🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
114. باب دخول مكة - ذكر العلة التي من أجلها رمل صلى الله عليه وسلم فيما وصفنا
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ طواف میں رمل کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3812
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، فَقُلْتُ: الأَطْرَافُ الثَّلاثَةُ الَّتِي تُسْنَدُ بِالْكَعْبَةِ؟، قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْهَا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي صُلْحِ قُرَيْشٍ، بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ، تَقُولُ: تُبَايعُونَ ضُعَفَاءَ ؛ قَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَكَلْنَا مِنْ ظَهْرِنَا، فَأَكَلْنَا مِنْ شُحُومِهَا، وَحَسَوْنَا مِنَ الْمَرَقِ، فَأَصْبَحْنَا غَدًا حَتَّى نَدْخُلَ عَلَى الْقَوْمِ، وَبِنَا جِمَامٌ، قَالَ:" لا وَلَكِنِ ائْتُونِي بِفَضْلِ أَزْوَادِكُمْ"، فَبَسَطُوا أَنْطَاعَهُمْ، ثُمَّ جَمَعُوا عَلَيْهَا مِنْ أَطْعِمَاتِهِمْ كُلَّهَا، فَدَعَا لَهُمْ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، فَأَكَلُوا حَتَّى تَضَلَّعُوا شِبَعًا، فَأَكْفَتُوا فِي جُرَبِهِمْ فُضُولَ مَا فَضَلَ مِنْهَا، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قُرَيْشٍ، وَاجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ نَحْوَ الْحَجَرِ، اضْطَبَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ:" لا يَرَى الْقَوْمُ فِيكُمْ غَمِيزَةً"، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ، وَتَغَيَّبَتْ قُرَيْشٌ، مَشَى هُوَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى اسْتَلَمُوا الرُّكْنَ الأَسْوَدَ، فَطَافَ ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ، فَلِذَلِكَ تَقُولُ قُرَيْشٌ وَهُمْ يَمُرُّونَ بِهِمْ يَرْمُلُونَ: لَكَأَنَّهُمُ الْغِزْلانُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكَانَتْ سُنَّةً .
ابن خثیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوطفیل سے دریافت کیا، میں نے کہا: وہ تین اطراف جن میں خانہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگائی جاتی ہے؟ تو ابوطفیل نے بتایا: میں نے اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا کہ قریش کے ساتھ صلح کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرالظہران کے مقام پر پڑاؤ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو یہ بات پتہ چلی کہ قریش یہ کہتے ہیں: ”تم لوگوں نے کمزور لوگوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ہم اپنی قربانی کے جانوروں کا گوشت کھائیں اور ان کی چربی کو کھائیں اور اس کا شوربہ پی لیں (تو ہمارے جسموں میں طاقت آ جائے گی)، تو ہم کل صبح مکہ میں داخل ہوں گے اور اس وقت ہم طاقت ور نظر آئیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں بلکہ تم اپنے زادِ سفر میں سے بچ جانے والی چیزیں لے کر آؤ“، پھر لوگوں نے اپنے دسترخوان بچھائے اور اس پر اپنے کھانے کی تمام چیزیں جمع کر دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کے بارے میں برکت کی دعا کی، تو انہوں نے اسے کھایا، تو ان کے پیٹ بھر گئے۔ انہوں نے باقی بچ جانے والی چیزیں اپنے تھیلوں میں ڈال لیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے سامنے آئے تو قریش حجرِ اسود کے سامنے اکٹھے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع (کے طور پر کپڑے کو لپیٹا) کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”ان لوگوں کو تمہارے اندر کمزوری نہیں نظر آنی چاہیے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکنِ یمانی کا استلام کیا۔ اس وقت قریش دوسری طرف ہو گئے (یعنی نظر نہیں آتے تھے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب عام رفتار سے چلتے تھے، یہاں تک کہ حجرِ اسود کا استلام کر لیتے (تو پھر دوڑنا شروع کر دیتے تھے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طواف اس طرح کیے کہ یہ حضرات دوڑتے ہوئے قریش کے پاس سے گزرتے، تو قریش یہ کہتے تھے: ”یہ ہرنوں کی طرح دوڑ رہے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ سنت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3812]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1602، 1649، 4256، 4257، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1264، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2707، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3811، 3812، 3814، 3841، 3845، 6531، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1885، 1886، 1889، والترمذي فى (جامعه) برقم: 863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2953، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1946» «رقم طبعة با وزير 3801»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1650)، «الصحيحة» (2573). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح رجاله ثقات رجال الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
115. باب دخول مكة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر ابن عباس الذي ذكرناه
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ابن عباس کی ہمارے بیان کردہ خبر کے مخالف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3813
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" رَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ ثَلاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا"، كَذَلِكَ قَالَهُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي رِوَايَةِ أَصْحَابِهِ عَنْهُ، عَنْ جَابِرٍ، وَاخْتَصَرَ مَالِكٌ الْخَبَرَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ رَمَلَ ثَلاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، فَكَانَ الرَّمَلُ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ، وَهِيَ أَنْ يَرَاهُمُ الْمُشْرِكُونَ جُلَدَاءَ، لا ضَعْفَ بِهِمْ، فَارْتَفَعَتْ هَذِهِ الْعِلَّةُ، وَبَقِيَ الرَّمَلُ فَرِضَا عَلَى أُمَّةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر سے لے کر حجر تک رمل کیا تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ بیت اللہ کا رمل کیا اور چار مرتبہ عام رفتار سے چلے۔ امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں یہ بات اسی طرح نقل کی ہے جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، جیسا کہ ان کے شاگردوں نے اسے نقل کیا ہے۔ جب کہ امام مالک رحمہ اللہ نے اس روایت کو مختصر طور پر نقل کیا ہے، انہوں نے یہ بات نقل نہیں کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین چکروں میں بھاگ کر چلے تھے اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے تھے؛ تو یہ رمل کسی متعین علت کی وجہ سے تھا اور وہ علت یہ تھی کہ مشرکین ان لوگوں کو دیکھ لیں کہ وہ تندرست لوگ ہیں، ان میں کمزوری نہیں ہے، جب یہ علت ختم ہو گئی تو علت کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے قیامت کے دن تک فرض کے طور پر باقی رہ گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3813]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، 856، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، 1074، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942» «رقم طبعة با وزير 3802»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض» (212)، «حجة النبي صلى الله عليه وسلم» (57): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3814
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ حِينَ أَرَادُوا دُخُولَ مَكَّةَ فِي عُمْرَتِهِ بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ:" إِنَّ قَوْمَكُمْ غَدًا سَيَرَوْنَكُمْ، فَلَيَرَوْنَكُمْ جُلَدَاءَ"، فَلَمَّا دَخَلُوا الْمَسْجِدَ اسْتَلَمُوا الرُّكْنَ، ثُمَّ رَمَلُوا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، حَتَّى إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ مَشَوْا إِلَى الرُّكْنِ الأَسْوَدِ، ثُمَّ رَمَلُوا حَتَّى بَلَغُوا الرُّكْنَ، فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَشَى الأَرْبَعَ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے بعد عمرہ کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب مکہ میں داخل ہونے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”لوگ کل تمہیں دیکھیں، تو تمہیں مضبوط دیکھیں“۔ جب یہ لوگ مسجد میں داخل ہوئے، تو انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، پھر انہوں نے رمل کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ یہ لوگ رکن یمانی تک پہنچے، تو عام رفتار سے چلتے ہوئے حجر اسود تک آئے، پھر بھاگنے لگے، جب رکن یمانی تک پہنچے (تو پھر عام رفتار سے چلنے لگے)۔ ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا (جبکہ باقی کے) چار طوافوں میں عام رفتار سے چلتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3814]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1602، 1649، 4256، 4257، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1264، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2707، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3811، 3812، 3814، 3841، 3845، 6531، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1885، 1886، 1889، والترمذي فى (جامعه) برقم: 863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2953، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1946» «رقم طبعة با وزير 3803»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1651). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
116. باب دخول مكة - ذكر الخبر الدال على أن الحجر من البيت
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ حجر بیت اللہ کا حصہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3815
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوَا الْكَعْبَةَ، اقْتَصَرُوا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟، قَالَ:" لَوْلا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ" ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلامِ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ، إِلا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يَتِمَّ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَفْظَةً، ظَاهِرُهَا التَّوَقُّفُ عَنْ صِحَّتِهَا مُرَادُهَا ابْتِدَاءَ إِخْبَارٍ عَنْ شَيْءٍ يَأْتِي بِتَيَقُّنِ شَيْءٍ مَاضٍ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم نے اس بات کا جائزہ نہیں لیا کہ تمہاری قوم نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی، تو اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا تھا؟“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو آپ اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر لوٹا کیوں نہیں دیتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تمہاری قوم زمانہ کفر کے اتنا قریب نہ ہوتی (تو میں ایسا کر دیتا)۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس پر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ فرمایا: ”اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے، تو میرا خیال ہے اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کی طرف والے دو رکنوں کے استلام کو ترک کر دیا تھا، کیونکہ بیت اللہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل تعمیر نہیں ہوا تھا“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول ”اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے“ ان الفاظ سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ اس روایت کے بارے میں توقف کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ اس سے مراد ہے کہ وہ ایک چیز کے بارے میں اطلاع کا آغاز کر رہے ہیں جو اس سے پہلے یقینی طور پر آ چکی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3815]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 126، 1583، 1584، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1333، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2726، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3815، 3816، 3817، 3818، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1770، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1875، 2028، والترمذي فى (جامعه) برقم: 875، 876، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2955، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9335، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24935» «رقم طبعة با وزير 3804»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (81)، «الصحيحة» (43): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
117. باب دخول مكة - ذكر العلة التي من أجلها اقتصر القوم في بناء الكعبة على قواعد إبراهيم
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر لوگوں نے کعبہ کی تعمیر کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں تک محدود رکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3816
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ رُومَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" يَا عَائِشَةُ لَوْلا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ، لَهَدَمْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أُدْخِلَ فِيهِ مَا أَخْرَجُوا مِنْهُ فِي الْحِجْرِ، فَإِنَّهُمْ عَجَزُوا عَنْ نَفَقَتِهِ، وَأَلْصَقْتُهُ بِالأَرْضِ، وَوَضَعْتُهُ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ، وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ، بَابًا شَرْقِيًّا، وَبَابًا غَرْبِيًّا" ، قَالَ: فَكَانَ هَذَا الَّذِي دَعَا ابْنَ الزُّبَيْرِ إِلَى هَدْمِهِ وَبِنَائِهِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے عائشہ رضی اللہ عنہا! اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی، تو میں بیت اللہ کو منہدم کروا کے اس میں وہ حصہ داخل کر دیتا جو انہوں نے اس میں سے نکال دیا تھا (جو حطیم ہے ان لوگوں کے پاس خرچ کم ہو گیا تھا)، تو انہوں نے اسے زمین کے ساتھ ملا دیا اور میں اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق تعمیر کرتا، میں اس کے دو دروازے بناتا؛ ایک دروازہ مشرق کی سمت ہوتا اور ایک مغرب کی سمت ہوتا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اسی وجہ سے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے منہدم کروا کے اس کی تعمیر نو کروائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3816]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 126، 1583، 1584، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1333، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2726، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3815، 3816، 3817، 3818، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1770، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1875، 2028، والترمذي فى (جامعه) برقم: 875، 876، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2955، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9335، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24935» «رقم طبعة با وزير 3805»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (43)، «الإرواء» (1106): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3817
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ سَأَلَ الأَسْوَدَ، وَكَانَ يَأْتِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَكَانَتْ تُفْضِي إِلَيْهِ، قَالَ الأَسْوَدُ: قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةِ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ" ، فَهَدَمَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ.
اسود بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسود سے سوال کیا (وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا جایا کرتے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان پر خصوصی شفقت کرتی تھیں)۔ اسود نے بتایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی، تو میں خانہ کعبہ کو منہدم کروا دیتا اور اس کے دو دروازے بنواتا۔“ راوی کہتے ہیں: اسی لیے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے منہدم کروا کے اس کے دو دروازے بنوائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3817]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 126، 1583، 1584، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1333، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2726، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3815، 3816، 3817، 3818، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1770، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1875، 2028، والترمذي فى (جامعه) برقم: 875، 876، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2955، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9335، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24935» «رقم طبعة با وزير 3806»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
118. باب دخول مكة - ذكر إرادة المصطفى صلى الله عليه وسلم أن يزيد الحجر في البيت لو هدمه
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا کہ اگر کعبہ کو توڑا جائے تو حجر کو بیت اللہ میں شامل کر دیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3818
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَهْدِمَ الْكَعْبَةَ وَيَبْنِيَهَا، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ خَالَتِي، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" يَا عَائِشَةُ لَوْلا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ، ثُمَّ زِدْتُ فِيهَا سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْ بِهَا حِينَ بَنَتِ الْبَيْتَ، وَجَعَلَتُ لَهَا بَابَيْنِ شَرْقِيًّا، وَبَابًا غَرْبِيًّا، وَأَلْزَقَتُهَا بِالأَرْضِ" .
سعید بن میناء بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا، یہ اس وقت کی بات ہے جب انہوں نے خانہ کعبہ کو منہدم کروا کے اس کی تعمیرِ نو کا ارادہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، جو میری خالہ ہیں، انہوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: ”اے عائشہ! اگر تمہاری قوم زمانۂ شرک کے اتنا قریب نہ ہوتی، تو میں خانہ کعبہ کو منہدم کروا کے اس میں حطیم کے چھ بالشت حصے کا اضافہ کرواتا؛ کیونکہ قریش نے اس کی تعمیر کرتے ہوئے اس حصے کو چھوڑ دیا تھا، اور میں اس کے دو دروازے بناتا؛ ایک مشرقی دروازہ اور ایک مغربی دروازہ اور میں اس کے دروازوں کو زمین کے ساتھ رکھتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3818]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 126، 1583، 1584، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1333، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2726، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3815، 3816، 3817، 3818، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1770، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1875، 2028، والترمذي فى (جامعه) برقم: 875، 876، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2955، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9335، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24935» «رقم طبعة با وزير 3807»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
119. باب دخول مكة - ذكر الإباحة للمفرد أن يطوف لحجه طوافا واحدا بين الصفا والمروة من غير أن يحدث عند طواف الزيارة للسعي بينهما
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس بات کی اجازت کہ مفرد حاجی ایک طواف کرے اور صفا و مروہ کے درمیان سعي کرے بغیر اس کے کہ طواف زیارت کے وقت سعي کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3819
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " لَمْ يَطُفْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، إِلا طَوَافًا وَاحِدًا، طَوَافَهُ الأَوَّلَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک مرتبہ طواف کیا تھا جو پہلی مرتبہ کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3819]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، 3819، 3842، 3878، 3886، 3914، 3919، 3921، 3924، 3943، 3944، 4004، 4006، 4018، 4020، 6322، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1677، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1304» «رقم طبعة با وزير 3808»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1656): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
120. باب دخول مكة - ذكر الزجر عن طواف غير المسلم أو العريان بالبيت العتيق
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ غیر مسلم یا ننگا شخص بیت عتیق کا طواف کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3820
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أُنَادِي بِالْمُشْرِكِينَ، فَكَانَ عَلِيٌّ إِذَا صَحِلَ صَوْتُهُ، أَوِ اشْتَكَى حَلْقُهُ، أَوْ عَيِيَ مِمَّا يُنَادِي نَادَيْتُ مَكَانَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ لأَبِي: أَيَّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَقُولُونَ؟ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ: " لا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، فَمَا حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلا مُؤْمِنٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدَّةٌ، فَمُدَّتُهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا قُضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ"، قَالَ: فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ، يَقُولُونَ: لا بَلْ شَهْرٌ يَضْحَكُونَ بِذَلِكَ .
محرر بن ابوہریرہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشرکین کے بارے میں اعلان کر رہا تھا، پھر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آواز بیٹھ گئی اور ان کے حلق میں درد ہونے لگا اور وہ بلند آواز میں اعلان کرنے کے قابل نہ رہے تو ان کی جگہ میں پکارنے لگا۔ راوی (محرر) کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے دریافت کیا: آپ لوگ کیا اعلان کر رہے تھے؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ہم یہ پکار رہے تھے: ”اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا،“ چنانچہ اس سال کے بعد کسی مشرک نے حج نہیں کیا، ”اور کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، اور جنت میں صرف مومن جان ہی داخل ہوگی، اور جس شخص کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان (کسی مدت تک کا) کوئی معاہدہ ہے تو اس کے ختم ہونے کی مدت چار ماہ ہے، پھر جب چار ماہ گزر جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مشرکین سے لاتعلق ہوں گے۔“ ﴿أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُ﴾ [سورة التوبة: 3] تو مشرکین (اس بات کا مذاق اڑاتے ہوئے) یہ کہہ رہے تھے: جی نہیں، ایک مہینہ ہی کافی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3820]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 369، 1622، 3177، 4363، 4655، 4656، 4657، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1347، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2702، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3820، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3294، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1946، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9400، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8092» «رقم طبعة با وزير 3809»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (4/ 301). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
121. باب دخول مكة - ذكر استحباب تقبيل الحجر الأسود للطائف حول البيت العتيق
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - بیت عتیق کے طواف کرنے والے کے لیے حجر اسود کو چومنے کے استحباب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3821
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْحَجَرَ، ثُمَّ قَالَ:" وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ" .
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں یہ بات جانتا ہوں کہ تم ایک پتھر ہو، اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہیں بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تمہیں بوسہ نہ دیتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3821]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1597، 1605 م، 1610، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1270، وابن الجارود فى "المنتقى"، 497، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2711، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3821، 3822، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1678، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2936، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1873، والترمذي فى (جامعه) برقم: 860، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2943، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9311، وأحمد فى (مسنده) برقم: 100» «رقم طبعة با وزير 3810»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1636): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں