صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
65. - باب الصداق - ذكر الإباحة للمرء أن يجعل صداق امرأته ذهبا
مہر کے بیان کا باب - اس بات کی اجازت کہ آدمی اپنی بیوی کا مہر سونا قرار دے
حدیث نمبر: 4096
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَبِهِ وَضَرٌ مِنْ خَلُوقٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْيَمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ"، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ:" كَمْ أَصْدَقْتَهَا؟"، قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ" ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ قَسَّمَ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ مِائَةَ أَلْفٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ہوئی، ان پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا جو خلوق خوشبو کا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”اے عبدالرحمن! اس کی وجہ کیا ہے؟“ انہوں نے بتایا: میں نے ایک انصاری خاتون کے ساتھ شادی کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم نے اسے کتنا مہر دیا ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ایک گٹھلی کے وزن جتنا سونا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری (ذبح کر کے دعوت کرو)۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے انہیں (یعنی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ) کو دیکھا کہ ان کے انتقال کے بعد ان کی ہر بیوی کے حصے میں ایک لاکھ (درہم) آئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4096]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2049، 2293، 3781، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1427، وابن الجارود فى "المنتقى"، 775، 786، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4060، 4096، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5383، 5384، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3351، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2109، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1094، 1933، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1907، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 609، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12645، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12882، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1252» «رقم طبعة با وزير 4084»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1836): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
66. - باب الصداق - ذكر الإباحة للمرء أن يجعل صداق امرأته أربعمائة درهم
مہر کے بیان کا باب - اس بات کی اجازت کہ آدمی اپنی بیوی کا مہر چار سو درہم قرار دے
حدیث نمبر: 4097
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ صَدَاقُنَا إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ أَوَاقٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، تو ہمارا (ادا کیے جانے والا) مہر دس اوقیہ ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4097]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 777، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4097، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2740، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3348، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5484، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14467، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3523، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8929» «رقم طبعة با وزير 4085»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ] قال الشيخ: وَمِنْ طَريقه: صحَّحه ابنُ الجارودِ في «المُنتقى» (240/ 717)، وكذا الحاكم (2/ 175)، وقال «صحيح على شرطِ مُسلمٍ»، ووافَقه الذهبي، وهو كما قالا. وله شاهدٌ مِنْ حديث عائشة نحوه: أخرجه مسلمٌ (4/ 144). وآخرُ عن أُمَّ حبيبة: عند ابن الجارود (713/ 714) وغيره.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
67. - باب الصداق - ذكر وصف الحكم في المتوفى عنها زوجها حيث لم يفرض لها الصداق في العقد ولم يدخل
مہر کے بیان کا باب - اس حکم کی صفت کا ذکر کہ جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے جب کہ عقد میں مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور دخول نہ ہوا ہو
حدیث نمبر: 4098
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيِّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ، فَقَالَ: لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلا، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، قَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ:" شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ" .
مسروق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں جس نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی، لیکن اس کے ساتھ صحبت نہیں کی اور اس کے لیے مہر بھی مقرر نہیں کیا، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایسی عورت کو مکمل مہر ملے گا اور اس پر عدت گزارنا لازم ہے، اسے وراثت میں بھی حصہ ملے گا۔ اس پر سیدنا معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہی فیصلہ دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4098]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 778، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4098، 4099، 4100، 4101، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2753، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2114، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1145، 1145 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1891، 1891 م، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 929، 930، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14520، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4180» «رقم طبعة با وزير 4086»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1839)، «المشكاة» (3207).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
حدیث نمبر: 4099
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ فِي عَقِبِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، بِمِثْلِهِ.
یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4099]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 778، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4098، 4099، 4100، 4101، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2753، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2114، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1145، 1145 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1891، 1891 م، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 929، 930، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14520، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4180» «رقم طبعة با وزير 4087»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
68. - باب الصداق - ذكر الخبر المدحض قول من نفى تصحيح هذه السنة التي ذكرناها من جهة النقل
مہر کے بیان کا باب - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ ہمارے بیان کردہ اس سنت کی نقل سے صحت کی نفی کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 4100
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَاهُ، فَسَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَمَاتَ عَنْهَا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا؟، فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، وَرَدَّدَهُمْ شَهْرًا، ثُمّ قَالَ: أَقُولُ بِرَأْيِي، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنْ قِبَلِي، أَرَى لَهَا صَدَاقَ نِسَائِهَا، لا وَكْسَ، وَلا شَطَطَ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَامَ فُلانٌ الأَشْجَعِيُّ، وَقَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ" ، قَالَ: فَفَرِحَ عَبْدُ اللَّهِ بِذَلِكَ، وَكَبَّرَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جس نے کسی عورت کے ساتھ شادی کی اور پھر اس کا انتقال ہو گیا، اس نے اس عورت کے ساتھ صحبت بھی نہیں کی تھی اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا تھا، اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ ایک مہینہ گزر گیا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: میں اپنی رائے سے یہ بات بیان کرنے لگا ہوں، اگر یہ درست ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گی اور اگر غلط ہوئی تو میری طرف سے ہو گی؛ اس عورت کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ اسے اس کے جیسی دوسری عورتوں جتنا مہر ملے گا جس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی، اس عورت پر عدت گزارنا لازم ہو گا اور اسے وراثت میں سے حصہ ملے گا، تو فلاں اشجعی کھڑے ہوئے اور انہوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں اسی کی مانند فیصلہ دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس بات پر خوش ہوئے اور انہوں نے تکبیر کہی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4100]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 778، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4098، 4099، 4100، 4101، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2753، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2114، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1145، 1145 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1891، 1891 م، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 929، 930، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14520، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4180» «رقم طبعة با وزير 4088»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1841).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم
69. - باب الصداق - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الإمام من الأئمة لا يجوز له أن يخفى عليه شيء من أحكام الدين الذي لا بد للمسلمين منه
مہر کے بیان کا باب - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ کسی امام کے لیے یہ جائز نہیں کہ اس سے دین کے احکام کا کوئی حصہ چھپا رہے جو مسلمانوں کے لیے ضروری ہو
حدیث نمبر: 4101
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حِجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالُوا: جِئْنَاكَ لِنَسْأَلَكَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ مِنَّا، وَلَمْ يَفْرِضْ صَدَاقًا، وَلَمْ يَجْمَعْهُمَا اللَّهُ حَتَّى مَاتَ؟، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا سُئِلْتُ عَنْ شَيْءٍ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ هَذِهِ، فَأْتُوا غَيْرِي، فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ شَهْرًا، ثُمَّ قَالُوا لَهُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: مَنْ نَسْأَلُ إِنْ لَمْ نَسْأَلْكَ، وَأَنْتَ أُخَيَّةُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي هَذِهِ الْبَلْدَةِ، وَلا نَجْدُ غَيْرَكَ، فَقَالَ: ابْنُ مَسْعُودٍ: سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي، إِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بَرِيءٌ، أَرَى أَنْ يُفْرَضَ لَهَا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا، وَلا وَكْسَ، وَلا شَطَطَ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَذَلِكَ بِحَضْرَةِ نَاسٍ مِنْ أَشْجَعَ، فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ:" أَشْهَدُ أَنَّكَ قَضَيْتَ بِمِثْلِ الَّذِي قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَّا، يُقَالُ لَهَا: بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ ، فَمَا رُئِيَ عَبْدُ اللَّهِ فَرِحَ بِشَيْءٍ بَعْدَ الإِسْلامِ كَفَرْحِهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ".
علقمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ہم آپ کے پاس ایسے شخص کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے آئے ہیں جس کا تعلق ہم سے ہے، اس نے شادی کی، اس نے (اپنی بیوی کا) مہر مقرر نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میاں بیوی کو ملنے کا موقع نہیں دیا یہاں تک کہ مرد کا انتقال ہو گیا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب سے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں اس کے بعد مجھ سے ایسے کسی مسئلے کے بارے میں دریافت نہیں کیا گیا جو میرے نزدیک اس سے زیادہ مشکل ہو، تم لوگ کسی اور کے پاس چلے جاؤ۔ وہ لوگ ایک ماہ تک سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آتے رہے، پھر ایک ماہ کے بعد انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر ہم آپ سے دریافت نہیں کریں گے تو پھر کس سے دریافت کریں گے؟ اس شہر میں صرف آپ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ہمیں آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں ملتا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس بارے میں اپنی ذاتی رائے کے مطابق مسئلہ بیان کروں گا، اگر یہ درست ہوا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گا اور اگر غلط ہوا تو میری طرف سے ہو گا، اللہ اور اس کا رسول اس سے بری الذمہ ہوں گے؛ میرا یہ خیال ہے اس عورت کو اس کے جیسی دیگر عورتوں کی طرح کا مہر ادا کیا جائے گا، جس میں کوئی کمی اور کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور اس کو وراثت میں حصہ ملے گا اور اس عورت پر چار ماہ دس دن تک عدت گزارنا لازم ہے۔ (راوی کہتے ہیں) یہ واقعہ اشجع قبیلے کے کچھ افراد کی موجودگی میں پیش آیا تو ایک صاحب کھڑے ہوئے، جن کا نام معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ تھا، انہوں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اس بارے میں وہی فیصلہ دیا ہے جو اس طرح کے مقدمے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا جو ہمارے (قبیلے کی) ایک خاتون کے بارے میں تھا، اس خاتون کا نام بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا تھا۔ (راوی کہتے ہیں) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اسلام کے بعد اتنا زیادہ خوش اور کبھی نہیں دیکھا گیا جتنا وہ اس واقعہ سے خوش ہوئے (کہ ان کی ذاتی رائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4101]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 778، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4098، 4099، 4100، 4101، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2753، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2114، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1145، 1145 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1891، 1891 م، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 929، 930، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14520، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4180» «رقم طبعة با وزير 4089»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (6/ 358 - 359).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
70. - باب ثبوت النسب وما جاء في القائف
نسب کے ثبوت اور قائف کے بارے میں بیان -
حدیث نمبر: 4102
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسَارِيرُ وَجْهِهِ تَبْرُقُ، فَقَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ إِلَى مُجَزِّزٍ أَبْصَرَ آنِفًا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الأَقْدَامِ لِمَنْ بَعْضٍ؟" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے دمک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں پتا چلا (ایک قیافہ شناس) مجزز نے کچھ دیر پہلے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے (صرف پاؤں دیکھے) اور یہ کہا: یہ پاؤں باپ بیٹے کے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4102]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3555، 3731، 6770، 6771، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1459، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4102، 4103، 7057، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3493،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2267، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2129، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2349، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21313، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4585، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24733، والحميدي فى (مسنده) برقم: 241» «رقم طبعة با وزير 4090»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1961 و 1962): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
71. - باب ثبوت النسب وما جاء في القائف - ذكر البيان بأن مجززا المدلجي كان قائفا
نسب کے ثبوت اور قائف کے بارے میں بیان - اس بات کا بیان کہ مجززہ مدلجی قائف تھا
حدیث نمبر: 4103
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْرُورًا فَرِحًا مِمَّا قَالَ مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِيُّ، وَنَظَرَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مُضْطَجِعًا مَعَ أَبِيهِ، فَقَالَ: " هَذِهِ الأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ"، وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوشی کے عالم میں میرے ہاں تشریف لائے کیونکہ مجزز مدلجی نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے والد کے ساتھ لپٹے ہوئے دیکھ کر (ان کے صرف پاؤں دیکھ کر) یہ کہا تھا: یہ باپ بیٹے کے پاؤں ہیں۔ (راوی کہتے ہیں) مجزز نامی صاحب قیافہ شناس تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4103]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3555، 3731، 6770، 6771، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1459، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4102، 4103، 7057، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3493،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2267، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2129، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2349، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21313، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4585، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24733، والحميدي فى (مسنده) برقم: 241» «رقم طبعة با وزير 4091»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله، وليس عند (خ): وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا؛ إلاَّ مفرَّقاً.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
72. - باب ثبوت النسب وما جاء في القائف - ذكر الإخبار عن إيجاب إلحاق الولد من له الفراش إذا أمكن وجوده ولم يستحل كونه
نسب کے ثبوت اور قائف کے بارے میں بیان - اس بات کی اطلاع کہ بچے کو اس کے فراش والے سے ملانا واجب ہے اگر اس کا وجود ممکن ہو اور اس کا جائز ہونا ثابت نہ ہو
حدیث نمبر: 4104
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بچہ فراش والے کو ملے گا اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4104]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4104، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3486، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5650، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2132، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5148، والبزار فى (مسنده) برقم: 1711، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 17988» «رقم طبعة با وزير 4092»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «صحيح أبي داود» (1966): ق - أبي هريرة وعائشة، ويأتي حديثهما.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4105
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةَ زَمْعَةٌ مِنِّي، فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ، أَخَذَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ: أَخِي، وَابْنُ وَلِيدَةَ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخِي كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي، وَابْنُ وَلِيدَةَ أَبِي، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ:" احْتَجِبِي مِنْهُ لَمَّا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ" ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ تلقین کی کہ زمعہ کی کنیز کا بیٹا میری اولاد ہے، تم اسے اپنے قبضے میں لے لینا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے سال سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اس لڑکے کو اپنے قبضے میں لے لیا اور بولے: یہ میرا بھتیجا ہے، اس کے بارے میں میرے بھائی نے مجھ سے عہد لیا تھا، تو عبد بن زمعہ کھڑے ہوئے اور بولے: یہ میرا بھائی ہے، میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے، یہ میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا۔ یہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بھائی نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا جو اس بچے کے بارے میں تھا، عبد بن زمعہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے، یہ میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد بن زمعہ! یہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ فراش والے کو ملتا ہے اور زانی کو محرومی ملتی ہے“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تم اس لڑکے سے پردہ کرو“۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کی عتبہ کے ساتھ مشابہت ملاحظہ کر لی تھی، تو اس لڑکے نے کبھی بھی سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4105]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2053، 2218، 2421، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1457، وابن الجارود فى "المنتقى"، 790، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4105، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2273، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2282، 2283، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2004، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2130، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11579، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3850، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24720» «رقم طبعة با وزير 4093»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين