🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
122. باب ما جاء في الشرك والنفاق - ذكر إطلاق اسم النفاق على غير المعدود إذا تخلف عن إتيان الجمعة ثلاثا-
شرک و نفاق کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر کوئی تین جمعے چھوڑ دے تو اس پر نفاق کا اطلاق کیا جاتا ہے اگرچہ وہ منافقین میں شمار نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 258
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ سَفِيَانَ ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلاثًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ، فَهُوَ مُنَافِقٌ" .
سیدنا ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی عذر کے بغیر تین جمعہ ترک کر دے وہ منافق ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 258]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 317، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1857، 1858، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 258، 2786، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1039، 6683، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1368، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1668، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1052، والترمذي فى (جامعه) برقم: 500، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1612، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1125، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15738»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «المشكاة» (1371)، «التعليق الرغيب» (1/ 259)، ويأتي (2775) بلفظ «طبع الله على قلبه». تنبيه!! رقم (2775) = (2786) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، يحيى بن داود: هو ابن ميمون الواسطي ثقة، ومن فوقه على شرط الصحيح، إلا أن محمد بن عمرو _ وهو ابن علقمة بن وقاص الليثي المدني _ له أوهام، فحديثه من قبيل الحسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
123. باب ما جاء في الشرك والنفاق - ذكر إطلاق اسم النفاق على المؤخر صلاة العصر إلى أن تكون الشمس بين قرني الشيطان-
شرک و نفاق کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص نمازِ عصر کو مؤخر کرے یہاں تک کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہو جائے، اس پر نفاق کا نام بولا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 259
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، بَعْدَ الظُّهْرِ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتُمَا الْعَصْرَ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: لا، قَالَ: فَصَلِّيَا عِنْدَكُمَا فِي الْحُجْرَةِ، فَفَرَغْنَا وَطَوَّلَ هُوَ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَكَانَ أَوَّلَ مَا كَلَّمَنَا بِهِ أَنْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ، يُمْهِلُ أَحَدُهُمْ حَتَّى كَانَتِ الشَّمْسُ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَلِيلا" .
علاء بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اور میرے ساتھ ایک اور صاحب تھے، ہم ظہر کے بعد ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے جواب دیا: جی نہیں! تو انہوں نے فرمایا: تم دونوں حجرہ میں نماز ادا کر لو۔ ہم اس سے فارغ ہو گئے، انہوں نے نماز طویل ادا کی، جب وہ نماز پڑھ کر ہماری طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے سب سے پہلے ہم سے یہ کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ منافقین کی نماز ہے، ان میں سے کوئی شخص نماز کو مؤخر کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے، تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگیں مارتا ہے، وہ نماز میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت کم کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 259]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 622، ومالك فى (الموطأ) برقم: 743، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 333، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 259، 260، 261، 262، 263، 1514، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 509، وأبو داود فى (سننه) برقم: 413، والترمذي فى (جامعه) برقم: 160، والدارقطني فى (سننه) برقم: 999، 1000، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12181، 12704»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (441): م نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
124. باب ما جاء في الشرك والنفاق - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به العلاء بن عبد الرحمن-
شرک و نفاق کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کہا کہ یہ روایت صرف علاء بن عبدالرحمن سے منفرد ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 260
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ وَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِصَلاةِ الْمُنَافِقِينَ؟ يَدَعُ الْعَصْرَ حَتَّى كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ كَنَقَرَاتِ الدِّيكِ لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهِنَّ إِلا قَلِيلا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں منافقین کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ عصر کی نماز کو ادا نہیں کرتا، یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) شیطان کے سینگ تک پہنچ جاتا ہے، تو وہ مرغ کی طرح ٹھونگے مارتا ہے، وہ اس نماز میں اللہ کا ذکر بہت تھوڑا سا کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 260]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 622، ومالك فى (الموطأ) برقم: 743، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 333، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 259، 260، 261، 262، 263، 1514، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 509، وأبو داود فى (سننه) برقم: 413، والترمذي فى (جامعه) برقم: 160، والدارقطني فى (سننه) برقم: 999، 1000، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12181، 12704»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م نحوه - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد وهو الليثي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
125. باب ما جاء في الشرك والنفاق - ذكر إثبات اسم المنافق على المؤخر صلاة العصر إلى اصفرار الشمس-
شرک و نفاق کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو نمازِ عصر کو سورج کے زرد ہونے تک مؤخر کرے اس پر منافق کا نام ثابت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 261
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلاةِ أَوْ ذَكَرَهَا، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ، تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَلِيلا" .
علاء بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ظہر کے بعد حاضر ہوئے، تو وہ عصر کی نماز ادا فرما رہے تھے، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو ہم نے یا شاید انہوں نے جلدی نماز ادا کرنے کا تذکرہ کیا، تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ منافقین کی نماز ہے، یہ منافقین کی نماز ہے۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی: ”ان میں سے کوئی ایک شخص بیٹھا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سورج زرد ہو جاتا ہے اور وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) شیطان کے دو سینگوں پر پہنچ جاتا ہے، تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے، وہ اس نماز میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت تھوڑا کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 261]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 622، ومالك فى (الموطأ) برقم: 743، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 333، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 259، 260، 261، 262، 263، 1514، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 509، وأبو داود فى (سننه) برقم: 413، والترمذي فى (جامعه) برقم: 160، والدارقطني فى (سننه) برقم: 999، 1000، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12181، 12704»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
126. باب ما جاء في الشرك والنفاق - ذكر البيان بأن تأخير صلاة العصر إلى أن يقرب اصفرار الشمس صلاة المنافقين-
شرک و نفاق کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازِ عصر کو سورج کے زرد ہونے کے قریب تک مؤخر کرنا منافقین کی نماز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 262
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ، قَالَ: وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ، قَالَ: صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ؟ قُلْنَا: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ، قَالَ: فَصَلُّوا الْعَصْرَ، فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا الْعَصْرَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ، يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا، لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَلِيلا" .
علاء بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد بصرہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر گئے، راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا، جب وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے عصر کی نماز ادا کر لی ہے؟ ہم نے جواب دیا: ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر آئے ہیں، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ عصر کی نماز ادا کر لو! چنانچہ ہم نے عصر کی نماز ادا کر لی، جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ منافق کی نماز ہے، (منافق شخص) بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے، تو وہ اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے اور اس نماز میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت تھوڑا سا کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 262]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 622، ومالك فى (الموطأ) برقم: 743، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 333، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 259، 260، 261، 262، 263، 1514، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 509، وأبو داود فى (سننه) برقم: 413، والترمذي فى (جامعه) برقم: 160، والدارقطني فى (سننه) برقم: 999، 1000، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12181، 12704»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
127. باب ما جاء في الشرك والنفاق - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
شرک و نفاق کا بیان - ایک دوسری خبر کا ذکر جو ہماری بیان کردہ بات کی تصدیق کرتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 263
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَصَاحِبٌ لِي بَعْدَ الظُّهْرِ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: لا، قَالَ: فَصَلِّيَا عِنْدَنَا فِي الْحُجْرَةِ، فَفَرَغْنَا، وَطَوَّلَ هُوَ، وَانْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَكَانَ أَوَّلَ مَا كَلَّمَنَا بِهِ أَنْ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ، يَقْعُدُ أَحَدُهُمْ حَتَّى كَانَتْ عَلَى قَرْنِ الشَّيْطَانِ، أَوْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَليِلا" .
علاء بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں اور میرا ایک ساتھی ظہر کی نماز کے بعد سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے دریافت کیا: ”کیا تم نے عصر کی نماز ادا کر لی ہے؟“ ہم نے جواب دیا: ”جی نہیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”تم ہمارے ہاں حجرے میں نماز ادا کر لو۔“ جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے طویل نماز ادا کی۔ نماز پڑھ کر فارغ ہونے کے بعد وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے، تو انہوں نے سب سے پہلی بات ہمارے ساتھ یہ کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: «تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ -أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ- قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا، لَا يَذْكُرُ اللهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا» ”یہ منافقین کی نماز ہے؛ ان میں سے کوئی ایک شخص بیٹھا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے سینگ پر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: شیطان کے دو سینگوں کے درمیان) پہنچ جاتا ہے، تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے، وہ ان رکعات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت تھوڑا سا کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 263]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 622، ومالك فى (الموطأ) برقم: 743، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 333، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 259، 260، 261، 262، 263، 1514، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 509، وأبو داود فى (سننه) برقم: 413، والترمذي فى (جامعه) برقم: 160، والدارقطني فى (سننه) برقم: 999، 1000، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12181، 12704»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح: م نحوه - انظر (259). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط هو مكرر الحديث (259).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
128. باب ما جاء في الشرك والنفاق - ذكر الإخبار عن وصف عشرة المنافق للمسلمين-
شرک و نفاق کا بیان - اس خبر کا ذکر جو منافق کے مسلمانوں کے ساتھ برتاؤ کے وصف کو بیان کرتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 264
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْمَدِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُصُّ بِمَكَّةَ وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ، إِنْ مَالَتْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ نُطِحَتْ، وَإِنْ مَالَتْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ نُطِحَتْ" ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَيْسَ هَكَذَا، فَغَضِبَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَقَالَ: تَرُدُّ عَلَيَّ؟ قَالَ: إِنِّي لَمْ أَرُدَّ عَلَيْكَ، إِلا أَنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ: فَقَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ: فَكَيْفَ قَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ:" بَيْنَ الرَّبِيضَيْنِ"، قَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بَيْنَ الرَّبِيضَيْنِ، وَبَيْنَ الْغَنَمَيْنِ سَوَاءٌ، قَالَ: كَذَا سَمِعْتُ، كَذَا سَمِعْتُ، كَذَا سَمِعْتُ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ سَمِعَ شَيْئًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْدُهُ، وَلَمْ يَقْصُرْ دُونَهُ.
ابوجعفر نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ عبید بن عمیر مکہ مکرمہ میں تقریر کر رہے تھے، ان کے پاس سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ کرام بھی موجود تھے، عبید بن عمیر نے یہ بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”منافق کی مثال دو ریوڑوں کے درمیان والی بکری کی مانند ہے، اگر وہ اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے، تو اسے سینگ مارے جاتے ہیں اور اگر وہ اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے، تو اسے سینگ مارے جاتے ہیں۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسا نہیں ہے۔ اس پر عبید بن عمیر غصے میں آ گئے اور بولے: کیا آپ میری بات کو مسترد کر رہے ہیں؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہاری بات کو مسترد نہیں کر رہا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات ارشاد فرمائی تھی اس وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ اس پر سیدنا عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اے ابوعبدالرحمن! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا تھا؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریوڑ کے لیے) لفظ «رَبِيضَيْنِ» ”ربیضین“ استعمال کیا تھا (جب کہ تم نے لفظ «غَنَمَيْنِ» ”غنمین“ استعمال کیا ہے)۔ تو عبید بن عمیر یا شاید عبداللہ بن صفوان بولے: اے ابوعبدالرحمن! «رَبِيضَيْنِ» اور «غَنَمَيْنِ» دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تو اسی طرح سنا ہے، میں نے تو اسی طرح سنا ہے، میں نے تو اسی طرح سنا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی لفظ سنتے، تو آپ رضی اللہ عنہ اس میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی نہیں کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 264]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2784، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 264، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6435، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5052، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4966، وأخرجه الحميدي فى (مسنده) برقم: 705، وأخرجه الطبراني فى (الصغير) برقم: 585»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض» (554): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عتبة بن عبد الله اليحمدي: صدوق، ومن فوقه على شرطهما، وأبو جعفر: هو محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب الباقر.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
129. باب ما جاء في الصفات-
اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 265
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيرَةَ وَاسْمُهُ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الآيَةِ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا سورة النساء آية 58 إِلَى قَوْلِهِ: إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا سورة النساء آية 58: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ إِبْهَامَهُ عَلَى إِذْنِهِ، وَأُصْبَعَهُ الدَّعَّاءَ عَلَى عَيْنِهِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَرَادَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضْعِهِ أُصْبُعَهُ عَلَى أُذُنِهِ وَعَيْنِهِ تَعْرِيفَ النَّاسِ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا لا يَسْمَعُ بِالأُذُنِ الَّتِي لَهَا سِمَاخٌ وَالْتِوَاءٌ، وَلا يُبْصِرُ بِالْعَيْنِ الَّتِي لَهَا أَشْفَارٌ وَحَدَقٌ وَبَيَاضٌ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ أَنْ يُشَبَّهَ بِخَلْقِهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الأَشْيَاءِ، بَلْ يَسْمَعُ وَيُبْصِرُ بِلا آلَةٍ كَيْفَ يَشَاءُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے اس آیت کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ﴿بے شک اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو یہ حکم دیتا ہے، تم امانتیں ان کے اہل لوگوں کو ادا کر دو۔﴾ [سورة النساء: 58] یہ آیت یہاں تک ہے: ﴿بے شک اللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔﴾ [سورة النساء: 58] (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنا انگوٹھا اپنے کان پر رکھا اور اپنی انگلی جس کے ذریعے نماز کے دوران اشارہ کیا جاتا ہے اسے اپنی آنکھ پر رکھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی انگلی کو اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں پر رکھنے کا مطلب یہ ہے: آپ لوگوں کے سامنے اس بات کو واضح کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کان کی وجہ سے نہیں سنتا جس میں سوراخ اور موڑ ہوتا ہے، اور اس آنکھ کی مدد سے نہیں دیکھتا ہے جس میں پتلیاں اور ڈیلا اور سفیدی ہوتی ہے، ہمارا پروردگار اس بات سے بلند و برتر ہے کہ اسے اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کے ساتھ مشابہ قرار دیا جائے بلکہ وہ کسی آلے کے بغیر سنتا اور دیکھتا ہے جیسے وہ چاہتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 265]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 265، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 64، 2943، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4728، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 9334»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» تحت حديث (3081). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح. والمقرئ: هو أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المكي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 266
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لا يَنَامُ، وَلا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلُ اللَّيْلِ، وَعَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلُ النَّهَارِ، حِجَابُهُ النُّورُ، لَوْ كُشِفَ طَبَقُهَا أَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ، وَاضِعٌ يَدَهُ لِمُسِيءِ اللَّيْلِ لِيَتُوبَ بِالنَّهَارِ، وَلُمُسِيءِ النَّهَارِ لِيَتُوبَ بِاللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے اور یہ اس کی شان کے لائق بھی نہیں ہے کہ وہ سو جائے، وہ پلڑے کو اوپر نیچے کرتا رہتا ہے۔ دن کے اعمال رات ہونے سے پہلے اور رات کے اعمال دن ہونے سے پہلے اس کی بارگاہ میں پیش کر دیے جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور ہے، اگر اس کے ایک پردے کو ہٹا دیا جائے تو اس کی ذات کے انوار ہر اس چیز کو جلا دیں جو اس کی بصارت کے دائرے میں ہیں۔ اس نے اپنا دستِ رحمت رات کے وقت گناہ کرنے والے شخص کے لیے پھیلایا ہوا ہے تاکہ دن میں اس کی توبہ قبول کرے اور دن میں گناہ کرنے والے شخص کے لیے پھیلایا ہوا ہے تاکہ رات میں اس کی توبہ قبول کرے، (ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا) جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 266]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 179، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 266، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11116، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 195، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19838»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (614): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
130. باب ما جاء في الصفات - ذكر الخبر الدال على أن كل صفة إذا وجدت في المخلوقين كان لهم بها النقص غير جائز إضافة مثلها إلى الباري جل وعلا-
اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہر وہ صفت جو مخلوق میں پائی جاتی ہے، اگر اس کے ساتھ نقص ہو تو ایسی صفت کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 267
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيَمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَالَ الِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يُكَذِّبَنِي، وَيَشْتُمُنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتُمَنِي، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: لَنْ يُعِيدَنِي كَمَا بَدَأَنِي، أَوَ لَيْسَ أَوَّلُ خَلْقٍ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: اتَّخَذَ الِلَّهِ وَلَدًا، وَأَنَا الِلَّهِ الأَحَدُ الصَّمَدُ، لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: فِي قَوْلِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ لَيْسَ أَوَّلُ خَلْقٍ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ"، فِيهِ الْبَيَانُ الْوَاضِحُ أَنَّ الصِّفَاتِ الَّتِي تُوقِعُ النَّقْصَ عَلَى مَنْ وُجِدَتْ فِيهِ، غَيْرُ جَائِزٍ إِضَافَةُ مِثْلِهَا إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلا، إِذِ الْقِيَاسُ كَانَ يُوجِبُ أَنْ يُطْلِقَ بَدَلَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ" بِأَهْوَنَ عَلَيَّ"، بِأَصْعَبَ عَلَيَّ، فَتَنَكَّبَ لَفْظَةَ التَّصْعِيبِ إِذْ هِيَ مِنْ أَلْفَاظِ النَّقْصِ، وَأُبْدِلَتْ بِلَفْظِ التَّهْوِينِ الَّذِي لا يَشُوبُهُ ذَلِكَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابنِ آدم مجھے جھوٹا قرار دیتا ہے، حالانکہ اسے اس بات کا حق نہیں ہے کہ مجھے جھوٹا قرار دے؛ ابنِ آدم مجھے برا کہتا ہے، حالانکہ اسے اس کا حق نہیں ہے کہ وہ مجھے برا کہے، جہاں تک اس کے میری تکذیب کرنے کا تعلق ہے، تو اس سے مراد اس کا یہ کہنا ہے: اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا جس طرح اس نے مجھے پہلے پیدا کیا ہے؛ تو کیا اسے دوبارہ پیدا کرنے کے مقابلے میں پہلی مرتبہ پیدا کرنا میرے لیے زیادہ آسان نہیں ہے؟ جہاں تک اس کے مجھے برا کہنے کا تعلق ہے، تو اس سے مراد اس کا یہ کہنا ہے: اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے، حالانکہ میں اللہ تعالیٰ ہوں، میں یکتا ہوں، میں بے نیاز ہوں، ﴿لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ * وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 3-4] ”نہ میں نے کسی کو جنم دیا ہے، اور نہ مجھے جنم دیا گیا ہے اور نہ کوئی میرا ہمسر ہو سکتا ہے۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”کیا پہلی مرتبہ پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے دوبارہ پیدا کرنے کے مقابلے میں زیادہ آسان نہیں تھا؟“ اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ وہ صفات، جو اس شخص میں نقص واقع کر دیں جس میں وہ صفت پائی جاتی ہے، تو یہ بات جائز نہیں ہے کہ اس کی مثل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے، کیونکہ قیاس اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ بات لازم ہو کہ ”میرے لیے زیادہ آسان“ کے بجائے ”میرے لیے زیادہ مشکل“ کے الفاظ ہونے چاہیے تھے، لیکن مشکل ہونے کے لفظ کو اس لیے ترک کیا گیا، کیونکہ یہ نقص کے الفاظ میں سے ہے، اور اس کی جگہ آسان ہونے کے لفظ کو بدلے کے طور پر لایا گیا جس میں نقص کا پہلو نہیں پایا جاتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 267]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3193، 4974، 4975، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 267، 848، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2077، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8337، 8730، 9237»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح النسائي» (1965): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو الزناد: هو عبد الله بن ذكوان، والأعرج: عبد الرحمن بن هرمز.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں