صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
82. - باب حرمة المناكحة - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل
نکاح کی حرمت کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اس فعل سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 4116
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيًّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى الْعَمَّةِ، وَالْخَالَةِ، قَالَ: إِنَّكُنَّ إِذَا فَعَلْتُنَّ ذَلِكَ قَطَعْتُنَّ أَرْحَامَكُنَّ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ:" أَبُو حَرِيزٍ: اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ قَاضِي سِجِسْتَانَ، وَأَبُو حَرِيزٍ مَوْلَى الزُّهْرِيِّ ضَعِيفٌ وَاهِيٌ، اسْمُهُ سُلَيْمُ وَجَمِيعًا يَرْوِيَانِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی یا خالہ پر نکاح کیا جائے“ (یعنی اپنی بیوی کی بھانجی یا بھتیجی کے ساتھ شادی کی جائے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے: ”تم خواتین جب ایسا کرو گی، تو تم رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے کی مرتکب ہو گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوحریز نامی راوی کا نام عبداللہ بن حسین ہے، یہ سجستان کا قاضی تھا، جبکہ جو ابوحریز زہری کا آزاد کردہ غلام ہے، یہ ضعیف اور واہی ہے، اس کا نام سلیم ہے، ان دونوں نے زہری کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4116]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1125، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3599، والطبراني فى(الكبير) برقم: 11805» «رقم طبعة با وزير 4104»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «ضعيف أبي داود» (352). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث حسن
83. - باب حرمة المناكحة - ذكر الزجر عن تزويج العمة على ابنة أخيها والخالة على بنت أختها
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ پھوپھی کو اس کی بھتیجی پر یا خالہ کو اس کی بھتیجی پر نکاح کیا جائے
حدیث نمبر: 4117
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلا الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا، وَلا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا، وَلا الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر اور کسی پھوپھی کے ساتھ اس کی بھتیجی پر نکاح نہ کیا جائے، اور کسی عورت کے ساتھ اس کی خالہ پر اور کسی خالہ کے ساتھ اس کی بھانجی پر نکاح نہ کیا جائے (یعنی نکاح میں پھوپھی اور بھتیجی یا خالہ اور بھانجی کو جمع نہ کیا جائے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4117]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2140، 2148، 2150، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1408، 1524، 2563، 2564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4046، 4048، 4050، 4068، 4069، 4070، 4113، 4115، 4117، 4118، 4961، 4970، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2065، 2066، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1125 م، 1126، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1867، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 647، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10567، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3070، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7254» «رقم طبعة با وزير 4105»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1802): خ تعلقًا. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
84. - باب حرمة المناكحة - ذكر الزجر عن أن تنكح الصغرى بما ذكرنا على الكبرى منهن أو الكبرى على الصغرى منهن
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ چھوٹی کو ہمارے بیان کردہ پر بڑی پر یا بڑی کو چھوٹی پر نکاح کیا جائے
حدیث نمبر: 4118
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَعَلَى خَالَتِهَا، وَعَلَى بِنْتِ أَخِيهَا، وَعَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا، وَنَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى، وَالصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر یا اس کی خالہ پر یا اس کی بھتیجی پر یا اس کی بھانجی پر نکاح کیا جائے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ ”چھوٹی (بہن) پر بڑی کے ساتھ یا بڑی پر چھوٹی کے ساتھ نکاح کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4118]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2140، 2148، 2150، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1408، 1524، 2563، 2564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4046، 4048، 4050، 4068، 4069، 4070، 4113، 4115، 4117، 4118، 4961، 4970، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2065، 2066، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1125 م، 1126، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1867، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 647، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10567، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3070، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7254» «رقم طبعة با وزير 4106»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ تعليقاً - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
85. - باب حرمة المناكحة - ذكر الزجر عن تزويج المطلقة البائنة بعد تزويجها زوجا آخر الزوج الأول قبل أن يذوق عسيلتها الزوج الثاني
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ مطلقہ بائنہ کو اس کے پہلے شوہر سے دوسرے شوہر سے نکاح کے بعد اس وقت تک نکاح کیا جائے جب تک دوسرا شوہر اس کی عسيلہ نہ چکھ لے
حدیث نمبر: 4119
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، أَتَرْجِعُ إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ؟، قَالَ:" لا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا مَا ذَاقَ صَاحِبُهَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: عُمُومُ الْخَطَّابِ فِي الْكِتَابِ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ سورة البقرة آية 230، وَأَبَاحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلزَّوْجِ الأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِهَا بَعْدَ أَنْ تَزَوَّجَهَا زَوْجٌ آخَرَ، وَفَسَّرَتْهُ السُّنَّةُ: أَنَّهَا لا تَحِلُّ لِلزَّوْجِ الأَوَّلِ حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الزَّوْجِ الثَّانِي وَطْءٌ بِذَوَاقِ الْعُسَيْلَةِ، ثُمَّ تَبِينُ عَنْهُ بِطَلاقٍ، أَوْ وَفَاةٍ، ثُمَّ تَحِلُّ حِينَئِذٍ لِلزَّوْجِ الأَوَّلِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دے دیتا ہے، پھر وہ عورت کسی اور شخص کے ساتھ شادی کرتی ہے اور وہ دوسرا شخص اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دیتا ہے، تو کیا وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس جا سکتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، جب تک (وہ دوسرا شوہر) اس عورت کا شہد نہیں چکھ لیتا جو اس کے پہلے شوہر نے چکھا تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کتاب اللہ میں یہ حکم عمومی طور پر بیان ہوا ہے: ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ [سورة البقرة: 230] ”اگر وہ مرد اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے تو وہ عورت اس مرد کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک وہ اس کے بعد کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی نہ کر لے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے پہلے شوہر کے لیے یہ بات جائز قرار دی ہے کہ وہ اس عورت کے ساتھ اس وقت شادی کر سکتا ہے جب عورت کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لے، لیکن سنت نے اس کی وضاحت کی ہے کہ ایسی عورت پہلے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک اس عورت اور دوسرے شوہر کے درمیان صحبت نہیں ہو جاتی جو شہد چکھنے کی صورت ہے، پھر اس کے بعد وہ عورت طلاق یا شوہر کے انتقال کی وجہ سے اس سے جدا ہو جائے تو اس وقت وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4119]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2639، 5260، 5261، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1433، وابن الجارود فى "المنتقى"، 740، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4119، 4120، 4122، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2309، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1118، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1932، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1985، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14414، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3977، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24692» «رقم طبعة با وزير 4107»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (6/ 298): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4120
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ تَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، ثُمَّ أَرَادَ الأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا؟، قَالَ:" لا حَتَّى يَذُوقَ الآخَرُ عُسَيْلَتَهَا، وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ سورة البقرة آية 230 فَأَبَاحَ اللَّهُ لَهَا أَنْ تَنْكِحَ الزَّوْجَ الأَوَّلَ بَعْدَ أَنْ نَكَحَهَا الزَّوْجُ الثَّانِي، وَأَبَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَادَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا مِنْ قَوْلِهِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ سورة البقرة آية 230 إِذْ هُوَ الْمُبَيُّنُ لِمَجْمَلِ الْخَطَّابِ فِي الْكِتَابِ، إِذِ الْمُرَادُ مِنْ قَوْلِهِ: حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ سورة البقرة آية 230 الْوَطْءُ دُونَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں، جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے، پھر وہ عورت دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لیتی ہے اور وہ دوسرا شخص صحبت کرنے سے پہلے اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور پہلا شوہر اس عورت کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے: ”نہیں، جب تک دوسرا شوہر اس عورت کے شہد کو چکھ نہیں لیتا اور وہ عورت اس دوسرے شخص کے شہد کو چکھ نہیں لیتی۔“ (اس وقت تک یہ جائز نہیں ہے) (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ [سورة البقرة: 230] ”اگر وہ مرد اس عورت کو طلاق دے دے تو وہ عورت اس مرد کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ اس مرد کے علاوہ کسی اور مرد کے ساتھ شادی نہ کر لے۔“ تو یہاں اللہ تعالیٰ نے عورت کے لیے یہ بات مباح قرار دی ہے کہ وہ پہلے شوہر کے ساتھ اس وقت نکاح کر سکتی ہے جب وہ دوسرے شوہر کے ساتھ بھی نکاح کر چکی ہو، لیکن مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی مراد کو بیان کیا ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ”یہاں تک کہ وہ عورت دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لے جو پہلے کے علاوہ ہو۔“ تو کتاب میں مجمل کا بیان یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ”یہاں تک کہ وہ اس پہلے شوہر کے علاوہ کسی کے ساتھ نکاح نہ کر لے“ اس سے مراد نکاح کا عقد کرنا نہیں، بلکہ صحبت کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4120]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2639، 5260، 5261، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1433، وابن الجارود فى "المنتقى"، 740، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4119، 4120، 4122، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2309، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1118، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1932، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1985، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14414، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3977، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24692» «رقم طبعة با وزير 4108»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
86. - باب حرمة المناكحة - ذكر البيان بأن هذا الزجر زجر حتم لا زجر ندب
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ زجر حتمی ہے، نہ کہ استحبابی
حدیث نمبر: 4121
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ رِفَاعَةَ بْنَ سَمَوْءَلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَمِيمَةَ بِنْتَ وَهْبٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا، فَنَكَحَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا، فَفَارَقَهَا، فَأَرَادَ رِفَاعَةُ أَنْ يَنْكِحَهَا، وَهُوَ زَوْجُهَا الأَوَّلُ الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا، فَذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، وَقَالَ:" لا تَحِلُّ لَكَ حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ" .
زبیر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: سیدنا رفاعہ بن سموال رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ تمیمہ بنت وہب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں تین طلاق دے دیں، تو عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی لیکن وہ ان کے ساتھ صحبت نہیں کر سکے تو انہوں نے اس عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار کر لی۔ رفاعہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کیا، یہ اس خاتون کے پہلے شوہر تھے جنہوں نے پہلے اسے طلاق دی تھی، انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس خاتون کے ساتھ شادی کرنے سے منع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ عورت تمہارے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ (دوسرے شوہر کا) شہد نہیں چکھ لیتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4121]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1942، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4121، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15295، 15296، والطبراني فى(الكبير) برقم: 4565» «رقم طبعة با وزير 4109»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح بما قبله وما بعده - «الإرواء» (6/ 300 - 301). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
87. - باب حرمة المناكحة - ذكر الإخبار عن نفي جواز تزويج المرء امرأته المطلقة قبل أن تذوق عسيلة غيره وإن انقضت عدتها
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی اپنی مطلقہ بیوی سے اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتا جب تک وہ دوسرے کی عسيلہ نہ چکھ لے، چاہے اس کی عدت ختم ہو جائے
حدیث نمبر: 4122
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَتَزَوَّجْتُ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَدَخَلَ بِهَا، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا، أَتَحِلُّ لِلأَوَّلِ؟، قَالَ:" لا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا، وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے، پھر وہ عورت کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لیتی ہے، اس عورت کی رخصتی ہو گئی، پھر وہ مرد اس عورت کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دیتا ہے، تو کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں! جب تک وہ مرد اس عورت کا شہد «عُسَيْلَتَهَا» نہیں چکھ لیتا اور وہ عورت اس مرد کا شہد «عُسَيْلَتَهُ» نہیں چکھ لیتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4122]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2639، 5260، 5261، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1433، وابن الجارود فى "المنتقى"، 740، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4119، 4120، 4122، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2309، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1118، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1932، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1985، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14414، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3977، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24692» «رقم طبعة با وزير 4110»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1999)، «الإرواء» (6/ 298). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
88. - باب حرمة المناكحة - ذكر الزجر عن أن يخطب المرء النساء وهو محرم
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی محرم حالت میں عورتوں سے منگنی کرے
حدیث نمبر: 4123
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَحَدِ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، وَأَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ، وَهُمَا مُحْرِمَانِ: إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ ذَلِكَ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَقَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلا يَخْطُبُ، وَلا يُنْكِحُ" .
عمر بن عبید اللہ سے یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے ابان بن عثمان کو پیغام بھجوایا، ابان ان دنوں امیرِ حج تھے اور یہ دونوں صاحبان احرام کی حالت میں تھے، (پیغام یہ بھجوایا کہ) میں طلحہ بن عمر کا نکاح شیبہ بن جبیر کی صاحبزادی کے ساتھ پڑھانے لگا ہوں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ اس موقع پر آپ بھی موجود ہوں، تو ابان بن عثمان نے ان کی بات پر انکار کیا اور یہ بات بیان کی کہ میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: «لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلَا يُنْكِحُ، وَلَا يَخْطُبُ» ”احرام والا شخص نکاح نہیں کر سکتا، نکاح کا پیغام نہیں دے سکتا اور کسی دوسرے کا نکاح نہیں کروا سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4123]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1409، الجارود فى "المنتقى"، 489، 752، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2649، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4123، 4124، 4125، 4126، 4127، 4128، 4139، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2842، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1841، والترمذي فى (جامعه) برقم: 840، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1966، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9243، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2640، وأحمد فى (مسنده) برقم: 408، والحميدي فى (مسنده) برقم: 33» «رقم طبعة با وزير 4111»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1037)، «صحيح أبي داود» (1614): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
89. - باب حرمة المناكحة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر ما رواه عن نبيه بن وهب إلا نافع
نکاح کی حرمت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف نافع نے نبیہ بن وہب سے روایت کی
حدیث نمبر: 4124
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلا يُنْكِحُ، وَلا يَخْطُبُ، وَلا يُخْطَبُ عَلَيْهِ" .
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”احرام والا شخص نکاح نہیں کر سکتا، کسی دوسرے کا نکاح نہیں کروا سکتا، نکاح کا پیغام نہیں بھیج سکتا اور اسے نکاح کا پیغام نہیں بھیجا جا سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4124]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1409، الجارود فى "المنتقى"، 489، 752، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2649، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4123، 4124، 4125، 4126، 4127، 4128، 4139، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2842، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1841، والترمذي فى (جامعه) برقم: 840، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1966، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9243، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2640، وأحمد فى (مسنده) برقم: 408، والحميدي فى (مسنده) برقم: 33» «رقم طبعة با وزير 4112»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح دون قول: «ولا يخطب عليه»؛ فإنه منكر - «صحيح أبي داود» تحت الحديث (1615)، «الإرواء» (4/ 226 - 227/ 1037). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
90. - باب حرمة المناكحة - ذكر خبر ثان يصرح بدفع قول القائل الذي به دفع الخبر
نکاح کی حرمت کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو اس قائل کے دعوے کو رد کرتی ہے جو اس خبر کو رد کرتا ہے
حدیث نمبر: 4125
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبَّادٍ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ ابنا نبيه بن وهب، عَنْ أَبِيهِمَا نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلا يُنْكِحُ، وَلا يَخْطُبُ" .
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”احرام والا شخص نہ نکاح کر سکتا ہے، نہ نکاح کروا سکتا ہے اور نہ ہی نکاح کا پیغام بھیج سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4125]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1409، الجارود فى "المنتقى"، 489، 752، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2649، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4123، 4124، 4125، 4126، 4127، 4128، 4139، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2842، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1841، والترمذي فى (جامعه) برقم: 840، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1966، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9243، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2640، وأحمد فى (مسنده) برقم: 408، والحميدي فى (مسنده) برقم: 33» «رقم طبعة با وزير 4113»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null