🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1047. فصل في قيام الليل - ذكر إثبات الخير لمن أصبح على تهجد كان منه بالليل
قیام الليل کا بیان - اس بات کا اثبات کہ جو شخص رات کو تہجد کرتا ہے اور صبح تک اسے جاری رکھتا ہے اس کے لیے خیر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2556
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ، ذَكَرٍ وَلا أُنْثَى، يَنَامُ إِلا وَعَلَيْهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِنْ هُوَ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلاةِ أَصْبَحَ نَشِيطًا قَدْ أَصَابَ خَيْرًا، وَقَدِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا، وَإِنْ أَصْبَحَ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ أَصْبَحَ وَعُقَدُهُ عَلَيْهِ، وَأَصْبَحَ ثَقِيلا كَسْلانَ لَمْ يُصِبْ خَيْرًا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو بھی مسلمان مرد یا عورت ہوتا ہے، اس پر گرہیں لگ جاتی ہیں، وہ بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، اگر وہ وضو کر کے نماز کے لیے اٹھتا ہے، تو وہ چاق و چوبند حالت میں صبح کرتا ہے، اس نے بھلائی حاصل کر لی ہوتی ہے اور اس کی تمام گرہیں کھل چکی ہوتی ہیں اور اگر وہ ایسی حالت میں صبح کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا، تو وہ ایسی حالت میں صبح کرتا ہے، اس کی سب گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ بوجھل ذہن کے ساتھ کاہلی کے عالم میں صبح کرتا ہے، اسے بھلائی نصیب نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2556]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1133، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2554، 2556، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14611» «رقم طبعة با وزير 2547»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 213). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1048. فصل في قيام الليل - ذكر الإخبار عما يستحب للمرء الاجتهاد في لزوم التهجد في سواد الليل والثبات عند إقامة كلمة الله العليا
قیام الليل کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ رات کے اندھیرے میں تہجد کی پابندی کرے اور اللہ کی عظیم کلام کو قائم رکھنے میں ثابت قدم رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2557
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ: رَجُلٍ ثَارَ مِنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى الصَّلاةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ثَارَ مِنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي، وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَانْهَزَمَ النَّاسُ، وَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الانْهِزَامِ، وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ، فَرَجَعَ حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي، رَجَعَ رَجَاءً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہمارا پروردگار دو بندوں پر خوش ہوتا ہے، ایک وہ شخص جو (رات کے وقت) اپنے بستر اور لحاف میں سے، اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو، یہ اپنے بستر اور لحاف میں سے، اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف آیا ہے، اس چیز کی رغبت رکھتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے، لوگ پسپا ہو جاتے ہیں وہ شخص بھی جانتا ہے، پسپا ہونے کی صورت میں اس پر کیا وبال ہو گا اور واپس آنے کی صورت میں اسے کیا اجر و ثواب ملے گا، تو وہ واپس (میدان جنگ میں) آ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو، یہ اس چیز کی امید رکھتے ہوئے واپس آیا ہے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے آیا ہے جو میرے پاس ہے، یہاں تک کہ اس کے خون کو بہا دیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2557]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2557، 2558، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2546، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2536، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18004، 18595، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4028» «رقم طبعة با وزير 2548»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - انظر ما بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1049. فصل في قيام الليل - ذكر تعجيب الله جل وعلا ملائكته من الثائر عن فراشه وأهله يريد مفاجأة حبيبه
قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اپنے فرشتوں کو اس شخص پر تعجب کرتا ہے جو اپنے بستر اور اہل سے اٹھ کر اپنے محبوب سے ملاقات کی خواہش رکھتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2558
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ ، بِنَسَا، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ: رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلاتِهِ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِمَلائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي، ثَارَ عَنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي، وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ، وَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الانْهِزَامِ، وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ، فَرَجَعَ حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي، رَجَعَ رَجَاءً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہمارا پروردگار دو آدمیوں پر خوش ہوتا ہے؛ ایک وہ شخص جو اپنے بستر اور لحاف میں سے اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو جو اپنے بستر سے اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف آیا ہے اس چیز کی رغبت رکھتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے، اور دوسرا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے اس کے ساتھی پسپا ہو جاتے ہیں وہ شخص جانتا ہے پسپا ہونے پر اسے کیا وبال ہوگا اور واپس (جنگ میں) آنے پر کیا اجر و ثواب ملے گا، تو وہ واپس آتا ہے یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو یہ اس چیز کی امید رکھتے ہوئے واپس آیا ہے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے آیا ہے جو میرے پاس ہے یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2558]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2557، 2558، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2546، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2536، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18004، 18595، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4028» «رقم طبعة با وزير 2549»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (2287). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1050. فصل في قيام الليل - ذكر إيجاب دخول الجنان للقائم في سواد الليل يتملق إلى مولاه
قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ رات کے اندھیرے میں قیام کرنے والے جو اپنے مولا سے التجا کرتا ہے، اس کے لیے جنت میں داخلہ واجب ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2559
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي، وَقَرَّتْ عَيْنِي، أَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، قَالَ: " كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ" . فَقُلْتُ: فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ إِذَا عَمِلْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: " أَطْعِمِ الطَّعَامَ، وَأَفْشِ السَّلامَ، وَصِلِ الأَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلامٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، أَرَادَ بِهِ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا جَوَابُ الْمُصْطَفَى إِيَّاهُ، حَيْثُ قَالَ:" كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ"، فَهَذَا جَوَابٌ خَرَجَ عَلَى سُؤَالٍ بِعَيْنِهِ، لا أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَخْلُوقًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ کو دیکھا تو میرا نفس پاکیزہ ہو گیا اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں، آپ مجھے ہر چیز کے بارے میں بتا دیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔“ میں نے عرض کی: آپ مجھے ایسی چیز کے بارے میں بتائیں کہ جب میں اس پر عمل کروں تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھانا کھلاؤ، سلام کو پھیلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات کے وقت نوافل ادا کرو جب لوگ سو رہے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ”مجھے ہر چیز کے بارے میں بتا دیں“ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ ہر اس چیز کے بارے میں بتائیں جو پانی سے پیدا کی گئی ہے، اور اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو دیا جانے والا جواب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔“ تو یہ جواب اسی طرح صادر ہوا ہے جس طرح سوال تھا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہر چیز کو پیدا ہی پانی سے کیا گیا ہے، خواہ وہ مخلوق نہ بھی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2559]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 508، 2559، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7267، 7371، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8047» «رقم طبعة با وزير 2550»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الموارد» (642). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين غير أبي ميمونة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1051. فصل في قيام الليل - ذكر استحباب الإكثار للمرء من قيام الليل رجاء ترك المحظورات
قیام الليل کا بیان - اس بات کا استحباب کہ آدمی رات کے قیام کو زیادہ کرے تاکہ حرام چیزوں سے بچ سکے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2560
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ سُحَيْمٌ حَرَّانِيٌّ ثَبْتٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلانًا يُصَلِّي اللَّيْلَ كُلَّهُ، فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ، قَالَ:" سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ:" سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ" مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: إِنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الْفِعْلِ نَفْسِهِ، كَمَا تُضِيفُ إِلَى الْفَاعِلِ، أَرَادَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الصَّلاةَ إِذَا كَانَتْ عَلَى الْحَقِيقَةِ فِي الابْتِدَاءِ وَالانْتِهَاءِ، يَكُونُ الْمُصَلِّي مُجَانِبًا لِلْمَحْظُورَاتِ مَعَهَا، كَقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ سورة العنكبوت آية 45.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں شخص ساری رات نفل پڑھتا رہتا ہے، جب صبح ہوتی ہے تو وہ چوری کر لیتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ جو پڑھتا ہے وہ چیز عنقریب اسے اس عمل سے روک دے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ”وہ جو پڑھتا ہے وہ چیز اسے عنقریب روک دے گی“ یہ اس نوعیت کے الفاظ ہیں جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات تحریر کر چکے ہیں کہ بعض اوقات عرب کسی فعل کی نسبت اس فعل کی طرف کر دیتے ہیں جس طرح وہ اس کی نسبت فاعل کی طرف کر دیتے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ جب نماز اپنے آغاز اور اختتام کے حوالے سے حقیقت پر مبنی ہو، تو نمازی شخص اس نماز کے ہمراہ ممنوعہ چیزوں سے مجتنب رہتا ہے، اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ [سورة العنكبوت: 45] ”بے شک نماز فحاشی اور گناہوں سے روکتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2560]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2560، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9909، والبزار فى (مسنده) برقم: 9217، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2056» «رقم طبعة با وزير 2551»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3482)، «الضعيفة» تحت الحديث (2). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1052. فصل في قيام الليل - ذكر استحباب الإكثار من صلاة الليل رجاء لمصادفة الساعة التي يستجاب فيها دعاء المرء في كل ليلة
قیام الليل کا بیان - اس بات کا استحباب کہ رات کی نماز کو زیادہ کیا جائے تاکہ اس گھڑی کو پالیا جائے جس میں ہر رات دعا قبول ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2561
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِي اللَّيْلِ سَاعَةٌ لا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، إِلا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”رات میں ایک گھڑی ایسی ہے اس میں جو بھی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے دنیا یا آخرت کی جس بھی بھلائی کا سوال کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے وہ عطا کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2561]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 757، 757، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2561، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14578، 14768، 14974، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1911، 2281، والطبراني فى (الصغير) برقم: 848» «رقم طبعة با وزير 2552»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1053. فصل في قيام الليل - ذكر الإخبار عما يستحب للمرء من كثرة التهجد بالليل وترك الاتكال على النوم
قیام الليل کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ رات کو تہجد زیادہ کرے اور نیند پر انحصار ترک کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2562
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ نَامَ حَتَّى أَصْبَحَ، فَقَالَ:" بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ أَوْ فِي أُذُنَيْهِ"، قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا عِنْدَنَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ نَامَ عَنِ الْفَرِيضَةِ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو سوتا ہے یہاں تک کہ وہ صبح کر دیتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ”دونوں کانوں میں کیا ہے؟“)، سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہمارے نزدیک اس سے مراد یہ ہوگا کہ وہ شخص فرض نماز کے وقت سویا رہ جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2562]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1144، 3270، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 774، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1130، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2562، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1607، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1330، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4801، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3627» «رقم طبعة با وزير 2553»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 223): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1054. فصل في قيام الليل - ذكر البيان بأن التهجد بالليل أفضل من صلاة المرء بعد الفريضة
قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ رات کا تہجد فرض کے بعد کی نماز سے افضل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2563
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّلاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ؟ قَالَ:" الصَّلاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ"، قَالَ: فَأَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ؟ قَالَ:" شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي يَدَعُونَهُ الْمُحَرَّمَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: فرض نماز کے بعد کون سی نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نصف رات میں ادا کی جانے والی نماز۔“ اس نے دریافت کیا: رمضان کے مہینے کے بعد کون سا روزہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے اس مہینے کا روزہ جسے لوگ محرم کہتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2563]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1163، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1134، 2076، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2563، 3636، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1159، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1612، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2429، والترمذي فى (جامعه) برقم: 438، 740، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1742، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8141» «رقم طبعة با وزير 2554»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1055. فصل في قيام الليل - ذكر البيان بأن الصلاة في آخر الليل وجوفه أفضل من أوله
قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ رات کے آخر اور اس کے وسط میں نماز اس کے شروع سے افضل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2564
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ أَبِي مَخْلَدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ: أَيُّ قِيَامِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: " نِصْفُ اللَّيْلِ، أَوْ جَوْفُ اللَّيْلِ" شَكَّ عَوْفٌ.
ابومسلم بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ رات کے وقت کون سا قیام افضل ہے؟ تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نصف رات کے وقت کا، یا شاید رات کے درمیان کا۔“ یہ شک عوف نامی کو ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2564]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2564، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1310، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4738، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21956» «رقم طبعة با وزير 2555»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «الكلم الطيب» (113/ 70 - التحقيق الثاني)، «التعليق الرغيب» (2/ 276). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1056. فصل في قيام الليل - ذكر البيان بأن الصلاة في آخر الليل تكون محضورة بحضرة الملائكة
قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ رات کے آخر میں نماز فرشتوں کی موجودگی میں ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2565
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ خَشِيَ مِنْكُمْ أَنْ لا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ آخِرَ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم میں سے جس شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہیں ہو سکے گا، تو وہ رات کے ابتدائی حصے میں وتر ادا کر لے اور تم میں سے جس شخص کو یہ امید ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نوافل ادا کرے گا، تو اسے رات کے آخری حصے میں وتر ادا کرنا چاہیے کیونکہ رات کے آخری وقت میں کی جانے والی قرأت میں (فرشتوں کی) حاضری ہوتی ہے اور یہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2565]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 755، وابن الجارود فى "المنتقى"، 297، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1086، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2565، والترمذي فى (جامعه) برقم: 455 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1187، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4914، 4915، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14427» «رقم طبعة با وزير 2556»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض النضير» (1025)، «الصحيحة» (2610): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں