صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
122. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر خبر قد يوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه يضاد خبر سعيد بن جبير الذي ذكرناه
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ سعید بن جبیر کی خبر کے مخالف ہے جو ہم نے ذکر کی
حدیث نمبر: 1576
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَزْهَرِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أرسلوه إلى عائشة، فقالوا: اقرأ عليها السلام منا جميعا وسلها عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَإِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّيهَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهَا، قَالَ كُرَيْبٌ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمْةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ، فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمْةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمْةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهَا، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهَا، أَمَّا حِينَ صَلاهَا، فَإِنَّهُ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَصَلاهَا، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قَوْمِي بِجَنْبِهِ، فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمْةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ، فَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، فَقَالَتِ الْجَارِيَةُ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَاسْتَأْخَرْتُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالإِسْلامِ مِنْ قَوْمِهِمْ، فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَهُمَا هَاتَانِ" .
کریب بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور یہ کہا کہ تم انہیں ہماری طرف سے سلام کہنا اور ان سے عصر کے بعد کی دو رکعات کے بارے میں دریافت کرنا اور یہ بھی بتانا کہ ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ یہ دو رکعات ادا کرتی ہیں، جبکہ ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ لوگوں کو ان دو رکعات کے ادا کرنے پر مارا کرتا تھا۔ کریب بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان حضرات نے جو پیغام دے کر مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا تھا وہ ان تک پہنچا دیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے (اس بارے میں) دریافت کرو۔ میں واپس ان حضرات کے پاس آیا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جواب کے بارے میں بتایا تو ان حضرات نے مجھے اسی پیغام کے ہمراہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا جو پیغام انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا تھا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رکعات ادا کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رکعات جس وقت ادا کی تھیں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد (میرے ہاں) تشریف لائے تھے، اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلے بنو حرام سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین موجود تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعات ادا کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا اور میں نے اسے یہ ہدایت کی کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑی ہو جانا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کرنا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا یہ عرض کر رہی ہیں: اے اللہ کے رسول! میں نے تو آپ کو ان دو رکعات کو ادا کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ انہیں ادا کر رہے ہیں، اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر دیں تو تم پیچھے ہٹ جانا۔ لڑکی نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس کے ذریعے اشارہ کیا تھا اس لیے میں پیچھے ہٹ گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بتائی: ”اے ابوامیہ کی صاحبزادی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کے بارے میں دریافت کیا ہے، میرے پاس عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اپنی قوم کی طرف سے اسلام کے حوالے سے آئے تھے، انہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعات ادا نہیں کرنے دیں، یہ وہی دو رکعات ہیں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1576]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1233، 4370، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 834، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1576، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1273، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1476، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3469» «رقم طبعة با وزير 1574»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 187)، «صحيح أبي داود» (1155). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
123. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر العلة التي من أجلها داوم صلى الله عليه وسلم على هاتين الركعتين بعد العصر
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد ان دو رکعتوں پر دوام رکھا
حدیث نمبر: 1577
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فِي بَيْتِهَا، فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الظُّهْرِ، وَإِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا فَصَلاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ثُمَّ أَثْبَتَهُمَا، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاةً أَثْبَتَهَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاجَكَ مِنَ الْعُبَّادِ.
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو رکعات کے بارے میں دریافت کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد ان کے گھر میں ادا کی تھیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے بعد یہ رکعات ادا کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کسی مصروفیت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ادا نہیں کر سکے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد انہیں ادا کیا تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں باقاعدگی سے ادا کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز ادا کرتے تو اسے باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن محمد بن ہاجک عبادت گزار لوگوں میں سے ایک تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1577]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 590، 591، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 833، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1278، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1570، 1571، 1572، 1573، 1577، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1279، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22768، والحميدي فى (مسنده) برقم: 194» «رقم طبعة با وزير 1575»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح سنن النسائي» (563): م (2/ 211). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
124. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر خبر ثان يصرح بصحة العلة التي تقدم ذكرنا لها
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے پہلے ذکر کردہ وجہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 1578
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلَمْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمْةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" ، وَكَانَ أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْوَمَهَا، وَإِنْ قَلَّ، كَانَ إِذَا صَلَّى صَلاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا، يَقُولُ أَبُو سَلَمْةَ:" قَالَ اللَّهُ: الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلاتِهِمْ دَائِمُونَ سورة المعارج آية 23". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" مِنَ الأَلْفَاظِ الَّتِي لا يُحِيطُ عِلَمْ الْمُخَاطَبِ بِهَا فِي نَفْسِ الْقَصْدِ إِلا بِهِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اتنا عمل اختیار کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل تم سے اس وقت تک منقطع نہیں ہوتا جب تک تم اکتاہٹ کا شکار نہیں ہو جاتے۔“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل وہ تھا جو باقاعدگی سے کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز ادا کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے۔ ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ﴾ [سورة المعارج: 23] ”وہ لوگ جو اپنی نمازوں کے حوالے سے باقاعدگی رکھتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان «إِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا» ”بیشک اللہ تعالیٰ تھکتا نہیں یہاں تک کہ تم تھک جاتے ہو“ یہ ان الفاظ میں سے ہے کہ مخاطب شخص کا علم وہاں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا جو ان الفاظ کے ذریعے مقصود ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی صفت کیا ہے یہ آدمی نہیں جان سکتا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1578]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 730، 1147، 1159، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 738، وابن الجارود فى "المنتقى"، 440، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 49، 1102، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 353، 1578، 2430، 2571، 2613، 2616، 2634، 3516، 3637، 3648، 6385، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 761، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1340، 1341، والترمذي فى (جامعه) برقم: 439، 737، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1515، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 942، 1196، 1710، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24707» «رقم طبعة با وزير 1576»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر مسلم» (378)، وتقدم (354). تنبيه!! رقم (354) = (353) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما سوى عبد الرحمن بن إبراهيم، فإنه من رجال البخاري، وقد صرح الوليد بالسماع من الأوزاعي.
125. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر خبر أوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن الصلاة الفائتة لا تؤدى عند طلوع الشمس حتى تبيض
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ فوت شدہ نماز سورج کے طلوع ہونے پر جب تک روشن نہ ہو، ادا نہیں کی جاتی
حدیث نمبر: 1579
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلاةِ"، فَقَالَ بِلالٌ: أَنَا أُوقِظُكُمْ، فَاسْتَنَدَ إِلَى رَاحِلَتِهِ، وَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَالَ:" يَا بِلالُ، أَيْنَ مَا قُلْتَ؟"، قَالَ: أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مَا نِمْتُ مِثْلَهَا قَطُّ، قَالَ:" قُمْ فَأَذِّنِ النَّاسَ بِالصَّلاةِ"، فَلَمْا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَابْيَضَّتْ، قَامَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ لوگوں میں سے کسی نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ ہمیں پڑاؤ کی اجازت دیں (تو مہربانی ہو گی)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ اندیشہ ہے، تم لوگ نماز کے وقت سوئے رہ جاؤ گے۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں آپ لوگوں کو بیدار کر دوں گا، پھر وہ اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیدار ہوئے جب سورج کا کنارہ نکل چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! تم نے جو کہا تھا وہ کہاں گیا؟“ انہوں نے عرض کی: مجھ پر بھی نیند طاری ہو گئی تھی، اور یہ ایسی نیند تھی کہ اس طرح کی نیند مجھے کبھی نہیں آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اٹھو اور لوگوں کے درمیان نماز کا اعلان کرو۔“ جب سورج نکل آیا، روشن ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1579]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 595، 7471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 681، وابن الجارود فى "المنتقى"، 171، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 409، 410، 989، 990، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1460، 1579، 2649، 5338، 6901، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 614، وأبو داود فى (سننه) برقم: 437، والترمذي فى (جامعه) برقم: 177، 1894، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2181، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 698، 3434، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22982» «رقم طبعة با وزير 1577»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (465 و 466): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، إبراهيم بن سعيد الجوهري: ثقة، حافظ، تكلم فيه بلا حجة، وهو من رجال مسلم، وباقي السند رجاله رجال الشيخين.
126. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر البيان بأن هذه الصلاة التي وصفناها صلاها صلى الله عليه وسلم بعدما ذهب وقتها بأذان وإقامة
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس بیان کا ذکر کہ یہ نماز جو ہم نے بیان کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے وقت کے گزرنے کے بعد اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھی
حدیث نمبر: 1580
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِي ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سِرْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَسْنَا الأَرْضَ، فَنِمْنَا وَرَعَتْ رَكَائِبُنَا، قَالَ:" فَمَنْ يَحْرُسُنَا؟"، قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، فَغَلَبَتْنِي عَيْنِي، فَلَمْ يُوقِظْنِي إِلا وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلا بِكَلامِنَا، قَالَ:" فَأَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر آپ ہمیں زمین کے ساتھ چھونے (یعنی رک کر آرام کرنے) کی اجازت دیں اور ہم سو جائیں تو ہمارے جانور بھی آرام کر لیں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”(یعنی ہمیں نماز کے لیے بیدار کون کرے گا؟)“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: میں، پھر میری بھی آنکھ لگ گئی، میں اس وقت بیدار ہوا جب سورج نکل چکا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہماری بات چیت سن کر بیدار ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی پھر انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1580]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1580، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 611، وأبو داود فى (سننه) برقم: 447، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1930، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3731» «رقم طبعة با وزير 1578»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الإرواء» (1/ 292)، «صحيح أبي داود» (473). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، رجاله رجال الصحيح، إلا أن سماكاً –وهو ابن حرب- لا يرقى حديثه إلى الصحة، زائدة: هو ابن قدامة، والقاسم بن عبد الرحمن: هو ابن عبد الله بن مسعود.
127. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر الأمر لمن أدرك ركعة من صلاة الغداة قبل طلوع الشمس أن يصلي إليها أخرى من غير أن يفسد على نفسه صلاته
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص فجر کی نماز کی ایک رکعت سورج نکلنے سے پہلے پالے، وہ اس کے ساتھ ایک اور رکعت پڑھے بغیر اپنی نماز کو خراب کیے
حدیث نمبر: 1581
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص سورج نکلنے سے پہلے ایک رکعت پا لے اور پھر سورج نکل آئے، تو اسے اس کے ساتھ دوسری رکعت بھی ادا کر لینی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1581]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 986، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1581، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1018، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1432، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7336» «رقم طبعة با وزير 1579»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2475). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح.
128. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر خبر ثان يصرح بإجازة صلاة من أدرك ركعة منها قبل طلوع الشمس وأخرى بعدها ضد قول من أفسد عليه صلاته
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ جو شخص سورج نکلنے سے پہلے ایک رکعت اور اس کے بعد ایک اور پالے، اس کی نماز جائز ہے، اس دعوے کے برخلاف کہ اس کی نماز خراب ہو جاتی ہے
حدیث نمبر: 1582
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَرَكْعَةً بَعْدَ مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت کو پا لے اس نے اس نماز کو پا لیا، اور جو شخص سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت کو پا لے اور ایک رکعت سورج نکلنے کے بعد ادا کرے، تو اس نے اس (فجر کی نماز) کو پا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1582]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 579، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 608، ومالك فى (الموطأ) برقم: 8، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 984، 985، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1484، 1557، 1582، 1583، 1585، وأبو داود فى (سننه) برقم: 412، والترمذي فى (جامعه) برقم: 186، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1258، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 699، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1870، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7913» «رقم طبعة با وزير 1580»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 274): م دون قوله: «وركعة بعد ما تطلع .. »؛ وهي مدرجة في نقدي. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وابن طاووس: اسمه عبد الله.
129. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر البيان بأن المدرك ركعة من صلاة العصر قبل غروب الشمس يكون مدركا لصلاة العصر
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس بیان کا ذکر کہ جو شخص عصر کی نماز کی ایک رکعت سورج غروب ہونے سے پہلے پالے، وہ عصر کی نماز پالیتا ہے
حدیث نمبر: 1583
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمْ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعَنِ الأَعْرَجِ ، يحدثونه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص صبح کی ایک رکعت کو سورج نکلنے سے پہلے پا لے اس نے صبح کی نماز کو پا لیا اور جو شخص سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت کو پا لے اس نے عصر کی نماز کو پا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1583]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 579، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 608، ومالك فى (الموطأ) برقم: 8، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 984، 985، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1484، 1557، 1582، 1583، 1585، وأبو داود فى (سننه) برقم: 412، والترمذي فى (جامعه) برقم: 186، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1258، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 699، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1870، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7913» «رقم طبعة با وزير 1581»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (253): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين والأعرج: هو عبد الرحمن بن هرمز.
130. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر البيان بأن العرب تطلق في لغتها اسم الركعة على السجدة
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس بیان کا ذکر کہ عرب اپنی زبان میں رکعت کا نام سجدہ پر رکھتے ہیں
حدیث نمبر: 1584
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ سَجْدَةً قَبْلَ أَنٌ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، أَوْ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا" ، وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِيَ الرَّكْعَةُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص عصر کی ایک رکعت کو سورج غروب ہونے سے پہلے پا لے یا صبح کی ایک رکعت کو سورج نکلنے سے پہلے پا لے، اس نے اس نماز کو پا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1584]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 608، 609، وابن الجارود فى "المنتقى"، 173، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1584، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 550، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1545، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 700، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1804، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25127، والبزار فى (مسنده) برقم:، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 914» «رقم طبعة با وزير 1582»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (252): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
131. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر البيان بأن المدرك ركعة من صلاة الصبح قبل طلوع الشمس وركعة بعدها يكون مدركا لصلاة الغداة
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس بیان کا ذکر کہ جو شخص فجر کی نماز کی ایک رکعت سورج نکلنے سے پہلے اور ایک اس کے بعد پالے، وہ فجر کی نماز پالیتا ہے
حدیث نمبر: 1585
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَرَكْعَةً بَعْدَمَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص عصر کی ایک رکعت کو سورج غروب ہونے سے پہلے پا لے اس نے اس (نماز) کو پا لیا اور جو شخص فجر کی ایک رکعت کو سورج نکلنے سے پہلے پا لے اور ایک رکعت سورج نکلنے کے بعد ادا کرے اس نے اس (فجر کی نماز) کو پا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1585]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 579، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 608، ومالك فى (الموطأ) برقم: 8، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 984، 985، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1484، 1557، 1582، 1583، 1585، وأبو داود فى (سننه) برقم: 412، والترمذي فى (جامعه) برقم: 186، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1258، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 699، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1870، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7913» «رقم طبعة با وزير 1583»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: دون قوله: «وركعة بعد ما تطلع .. »؛ انظر (1580). * [وَرَكْعَةً] قال الشيخ: ما بين المعقوفتين سقط من الأصل. تنبيه!! رقم (1580) = (1582) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما وهو مكرر الحديث (1582).