🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
95. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3792
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِقْدَامٍ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهِلالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ"، قَالَتْ: فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، قَالَ: فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ ذَكَرْتُ الْمَحِيضَةَ، دَخَلُ عَلَيَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَبْكِي، فَقُلْتُ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجِ الْعَامَ، وَذَكَرَتْ مَحِيضَتَهَا، قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْمُسْلِمُونَ فِي حَجِّهِمْ"، قَالَتْ: فَأَطَعْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةَ الصَّدْرِ، أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَخْرَجَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، قَالَتْ: فَأَهْلَلْتُ مِنْهُ بِعُمْرَةٍ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے کچھ دن پہلے روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے حج کا احرام باندھنا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے جس نے عمرے کا احرام باندھنا ہو وہ عمرے کا احرام باندھ لے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم میں سے کچھ لوگوں نے حج کا احرام باندھ لیا کچھ نے عمرے کا احرام باندھ لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے، تو مجھے حیض آ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ میں نے کہا: میری یہ آرزو تھی کہ میں اس سال نہ آئی ہوتی، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حیض کا تذکرہ کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے بال کھول کر ان میں کنگھی کر لو اور وہ تمام کام کرو جو مسلمان حج کے موقع پر کرتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کی، جب واپسی کی رات آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو لے کر تنعیم گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے وہاں سے عمرے کا احرام باندھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3792]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3781»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (4/ 182).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
96. باب الإحرام - ذكر البيان بأن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بهذا الأمر من لم يكن معه هدي ساقه دون من كان معه الهدي
احرام کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کا امر اسے دیا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو، نہ کہ اس کے جو ہدی ساتھ لایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3793
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْعَدْلُ بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ، قَالَ: " اجْعَلُوهَا عَمْرَةً إِلا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ"، قَالَ: فَحَلَلْنَا وَجَعَلْنَاهَا عَمْرَةً، فَلَمَّا كَانَ غَدَاةَ التَّرْوِيَةِ، صَرَخْنَا بِالْحَجِّ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى مِنًى .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ہم نے بیت اللہ کا طواف کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے عمرے میں تبدیل کر لو، البتہ جس شخص کے ہمراہ قربانی کا جانور موجود ہے (وہ ایسا نہ کرے) راوی کہتے ہیں: تو ہم نے احرام کھول دیے اور اسے عمرے میں تبدیل کر دیا، جب ترویہ کی صبح آئی، تو ہم نے پھر حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا اور ہم منی کی طرف روانہ ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3793]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1247، 1248، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2795، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3793، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9027، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11170» «رقم طبعة با وزير 3782»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (4/ 59).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
97. باب الإحرام - ذكر البيان بأن هذا الأمر الذي وصفناه أمر ندب وإرشاد دون حتم وإيجاب
احرام کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہمارے بیان کردہ یہ حکم استحباب اور رہنمائی کا ہے، نہ کہ وجوب کا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3794
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُهِلُّ بِالْحَجِّ، فَقَدِمَ لأَرْبَعٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: " مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عَمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کا احرام باندھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار ذوالحجہ کو (مکہ مکرمہ) پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی بطحا میں صبح کی نماز ادا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اسے عمرہ بنانا چاہے وہ ایسا کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3794]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1085، 1545، 1625، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1240، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3794، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2814، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1790، 1792، والترمذي فى (جامعه) برقم: 932، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1898، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8903، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2146» «رقم طبعة با وزير 3783»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
98. باب الإحرام - ذكر البيان بأن الأخبار الثلاثة التي ذكرناها قبل في الإهلال بالحج خالصا أريد به أن بعض الصحابة فعل ذلك لا الكل
احرام کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہمارے پہلے بیان کردہ تین خبروں سے مراد خالص حج کے احرام سے ہے کہ بعض صحابہ نے یہ کیا، نہ کہ سب نے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3795
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَلَيَالِي الْحَجِّ، وَحَرَمِ الْحَجِّ، حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفَ، قَالَتْ: فَخَرَجَ إِلَى الصَّحَابَةِ، فَقَالَ: " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، وَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عَمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَلا"، قَالَتْ: فَالآخِذُ بِهَا، وَالتَّارِكُ لَهَا مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَتْ: فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَكَانُوا أَهَلَ قُوَّةٍ، وَكَانَ مَعَهُمُ الْهَدْيُ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الْعُمْرَةِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكِ يَا هَنْتَاهُ؟"، قُلْتُ: قَدْ سَمِعْتُ قَوْلَكَ لأَصْحَابِكَ، فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ، قَالَ:" وَمَا شَأْنُكِ؟"، قُلْتُ: لا أُصَلِّي، قَالَ:" فَلا يَضُرُّكِ، إِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ فَعَسَى أَنْ تُدْرِكِيهَا"، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فِي حَجَّتِهِ حَتَّى قَدِمْنَا مِنًى فَطَهَرْتُ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ مِنًى، فَأَفَضْتُ الْبَيْتَ، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الآخَرِ حَتَّى نَزَلَ الْمُحَصَّبُ، وَنَزَلْنَا مَعَهُ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ:" اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ، فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ افْرُغَا، ثُمَّ ائْتِيَا هَا هُنَا، فَإِنِّي أَنْظُرُكُمَا حَتَّى تَأْتِيَانِي"، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ لِذَلِكَ حَتَّى فَرَغْتُ، وَفَرَغْتُ مِنَ الطَّوَافِ، ثُمَّ جِئْتُهُ سَحْرًا، فَقَالَ:" هَلْ فَرَغْتُمْ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَآذَنَ بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ، فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ، فَطَافَ بِهِ، ثُمَّ خَرَجَ فَرَكِبَ، ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم حج کے مہینے میں، حج کے دنوں میں، حج کے احرام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، جب ہم نے سرف کے مقام پر پڑاؤ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے ہمراہ قربانی کا جانور موجود نہ ہو اور وہ اسے عمرہ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے وہ ایسا کر لے، لیکن جس کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کچھ لوگوں نے اس حکم پر عمل کیا اور کچھ نے اسے ترک کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے کچھ افراد کا تعلق تھا جو صاحب حیثیت تھے اور ان کے ساتھ قربانی کا جانور موجود تھا، وہ عمرہ (میں تبدیل) نہیں کر سکتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خاتون! تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کی: میں نے آپ کا وہ فرمان سنا ہے، جو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ہے، لیکن میں اب عمرہ نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی: میں نماز ادا نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ تم آدم کی بیٹیوں میں سے ایک عورت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر بھی وہی چیز مقرر کی ہے، جو ان پر مقرر کی ہے، تم حج کرتی رہو۔ تمہیں عمرے کا بھی موقع مل جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر ہم لوگ حج کے لیے روانہ ہوئے، ہم منیٰ آ گئے، پھر میں پاک ہو گئی۔ پھر میں منیٰ سے روانہ ہوئی، میں نے طوافِ افاضہ کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: آخری روانگی کے وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئی، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادیِ محصب میں پڑاؤ کیا، آپ کے ہمراہ ہم نے بھی پڑاؤ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو بلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاؤ اور اسے عمرہ کروا لاؤ، پھر تم دونوں فارغ ہو کر فلاں مقام پر آ جانا، میں تم دونوں کے آنے کا انتظار کروں گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو میں اس کام کے لیے روانہ ہوئی۔ پھر میں اس سے فارغ ہوئی، پھر میں طواف سے فارغ ہوئی۔ پھر سحری کے وقت وہاں آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم لوگ فارغ ہو گئے ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو روانگی کا حکم دیا۔ لوگوں نے روانگی کی تیاری کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے پہلے خانہ کعبہ کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا طواف کیا۔ پھر آپ وہاں سے باہر نکلے اور سوار ہو گئے۔ پھر آپ مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے روانہ ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3795]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3784»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «حجة النبي» (ص 68 - 69).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
99. باب الإحرام - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم أمر من أحل وجعل عمرة إهلاله الأول بإنشائه الحج ثانيا من مكة
احرام کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا جس نے اپنا پہلا احرام عمرہ بنا لیا کہ وہ مکہ سے دوبارہ حج شروع کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3796
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَذْكُرُ حَجَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَمَرَنَا بَعْدَ مَا تَمَتَّعْنَا أَنْ نَحِلَّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْطَلِقُوا إِلَى مِنًى فَأَهِلُّوا"، قَالَ: فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْبَطْحَاءِ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرماتے ہیں: ہم نے حجِ تمتع کی نیت کی تھی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم احرام کھول دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم منیٰ کی طرف جانے کا ارادہ کرو گے، تو پھر احرام باندھ لینا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: تو ہم نے بطحاء سے احرام باندھا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3796]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، 856، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، 1074، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942» «رقم طبعة با وزير 3785»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
100. باب الإحرام - ذكر الإباحة للمرء أن يحج بصبي لم يدرك حجة التطوع دون الفريضة
احرام کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی نابالغ بچے کے ساتھ نفلی حج کرے، نہ کہ فرض حج
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3797
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِامْرَأَةٍ، فَقِيلَ لَهَا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ كَانَ مَعَهَا، فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ:" نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک خاتون کے پاس سے ہوا، اس خاتون کو بتایا گیا: یہ اللہ کے رسول ہیں، تو اس خاتون نے اپنے بچے، جو اس کے ہمراہ تھا، کا بازو پکڑا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کا حج ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور تمہیں بھی (اس کا) اجر ملے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3797]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1336، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1596، وابن الجارود فى "المنتقى"، 451، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3049، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 144، 3797، 3798، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2644، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3611، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1736، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1923، والحميدي فى (مسنده) برقم: 514» «رقم طبعة با وزير 3786»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (985)، «صحيح أبي داود» (1525).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
101. باب الإحرام - ذكر الموضع الذي سئل المصطفى صلى الله عليه وسلم فيه عما وصفنا
احرام کا بیان - اس مقام کا ذکر جہاں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا گیا جو ہم نے بیان کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3798
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي بَطْنِ الرَّوْحَاءِ إِذْ أَقْبَلَ وَفْدٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: مَنْ أَنْتُمْ؟، فَقَالَ: نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ، ثُمَّ قَالَتِ امْرَأَةٌ: مَنْ أَنْتَ؟، قَالَ: أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، فَأَخْرَجَتْ صَبِيًّا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ؟، فَقَالَ: وَلَكِ أَجْرٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روحاء کے نشیبی علاقے سے گزر رہے تھے، سامنے سے کچھ لوگ آئے، ان میں سے ایک صاحب نے دریافت کیا: آپ کون لوگ ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم مسلمان ہیں۔ پھر ایک خاتون نے دریافت کیا: آپ کون ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس خاتون نے اپنے بچے کو نکالا اور دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کا حج ہو گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جی ہاں) اور تمہیں بھی اجر ملے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3798]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1336، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1596، وابن الجارود فى "المنتقى"، 451، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3049، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 144، 3797، 3798، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2644، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3611، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1736، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1923، والحميدي فى (مسنده) برقم: 514» «رقم طبعة با وزير 3787»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
102. باب الإحرام - ذكر وصف الإهلال الذي يهل المرء به إذا عزم على الحج أو العمرة
احرام کا بیان - اس تلبیہ کی صفت کا ذکر جو آدمی کہتا ہے جب وہ حج یا عمرہ کا ارادہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3799
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكَ" ، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے یہ الفاظ تھے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں ہے، میں حاضر ہوں، بیشک حمد اور نعمت تیرے لیے مخصوص ہے اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس میں ان الفاظ کا اضافہ کرتے تھے: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ» میں حاضر ہوں، سعادت تجھ سے حاصل ہو سکتی ہے، میں حاضر ہوں، رغبت تیری طرف کی جا سکتی ہے اور امر بھی تیری طرف جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3799]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1540، 1549، 1554، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1184، وابن الجارود فى "المنتقى"، 476، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3799، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1657، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1747، 1748، 1812، والترمذي فى (جامعه) برقم: 825، 826، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1849، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2918، 3047، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9067، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4543، والحميدي فى (مسنده) برقم: 675» «رقم طبعة با وزير 3788»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1590): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
103. باب الإحرام - ذكر الإباحة للمرء أن يزيد في تلبيته على ما ذكرنا
احرام کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی اپنی تلبیہ میں ہمارے بیان کردہ سے اضافہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3800
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي تَلْبِيَتِهِ: " لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ لَبَّيْكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ میں یہ الفاظ پڑھتے تھے: «لَبَّيْكَ إِلٰهَ الْحَقِّ لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں اے حقیقی معبود، میں حاضر ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3800]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2623، 2624، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3800، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1656، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2751، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3718، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2920، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9124، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2448، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8613» «رقم طبعة با وزير 3789»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2146).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
104. باب الإحرام - ذكر الاستحباب للملبي عند التلبية إدخال الأصبعين في الأذنين
احرام کا بیان - اس بات کا استحباب کہ تلبیہ کہتے وقت ملبّی اپنی دونوں انگلیوں کو کانوں میں ڈالے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3801
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: انْطَلَقْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا أَتَيْنَا عَلَى وَادِي الأَزْرَقِ، قَالَ: " أَيُّ وَادٍ هَذَا؟"، قَالُوا: وَادِي الأَزْرَقِ، قَالَ:" كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى، يَنْعَتُ مِنْ طُولِهِ، وَشَعَرِهِ، وَلَوْنِهِ، وَاضِعًا أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي"، ثُمَّ نَفَذْنَا الْوَادِيَ حَتَّى أَتَيْنَا، قَالَ دَاوُدَ: أَظُنُّهُ ثَنِيَّةَ هَرْشَى، قَالَ:" أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟" فَقُلْنَا: ثَنِيَّةُ هَرْشَى، قَالَ:" كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ، خِطَامُ النَّاقَةِ خُلْبَةٌ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ مِنْ صُوفٍ، يُهِلُّ نَهَارًا بِهَذِهِ الثَّنِيَّةِ مُلَبِّيًا" ، الْجُؤَارُ: الابْتِهَالُ، وَالْخُلْبَةُ: الْحَشِيشُ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب ہم وادیِ ازرق میں آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ وادیِ ازرق ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں گویا اس وقت بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قد، ان کے بالوں اور رنگت کا تذکرہ کیا (اور یہ فرمایا): انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں دی ہوئی ہیں اور تلبیہ کے الفاظ کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کرتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ہم اس وادی سے آگے بڑھ گئے اور ہم آئے—داؤد نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ہم— ہرشی نامی گھاٹی پر آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون سی گھاٹی ہے؟ ہم نے جواب دیا: یہ ہرشی گھاٹی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا میں اس وقت بھی سیدنا یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، وہ اپنی سرخ اونٹنی پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے ادنیٰ جبہ پہنا ہوا ہے اور وہ اس گھاٹی سے گزرتے ہوئے بلند آواز میں تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3801]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 166، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2632، 2633، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3801، 6219، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3332، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2891، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9106، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1879» «رقم طبعة با وزير 3790»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2023): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں