صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. باب فضل الوضوء - ذكر وصف هذه الأمة في القيامة بآثار وضوئهم كان في الدنيا
وضو کی فضیلت کا بیان - اس امت کی قیامت کے دن ان کے دنیا میں کیے گئے وضو کے آثار سے حالت کا ذکر
حدیث نمبر: 1047
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: " غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الطُّهُورِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے اپنی اُمت کے جن افراد کو دیکھا نہیں، آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ وضو کے آثار کی وجہ سے چمک دار پیشانیوں والے ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1047، 7242، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 284، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3897، 4403» «رقم طبعة با وزير 1044»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 93).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
12. باب فضل الوضوء - ذكر البيان بأن التحجيل بالوضوء في القيامة إنما هو لهذه الأمة فقط وإن كانت الأمم قبلها تتوضأ لصلاتها
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ قیامت میں وضو کے آثار سے تحجیل صرف اس امت کے لیے ہے، حالانکہ اس سے پہلے کی امتیں بھی اپنی نمازوں کے لیے وضو کرتی تھیں
حدیث نمبر: 1048
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِدُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ سِيمَا أُمَّتِي لَيْسَ لأَحَدٍ غَيْرِهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگ وضو کی وجہ سے چمک دار پیشانیاں لے کر آؤ گے، یہ میری امت کا مخصوص علامتی نشان ہے، یہ ان کے علاوہ کسی اور کا نہیں ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2367، 6585، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 247، 2302، ومالك فى (الموطأ) برقم: 82، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 6، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1046، 1048، 3171، 7240، 7243، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 150، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3237، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4282، 4306، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 388، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8083» «رقم طبعة با وزير 1045»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن ابن ماجه» (4282): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
13. باب فضل الوضوء - ذكر البيان بأن التحجيل يكون للمتوضئ في القيامة مبلغ وضوئه في الدنيا
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ قیامت میں وضو کرنے والے کے لیے تحجیل اس کے دنیا میں کیے گئے وضو کے مقام تک ہوگا
حدیث نمبر: 1049
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ حَتَّى كَادَ يَبْلُغَ الْمَنْكِبَيْنِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى رَفَعَ إِلَى السَّاقَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ" . فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ.
نعیم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے وضو کے دوران چہرہ دھویا اور بازوؤں کو کندھوں تک دھویا، پھر دونوں پاؤں دھوئے اور انہیں پنڈلیوں تک دھویا، پھر یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک قیامت کے دن میری امت کے افراد وضو کے نشان کی وجہ سے چمک دار پیشانیوں والے ہوں گے، تم میں سے جو شخص اپنی چمک میں جتنا اضافہ کر سکتا ہو اسے کرنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1049]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 136، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 246، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1049، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 258، 259، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8529» «رقم طبعة با وزير 1046»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح إلا جملة: «فمن استطاع منكم .. » - «الصحيحة» تحت الحديث (252)، «الإرواء» (1/ 131 و 132 و 133)، «الضعيفة» (1030): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير حرملة بن يحيى، فمن رجال مسلم.
14. باب فضل الوضوء - ذكر إيجاب دخول الجنة لمن شهد لله بالوحدانية ولنبيه صلى الله عليه وسلم بالرسالة بعد فراغه من وضوئه
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جنت میں داخلہ اس کے لیے واجب ہوتا ہے جو وضو مکمل کرنے کے بعد اللہ کی وحدانیت اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دے
حدیث نمبر: 1050
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، بِعَسْقَلانَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُدَّامَ أَنْفُسِنَا نَتَنَاوَبُ الرِّعْيَةَ رِعْيَةَ إِبِلِنَا فَكُنْتُ عَلَى رِعْيَةِ الإِبِلِ، فَرُحْتُهَا بِعَشِيٍّ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ". قَالَ: فَقُلْتُ: مَا أَجْوَدَ هَذِهِ!!، فَقَالَ رَجُلٌ: الَّذِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ. فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قُلْتُ: مَا هُوَ يَا أَبَا حَفْصٍ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ آنِفًا، قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ:" مَا مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ وَضُوئِهِ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، إِلا فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ لَهُ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ" ، قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ : وَحَدَّثَنِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو عُثْمَانَ هَذَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ حَرِيزَ بْنَ عُثْمَانَ الرَّحَبِيَّ، وَإِنَّمَا اعْتِمَادُنَا عَلَى هَذَا الإِسْنَادِ الأَخِيرِ، لأَنَّ حَرِيزَ بْنَ عُثْمَانَ لَيْسَ بِشَيْءٍ فِي الْحَدِيثِ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم اپنے خادم خود ہی تھے، اپنے اونٹوں کی دیکھ بھال خود کیا کرتے تھے، میں بھی کچھ اونٹوں کو چرا رہا تھا، میں شام کے وقت انہیں واپس لایا، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جو بھی شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر اٹھ کر دو رکعات نماز ادا کرتا ہے، جس کے دوران وہ اپنے دماغ اور چہرے کے ساتھ متوجہ رہتا ہے، تو وہ شخص (اپنے لیے جنت کو) واجب کر لیتا ہے۔“ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: یہ کتنی عمدہ بات ہے، تو ایک صاحب نے کہا: جو بات اس سے پہلے تھی وہ زیادہ عمدہ تھی، میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، میں نے دریافت کیا: اے ابوحفص! وہ کیا بات تھی؟ تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے آنے سے پہلے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ”جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرتا ہے، اور وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ پڑھتا ہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں، وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، تو اس شخص کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ ان میں سے جس میں سے چاہے اندر داخل ہو جائے۔“ معاویہ بن صالح کہتے ہیں: ربیعہ بن یزید نے ابوادریس کے حوالے سے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث مجھے سنائی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (ابوعثمان نامی راوی کے بارے میں امکان موجود ہے، یہ حریز بن عثمان رحبی ہو، ہمارا اعتماد اس دوسری سند پر ہے، حریز بن عثمان نامی راوی علم حدیث میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 234، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 222، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1050، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 452، 3529، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 148، وأبو داود فى (سننه) برقم: 169، 906، والترمذي فى (جامعه) برقم: 55، والدارمي فى (مسنده) برقم: 743، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 470، وأحمد فى (مسنده) برقم: 122، 17587» «رقم طبعة با وزير 1047»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (164): م. * [قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو عُثْمَانَ هَذَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ حَرِيزَ بْنَ عُثْمَانَ الرَّحَبِيَّ] قال الشيخ: قلت: وخالفه أبو بكر بن منجويه، فقال: «يُشبة أن يكون: سعيد بن هانئ الخولانيّ المصريّ»، فالله أعلم!
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، رجاله رجال مسلم، أبو عثمان مختلف في اسمه، قال أبو بكر بن منجويه: يشبه أن يكون سعيد بن هانىء الخولاني المصري، وقال المؤلف: يشبه أن يكون حريز بن عثمان، وقال الحافظ في «التقريب» بعد ذكر القولين: وإلا فمجهول، وفي الميزان 4/ 250: أبو عثمان عن جبير بن نفير لا يدرى من هو؟ وخرج له مسلم متابعة، روى عنه معاوية بن صالح. وقد تابعه عليه كما ذكر المصنف ربيعة بن يزيد، فالحديث صحيح.
15. باب فضل الوضوء - ذكر استغفار الملك للبائت متطهرا عند استيقاظه
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ فرشتہ اس شخص کے لیے استغفار کرتا ہے جو طہارت کی حالت میں رات گزارتا ہے جب وہ بیدار ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1051
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ ، بِعُكْبَرَا، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَاتَ طَاهِرًا بَاتَ فِي شِعَارِهِ مَلَكٌ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلا قَالَ الْمَلَكُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِكَ فُلانٍ، فَإِنَّهُ بَاتَ طَاهِرًا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص باوضو حالت میں رات بسر کرتا ہے تو اس کے لحاف کے اندر فرشتہ بھی رات بسر کرتا ہے، وہ شخص جب بیدار ہوتا ہے تو فرشتہ یہ کہتا ہے: اے اللہ! فلاں بندے کی مغفرت کر دے، کیونکہ اس نے باوضو حالت میں رات بسر کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1051]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1051، والطبراني فى(الكبير) برقم: 13620، 13621» «رقم طبعة با وزير 1048»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (2539). * [ابْنِ عُمَرَ] قال الشيخ: كذا الأصل، وكذلك هو في «الموارد»! والصواب: (أبي هريرة)؛ انظر: «صحيح الموارد».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله رجال الصحيح إلا أن الحسن بن ذكران -مع كون البخاري أخرج له حديثاً في صحيحه في الرقائق- ضعفه أحمد وابن معين وأبو حاتم والنسائي، وابن المديني، وقال ابن عدي: أرجو أنه لا بأس به، وباقي رجاله ثقات سليمان الأحول: هو سليمان بن أبي مسلم المكي، وعطاء: هو ابن أبي رباح.
16. باب فضل الوضوء - ذكر البيان بأن الشيطان قد يعقد على مواضع الوضوء من المسلم عقدا كعقده على قافية رأسه عند النوم
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ شیطان مسلمان کے وضو کے مقامات پر گرہ لگا سکتا ہے جیسے وہ سوتے وقت اس کے سر کے پچھلے حصے پر گرہ لگاتا ہے
حدیث نمبر: 1052
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: لا أَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ. سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا مِنْ جَهَنَّمَ" . وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ يُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ، وَعَلَيْكُمْ عُقَدٌ، فَإِذَا وَضَّأَ يَدَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلَّذِي وَرَاءَ الْحِجَابِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ لَيَسْأَلَنِي، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا، فَهُوَ لَهُ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا، فَهُوَ لَهُ" .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے آج کوئی ایسی بات بیان نہیں کر رہا جو آپ نے ارشاد نہ فرمائی ہو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے وہ جہنم میں اپنے گھر پہنچنے کے لیے تیار رہے۔“ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بھی بتائی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری اُمت کا ایک شخص رات کے وقت کھڑا ہو کر وضو کرنے کے لیے جاتا ہے، تم لوگوں پر گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں، جب وہ شخص اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ حجاب کے دوسری طرف (موجود) فرماتا ہے: میرے اس بندے کا جائزہ لو! جو مجھ سے مانگنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہا ہے، میرا یہ بندہ مجھ سے جو بھی مانگے وہ اسے مل جائے گا، میرا یہ بندہ مجھ سے جو بھی مانگے گا وہ اسے مل جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1052]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1052، 2555، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17729، 18069، والطبراني فى(الكبير) برقم: 832، 843» «رقم طبعة با وزير 1049»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «التعليق الرغيب» (1/ 220).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، أبو عشانة: هو حيُّ بن يُؤْمِن روى له أصحاب السنن وهو ثقة، وباقي رجاله على شرط الشيخين.
17. باب فرض الوضوء - ذكر الأمر بإسباغ الوضوء لمن أراد أداء فرضه
وضو کی فضیلت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص اپنا فرض ادا کرنا چاہے اسے وضو کو کامل کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 1053
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " صَفْقَتَانِ فِي صَفْقَةٍ رِبًا وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ" .
عبدالرحمن بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”ایک سودے میں دو سودے کرنا سود ہے“، اور ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1053]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 176، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1053، 5025، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3859، والبزار فى (مسنده) برقم: 2016، 2017، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 14633، 14636، 14637، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 20827، 20828، 23710، والطبراني فى(الكبير) برقم: 9608، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 1461، 1610» «رقم طبعة با وزير 1050»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2326).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
محمد بن أبي صفوان: هو محمد بن عثمان بن أبي صفوان بن مروان، من رجال «التهذيب» وثقه أبو حاتم، وقال النسائي: لا بأس به، وذكره المؤلف في «الثقات» 9/ 114، وأبوه عثمان لم أظفر له بترجمة، وباقي رجاله ثقات.
18. باب فرض الوضوء - ذكر الأمر بتخليل الأصابع للمتوضئ مع القصد في إسباغ الوضوء
وضو کی فضیلت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ وضو کرنے والے کو اپنی انگلیوں کے درمیان خلال کرنا چاہیے اور وضو کو کامل کرنے میں نیت رکھنی چاہیے
حدیث نمبر: 1054
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ نُصَادِفْهُ فِي مَنْزِلِهِ، وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ، فَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ، وَأَتَتْنَا بِقِنَاعٍ وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ فِيهِ التَّمْرُ فَأَكَلْنَا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ أَصَبْتُمْ شَيْئًا؟ أَوْ آمُرُ لَكُمْ بِشَيْءٍ؟" قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَبَيْنَمَا نَحْنُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ، إِذْ رَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ إِلَى الْمُرَاحِ وَمَعَهُ سَخْلَةٌ تَيْعَرُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا وَلَّدْتَ؟" قَالَ: بَهْمَةٌ، قَالَ:" اذْبَحْ مَكَانَهَا شَاةً"، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ:" لا تَحْسِبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ: لا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجَلِكَ ذَبَحْنَاهَا، إِنَّ لَنَا غَنَمًا مِائَةً لا تَزِيدُ، فَمَا وَلَدَتْ بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِيَ امْرَأَةً فِي لِسَانِهَا شَيْءٌ. قَالَ:" فَطَلِّقْهَا إِذَا". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا، وَلَهَا صُحْبَةً، قَالَ:" عِظْهَا، فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ، فَسَتَقْبَلُ، وَلا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أَمَتَكَ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: " أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، وَبَالِغْ فِي الاسْتِنْشَاقِ إِلا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا" .
عاصم بن لقیط بن سبرہ اپنے والد سے یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں بنو مثفق کے وفد میں شامل ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن آپ ہمیں اپنے گھر میں نہیں ملے۔ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تھے۔ انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ تیار ہو گیا، وہ ہمارے پاس ایک تھال میں کھجوریں لے کر آئیں۔ ہم انہیں کھا رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے کوئی چیز کھائی ہے یا میں تمہارے لیے کسی چیز کا حکم دوں؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک چرواہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بکریاں لے کر ان کے باڑے کی طرف جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک بکری تھی جو آواز نکال رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا اس نے بچے کو جنم دے دیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، بچہ پیدا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بچے کی جگہ ایک بکری کو ذبح کر دو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ یہ نہ سمجھنا کہ ہم تمہاری وجہ سے اسے ذبح کر رہے ہیں، ہمارے پاس ایک سو بکریاں ہیں، اس سے زیادہ نہیں ہوتیں، جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس بچے کی جگہ ایک بکری ذبح کر لیتے ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری ایک بیوی ہے جس کی زبان میں کچھ تیزی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے طلاق دے دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرا اس سے بچہ بھی ہے اور بڑا پرانا ساتھ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہوگی تو وہ اسے قبول کر لے گی، تاہم تم اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارو جس طرح کنیز کو مارا جاتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے وضو کے بارے میں بتائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اچھی طرح وضو کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں اچھی طرح پانی ڈالو، البتہ اگر تم روزے کی حالت میں (ہو، تو اس کا حکم مختلف) ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1054]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 88، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 150، 168، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1054، 1087، 4510، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 524، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 87، وأبو داود فى (سننه) برقم: 142، والترمذي فى (جامعه) برقم: 38، 788، والدارمي فى (مسنده) برقم: 732، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 407، 448، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16642» «رقم طبعة با وزير 1051»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (130)
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده جيد، وهو حديث صحيح. يحيى بن سليم: هو الطائفي، أخرج حديثه البخاري ومسلم وأصحاب السنن، ووثقه ابن معين، وابن سعد والعجلي، وقال أبو حاتم: محله الصدق، ولم يكن بالحافظ، وقاك النسائي: ليس به بأس، وهو منكر الحديث عن عبيد الله بن عمر، وقال الساجي: أخطأ في أحاديث رواها عن عبيد الله بن عمر، وقال يعقوب بن سفيان: كان رجلاً صالحاً، وكتابه لا بأس به، فإذا حدث من كتابه، فحديثه حسن، وإذا حدث حفظاً، فتعرف وتنكر، وقد تجنب المؤلف هنا والشيخان في "صحيحيهما" روايته عن عبيد الله بن عمر، وباقي رجاله ثقات.
19. باب فرض الوضوء - ذكر العلة التي من أجلها أمر بإسباغ الوضوء
وضو کی فضیلت کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر وضو کو کامل کرنے کا حکم دیا گیا
حدیث نمبر: 1055
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ الْعَصْرِ، فَتَوَضَّؤُوا وَهُمْ عِجَالٌ، قَالَ: فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ، وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ، لَمْ يَمَسَّهَا الْمَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف واپس آ رہے تھے۔ راستے میں کسی جگہ کچھ لوگ عصر کی نماز کے وقت تیزی سے آگے بڑھے، انہوں نے جلد بازی میں وضو شروع کیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے تو ان کی (ایڑیاں) خشک چمک رہی تھیں، وہاں پانی نہیں لگا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ» ”ان ایڑیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے، تم لوگ اچھی طرح وضو کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1055]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 60، 96، 163، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 241، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 161، 166، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1055، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 111، وأبو داود فى (سننه) برقم: 97، والدارمي فى (مسنده) برقم: 733، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 450، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6639» «رقم طبعة با وزير 1052»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (87): ق، وليس عند (خ) الإسباغ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، جرير: هو ابن عبد الحميد الضبي، ومنصور: هو ابن المعتمر، وأبو يحيى: اسمه مصْدَع أبو يحيى الأعرج المُعَرْقَب.
20. باب فرض الوضوء - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الفرض على المتوضئ في وضوئه المسح على الرجلين دون الغسل
وضو کی فضیلت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ وضو میں فرض پاؤں پر مسح کرنا ہے نہ کہ انہیں دھونا
حدیث نمبر: 1056
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ: صَلَّى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الْفَجْرَ، ثُمَّ دَخَلَ الرَّحَبَةَ، فَدَخَلْنَا مَعَهُ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَتَاهُ الْغُلامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ، فَأَخَذَ الإِنَاءَ بِيَمِينِهِ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَسَارِهِ، فَغَسَلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ، غَسَلَ كَفَّيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الإِنَاءَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ، فَغَرَفَ مِنْهُ مَاءً، فَمَلأَ فَاهُ، فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا مُقَدَّمَهُ وَمُؤَخَّرَهُ، ثُمَّ أَدْخَلَ الْيُمْنَى، فَأَفْرَغَ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَهَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا، فَغَسَلَ الأُخْرَى، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا وُضُوؤُهُ" .
عبد خیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز پڑھائی، پھر صحن میں تشریف لائے، ہم بھی ان کے ساتھ آ گئے۔ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا۔ ایک لڑکا ان کے پاس ایک برتن لے کر آیا جس میں پانی موجود تھا اور ایک طشت لے کر آیا۔ انہوں نے برتن کو دائیں ہاتھ میں پکڑا اور اپنے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اسے تین مرتبہ دھو لیا، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھو لیے، پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، پھر اس میں سے چلو لے کر اپنے منہ میں بھرا اور کلی کی اور ناک صاف کی۔ ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، پھر چہرے کو تین مرتبہ دھو لیا، دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے سر کا اور پیچھے والے حصے کا مسح کیا، پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنے دائیں پاؤں پر انڈیلا اور اسے دھو لیا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اسے باہر نکالا، پھر دوسرے پاؤں کو دھویا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہو (یعنی وہ یہ چاہتا ہو) کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کو دیکھے، تو یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1056]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5615، 5616، وابن الجارود فى "المنتقى"، 75، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 16، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1056، 1057، 1079، 1340، 1341، 5326، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 91، وأبو داود فى (سننه) برقم: 111، والترمذي فى (جامعه) برقم: 44، 48، 49، والدارمي فى (مسنده) برقم: 728، 729، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 396، 404، 436، 456، والدارقطني فى (سننه) برقم: 298، وأحمد فى (مسنده) برقم: 593، 888» «رقم طبعة با وزير 1053»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (100). * [خالد] قال الشيخ: في الأصل: (حميد).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين غير خالد بن علقمة، وعبد خير، فقد روى لهما أصحاب السنن وهما ثقتان.