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1432، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3090، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2640، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2606، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 71، 3927، والدارقطني فى (سننه) برقم: 892، 1884، 1885، 1886، وأحمد فى (مسنده) برقم: 68»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - وهو مكرر (174): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. باب فرض الإيمان - ذكر خبر أوهم مستمعه أن من لقي الله عز وجل بالشهادة حرم عليه دخول النار في حالة من الأحوال-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو سننے والے کو یہ وہم دے سکتی ہے کہ جو شخص اللہ کے حضور شہادت کے ساتھ حاضر ہو، اس پر کسی حال میں جہنم حرام ہو جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 221
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أبيه ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، فَاسْتَأذْنُوا رَسُولَ اللَّهِ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظَهْرِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِنَا لَقِينَا عَدُوَّنَا جِيَاعًا رَجَّالَةً؟ وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَدْعُوَ النَّاسَ بِبَقِيَّةِ أَزْوِدَتِهِمْ، فَجَاؤُوا بِهِ، يَجِيءُ الرَّجُلُ بِالْحَفْنَةِ مِنَ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذَلِكَ، وَكَانَ أَعْلاهُمُ الَّذِي جَاءَ بِالصَّاعِ مِنَ التَّمْرِ، فَجَمَعَهُ عَلَى نِطَعٍ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ بِمَا شَاءَ الِلَّهِ أَنْ يَدْعُوَ، ثُمَّ دَعَا النَّاسَ بِأَوْعِيَتِهِمْ، فَمَا بَقِيَ فِي الْجَيْشِ وِعَاءٌ إِلا مَمْلُوءٌ وَبَقِيَ مِثْلُهُ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَأَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ لا يَلْقَاهُ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِهِمَا إِلا حَجَبَتَاهُ عَنِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" أَبُو عَمْرَةَ الأَنْصَارِيُّ هَذَا: اسْمُهُ ثَعْلَبَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مِحْصَنٍ.
عبدالرحمن بن ابوعمرہ انصاری اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو شدید بھوک لاحق ہو گئی۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ اپنے سواری کے بعض جانور قربان کر دیں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر ہم بھوک کے عالم میں پیادہ ہو کر دشمن کا سامنا کریں گے، تو پھر ہمارا کیا بنے گا؟ یا رسول اللہ! اگر آپ مناسب سمجھیں، تو آپ لوگوں کو حکم دیں کہ ان کے پاس جو کچھ بھی کھانے پینے کی چیز بچی ہوئی ہے، وہ لے آئیں۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دے دیا) تو لوگ وہ چیزیں لانے لگے؛ ایک شخص ایک مٹھی اناج یا اس سے زیادہ لے آیا، اور جو شخص سب سے زیادہ لے کر آیا تھا، وہ ایک صاع کھجور لے کر آیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سب کو ایک دسترخوان پر جمع کروایا، پھر جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا کہ وہ اپنے برتن لے آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اناج ان میں ڈالنا شروع کیا، تو لشکر میں موجود کوئی برتن ایسا باقی نہیں رہا جو بھر نہ گیا ہو، اور وہ اناج پھر بھی اتنا ہی باقی رہ گیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ جو مومن بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان دو باتوں کے ہمراہ حاضر ہو گا، تو یہ دونوں چیزیں اس شخص کے لیے قیامت کے دن جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائیں گی۔“ سیدنا ابوعمرہ انصاری رضی اللہ عنہ کا نام ثعلبہ بن عمرو بن محصن ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 221]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 221، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4257، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8742، 10912، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15688، والطبراني فى(الكبير) برقم: 575، 52، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 63»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - انظر التعليق. [الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ] قال الشيخ: ثقة مدلِّس، لكنّه صرَّح بالتحديث: عند أحمدَ (3/ 417 - 418)، وإسنادُه صحيحٌ. ثُمّ خرّجتُه في «الصحيحة» (3221). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط المطلب بن حنطب: هو المطلب بن عبد الله بن المطلب بن حنطب بن الحارث المخزومي، صدوق، وهو - وإن كان موصوفاً بالتدليس - قد صرح بالتحديث في رواية أحمد والطبراني والبيهقي، وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
91. باب فرض الإيمان - ذكر الخبر الدال على أن قوله صلى الله عليه وسلم إلا حجبتاه عن النار-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس قولِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم «إلا حجبتاه عن النار» پر دلالت کرتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 222
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا وَصِيفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ بِأَنْطَاكِيَةَ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَيَدْخُلُ أَهْلُ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ جَلَّ وَعَلا: انْظُرُوا مَنَ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ الإِيمَانِ فَأَخْرِجُوهُ"، قَالَ:" فَيَخْرُجُونَ مِنْهَا حُمَمًا بَعْدَمَا امْتَحَشُوا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرِ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ إِلَى جَانِبِ السَّيْلِ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ تَرَوْهَا كَيْفَ تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہلِ جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے، اہل جہنم، جہنم میں داخل ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم ان لوگوں کا جائزہ لو جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان تمہیں مل جائے اسے (جہنم میں سے) نکال دو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو وہ لوگ جہنم سے یوں نکلیں گے کہ وہ جلنے کے بعد کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ انہیں نہرِ حیات میں ڈالا جائے گا، تو وہ اس میں سے یوں پھوٹ پڑیں گے، جس طرح سیلابی پانی کے کنارے پر دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا نہیں ہے، وہ کس طرح زرد رنگ کا ہوتا ہے اور ادھر ادھر لہرا رہا ہوتا ہے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 222]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 22، 2440، 4581، 4919، 6535، 6560، 7439، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 183، 184، 185، 188، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 222، 7377، 7379، 7434، 7485، 182، 184، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3369، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5025، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11264، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2598، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2859، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 60، 179، 4280، 4309، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11172»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (842)، ومضى نحوه (182): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح. الربيع بن سليمان: ثقة، ومن فوقه رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. باب فرض الإيمان - ذكر تحريم الله جل وعلا على النار من وحده مخلصا في بعض الأحوال دون البعض-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا بعض حالتوں میں مخلص ہو کر وحدانیت کا اقرار کرنے والے پر جہنم کو حرام فرما دیتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 223
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي، وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي، وَكَانَ الأَمْطَارُ، سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ، فَأُصَلِّيَ لَهُمْ، وَدِدْتُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَأَفْعَلُ"، قَالَ عِتْبَانُ: فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟" قَالَ: فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ، وَقُمْنَا وَرَاءَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ: وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ، قَالَ فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَهُ، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ، قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَاكَ مُنَافِقٌ، وَلا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ، أَلا تَرَاهُ قَدْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ؟" قَالُوا: الِلَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، إِنَّمَا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ" ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ، وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ.
سیدنا محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ، جن کا تعلق انصار سے ہے اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے، وہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میری بینائی کمزور ہو گئی ہے، میں اپنے محلے کے لوگوں کو نماز پڑھاتا ہوں، جب بارش ہوتی ہے تو نشیبی حصے میں میرے اور ان لوگوں کے درمیان پانی بہنے لگتا ہے، تو میں ان کی مسجد تک نہیں آ سکتا کہ انہیں جا کر نماز پڑھاؤں، اس لیے یا رسول اللہ! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ (میرے ہاں) تشریف لائیں اور میرے گھر میں کسی جگہ آپ نماز ادا کریں، تاکہ میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں عنقریب ایسا کروں گا۔“ سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دن چڑھنے کے بعد تشریف لائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اجازت پیش کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہونے کے بعد پہلے تشریف فرما نہیں ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے گھر میں کہاں یہ پسند کرتے ہو کہ میں وہاں نماز ادا کروں؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خزیرہ (مخصوص قسم کا کھانا) کھانے کے لیے روک لیا، جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ راوی کہتے ہیں، محلے کے کچھ لوگ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے، یہاں تک کہ گھر میں متعدد افراد اکٹھے ہو گئے۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: مالک بن دخشن کہاں ہے؟ تو کسی دوسرے نے کہا: وہ منافق ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: ”تم اس کے بارے میں یہ بات نہ کہو، کیا تم نے اسے دیکھا نہیں ہے کہ اس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے“ کہا ہے؟ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے یہ کلمہ پڑھا ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، ہم نے تو یہ بات نوٹ کی ہے کہ اس کی توجہ اور اس کی خیر خواہی منافقین کے لیے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص پر جہنم کو حرام قرار دے دیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھتا ہے۔“ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حصین بن محمد انصاری رحمہ اللہ سے سوال کیا، یہ بنو سالم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں اور ان کے اکابرین میں سے ہیں، ان سے میں نے سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی روایت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے اس روایت کی تصدیق کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 223]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 77، 189، 424، 425، 667، 686، 838، 839، 1185، 5401، 6354، 6422، 6938، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 33، ومالك فى (الموطأ) برقم: 594، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1653، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 223، 1292، 1612، 2075، 4534، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6560، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 787، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 660، 754، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12579»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق على ابن خزيمة» (1653 و 1654): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
93. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الله جل وعلا بتفضله لا يدخل النار من كان في قلبه أدنى شعبة من شعب الإيمان على سبيل الخلود-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا اپنے فضل سے اس شخص کو جہنم میں ہمیشہ نہیں ڈالے گا جس کے دل میں ایمان کی ادنیٰ سی شاخ بھی ہوگی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 224
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيَمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنت میں ایسا کوئی شخص داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا تکبر ہو گا اور جہنم میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 224]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 91، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 224، 5466، 5680، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 70، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4091، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1998، 1999، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 59، 4173، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3865»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (89/ 114): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط عبد الغفار بن عبد الله: ذكره المؤلف في "الثقات" 8/ 421، وقال: حدثنا عنه الحسن بن إدريس، والمواصلة، وترجمه ابن أبي حاتم 6/ 54، فلم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً، وباقي رجال الإسناد ثقات على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
94. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الله جل وعلا بتفضله قد يغفر لمن أحب من عباده ذنوبه بشهادته له ولرسوله صلى الله عليه وسلم-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا اپنے فضل سے جس بندے کو چاہے، اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اگر وہ اس کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 225
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ الْحُبُلِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلا، كُلُّ سِجِلٍّ مَدُّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ: أَتُنْكِرُ شَيْئًا مِنْ هَذَا؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ؟ فَيَقُولُ: لا يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: أَفَلَكَ عُذْرٌ أَوْ حَسَنَةٌ؟ فَيُبْهَتُ الرَّجُلُ وَيَقُولُ: لا يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: بَلَى، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً، وَإِنَّهُ لا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ، فَيُخْرِجُ لَهُ بِطَاقَةً فِيهَا: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: احْضُرْ وَزْنَكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلاتِ؟ فَيَقُولُ: إِنَّكَ لا تُظْلَمُ، قَالَ: فَتُوضَعُ السِّجِلاتُ فِي كِفَّةٍ، وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ، فَطَاشَتَ السِّجِلاتُ، وَثَقُلَتَ الْبِطَاقَةُ، قَالَ: فَلا يَثْقُلُ اسْمَ اللَّهِ شَيْءٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک فرد کو تمام مخلوق میں سے الگ کرے گا، پھر اس کے سامنے ننانوے رجسٹر کھول دے گا، ان میں سے ہر ایک اتنا بڑا ہو گا جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ کیا نوٹ کرنے والے محافظ فرشتوں نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے؟ وہ جواب دے گا: جی نہیں، اے میرے پروردگار! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہارے پاس کوئی عذر ہے یا نیکی ہے؟ تو وہ شخص مبہوت ہو جائے گا اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! جی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جی ہاں! تمہاری ایک نیکی ہمارے پاس ہے، اور آج کے دن تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ پھر اس شخص کے سامنے کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا، جس میں یہ تحریر ہو گا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”میزان کے پاس آ جاؤ۔“ وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! ان رجسٹروں کے مقابلے میں اس کاغذ کی کیا حیثیت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو وہ تمام رجسٹر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ کاغذ کا ٹکڑا دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا، تو رجسٹروں والا پلڑا اوپر چلا جائے گا اور کاغذ کے ٹکڑے والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا (یا شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی یا شاید کسی راوی کے یہ الفاظ ہیں): ”اللہ تعالیٰ کے اسم سے زیادہ وزنی اور کوئی چیز نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 225]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 225، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 9، 1943، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2639، 2639 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4300، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7114، 7187، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 339، والطبراني فى(الكبير) برقم: 14614، 14645، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4725»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (240 - 241). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عبد الوارث بن عبيد الله: صدوق، وباقي رجاله على شرط مسلم. عبد الله: هو ابن المبارك، وأبو عبد الرحمن المعافري: هو عبد الله بن يزيد المعافري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
95. باب فرض الإيمان - ذكر الإخبار بأن الله قد يغفر بتفضله لمن لم يشرك به شيئا جميع الذنوب التي كانت بينه وبينه-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کی خبر کہ اللہ جل وعلا اپنے فضل سے اس بندے کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 226
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَالَ الِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ لَوْ لَقِيتَنِي بِمِثْلِ الأَرْضِ خَطَايَا لا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا، لَقِيتُكَ بِمِلْءِ الأَرْضِ مَغْفِرَةً" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: اے آدم کے بیٹے! اگر تم زمین جتنی خطائیں لے کر میری بارگاہ میں حاضر ہو، لیکن تم کسی کو میرے ساتھ شریک نہ ٹھہراتے ہو، تو میں زمین جتنی مغفرت کے ہمراہ تم سے ملاقات کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 226]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2687، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 226، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7700، 7719، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2830، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3821، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21706»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (581): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط شريك: هو ابنُ عبد الله النخعي الكوفي، سيّئ الحفظ، لكن تابعه أبو معاوية ووكيع وعلي بن مسهر كما سيرد، وباقي رجال الإسناد ثقات، فالحديث صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
96. باب فرض الإيمان - ذكر إعطاء الله جل وعلا الأجر مرتين لمن أسلم من أهل الكتاب-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اہل کتاب میں سے جو اسلام لاتا ہے اسے دوہرا اجر عطا فرماتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 227
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ أَتَاهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو إِنَّ مَنْ قَبْلُنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، يَقُولُونَ: عَتَقَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا، فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أبيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، ثُمَّ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا عَلَيْهِ، وَحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِ لِمَوْلاهُ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ، فَغَذَّاهَا فَأَحْسَنَ غِذَاءَهَا، وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ" قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ: خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَيْءٍ، فَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ إِلَى الْمَدِينَةِ فِيمَا هُوَ دُونَهُ.
صالح ہمدانی، امام شعبی کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: میں نے خراسان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ امام شعبی کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعمرو! ہماری طرف اہل خراسان اس بات کے قائل ہیں، جب کوئی شخص اپنی کنیز کو آزاد کر کے پھر اس کے ساتھ شادی کرے، تو اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو اپنے قربانی کے جانور پر سوار ہو جاتا ہے، تو امام شعبی نے بتایا: ابوبردہ نے اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تین لوگ ایسے ہیں، جنہیں دگنا اجر عطا کیا جائے گا۔ اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لائے، اور پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لے آئے اور آپ کی پیروی کرے، تو اسے دگنا اجر ملے گا۔ ایک وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اپنے ذمے حق ادا کرے اور اپنے ذمے اپنے آقا کا بھی حق ادا کرے اسے بھی دگنا اجر ملے گا۔ اور ایک وہ شخص جس کی کوئی کنیز ہو، وہ اسے اچھی خوراک فراہم کرے، اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرے، پھر اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کرے، تو اس کو دگنا اجر ملے گا۔“ امام شعبی نے خراسان کے رہنے والے اس شخص سے کہا: تم کسی معاوضے کے بغیر اس حدیث کو حاصل کر لو، ورنہ پہلے اس سے کم (مضمون والی) روایت کے لیے مدینہ منورہ تک سفر کر کے جانا پڑتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 227]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 97، 2544، 2547، 2551، 3011، 3446، 5083، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 154، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 227، 4053، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3344، 3345، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5476، 5477، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2053، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1116، 1116 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2290، 2291، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1956، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 912، 913، 914، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19841، والحميدي فى (مسنده) برقم: 786»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1153): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، وهشيم قد صرح بالتحديث عند سعيد بن منصور والطحاوي. وصالح: هو صالح بن صالح بن حي، ويقال: ابن صالح بن مسلم بن حي، وأبو بردة: هو ابن موسى الأشعري، قيل: اسمه عامر، وقيل: الحارث.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں