🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
132. باب دخول مكة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن ابن جريج لم يسمع هذا الخبر من سليمان الأحول
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ ابن جریج نے یہ خبر سلیمان احول سے نہیں سنی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3832
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا ، أَخْبَرَنَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ، أَوْ بِخَيْطٍ، أَوْ شَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَ قَالَ: قَدَّهُ بِيَدِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جس نے رسی سے ہاتھ بندھوا کر دوسرے شخص کے ہاتھ میں (رسی کا دوسرا سرا) دیا ہوا تھا یا اس کے علاوہ شاید کوئی اور چیز تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹ دیا اور فرمایا: تم (اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے کر چلو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3832]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1620، 1621، 6702، 6703، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2751، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3831، 3832، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1696، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2920، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3302، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9405، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3510» «رقم طبعة با وزير 3821»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
133. باب دخول مكة - ذكر الإباحة للحاج العليل أن يطاف به وهو راكب
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - بیمار حاجی کے لیے سواری پر طواف کروانے کی اجازت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3833
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا، قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ"، قَالَتْ: فَطُفْتُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، وَهُوَ يَقْرَأُ بِ الطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ سورة الطور آية 2 - 2 .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی کہ میں بیمار ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں سے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو میں نے طواف کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ﴿وَالطُّورِ﴾ [سورة الطور: 1] کی تلاوت کر رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3833]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 464، 1619، 1633، 4853، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1276، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1371، وابن الجارود فى "المنتقى"، 508، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 523، 2776، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3830، 3833، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2925، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1882، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2961، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9339، 9482، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27128» «رقم طبعة با وزير 3822»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر (3819). تنبيه!! رقم (3819) = (3830) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
134. باب دخول مكة - ذكر الأمر للمرأة إذا حاضت أن تعمل عمل الحج خلا الطواف بالبيت
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ اگر عورت حیض سے ہو تو وہ بیت اللہ کے طواف کے علاوہ حج کے دیگر اعمال کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3834
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا نَنْوِي إِلا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: " مَا لَكِ، أَنَفِسْتِ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" هَذَا أَمَرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ"، وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنے کی تھی، جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے، تو مجھے حیض آ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ تم وہ تمام چیزیں ادا کرو جو حاجی کرتے ہیں، البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے ایک گائے قربان کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3834]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3823»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (191)، «الحج الكبير»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3835
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا، قَالَتْ: قَدِمْتُ مَكَّةَ، وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں مکہ آئی، مجھے حیض آ چکا تھا۔ میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور صفا و مروہ کی سعی نہیں کی، میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم وہ تمام کام کرو جو حاجی کرتے ہیں، البتہ تم پاک ہونے تک بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3835]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3824»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
135. باب دخول مكة - ذكر الإخبار عن إباحة الكلام للطائف حول البيت العتيق وإن كان الطواف صلاة
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ بیت عتیق کے طواف کرنے والے کے لیے بات کرنا جائز ہے، چاہے طواف نماز ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3836
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلاةٌ، إِلا أَنَّ اللَّهَ أَحَلَّ فِيهِ الْمَنْطِقَ، فَمَنْ نَطَقَ، فَلا يَنْطِقُ إِلا بِخَيْرٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: بیت اللہ کا طواف کرنا بھی نماز (ادا کرنے کی مانند ہے)، البتہ اللہ تعالیٰ نے اس دوران بات چیت کرنے کو جائز قرار دیا ہے، تو جو شخص (طواف کے دوران) کوئی بات کرے، تو اسے صرف بھلائی کی بات کرنی چاہیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3836]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 507، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2739، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3836، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1692، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2922، والترمذي فى (جامعه) برقم: 960، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9384، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15662» «رقم طبعة با وزير 3825»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (2576)، «الإرواء» (121)، «التعليق على ابن خزيمة» (2739).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
136. باب دخول مكة - ذكر الإباحة للطائف حول البيت العتيق إذا عطش أن يشرب في طوافه
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس بات کی اجازت کہ بیت عتیق کا طواف کرنے والا اگر پیاسا ہو تو طواف کے دوران پانی پی سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3837
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ بِبَلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مَاءً فِي الطَّوَافِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے دوران آبِ زمزم پیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3837]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2750، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3837، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1695، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9389، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 14848» «رقم طبعة با وزير 3826»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [أَبُو غَسَّانَ] قال الشيخ: اسمه: مالك بن إِسماعيلَ بن دِرْهم. ومن طريقه: أخرجه ابن خُزيمة (4/ 226 - 227)، والحاكم (1/ 460)، وقال «صحيح غريب». وقال الذهبي: «خ م».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
137. باب دخول مكة - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم كان شربه الذي وصفنا من ماء زمزم
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے بیان کردہ پینا زمزم کا پانی تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3838
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَجَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آبِ زمزم پیش کیا، تو آپ نے اسے پی لیا، آپ نے کھڑے ہو کر اسے پیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3838]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1637، 5617، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2027، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2945، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3838، 5319، 5320، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7303، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2964، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1882، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3422، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9390، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1863» «رقم طبعة با وزير 3827»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر الشمائل» (178)، «الروض» (425): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
138. باب السعي بين الصفا والمروة - ذكر الخبر الدال على أن السعي بين الصفا والمروة على الحاج والمعتمر فرض لا يسع تركه
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان سعي حاجی اور معتمر پر فرض ہے، اسے ترک کرنا جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3839
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ: أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، فَمَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لا يَطُوفَ بِهِمَا، قَالَتْ عَائِشَةُ:" كَلا، لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي الأَنْصَارِ، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ، وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ، وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلامُ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا، وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا، فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 158" .
ہشام بن عروہ اپنے والد عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں ان دنوں کم سن تھا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرتا ہے یا عمرہ کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، اگر وہ ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ان دونوں کا طواف نہیں کرتا، تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایسا ہرگز نہیں ہے، اگر اس طرح ہوتا جس طرح تم بیان کر رہے ہو، تو آیت یہ ہونی چاہیے تھی: اس شخص پر کوئی گناہ نہیں ہے، جو ان کا طواف نہ کرے، (پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی) یہ آیت کچھ انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو «مَنَاةَ» (نامی بت) کا احرام باندھتے تھے، وہ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے، جب اسلام آیا، تو لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 158] بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، اگر وہ ان کا طواف کر لیتا ہے اور جو شخص نفلی طور پر نیکی کرتا ہے، تو بے شک اللہ تعالیٰ شکر قبول کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3839]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1643، 1790، 4495، 4861، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1277، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2766، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1381، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3839، 3840، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3087، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2967، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1901، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2965، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2986، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9452، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25752، والحميدي فى (مسنده) برقم: 221» «رقم طبعة با وزير 3828»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1659): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
139. باب السعي بين الصفا والمروة - ذكر الخبر الدال على أن السعي بين الصفا والمروة فريضة لا يجوز تركه
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان سعي فرض ہے، اسے ترک کرنا جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3840
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهَا: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 إِلَى آخِرِ الآيَةِ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَلا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ:" بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّ هَذِهِ الآيَةَ لَوْ كَانَتْ عَلَى مَا أَوَّلْتُهَا عَلَيْهِ، كَانَتْ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، وَلَكِنَّهَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِي الأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ، عِنْدَ الْمُشَلَّلِ، وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطَّوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا أَسْلَمُوا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنَّ نَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158"، قَالَتْ عَائِشَةُ:" قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِهِمَا، فَلَيْسَ لأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا" ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: ثُمَ أَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ بِالَّذِي حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ هَذَا لَعِلْمٌ، وَإِنِّي مَا كُنْتُ سَمِعْتُهُ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّاسَ إِلا مَنْ ذَكَرْتِ عَائِشَةُ مِمَّنْ كَانَ يُهِلُّ لِمَنَاةَ، كَانُوا يَطُوفُونَ كُلُّهُمْ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا ذَكَرَ اللَّهُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ فِي الْقُرْآنِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الطَّوَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ، أَوِ اعْتَمَرَ، فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فأَسْمَعُ، هَذِهِ نَزَلَتْ فِي الْفَرِيقَيْنِ كِلَيْهِمَا فِي الَّذِينَ كَانُوا يَتَحَرَّجُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَطَّوَّفُوا بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ تَحَرَّجُوا أَنْ يَطَّوَّفُوا بِهِمَا فِي الإِسْلامِ مِنْ أَجْلِ أَنَّ اللَّهَ أَمَرَنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ يَذْكُرُهُمَا حِينَ ذَكَرَ ذَلِكَ بَعْدَمَا ذَكَرَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ.
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرتا ہے یا عمرہ کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ان دونوں کا طواف نہیں کرتا تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایسا ہرگز نہیں ہے، اگر اس طرح ہوتا جس طرح تم بیان کر رہے ہو تو آیت یوں ہونی چاہیے تھی: اس شخص پر کوئی گناہ نہیں ہے جو ان کا طواف نہ کرے۔ (پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی) یہ آیت کچھ انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو مناۃ (نامی بت) کا احرام باندھتے تھے، وہ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے، جب اسلام آیا تو لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 158] بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اگر وہ ان کا طواف کر لیتا ہے اور جو شخص نفلی طور پر نیکی کرتا ہے تو بے شک اللہ تعالیٰ شکر قبول کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے نازل فرمائی۔ عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] (یہ آیت آخر تک ہے) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ کی قسم! ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں ہوگا جو صفا اور مروہ کا طواف نہیں کرتا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بھانجے! تم نے بہت غلط بات کہی ہے، اس آیت سے اگر وہ مراد ہوتی جو تم بیان کر رہے ہو تو آیت یوں ہونی چاہیے تھی: تو ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے، درحقیقت یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو اسلام قبول کرنے سے پہلے مناۃ طاغیہ کے نام کا احرام باندھتے تھے، یہ لوگ مشلل کے قریب اس کی عبادت کیا کرتے تھے، جو شخص اس کے نام کا احرام باندھتا تھا وہ اس بات کو گناہ سمجھتا تھا کہ صفا اور مروہ کا طواف کرے، جب لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ صفا اور مروہ کا طواف کرنے کو گناہ سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ ان کا طواف کر لیتا ہے نازل فرمائی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے طواف کو سنت قرار دیا، تو اب کسی شخص کے لیے اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ ان دونوں کے طواف کو ترک کرے۔ زہری کہتے ہیں: میں اس روایت کو لے کر ابوبکر بن عبدالرحمن کے پاس گیا، وہ روایت جو عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے مجھے بیان کی تھی، ابوبکر بن عبدالرحمن نے کہا: یہ واقعی علم ہے، میں نے یہ بات پہلے نہیں سنی ہوئی تھی، میں نے پہلے کچھ اہل علم کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا تھا کہ پہلے سب لوگ صفا اور مروہ کا طواف کیا کرتے تھے، ماسوائے ان لوگوں کے جن کا ذکر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا ہے جو مناۃ کے نام کا قربانی کا جانور لے کر جاتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا اور صفا اور مروہ کے طواف کا ذکر نہیں کیا (تو اس بارے میں لوگوں کو الجھن ہوئی) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے نازل فرمائی۔ ابوبکر بن عبدالرحمن نے کہا: تو میں نے یہ سنا کہ یہ آیت دونوں فریقوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی، ان لوگوں کے بارے میں جو زمانہ جاہلیت میں صفا اور مروہ کا طواف کیا کرتے تھے، تو انہوں نے اسلام میں ان دونوں کے طواف کو گناہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بیت اللہ کا طواف کرنے کا حکم دیا ہے اور صفا و مروہ کا اس میں ذکر نہیں کیا، یہ اس وقت کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ نے صرف بیت اللہ کا طواف کرنے کا ذکر کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3840]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1643، 1790، 4495، 4861، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1277، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2766، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1381، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3839، 3840، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3087، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2967، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1901، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2965، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2986، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9452، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25752، والحميدي فى (مسنده) برقم: 221» «رقم طبعة با وزير 3829»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
140. باب السعي بين الصفا والمروة - ذكر لفظة قد توهم عالما من الناس أن السعي بين الصفا والمروة ليس بفرض
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان - اس لفظ کا ذکر جو بعض عالموں کو یہ وہم دلاتا ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان سعي فرض نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3841
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَاوُدَ ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ، وَأَنَّهُ سُنَّةٌ، فَقَالَ:" كَذَبُوا، وَصَدَقُوا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى قُعَيْقِعَانَ، فَتَحَدَّثُوا أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابَهُ هَزْلَى، فَرَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَرَمَلُوا، وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ" .
عامر بن واثلہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم کے لوگ یہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا ہے اور یہ چیز سنت ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہوں نے کچھ بات ٹھیک بیان کی ہے اور کچھ غلط بیان کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تھے، تو مشرکین اس وقت قیقعان میں موجود تھے وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے بارے میں مذاق اڑانے کے طور پر بات چیت کر رہے تھے (کہ یہ کمزور لوگ ہیں)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا اور آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ بھی رمل کریں (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:) یہ چیز سنت نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3841]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1602، 1649، 4256، 4257، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1264، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2707، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3811، 3812، 3814، 3841، 3845، 6531، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1885، 1886، 1889، والترمذي فى (جامعه) برقم: 863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2953، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1946» «رقم طبعة با وزير 3830»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر (3800). تنبيه!! رقم (3800) = (3811) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں