🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
73. - باب ثبوت النسب وما جاء في القائف - ذكر الخبر الدال على أن الحكم بالتشبيه مما وصفنا غير جائز إذا كان الفراش معدوما
نسب کے ثبوت اور قائف کے بارے میں بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اگر فراش موجود نہ ہو تو تشبیہ کے ساتھ حکم دینا جائز نہیں، جیسا کہ ہم نے بیان کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4106
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَضَعَتْ غُلامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا أَلْوَانُهَا؟"، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟"، قَالَ: إِنَّ فِيهَا وُرْقًا، قَالَ:" فَأَنَّى أَتَاهُ ذَلِكَ؟"، قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ:" وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو فزارہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میری بیوی نے سیاہ رنگ کے لڑکے کو جنم دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ان کا رنگ کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: سرخ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے؟“ اس نے جواب دیا: ان میں ایک خاکستری بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”وہ کہاں سے آ گیا؟“ اس نے جواب دیا: کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ہو سکتا ہے اسے بھی کسی رگ نے کھینچ لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4106]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5305، 6847، 7314، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1500، وابن الجارود فى "المنتقى"، 915، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4106، 4107، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3478، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2260، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2128، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2002، 2003، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14358، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7310» «رقم طبعة با وزير 4094»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1956): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4107
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا أَلْوَانُهَا؟"، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقٍ؟"، فَقَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ:" فَأَنَّى تَرَاهُ ذَلِكَ؟"، فَقَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ" ، حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مَرَّةً أُخْرَى، وَقَالَ: إِنَّ أَمَتِي وَلَدَتْ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ"، ثُمَّ تَعْقِيبُهُ هَذِهِ اللَّفْظَةَ بِقَوْلِ:" فَمَا أَلْوَانُهَا" لَفْظَةُ اسْتِخْبَارِ عَنْ هَذَا الشَّيْءِ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنِ اسْتِعْمَالِ الْمَرْءِ فِي فِرَاشِهِ بِوَسْوَسَةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ، أَوْ بِتَبَايُنِ الصُّورَتَيْنِ عِنْدَ وُجُودِ الشَّخْصِ مِنَ الشَّخْصِ الْمُقَدَّمِ، مَا عَسَى أَنْ يَأْثَمَ فِي اسْتِعْمَالِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو فزارہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میری بیوی نے سیاہ رنگ کے لڑکے کو جنم دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ان کا رنگ کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: سرخ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے؟“ اس نے جواب دیا: ان میں خاکستری بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم کیا سمجھتے ہو یہ کہاں سے آیا ہو گا؟“ اس نے جواب دیا: ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہاں (یعنی تمہارے بچے) کے بارے میں بھی ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں) عبداللہ نامی راوی نے جب دوسری مرتبہ ہمیں یہ حدیث سنائی تو یہ الفاظ نقل کیے: ”میری کنیز نے بچے کو جنم دیا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دریافت کرنا: ”ان کا رنگ کیا ہے؟“ ان میں لفظی طور پر تو اس چیز کے بارے میں اطلاع حاصل کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے: آدمی اپنی اولاد کے بارے میں شیطان کے وسوسے کو اختیار کرنے سے بچے، یا ایسی صورت میں شیطان کے وسوسے سے بچے جب بچے کی شکل و صورت باپ سے مختلف ہوتی ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے وسوسے پر عمل کے نتیجے میں وہ گناہ گار ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4107]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5305، 6847، 7314، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1500، وابن الجارود فى "المنتقى"، 915، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4106، 4107، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3478، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2260، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2128، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2002، 2003، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14358، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7310» «رقم طبعة با وزير 4095»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. - باب ثبوت النسب وما جاء في القائف - ذكر نفي دخول الجنة عن المرأة الداخلة على قوم بولد ليس منهم
نسب کے ثبوت اور قائف کے بارے میں بیان - اس بات کی نفی کہ ایسی عورت جنت میں داخل ہو گی جو اس قوم پر بچہ لے کر آئے جو اس سے نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4108
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: حِينَ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْمُلاعَنَةِ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ، وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ، وَفَضَحَهُ عَلَى رُؤُوسِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا، اس وقت جب لعان کرنے والی عورت کے بارے میں آیت نازل ہوئی (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”جو عورت کسی قوم میں ایسے فرد کو داخل کرے جو ان کا حصہ نہ ہو (یعنی کسی ناجائز بچے کو جنم دے) تو اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی جنت میں داخل نہیں کرے گا، اور جو شخص اپنے بچے کا انکار کر دے حالانکہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کی اولاد ہے، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو حجاب میں رکھے گا اور تمام پہلے اور بعد والے لوگوں کی موجودگی میں اسے رسوائی کا شکار کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4108]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4108، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2830، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3481، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5645، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2263، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2284، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2743، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15429، 15430» «رقم طبعة با وزير 4096»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «ضعيف أبي داود» (389). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. - باب حرمة المناكحة - ذكر البيان بأن الرضاعة يحرم منها ما يحرم من الولادة سواء
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات کا بیان کہ رضاعت سے وہی حرام ہوتا ہے جو ولادت سے حرام ہوتا ہے، دونوں برابر ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4109
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّهُ عَمُّكِ، فَأَذَنِي لَهُ"، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةٌ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَنْ يَحْرُمُ مِنَ الْوِلادَةِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا آئے، انہوں نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے انہیں اس وقت تک اجازت دینے سے انکار کر دیا جب تک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہیں کرتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارے چچا تھے، تم نے انہیں اجازت دے دینی تھی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مجھے مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رضاعت کے ذریعے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے جو ولادت کے ذریعے ثابت ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4109]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2644، 2646، 3105، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1444، وابن الجارود فى "المنتقى"، 744، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4109، 4219، 4220، 4223، 5799، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3300، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2055، 2057، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1147، 1148، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 950، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12732، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4374، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24688» «رقم طبعة با وزير 4097»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1793)، «صحيح أبي داود» (1796)، «الروض النضير» (757): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. - باب حرمة المناكحة - ذكر الإخبار عن نفي جواز تزويج المرء أخته من الرضاع
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کا اپنی رضاعی بہن سے نکاح جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4110
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ:" أَصْنَعُ بِهَا مَاذَا؟"، قَالَتْ تَنْكِحُهَا، قَالَ:" وَهَلْ تَحِلُّ لِي؟"، قَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطِبُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ زَيْنَبَ تَحْرُمُ عَلَيَّ، وَإِنَّهَا فِي حِجْرِي، وَأَرْضَعَتْنِي وَإِيَّاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ، وَلا أَخَوَاتِكُنَّ، وَلا عَمَّاتِكُنَّ، وَلا خَالاتِكُنَّ، وَلا أُمَّهَاتِكُنَّ" .
سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ درہ بنت ابوسفیان میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”میں اس کے ساتھ کیا کروں؟“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: آپ اس کے ساتھ شادی کر لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا وہ میرے لیے جائز ہے؟“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ پتہ چلا ہے آپ زینب بنت ام سلمہ کو نکاح کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زینب میرے لیے حرام ہے، وہ میری زیر پرورش ہے (یعنی میری سوتیلی بیٹی ہے) اور مجھے اور اسے ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، تم اپنی بیٹیوں، اپنی بہنوں، اپنی پھوپھیوں، اپنی خالاؤں اور اپنی ماؤں کے رشتے میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4110]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5101، 5106، 5107، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4110، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3284، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1939، 1939 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13568، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27137، والحميدي فى (مسنده) برقم: 309» «رقم طبعة با وزير 4098»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1795): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
77. - باب حرمة المناكحة - ذكر الإخبار عن نفي جواز نكاح المرء بنت أخيه من الرضاع
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کا اپنے رضاعی بھتیجی سے نکاح جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4111
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْكِحْ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ لأُخْتِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، وَأَحَبُّ مَنْ يُشَارِكُنِي فِي خَيْرِ أُخْتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّ ذَلِكَ لا يَحِلُّ"، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ حُدِّثْنَا أَنَّكَ تُنْكِحُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ:" ابْنَةُ أَبِي سَلَمَةَ?!"، فَقَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: نَعَمْ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي، مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةَ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ: ثُوَيْبَةُ، فَلا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ، وَلا أَخَوَاتِكُنَّ" .
سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ابوسفیان کی صاحبزادی سے شادی کر لیجیے، انہوں نے اپنی بہن کے بارے میں یہ بات کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، میں یہ چاہتی ہوں اس بھلائی میں میری بہن بھی میرے ساتھ شریک ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جائز نہیں ہے۔“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! ہمیں تو یہ بات بتائی گئی ہے آپ ابوسلمہ کی صاحبزادی درہ کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ابوسلمہ کی بیٹی کے ساتھ؟“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ میری سوتیلی بیٹی نہ ہوتی پھر بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے رشتے میرے سامنے پیش نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4111]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4111، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 13955» «رقم طبعة با وزير 4099»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
78. - باب حرمة المناكحة - ذكر الزجر عن تزوج المرء امرأة أبيه أو وطئه جاريته التي هي في فراشه
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرے یا اس کی باندی سے وطی کرے جو اس کے فراش میں ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4112
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: لَقِيتُ خَالِي أَبَا بُرْدَةَ ، وَمَعَهُ الرَّايَةُ، فَقُلْتُ: إِلَى أَيْنَ؟، فَقَالَ " أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ، أَنْ أَقْتُلَهُ، أَوْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ملاقات اپنے ماموں سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، ان کے ساتھ ایک جھنڈا بھی تھا، میں نے دریافت کیا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ شادی کر لی تھی (اور یہ حکم دیا ہے) ”میں اس کو قتل کر دوں“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”میں اس کی گردن اڑا دوں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4112]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 738، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4112، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2792، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3331، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4456، 4457، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1362، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2607، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 942، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12586، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3440، 3441، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18855» «رقم طبعة با وزير 4100»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (8/ 121). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
79. - باب حرمة المناكحة - ذكر الزجر عن الجمع بين المرأة وعمتها وبين المرأة وخالتها
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ عورت اور اس کی پھوپھی یا عورت اور اس کی خالہ کے درمیان جمع کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4113
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عورت اور اس کی پھوپھی اور عورت اور اس کی خالہ کو (نکاح میں) جمع نہ کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4113]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2140، 2148، 2150، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1408، 1524، 2563، 2564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4046، 4048، 4050، 4068، 4069، 4070، 4113، 4115، 4117، 4118، 4961، 4970، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2065، 2066، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1125 م، 1126، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1867، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 647، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10567، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3070، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7254» «رقم طبعة با وزير 4101»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1882): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
80. - باب حرمة المناكحة - ذكر الزجر عن أن تنكح المرأة على عمتها أو على خالتها
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ پر نکاح کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4114
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر یا اس کی خالہ پر نکاح کیا جائے“ (یعنی اپنی بیوی کی بھانجی یا بھتیجی کے ساتھ نکاح کیا جائے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4114]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5108، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4114، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3297، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14059، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14858» «رقم طبعة با وزير 4102»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (6/ 290): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. - باب حرمة المناكحة - ذكر البيان بأن المراد من هذا الزجر الجمع بينهما لا تزوج إحداهما بعد موت الأخرى
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس زجر سے مراد ان دونوں کا جمع کرنا ہے، نہ کہ ایک کی موت کے بعد دوسری سے نکاح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4115
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عورت اور اس کی پھوپھی کو یا عورت اور اس کی خالہ کو (نکاح میں) جمع نہ کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4115]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2140، 2148، 2150، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1408، 1524، 2563، 2564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4046، 4048، 4050، 4068، 4069، 4070، 4113، 4115، 4117، 4118، 4961، 4970، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2065، 2066، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1125 م، 1126، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1867، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 647، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10567، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3070، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7254» «رقم طبعة با وزير 4103»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1882): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں