🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
141. باب السعي بين الصفا والمروة - ذكر ما يقول الحاج والمعتمر على الصفا والمروة إذا رقاهما
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان - حاجی اور معتمر کے لیے صفا و مروہ پر چڑھنے پر کیا کہنا چاہیے، اس کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3842
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى الصَّفَا يُكَبِّرُ ثَلاثًا، وَيَقُولُ: " لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمَلِكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" يَصْنَعُ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ وَيَدْعُو، وَيَصْنَعُ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ ذَلِكَ .
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صفا پر ٹھہرے، تو آپ نے تین مرتبہ تکبیر پڑھی اور یہ پڑھا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا تین مرتبہ کہا، پھر آپ نے دعا مانگی، پھر آپ نے مروہ پر بھی اس کی مانند کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3842]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، 3819، 3842، 3878، 3886، 3914، 3919، 3921، 3924، 3943، 3944، 4004، 4006، 4018، 4020، 6322، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1677، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1304» «رقم طبعة با وزير 3831»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - وهو قطعة من حديث جابر الطويل، ويأتي (3933 - 3934). تنبيه!! رقم (3933) = (3944) من «طبعة المؤسسة». رقم (3934) = (3945) من «طبعة المؤسسة». لكن الحديث ليس موجود برقم (3934) ولكن موجود برقم (3932) الموافق لـ (3943) من طبعة المؤسسة. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
142. باب السعي بين الصفا والمروة - ذكر ما يستحب للمرء أن يدعو على أعداء الله عند الصفا والمروة
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ صفا و مروہ پر اللہ کے دشمنوں کے خلاف دعا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3843
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَنَحْنُ نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ أَوْ يُصِيبُهُ بِشَيْءٍ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَدْعُو عَلَى الأَحْزَابِ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمُ وَزَلْزِلْهُمْ، مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ" .
سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کا طواف کیا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل مکہ سے بچا رہے تھے کہ کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیر نہ مار دے یا کوئی اور چیز نہ مار دے۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (دشمنوں کے) لشکروں کے خلاف یہ دعا کرتے ہوئے سنا: «اَللّٰهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ، اَللّٰهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِیْعَ الْحِسَابِ، اِهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اَللّٰهُمَّ اهْزِمْهُمْ» اے اللہ! انہیں پسپا کر دے انہیں لڑکھڑا دے۔ اے کتاب کو نازل کرنے والے اے جلدی حساب لینے والے (دشمنوں کے لشکروں) کو پسپا کر دے اے اللہ! انہیں پسپا کر دے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3843]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1600، 1791 م1، 2933، 3819، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1742، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2775، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3843، 3844، 7004، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6494، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4205، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1902، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1678، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1963، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2796، 2990، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2527، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9486، 9487، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19413» «رقم طبعة با وزير 3833»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
143. باب السعي بين الصفا والمروة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر لم يسمعه إسماعيل بن أبي خالد عن ابن أبي أوفى
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ اسماعیل بن ابی خالد نے یہ خبر ابن ابی اوفی سے نہیں سنی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3844
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ يَوْمَ الأَحْزَابِ: " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ" ، يَعْنِي الأَحْزَابَ.
سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے غزوۂ احزاب کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ» اے اللہ! اے کتاب کو نازل کرنے والے، جلدی حساب لینے والے، تو ان لوگوں کو پسپا کر دے اور انہیں لڑکھڑا دے (راوی کہتے ہیں) یعنی (دشمن کے لشکروں کو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3844]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1600، 1791 م1، 2933، 3819، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1742، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2775، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3843، 3844، 7004، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6494، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4205، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1902، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1678، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1963، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2796، 2990، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2527، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9486، 9487، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19413» «رقم طبعة با وزير 3834»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2365)، «تخريج فقه السيرة» (304): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
144. باب السعي بين الصفا والمروة - ذكر الإباحة للمرء أن يركب في السعي بين الصفا والمروة لعلة تحدث
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی کسی عذر کی وجہ سے صفا و مروہ کے درمیان سعي سواری پر کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3845
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَيْتَ هَذَا الرَّمَلَ بِالْبَيْتِ ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ، أَسُنَّةٌ هُوَ، فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سَنَةٌ؟، فَقَالَ: صَدَقُوا، وَكَذَبُوا، قُلْتُ: مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا، وَكَذَبُوا؟، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ لا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ مِنَ الْهُزَالِ، قَالَ: وَكَانُوا يَحْسُدُونَهُ، قَالَ:" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا ثَلاثًا، وَيَمْشُوا أَرْبَعًا"، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَخْبَرَنِي عَنِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا، سَنَةٌ هُوَ، فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سَنَةٌ؟، قَالَ: صَدَقُوا، وَكَذَبُوا، قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا، وَكَذَبُوا؟، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ يَقُولُونَ: هَذَا مُحَمَّدٌ؟، هَذَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى خَرَجَتِ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُيُوتِ، قَالَ:" وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَصْرِفُ النَّاسَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا كَثُرَ عَلَيْهِ رَكِبَ" ، وَالْمَشْيُ وَالسَّعْيُ أَفْضَلُ.
ابوطفیل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: آپ کی رمل کے بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے تین چکروں میں رمل کرنا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلنا سنت ہے؟ آپ کی قوم کے افراد تو یہ کہتے ہیں کہ یہ سنت ہے، انہوں نے فرمایا: انہوں نے کچھ بات ٹھیک بیان کی ہے اور کچھ بات غلط بیان کی ہے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کی اس بات سے کیا مراد ہے کہ انہوں نے کچھ بات ٹھیک بیان کی ہے اور کچھ بات غلط بیان کی ہے؟ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے، تو مشرکین نے یہ بات کہی: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کمزوری کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکیں گے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسد کرتے تھے، راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا: لوگ تین چکروں میں رمل کریں اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا: مجھے صفا اور مروہ کا طواف کرنے کے بارے میں بتائیں کہ کیا اسے سوار ہو کر کرنا سنت ہے؟ آپ کی قوم کے لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ سنت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہوں نے کچھ بات صحیح بیان کی ہے اور کچھ بات غلط بیان کی ہے۔ میں نے ان سے دریافت کیا: آپ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ انہوں نے کچھ بات صحیح بیان کی ہے اور کچھ بات غلط بیان کی ہے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد لوگوں کا ہجوم زیادہ ہو گیا تھا، جو یہ کہہ رہے تھے: یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہاں تک کہ خواتین گھروں سے نکل آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے سے لوگوں کو ہٹا نہیں رہے تھے، جب ان لوگوں کا ہجوم زیادہ ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے، ویسے پیدل چلنا اور دوڑنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3845]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1602، 1649، 4256، 4257، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1264، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2707، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3811، 3812، 3814، 3841، 3845، 6531، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1885، 1886، 1889، والترمذي فى (جامعه) برقم: 863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2953، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1946» «رقم طبعة با وزير 3835»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (4/ 315): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح رجاله رجال الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
145. باب الخروج من مكة إلى منى - ذكر ما يستحب للحاج أن يصلي الظهر يوم التروية بمنى لا بمكة
مکہ سے منیٰ کے لیے نکلنے کا بیان - اس بات کا ذکر جو حاجی کے لیے مستحب ہے کہ وہ یوم الترویہ کو ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھے، نہ کہ مکہ میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3846
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، أَخْبِرْنِي عَنْ شَيْءٍ عَقَلْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ أُصَلِّي الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟، قَالَ:" بِمِنًى"، قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟، قَالَ:" بِالأَبْطَحِ" .
عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیں جو آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یاد ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ترویہ کے دن ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: منیٰ میں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کے وقت ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: ابطح میں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3846]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1653، 1654، 1763، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1309، وابن الجارود فى "المنتقى"، 543، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 958، 2796، 2797، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3846، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2997، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3973، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1912، والترمذي فى (جامعه) برقم: 964، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1914، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9534، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12157» «رقم طبعة با وزير 3832»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1670): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
146. باب الخروج من مكة إلى منى - ذكر الإباحة للغادي من منى إلى عرفات أن يهلل ويكبر
مکہ سے منیٰ کے لیے نکلنے کا بیان - اس بات کی اجازت کہ منیٰ سے عرفات جانے والا تلبیہ اور تکبیر کہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3847
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيُّ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ:" كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ بِمِنًى، فَلا يُنْكِرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ، فَلا يُنْكِرُ عَلَيْهِ" .
محمد بن ابوبکر ثقفی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، اور یہ دونوں اس وقت منیٰ سے عرفہ کی طرف جا رہے تھے (سوال یہ تھا) کہ آج کے دن آپ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کیا کیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ منیٰ میں تلبیہ پکارنے والا تلبیہ پکار رہا تھا تو اس پر کوئی انکار نہیں کیا گیا اور تکبیر کہنے والا (تکبیر کہہ رہا تھا) تو اس پر بھی کوئی انکار نہیں کیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3847]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 970، 1659، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1285، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1214، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3847، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3000، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6358، 9537، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12252، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1245» «رقم طبعة با وزير 3836»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (1659)، م (4/ 72).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
147. باب الوقوف بعرفة والمزدلفة والدفع منهما
عرفات اور مزدلفہ میں وقوف اور وہاں سے روانگی کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3848
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَفَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ، أَوْ قَالَ: بِزِمَامِهِ، فَقَالَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"، فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟"، قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟"، فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟"، فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامِ"، قُلْنَا: بَلَى، فَقَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وأَمْوَالَكُمْ، وَأَوْلادَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ يَبْلُغُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ".
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر وقوف کیا ہوا تھا، جس کی لگام کو کسی صاحب نے تھاما ہوا تھا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: آج کون سا دن ہے؟ تو ہم لوگ خاموش رہے، ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نام کے علاوہ کوئی اور نام تجویز کریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم خاموش رہے۔ ہم نے یہ سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ تو ہم خاموش رہے، ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نام کی بجائے دوسرا نام تجویز کریں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ قابلِ احترام شہر نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری جانیں، تمہارا مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابلِ احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اس شہر میں قابلِ احترام ہے۔ خبردار! تم میں سے ہر موجود شخص غیر موجود تک تبلیغ کر دے، کیونکہ (ممکن ہے) موجود شخص اس شخص تک یہ بات پہنچا دے جو اس سے زیادہ بہتر طور پر اسے محفوظ رکھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3848]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 67، 105، 1741، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1679، وابن الجارود فى "المنتقى"، 899، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2952، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3848، 5973، 5974، 5975، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4141، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1947، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1520، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1957، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 233، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6294، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20713» «رقم طبعة با وزير 3837»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (7078)، م (5/ 108 - 109).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
148. باب الوقوف بعرفة والمزدلفة والدفع منهما - ذكر ما يجب على المرء من الوقوف بعرفات في حجه
عرفات اور مزدلفہ میں وقوف اور وہاں سے روانگی کا بیان - اس بات کا ذکر جو حاجی پر اپنے حج میں عرفات میں وقوف کے لیے واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3849
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ بِعَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَمِنَ الْحُمْسِ، فَمَا شَأْنُهُ وَاقِفًا هَا هُنَا" .
محمد بن جبیر اپنے والد سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میرا اونٹ گم ہو گیا، میں اس کی تلاش میں عرفہ آیا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفہ میں لوگوں کے ہمراہ وقوف کیے ہوئے دیکھا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو حمس سے تعلق رکھتے ہیں، یہ یہاں وقوف کیوں کیے ہوئے ہیں؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3849]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1664، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1220، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2823، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3849، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1710، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3849، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1710، والحميدي فى (مسنده) برقم: 569» «رقم طبعة با وزير 3838»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
149. باب الوقوف بعرفة والمزدلفة والدفع منهما - ذكر الإخبار عن تمام حج الواقف بعرفة من حين يصلي الأولى والعصر بعرفات إلى طلوع الفجر من ليلته قل وقوفه بها أم كثر
عرفات اور مزدلفہ میں وقوف اور وہاں سے روانگی کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ عرفات میں وقوف کرنے والے کا حج اس وقت مکمل ہوتا ہے جب وہ ظہر اور عصر عرفات میں پڑھے، چاہے اس کا وقوف کم ہو یا زیادہ، فجر طلوع ہونے تک
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3850
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لامٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِجَمْعٍ، فَقُلْتُ: هَلْ عَلَيَّ مِنْ حَجٍّ؟، قَالَ: " مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذَا الْمَوْقِفَ حَتَّى يُفِيضَ، وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلا، أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ، وَقَضَى تَفَثَهُ" .
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت مزدلفہ میں موجود تھے، میں نے عرض کی: کیا مجھ پر حج کرنا لازم ہے (یعنی میرا حج ہو گیا ہے یا میں دوبارہ کروں؟) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہمارے ساتھ روانہ ہونے تک اس جگہ پر وقوف کیے رہا اور وہ اس سے پہلے عرفات سے رات کے وقت یا دن کے وقت روانہ ہو چکا ہو، تو اس نے اپنے حج کو پورا کر لیا اور اپنی نذر کو مکمل کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3850]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 514، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2820، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3850، 3851، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1706، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3039، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1950، والترمذي فى (جامعه) برقم: 891، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1930، 1931، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3016، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9563، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2514، 2515، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16458، والحميدي فى (مسنده) برقم: 924» «رقم طبعة با وزير 3839»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1704).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
150. باب الوقوف بعرفة والمزدلفة والدفع منهما - ذكر الإخبار عن تمام حج الواقف بعرفة ليلا أو نهارا من وقت جمعه بين الأولى والعصر إلى وقت طلوع الفجر الذي يطلع على الناس بالمزدلفة
عرفات اور مزدلفہ میں وقوف اور وہاں سے روانگی کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ عرفات میں رات یا دن وقوف کرنے والے کا حج اس وقت مکمل ہوتا ہے جب وہ ظہر اور عصر ایک ساتھ پڑھے، اس فجر تک جو مزدلفہ میں لوگوں پر طلوع ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3851
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، وَإِسْمَاعِيلَ ، وَزَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلاتَنَا هَذِهِ، ثُمَّ أَقَامَ مَعَنَا وَقَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَةَ لَيْلا، أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ" .
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزدلفہ میں وقوف کیے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے ہمارے ہمراہ یہ نماز ادا کی، پھر وہ ہمارے ساتھ مقیم رہا اور وہ اس سے پہلے رات کے وقت یا دن کے وقت عرفہ میں وقوف کر چکا ہو، تو اس نے اپنے حج کو مکمل کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3851]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 514، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2820، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3850، 3851، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1706، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3039، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1950، والترمذي فى (جامعه) برقم: 891، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1930، 1931، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3016، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9563، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2514، 2515، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16458، والحميدي فى (مسنده) برقم: 924» «رقم طبعة با وزير 3840»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں