🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
884. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر نفي جواز استعمال هذا الفعل إذا عدمت الصفة التي ذكرناها
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی نفی کا ذکر کہ اس عمل کا استعمال جائز ہے اگر ہمارے بیان کردہ صفت موجود نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2386
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلاةَ: الْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ، وَالْمَرْأَةُ" .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کتا، گدھا اور عورت (نمازی کے آگے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2386]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2386، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 951، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17071، 20903، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 2637» «رقم طبعة با وزير 2379»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الروض النضير» (956). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين إلا أن الحسن عنعنه، عبد الأعلى: هو ابن عبد الأعلى السامي، وسعيد: هو ابن أبي عروبة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
885. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن ذكر المرأة أطلق في هذا الخبر بلفظ العموم والمراد منه بعض النساء لا الكل
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس خبر میں عورت کا ذکر عمومی لفظ میں کیا گیا لیکن اس سے مراد بعض عورتیں ہیں، نہ کہ سب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2387
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الطُّوسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلاةَ: الْكَلْبُ، وَالْمَرْأَةُ، الْحَائِضُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کتا اور حیض والی عورت (اس کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے بالغ عورت) نمازی کے آگے سے گزر کر اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2387]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 832، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2387، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 750، وأبو داود فى (سننه) برقم: 703، 704، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 949، 953، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3303» «رقم طبعة با وزير 2380»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (700). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
886. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن ذكر الكلب في هذا الخبر أطلق بلفظ العموم والقصد منه بعض الكلاب لا الكل
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس خبر میں کتے کا ذکر عمومی لفظ میں کیا گیا لیکن اس سے مراد بعض کتے ہیں، نہ کہ سب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2388
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ أَبِي الذَّيَّالِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْطَعُ الصَّلاةَ: الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ"، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ: مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ؟، فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ:" الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" .
عبداللہ بن صامت سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عورت، گدھا اور سیاہ کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر) نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اے (سیدنا) ابوذر (رضی اللہ عنہ)! سیاہ کتا کیوں، سرخ یا زرد کیوں نہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیاہ (کتا) شیطان ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2388]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 510، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 806، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2383، 2384، 2385، 2388، 2389، 2391، 2392، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 749، وأبو داود فى (سننه) برقم: 702، والترمذي فى (جامعه) برقم: 338، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 952، 3210، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21718» «رقم طبعة با وزير 2381»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر (2376). تنبيه!! رقم (2376) = (2383) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، ابن أبي السري: وهو محمد بن المتوكل صدوق إلا أن له أوهاما كثيرة وقد توبع، ومن فوقه ثقات على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2389
حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلاةَ: الْحِمَارُ، وَالْمَرْأَةُ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ"، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَبْيَضِ؟، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْكَلْبَ الأَسْوَدَ شَيْطَانٌ" .
عبداللہ بن صامت، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گدھا، عورت اور سیاہ کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر اس کی) نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: سیاہ کتا کیوں؟ سرخ یا زرد یا سفید کیوں نہیں؟ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2389]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 510، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 806، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2383، 2384، 2385، 2388، 2389، 2391، 2392، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 749، وأبو داود فى (سننه) برقم: 702، والترمذي فى (جامعه) برقم: 338، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 952، 3210، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21718» «رقم طبعة با وزير 2382»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، إبراهيم بن الحجاج السامي- بالمهملة- ثقة روى له النسائي، ومن فوقه على شرط مسلم، وانظر (2385).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
887. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه مضاد للأخبار التي تقدم ذكرنا لها
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں ماہر نہ ہونے والوں کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے پہلے بیان کردہ خبروں سے متعارض ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2390
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ " لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَرِضَةً كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ وَهُوَ يُصَلِّي" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چوڑائی کی سمت میں یوں لیٹی ہوتی تھی جس طرح جنازہ رکھا جاتا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے ہوتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2390]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 382، 383، 1209، 6276، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 512، وابن الجارود فى "المنتقى"، 188، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 822، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2341، 2342، 2343، 2344، 2345، 2346، 2347، 2348، 2390، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 166، وأبو داود فى (سننه) برقم: 710، 711، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 956، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 621، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24722» «رقم طبعة با وزير 2383»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (704): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
888. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن صلاة المرء إنما تقطع من مرور الكلب والحمار والمرأة لا كونهن واعتراضهن
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کی نماز کتے، گدھے، اور عورت کے گزرنے سے ٹوٹتی ہے، نہ کہ ان کے موجود ہونے یا اعتراض سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2391
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُعَادُ الصَّلاةُ مِنْ مَمَرِّ الْحِمَارِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالْكَلْبِ الأَسْوَدِ"، قُلْتُ: مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَحْمَرِ؟، فَقَالَ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ:" الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" .
عبداللہ بن صامت سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گدھے، عورت یا سیاہ کتے کے (نمازی کے آگے سے گزرنے سے) دوبارہ نماز ادا کی جائے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: سیاہ کتا کیوں؟ زرد یا سرخ کیوں نہیں؟ تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2391]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 510، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 806، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2383، 2384، 2385، 2388، 2389، 2391، 2392، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 749، وأبو داود فى (سننه) برقم: 702، والترمذي فى (جامعه) برقم: 338، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 952، 3210، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21718» «رقم طبعة با وزير 2384»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3323): م نحوه، وتقدم (2376). تنبيه!! رقم (2376) = (2383) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
889. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن هذه الأشياء الثلاثة إنما تقطع صلاة المصلي إذا لم يكن قدامه سترة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ تین چیزیں نمازی کی نماز کو اس وقت توڑتی ہیں جب اس کے سامنے سترہ نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2392
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلاتَهُ الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، فَمَا بَالُ الْكَلْبِ الأَسْوَدِ مِنَ الْكَلْبِ الأَحْمَرِ مِنَ الْكَلْبِ الأَصْفَرِ؟، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ، فَقَالَ:" الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" .
عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز (سترے کے طور پر) نہ ہو، تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا (اس کے آگے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: اے (سیدنا) ابوذر رضی اللہ عنہ! سیاہ کتا کیوں؟ سرخ کتا یا زرد کتا کیوں نہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! جس چیز کے بارے میں تم نے مجھ سے سوال کیا ہے اس کے بارے میں، میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2392]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 510، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 806، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2383، 2384، 2385، 2388، 2389، 2391، 2392، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 749، وأبو داود فى (سننه) برقم: 702، والترمذي فى (جامعه) برقم: 338، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 952، 3210، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21718» «رقم طبعة با وزير 2385»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
890. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أنه يضاد الأخبار التي ذكرناها قبل
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض علماء کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے پہلے بیان کردہ خبروں سے متعارض ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2393
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،، أَنَّهُ قَالَ:" أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاحْتِلامَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا، میں اس وقت قریب البلوغ تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ میں ایک صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا، پھر میں اس سے نیچے اتر گیا اور میں نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، پھر میں صف میں آ کر شامل ہو گیا تو اس حوالے سے کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2393]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 76، 493، 861، 1857، 4412، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 504، وابن الجارود فى "المنتقى"، 187، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 833، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2151، 2356، 2381، 2393، وأبو داود فى (سننه) برقم: 715، 716، والترمذي فى (جامعه) برقم: 337، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 947، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1916» «رقم طبعة با وزير 2386»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (709): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وقد تقدم برقم (2148).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
891. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن صلاة المصطفى صلى الله عليه وسلم بمنى كانت السترة قدامه حيث كان الأتان ترتع قدام المصطفى صلى الله عليه وسلم
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی منیٰ میں نماز کے وقت ان کے سامنے سترہ تھا جب گدھیاں ان کے سامنے چر رہی تھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2394
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ"، قَالَ: فَخَرَجَ بِلالٌ بِوَضُوئِهِ، فَبَيْنَ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ، قَالَ: " فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ"، قَالَ:" فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلالٌ، فَجَعَلَ يَتْبَعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا، يَقُولُ يَمِينًا وَشِمَالا: حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ، فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ لا يَمْنَعُ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ" .
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد (سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ”ابطح“ میں چمڑے کے بنے سرخ خیمے میں موجود تھے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ باہر آئے، تو لوگوں نے اس پانی کو حاصل کرنا شروع کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ حلہ پہنا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کی سفیدی کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اذان دیتے ہوئے اپنے منہ کو اس طرف اور اس طرف، یعنی دائیں طرف اور بائیں طرف پھیرا، یعنی «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“ اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“ کہتے ہوئے ایسا کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نیزہ گاڑھ دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کی دو رکعات پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے (نیزے کی دوسری جانب سے) گدھے اور کتے گزرتے رہے، انہیں روکا نہیں گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس آنے تک مسلسل دو رکعات (یعنی قصر) نماز ادا کرتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2394]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 187، 376، 495، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 503، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 387، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1268، 2334، 2382، 2394، 7293، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 730، وأبو داود فى (سننه) برقم: 520، 688، والترمذي فى (جامعه) برقم: 197، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 711، 3628، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19045» «رقم طبعة با وزير 2387»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (1265). تنبيه!! رقم (1265) = (1268) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما سفيان: هو الثوري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
892. باب إعادة الصلاة
نماز دوبارہ ادا کرنے کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2395
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ مِنْ مِنًى، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ إِذَا رَجُلانِ فِي آخِرِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا، فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟" قَالا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، قَالَ:" فَلا تَفْعَلا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ، فَإِنَّهَا لَكُمْ نَافِلَةٌ" .
جابر بن یزید عامری اپنے والد (یزید بن اسود رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں شریک ہوا تھا۔ میں نے ”منی“ میں مسجدِ خیف میں صبح کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو لوگوں کے پیچھے دو ایسے افراد موجود تھے جنہوں نے نماز ادا نہیں کی تھی۔ ان دونوں کو لایا گیا تو وہ کانپ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی؟“ انہوں نے عرض کی: ہم اپنی رہائشی جگہ پر پہلے ہی نماز ادا کر چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، جب تم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے ہو اور پھر تم باجماعت نماز والی مسجد میں آؤ تو ان لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کرو، یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2395]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1279، 1638، 1713، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1564، 1565، 2395، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 899، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 857، وأبو داود فى (سننه) برقم: 575، والترمذي فى (جامعه) برقم: 219، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1532، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17746» «رقم طبعة با وزير 2388»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (590 - 591). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، وقد تقدم برقم (1565).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں