صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
874. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر إجازة الاستتار للمصلي في الفضاء بالخط عند عدم العصا والعنزة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ کھلی جگہ میں اگر عصا یا نیزہ نہ ہو تو نمازی خط کھینچ کر پردہ کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2376
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا فَلْيَخُطَّ خَطًّا، ثُمَّ لا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ أَمَامَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرنے لگے، تو اسے اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لینی چاہیے، اسے کوئی لاٹھی گاڑھ لینی چاہیے، اگر اس کے پاس لاٹھی نہ ہو، تو پھر لکیر کھینچ دینی چاہیے، پھر اس کے سامنے سے جو شخص گزرے گا وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2376]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 811، 812، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2361، 2376، وأبو داود فى (سننه) برقم: 689، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 943، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3519، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7510، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1023» «رقم طبعة با وزير 2369»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر (2355). تنبيه!! رقم (2355) = (2361) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، وهو مكرر الحديث (2361).
875. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الخبر الدال على أن نصب المصلي أمامه السترة وخطه الخط يجب أن يكون بالطول لا بالعرض
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ نمازی کا اپنے سامنے سترہ نصب کرنا اور خط کھینچنا لمبائی میں ہونا چاہیے، نہ کہ چوڑائی میں
حدیث نمبر: 2377
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ تُرْكَزُ لَهُ الْعَنَزَةُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نیزہ گاڑھ دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2377]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 494، 498، 972، 973، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 501، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 798، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2377، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 746، وأبو داود فى (سننه) برقم: 687، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1450، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 941، 1304، 1305، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4704» «رقم طبعة با وزير 2370»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (688): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
876. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر إباحة صلاة المرء إلى راحلته في الفضاء عند عدم العنزة والسترة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ اگر کھلی جگہ میں نیزہ یا سترہ نہ ہو تو آدمی اپنی سواری کی طرف نماز پڑھ سکتا ہے
حدیث نمبر: 2378
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى رَاحِلَتِهِ" ، قَالَ نَافِعٌ: وَرَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي إِلَى رَاحِلَتِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ اپنی سواری کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہے تھے۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنی سواری کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2378]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 430، 507، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 502، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 801، 802، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2378، وأبو داود فى (سننه) برقم: 692، والترمذي فى (جامعه) برقم: 352، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4554» «رقم طبعة با وزير 2371»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (691): ق دون قول نافع: ورأيت .... فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير أبي خالد الأحمر- وهو سليمان بن حيان- فقد روى له البخاري ثلاثة أحاديث توبع عليها واحتج به مسلم، وقد توبع، وابن نمير: هو محمد بن عبد الله بن نمير.
877. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن السترة تمنع من قطع الصلاة للمصلي وإن مر من دونها الحمار والكلب والمرأة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ سترہ نمازی کی نماز کو ٹوٹنے سے روکتی ہے، چاہے اس کے پیچھے گدھا، کتا، یا عورت گزرے
حدیث نمبر: 2379
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ، فَلْيُصَلِّ، وَلا يُبَالِي مَنْ مَرَّ وَرَاءَ ذَلِكَ" .
موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ) سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز رکھ دے تو پھر اسے نماز ادا کر لینی چاہیے اور اس بات کی پروا نہیں کرنی چاہیے کہ اس (سترہ) کے دوسری طرف سے کون گزر رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2379]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 499، وابن الجارود فى "المنتقى"، 185، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 805، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2379، 2380، وأبو داود فى (سننه) برقم: 685، والترمذي فى (جامعه) برقم: 335، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 940، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1405» «رقم طبعة با وزير 2372»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (686). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، على شرط مسلم، أبو الأحوص: هو سلام بن سليم الحنفي.
878. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن السترة تمنع من قطع الصلاة وإن مر وراءه الحمار والكلب والمرأة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ سترہ نماز کو ٹوٹنے سے روکتی ہے، چاہے اس کے پیچھے گدھا، کتا، یا عورت گزرے
حدیث نمبر: 2380
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ، فَلا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ" .
سیدنا موسیٰ بن طلحہ اپنے والد (سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ نماز ادا کر رہے ہوتے تھے اور ہمارے سامنے سے چوپائے گزرا کرتے تھے، ہم نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز تمہارے سامنے موجود ہو، تو پھر اس کے دوسری طرف سے گزرنے والی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2380]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 499، وابن الجارود فى "المنتقى"، 185، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 805، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2379، 2380، وأبو داود فى (سننه) برقم: 685، والترمذي فى (جامعه) برقم: 335، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 940، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1405» «رقم طبعة با وزير 2373»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن.
879. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن مرور الحمار قدام المصلي لا يقطع صلاته
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ گدھے کا نمازی کے سامنے سے گزرنا اس کی نماز کو نہیں توڑتا
حدیث نمبر: 2381
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرْنَا مَا كَانَ يَقْطَعُ الصَّلاةَ، فَقَالُوا: الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" لَقَدْ جِئْتُ أَنَا وَغُلامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مُرْتَدِفِينَ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فِي أَرْضٍ خَلاءٍ، فَتَرَكْنَا الْحِمَارَ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، ثُمَّ جِئْنَا حَتَّى دَخَلْنَا بَيْنَهُمْ فَمَا بَالَى بِذَلِكَ" .
ابوصہباء بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے، ہم نے اس بات کا ذکر کیا کہ کون سی چیز نماز کو توڑ دیتی ہے؟ تو لوگوں نے کہا: گدھا اور عورت (نمازی کے آگے سے گزر کر نماز کو توڑ دیتے ہیں) تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں اور بنو عبدالمطلب سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان گدھے پر آگے پیچھے سوار ہو کر آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھلے میدان میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ ہم نے گدھے کو لوگوں کے سامنے چھوڑ دیا، پھر ہم آئے اور صف میں شامل ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2381]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 76، 493، 861، 1857، 4412، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 504، وابن الجارود فى "المنتقى"، 187، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 833، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2151، 2356، 2381، 2393، وأبو داود فى (سننه) برقم: 715، 716، والترمذي فى (جامعه) برقم: 337، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 947، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1916» «رقم طبعة با وزير 2374»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (710). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، أبوالصهباء: هو صهيب البكري مولى ابن عباس.
880. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن هذه الصلاة التي كان الحمار يمر قدامهم فيها كانوا يصلون لعنزة تركز بين أيديهم والعنزة تمنع من قطع الصلاة وإن مر قدامهم الحمار والكلب والمرأة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس نماز میں، جس میں گدھا ان کے سامنے سے گزرتا تھا، ان کے سامنے ایک نیزہ نصب تھا اور یہ نیزہ گدھے، کتے، اور عورت کے گزرنے سے نماز کو ٹوٹنے سے روکتا تھا
حدیث نمبر: 2382
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِشْكَابَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ وَعِنْدَهُ أُنَاسٌ، فَجَاءَ بِلالٌ فَأَذَّنَ، ثُمَّ جَعَلَ يَتْبَعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا، قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي بِقَوْلِ: حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَالَ: وَأَخْرَجَ فَضْلَ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّاسُ مِنْ بَيْنِ نَائِلٍ، وَنَاضِحٍ، حَتَّى جَعَلَ الصَّغِيرُ يُدْخِلُ يَدَهُ تَحْتَ إِبَاطِ الْقَوْمِ فَيُصِيبُ ذَلِكَ، وَرَكَزَ بِلالٌ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةً، فَيَمُرُّ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ لا يُمْنَعُ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ" .
عون بن ابو جحیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سرخ خیمے میں موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ بھی تھے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اذان دی، انہوں نے (اذان دیتے ہوئے) اپنا منہ اس طرف بھی پھیرا اور اس طرف بھی پھیرا۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: یعنی «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“ اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“ کہتے ہوئے ایسا کیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر باہر آئے، تو کچھ لوگوں کو وہ پانی ملا اور کچھ کو نہیں ملا، یہاں تک کہ ایک کم سن بچے نے لوگوں کی بغلوں کے نیچے سے اپنا ہاتھ داخل کیا اور اس پانی تک پہنچ گیا، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک نیزہ گاڑ دیا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے لگے) پھر گدھے یا عورت یا کتے کے (اس کے دوسری طرف سے گزرنے پر) منع نہیں کیا جا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز میں دو رکعات پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لانے تک دو، دو رکعات ہی ادا کرتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2382]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 187، 376، 495، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 503، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 387، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1268، 2334، 2382، 2394، 7293، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 730، وأبو داود فى (سننه) برقم: 520، 688، والترمذي فى (جامعه) برقم: 197، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 711، 3628، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19045» «رقم طبعة با وزير 2375»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (533 و 689). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، علي بن إشكاب: صدوق روى له أبو داود وابن ماجه، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين، وقد تقدم برقم (2334) من طريق محمد بن بشار، عن عبد الرحمن، عن سفيان.
881. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن هذا الحكم إنما يكون لمن لم يكن بين يديه كآخرة الرحل
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ حکم اس کے لیے ہے جس کے سامنے سواری کا آخری حصہ نہ ہو
حدیث نمبر: 2383
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الأَذْرَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ عَمَّا يَقْطَعُ الصَّلاةَ، فَقَالَ: إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْكَ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ، قُلْتُ: مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَبْيَضِ؟، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الأَذْرِمَةُ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى نَصِيبِينَ.
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا جو نماز کو توڑ دیتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”جب تمہارے آگے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز نہ ہو، تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر نماز کو توڑ دیتے ہیں)۔“ میں نے کہا: اس میں سیاہ کتے کی کیا خصوصیت ہے، زرد یا سفید کیوں نہیں؟ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اذرمہ“ نصیبین کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2383]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 510، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 806، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2383، 2384، 2385، 2388، 2389، 2391، 2392، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 749، وأبو داود فى (سننه) برقم: 702، والترمذي فى (جامعه) برقم: 338، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 952، 3210، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21718» «رقم طبعة با وزير 2376»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (699): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عبد الله بن إسحاق الأذرمي: هو عبد الله بن محمد بن إسحاق، وهو ثقة روى له أبو داود والنسائي، ومن فوقه على شرط مسلم.
882. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن أول هذا الخبر غير مرفوع
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض علماء کو یہ وہم دلاتا ہے کہ اس خبر کا پہلا حصہ مرفوع نہیں ہے
حدیث نمبر: 2384
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: يَقْطَعُ صَلاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَبْيَضِ مِنَ الأَحْمَرِ؟، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" .
عبداللہ بن صامت، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی کے نماز پڑھنے کے دوران اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز (سترے کے طور پر) نہ ہو، تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ! سیاہ کتے کا کیا معاملہ ہے، سفید اور سرخ کیوں نہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2384]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 510، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 806، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2383، 2384، 2385، 2388، 2389، 2391، 2392، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 749، وأبو داود فى (سننه) برقم: 702، والترمذي فى (جامعه) برقم: 338، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 952، 3210، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21718» «رقم طبعة با وزير 2377»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
883. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن أول هذا الخبر موقوف غير مسند
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ اس خبر کا پہلا حصہ موقوف ہے، نہ کہ مسند
حدیث نمبر: 2385
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْطَعُ صَلاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ: الْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ، وَالْمَرْأَةُ"، قَالَ: قُلْتُ: مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ؟، فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ:" الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گدھا، سیاہ کتا اور عورت آدمی (کے آگے سے گزر کر اس کی) نماز کو منقطع کر دیتے ہیں جب آدمی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی (کوئی چیز سترے کے طور پر) نہ ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے) دریافت کیا: سیاہ کتا کیوں؟ سرخ یا زرد کیوں نہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیاہ (کتا) شیطان ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2385]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 510، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 806، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2383، 2384، 2385، 2388، 2389، 2391، 2392، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 749، وأبو داود فى (سننه) برقم: 702، والترمذي فى (جامعه) برقم: 338، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 952، 3210، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21718» «رقم طبعة با وزير 2378»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، محمد بن كثير: هو العبدي.