🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1037. فصل في التراويح - ذكر مغفرة الله جل وعلا ما قدم من ذنوب المرء المسلم إذا قام رمضان إيمانا واحتسابا فيه
تراویح کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس مسلمان کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے جو رمضان میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2546
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سلمة بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِرَمَضَانَ: " مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الاحْتِسَابُ: قَصْدُ الْعَبِيدِ إِلَى بَارِئِهِمْ بِالطَّاعَةِ رَجَاءَ الْقَبُولِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے بارے میں یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے اس میں نوافل ادا کرے گا، اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «اِحْتِسَاب» سے مراد یہ ہے کہ بندہ اطاعت کے ہمراہ اپنے پروردگار کی بارگاہ کا قصد کرے اس کی قبولیت کی امید رکھتے ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2546]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 35، 37، 2009، 2014، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 759، وابن الجارود فى "المنتقى"، 444، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1894، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2546، 3432، 3682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1371، 1372، والترمذي فى (جامعه) برقم: 683، 808، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1326، 1328، 1641، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1682» «رقم طبعة با وزير 2537»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (906)، «صحيح أبي داود» (1242). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1038. فصل في التراويح - ذكر تفضل الله جل وعلا بكتبه قيام الليل كله لمن صلى مع الإمام التراويح حتى ينصرف
تراویح کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص کے لیے رات بھر کے قیام کا اجر لکھتا ہے جو امام کے ساتھ تراویح پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2547
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: صُمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ، وَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ حَتَّى ذَهَبَ يَنْتَظِرُ اللَّيْلَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ، فَقَالَ:" إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ"، ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ ثَلاثَةٌ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَامَ بِنَا فِي الثَّالِثَةِ، وَجَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى تَخَوَّفْنَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاحُ، قُلْتُ: وَمَا الْفَلاحُ؟ قَالَ:" السَّحُورُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" قَوْلُ أَبِي ذَرٍّ: لَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ، وَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ، يُرِيدُ: مِمَّا بَقِيَ مِنَ الْعَشْرِ لا مِمَّا مَضَى مِنْهُ، وَكَانَ الشَّهْرُ الَّذِي خَاطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ بِهَذَا الْخَطَّابِ فِيهِ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَلَيْلَةُ السَّادِسَةِ مِنْ بَاقِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ تَكُونُ لَيْلَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، وَلَيْلَةُ الْخَامِسَةِ مِنْ بَاقِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ تَكُونُ لَيْلَةَ الْخَامِسِ وَالْعِشْرِينَ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان کے روزے رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چھٹی رات میں نوافل نہیں پڑھائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچویں رات میں نوافل پڑھائے تھے یہاں تک کہ آدھی رات بیت گئی۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ اس باقی رہ جانے والی رات میں نفل پڑھائیں، (تو یہ مناسب ہو گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص امام کے ہمراہ نماز ادا کرے یہاں تک کہ اسے مکمل کرے تو اسے رات بھر نوافل ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ اس مہینے میں تین دن باقی رہ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیسری رات میں نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ اور اپنی ازواج کو بھی اکٹھا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوافل پڑھائے یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ ہماری فلاح رہ جائے گی۔ (راوی کہتے ہیں:) میں نے دریافت کیا: فلاح سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: سحری۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ چھٹی رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوافل نہیں پڑھائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچویں رات میں ہمیں نوافل پڑھائے، اس سے مراد یہ ہے کہ جو عشرہ باقی رہ گیا تھا اس کی چھٹی یا پانچویں رات۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے جو مہینہ گزر چکا تھا اس کی پانچویں یا چھٹی رات، کیونکہ وہ مہینہ جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ خطاب کیا تھا، اس میں انتیس دن تھے۔ تو انتیس دنوں والے مہینے کے باقی حصے کی چھٹی رات چوبیسویں رات تھی اور 29 دن والے مہینے کے باقی حصے کی پانچویں رات پچیسویں رات ہو گی۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2547]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 443، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2206، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2547، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1363، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1375، والترمذي فى (جامعه) برقم: 806، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1327، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4683، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21818» «رقم طبعة با وزير 2538»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1245). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1039. فصل في التراويح - ذكر الخبر الدال على صحة ما تأولنا اللفظة التي ذكرناها قبل
تراویح کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے پہلے بیان کردہ لفظ کی تشریح کی صحت کی دلیل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2548
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: ذَكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ؟" فَقُلْنَا: مَضَى اثْنَانِ وَعِشْرُونَ يَوْمًا، وَبَقِيَ ثَمَانٌ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا، بَلْ مَضَى اثْنَانِ وَعِشْرُونَ يَوْمًا، وَبَقِيَ سَبْعٌ، الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا، فَالْتَمِسُوهَا اللَّيْلَةَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شب قدر کا ذکر کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مہینے کا کتنا حصہ گزر چکا ہے؟“ ہم نے عرض کی: بائیس (22) دن گزر گئے ہیں اور آٹھ دن باقی رہ گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ بائیس (22) دن گزر گئے ہیں اور سات دن باقی رہ گئے ہیں، مہینہ کبھی انتیس (29) کا ہوتا ہے، تو تم اس رات کو تلاش کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2548]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2179، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2548، 3450، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1656، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8631، 8632، 8633، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7541» «رقم طبعة با وزير 2539»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2008). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1040. فصل في التراويح - ذكر الإباحة للقارئ في شهر رمضان أن يؤم بالنساء التراويح جماعة
تراویح کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ رمضان میں قاری عورتوں کو تراویح کی جماعت کی امامت کر سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2549
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: " وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ؟" قَالَ: نِسْوَةٌ فِي دَارِي قُلْنَ: إِنَّا لا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَنُصَلِّي بِصَلاتِكَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ، قَالَ: فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! گزشتہ رات رمضان کے حوالے سے مجھے کچھ مشکل پیش آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”وہ کیا تھی؟ اے ابی!“ انہوں نے عرض کی: ہمارے گھر کی کچھ خواتین تھیں، انہوں نے یہ کہا: ہم قرآن نہیں پڑھ سکتیں، ہم آپ کی نماز کی پیروی کرتی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں آٹھ رکعات پڑھائیں پھر میں نے وتر ادا کر لیے۔ (سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا رضا مندی کا اظہار فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ نہیں کہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2549]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2549، 2550، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1801، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3731» «رقم طبعة با وزير 2540»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «صلاة التراويح» (79 - 80). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1041. فصل في التراويح - ذكر إباحة إمامة الرجل النسوة في شهر رمضان جماعة
تراویح کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ مرد رمضان میں عورتوں کو جماعت کی امامت کر سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2550
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ يَعْنِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: " وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ؟" قَالَ: نِسْوَةٌ فِي دَارِي قُلْنَ: إِنَّا لا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَنُصَلِّي بِصَلاتِكَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ، قَالَ: فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گزشتہ رات مجھے کچھ پریشانی ہوئی“ (یعنی رمضان کے حوالے سے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے ابی! وہ کیا تھی؟“ انہوں نے عرض کی: میرے گھر کی خواتین نے کہا: ”ہم قرآن نہیں پڑھ سکتی ہیں، تو ہم آپ کی نماز کی پیروی کریں گی۔“ سیدنا ابی نے بتایا: ”میں نے ان خواتین کو آٹھ رکعات نماز پڑھائی، پھر میں نے وتر ادا کر لیے۔“ (سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا رضامندی کا اظہار کیا، تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ نہیں کہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2550]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2549، 2550، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1801، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3731» «رقم طبعة با وزير 2541»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1042. فصل في قيام الليل
قیام الليل کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2551
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، وَكَانَ جَارًا لَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ : أَخْبِرِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: " خُلُقُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ" ، قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلا أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ. فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ: يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ:" فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا افْتَرَضَ الْقِيَامَ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، وَأَمْسَكَ اللَّهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَتِهِ" .
سعد بن ہشام بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں عرض کی کہ آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے قرآن کی تلاوت نہیں کی ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! کی ہے، تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق قرآن تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ اب میں اٹھ جاتا ہوں اور اب ان سے کسی چیز کے بارے میں دریافت نہیں کروں گا، پھر میں نے کہا: اے ام المؤمنین! آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے بارے میں بتائیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے اس سورت ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ [سورة المزمل: 1] ”اے چادر اوڑھنے والے“ کی تلاوت نہیں کی ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! کی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں رات کے وقت نوافل ادا کرنا فرض قرار دیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ایک سال تک رات کے وقت نوافل ادا کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاؤں ورم آلود ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے اختتامی حصے کو بارہ ماہ تک آسمان میں روکے رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف کا حکم نازل کر دیا، تو رات کے وقت نوافل ادا کرنا نفل قرار پایا جو پہلے فرض تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2551]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 746، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1078، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2420، 2441، 2442، 2551، 2552، 2635، 2640، 2642، 2644، 2645، 2646، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1143، 3863، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1342، والترمذي فى (جامعه) برقم: 445، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1191،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1665، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24907» «رقم طبعة با وزير 467 و 2542»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني [تنبيه!! ] تكرر هذا الحديث في «طبعة باوزير» في موضعين برقم (467 و 2542) وفي كِلا الموضعين قال الشيخ: صحيح - «صحيح أبي داود» (1213): م. أما في «طبعة المؤسسة» فلم يرد إلا في هذا الموضع - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1043. فصل في قيام الليل - ذكر الخبر الدال على أن صلاة الليل جعلت للمصطفى صلى الله عليه وسلم نفلا بعد أن كان الفرض عليه في البداية
قیام الليل کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ رات کی نماز مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نفل بنائی گئی جبکہ شروع میں وہ ان پر فرض تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2552
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ، أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً" .
سعد بن ہشام، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز ادا کرتے تھے، تو آپ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اسے باقاعدگی سے ادا کریں اور اگر آپ نیند یا بیماری یا تکلیف وغیرہ جیسی کسی مصروفیت کی وجہ سے رات کے وقت نوافل ادا نہیں کر پاتے تھے، تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2552]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 746، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1078، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2420، 2441، 2442، 2551، 2552، 2635، 2640، 2642، 2644، 2645، 2646، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1143، 3863، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1342، والترمذي فى (جامعه) برقم: 445، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1191،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1665، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24907» «رقم طبعة با وزير 2543»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (2411). تنبيه!! رقم (2411) = (2420) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1044. فصل في قيام الليل - ذكر استحباب حل عقد الشيطان التي على قافية المرء المسلم عند نومه بانتباهه لصلاة الليل
قیام الليل کا بیان - اس بات کا استحباب کہ شیطان کی گرہوں کو کھولا جائے جو سوتے وقت مسلمان کے سر کے پچھلے حصے پر لگتی ہیں، رات کی نماز کے لیے بیدار ہونے سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2553
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الْعَابِدُ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَالِك ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ مَكَانَ كُلِّ عُقْدَةٍ: عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلانَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”شیطان کسی شخص کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے جب وہ سوتا ہے، ہر گرہ پر وہ یہ کہتا ہے: «عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ، فَارْقُدْ» ”رات بہت لمبی ہے، تم سوئے رہو۔“ اگر وہ شخص بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، وہ وضو کرے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور اگر وہ نماز ادا کرے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، تو وہ شخص صبح کے وقت چاق و چوبند اور خوش مزاج ہوتا ہے، ورنہ اس کا مزاج بھی ٹھیک نہیں ہوتا اور وہ کاہل ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2553]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1142، 3269، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 776، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1131، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2553، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1606، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1303، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1306، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1329، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4717، 4802، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7428» «رقم طبعة با وزير 2544»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 213). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1045. فصل في قيام الليل - ذكر البيان بأن الشيطان قد يعقد على قافية رؤوس النساء كعقده على رؤوس قافية الرجال فيما ذكرناه
قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ شیطان عورتوں کے سروں کے پچھلے حصے پر بھی گرہ لگا سکتا ہے جیسا کہ مردوں کے سروں پر ہمارے بیان کردہ میں ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2554
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلا أُنْثَى إِلا عَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ حِينَ يَرْقُدُ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى، انْحَلَّتِ الْعُقَدُ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جو بھی مرد یا عورت (سوتے ہیں) تو ان کے سونے کے وقت ان کے سر پر گرہ لگا دی جاتی ہے، اگر وہ بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں تو گرہ کھل جاتی ہے، اگر وہ اٹھ کر وضو کریں اور نماز ادا کریں تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2554]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1133، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2554، 2556، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14611» «رقم طبعة با وزير 2545»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 213). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1046. فصل في قيام الليل - ذكر البيان بأن الشيطان قد يعقد على مواضع الوضوء من المسلم عقدا على قافية رأسه عند النوم
قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ شیطان سوتے وقت مسلمان کے وضو کے مقامات پر بھی گرہ لگا سکتا ہے اس کے سر کے پچھلے حصے پر گرہ کی طرح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2555
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: لا أَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا مِنْ جَهَنَّمَ" . وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ يُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقَدٌ، فَإِذَا وَضَّأَ يَدَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلَّذِي وَرَاءَ الْحِجَابِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ لَيَسْأَلَنِي، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا فَهُوَ لَهُ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا فَهُوَ لَهُ" .
سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے آج تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی ایسی بات بیان نہیں کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد نہ فرمائی ہو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے اس کو جہنم میں اپنے گھر تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔“ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کا ایک شخص رات کے وقت اٹھتا ہے، وہ وضو کرنے کے لیے جاتا ہے، اس پر گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں، جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے، تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے، تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے، تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ حجاب کے پیچھے سے فرماتا ہے: تم لوگ میرے اس بندے کی طرف دیکھو جو اپنے آپ کو اس لیے تیار کر رہا ہے تاکہ مجھ سے مانگے، آج یہ میرا بندہ جو مانگے گا وہ اس کو ملے گا، میرا یہ بندہ مجھ سے جو مانگے گا وہ اسے ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2555]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1052، 2555، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17729، 18069، والطبراني فى(الكبير) برقم: 832، 843» «رقم طبعة با وزير 2546»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - مضى (1049). تنبيه!! رقم (1049) = (1052) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں