صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
668. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن كثرة خلق الله جل وعلا النسل من أولاد يأجوج ومأجوج-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا کی یاجوج و ماجوج کی اولاد سے نسل کی کثرت
حدیث نمبر: 6828
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَقَلُّ مَا يَتْرُكُ أَحَدُهُمْ لِصُلْبِهِ أَلْفًا مِنَ الذُّرِّيَّةِ، وَإِِنَّ مِنْ وَرَائِهِمْ أُمَمًا ثَلاثَةً: مِنْسَكٌ وَتَاوِيلٌ وَتَارِيسٌ، لا يَعْلَمُ عَدَدَهُمْ إِِلا اللَّهُ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک یاجوج اور ماجوج میں سے سب سے کم تر وہ شخص ہو گا، جس کی پشت سے اس کی اولاد ایک ہزار ہو گی اور ان کے بعد تین گروہ آئیں گے منسک، تاویل اور تاریس، ان کی تعداد کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6828]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: انفرد به المصنف من هذا الطريق «رقم طبعة با وزير 6789»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (4142). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
669. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار بأن يأجوج ومأجوج محاصرون إلى وقت يأذن الله جل وعلا بخروجهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ یاجوج و ماجوج محصور ہیں یہاں تک کہ اللہ جل وعلا ان کے خروج کی اجازت دے
حدیث نمبر: 6829
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَحْفِرُونَ فِي كُلِّ يَوْمٍ حَتَّى يَكَادُوا أَنْ يَرَوْا شُعَاعَ الشَّمْسِ، فَيَقُولُونَ: نَرْجِعُ إِِلَيْهِ غَدًا، فَيَرْجِعُونَ وَهُوَ أَشَدُّ مَا كَانَ، حَتَّى إِِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ وَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ، قَالُوا: نَرْجِعُ إِِلَيْهِ غَدًا إِِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَيَرْجِعُونَ إِِلَيْهِ كَهَيْئَةِ مَا تَرَكُوهُ، فَيَحْفِرُونَهُ، فَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَفِرُّ النَّاسُ مِنْهُمْ إِِلَى حُصُونِهِمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”وہ لوگ روزانہ کھودتے ہیں، یہاں تک کہ جب سورج کی شعاع کو دیکھتے ہیں (کہ سورج غروب ہونے لگا ہے) تو وہ کہتے ہیں: کل ہم دوبارہ اس کی طرف آئیں گے، پھر وہ لوٹ جاتے ہیں، تو وہ (دیوار) پہلے سے زیادہ سخت ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں پر بھیجنے کا ارادہ کرے گا تو وہ یہ کہیں گے کہ «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ تو کل ہم اس کی طرف واپس آئیں گے، پھر جب وہ اس کی طرف واپس آئیں گے تو وہ اسی حالت میں ہو گی جس حالت میں اسے چھوڑ کر گئے تھے، تو وہ اسے کھود دیں گے اور نکل کر لوگوں پر آ جائیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تو لوگ ان سے ڈر کر بھاگتے ہوئے قلعوں کی طرف چلے جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6829]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6829، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8596، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3153، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4080، وأحمد فى (مسنده) برقم: 10782» «رقم طبعة با وزير 6790»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1735). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
670. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف الفتنة التي يبتلي الله عباده بها عند خروج يأجوج ومأجوج-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس فتنے کی وصف جو اللہ اپنے بندوں کو یاجوج و ماجوج کے خروج پر آزمائے گا
حدیث نمبر: 6830
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَحَدِ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ، كَمَا قَالَ اللَّهُ: وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ سورة الأنبياء آية 96، وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ عَنْهُمْ إِِلَى مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيَضُمُّونَ إِِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ، وَيَشْرَبُونَ مِيَاهَ الأَرْضِ، حَتَّى إِِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَمُرُّ بِذَلِكَ النَّهْرِ، فَيَقُولُ: قَدْ كَانَ هَاهُنَا مَاءٌ مَرَّةً، حَتَّى إِِذَا لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ إِِلا فِي حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ، قَالَ قَائِلُهُمْ: هَؤُلاءِ أَهْلُ الأَرْضِ قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ، بَقِيَ أَهْلُ السَّمَاءِ، قَالَ: ثُمَّ يَهُزُّ أَحَدُهُمْ حَرْبَتَهُ، ثُمَّ يَرْمِي بِهَا إِِلَى السَّمَاءِ، فَتَرْجِعُ إِِلَيْهِمْ مُخَضَّبَةً دَمًا، لِلْبَلاءِ وَالْفِتْنَةِ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ يَبْعَثُ اللَّهُ دُودًا فِي أَعْنَاقِهِمْ كَنَغَفِ الْجَرَادِ الَّذِي يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِمْ، فَيُصْبِحُونَ مَوْتَى حَتَّى لا يُسْمَعَ لَهُمْ حِسٌّ، فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: أَلا رَجُلٌ يَشْرِي لَنَا نَفْسَهُ، فَيَنْظُرُ مَا فَعَلَ هَؤُلاءِ الْعَدُوُّ، فَيَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْهُمْ لِذَلِكَ مُحْتَسِبًا لِنَفْسِهِ عَلَى أَنَّهُ مَقْتُولٌ، فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَيُنَادِي: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَلا أَبْشِرُوا، فَإِِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَاكُمْ عَدُوَّكُمْ، فَيَخْرُجُونَ عَنْ مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ، وَيُسَرِّحُونَ مَوَاشِيَهُمْ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا، تو وہ نکل کر لوگوں پر آئیں گے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ [سورة الأنبياء: 96] ”اور وہ ہر بلندی سے تیزی سے آئیں گے۔“ مسلمان ان سے بچنے کے لیے اپنے شہروں اور قلعوں کی طرف جائیں گے۔ وہ (یاجوج و ماجوج) اپنے مویشی ساتھ لے کر آئیں گے (جب مسلمان اپنے مویشی ساتھ لے کر قلعوں کی طرف جائیں گے) وہ (یعنی یاجوج و ماجوج) زمین کا سارا پانی پی جائیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نہر کے پاس سے گزرے گا تو یہ کہے گا: کیا یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا؟ یہاں تک کہ لوگوں میں سے ہر شخص کسی قلعے یا شہر کے اندر ہو گا، ان میں سے ایک شخص یہ کہے گا: اہل زمین سے تو ہم فارغ ہو گئے ہیں اب آسمان والے رہ گئے ہیں۔ پھر ان میں سے ایک شخص اپنا نیزہ لہرائے گا تو اس پر خون لگا ہوا ہو گا، یہ آزمائش اور فتنے کے طور پر ہو گا۔ وہ لوگ اب اسی حالت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اب ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا کرے گا، جو «النَّغَف» ”اونٹوں اور بکریوں کی ناک میں پیدا ہونے والا کیڑا“ کی مانند ہو گا۔ وہ ان کی گردنوں میں نکلے گا، تو وہ لوگ صبح کے وقت مرے ہوئے ہوں گے، یہاں تک کہ ان کی کوئی آہٹ محسوس نہیں ہو گی۔ مسلمان یہ کہیں گے: کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو ہمارے لیے اپنی جان کا سودا کرے اور اس بات کا جائزہ لے کہ اس دشمن کا کیا بنا؟ تو ان میں سے ایک شخص اس کام کے لیے الگ ہو گا، وہ اپنے آپ کو اس بات کے لیے تیار کر لے گا کہ وہ قتل ہو جائے گا، پھر وہ ان لوگوں کو پائے گا کہ وہ تو مرے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر پڑے ہوئے ہیں، تو وہ پکار کر کہے گا: اے مسلمانوں کے گروہ! خبردار، تمہارے لیے خوش خبری ہے؛ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دشمن کے لیے تمہاری کفایت کر دی ہے، تو لوگ اپنے شہروں اور قلعوں سے نکل آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو آزاد کر دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6830]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6830، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2984، 8599، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4079، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11910، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1144، 1351» «رقم طبعة با وزير 6791»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الصحيحة» (1793). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده جيد
671. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار بأن ردم يأجوج ومأجوج قد فتح منه الآن الشيء اليسير-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ یاجوج و ماجوج کا ردم ابھی اس کے کچھ حصے کے کھلنے کے ساتھ ہے
حدیث نمبر: 6831
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتِ: اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَحَلَّقَ بِيَدِهِ عَشَرَةً، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ" .
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ رہے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، عربوں کے لیے اس شر کی وجہ سے بربادی ہے جو قریب آ چکا ہے، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار کا اتنا حصہ کھل گیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے صفر کا حلقہ بنایا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے جب کہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی موجود ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں! جب برائیاں بڑھ جائیں گی (تو نیک لوگوں سمیت سب ہلاکت کا شکار ہوں گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6831]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3346، 3598، 5293، 7059، 7135، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2880، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 327، 6831، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2187، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3953، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28056» «رقم طبعة با وزير 6792»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (987): ق، عن زينب بنت جحش، وهو الصواب، وكذلك رواه المؤلف فيما تقدم (327). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
672. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن نفي انقطاع الحج بعد خروج يأجوج ومأجوج-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ یاجوج و ماجوج کے خروج کے بعد حج کے انقطاع کی نفی
حدیث نمبر: 6832
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيُحَجَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یاجوج و ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی اس بیت اللہ کا حج بھی کیا جائے گا اور عمرہ بھی کیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6832]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1593، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2507، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6832، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8493، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11387» «رقم طبعة با وزير 6793»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2430): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
673. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن تتابع الآيات وتواترها إذا ظهرت في الأرض أوائلها-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ علامات کا مسلسل ظہور اور ان کا متواتر ہونا جب وہ زمین پر پہلی بار ظاہر ہوں گی
حدیث نمبر: 6833
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُرُوجُ الآيَاتِ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ تَتَابَعْنَ كَمَا تَتَتَابَعُ الْخَرَزُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(قیامت سے پہلے کچھ) نشانیاں ظہور پذیر ہوں گی، وہ ایک دوسرے کے آگے پیچھے اس طرح آئیں گی، جس طرح (ہار ٹوٹ جائے) تو دانے ایک دوسرے کے آگے پیچھے جاتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6833]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6833، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38766، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4271» «رقم طبعة با وزير 6794»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (1762 و 3210). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
674. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن الفتن إذا وقعت والآيات إذا ظهرت كان في خللها طائفة على الحق أبدا-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ جب فتنے وقوع پذیر ہوں گے اور علامات ظاہر ہوں گی تو ان کے خلل میں ہمیشہ ایک جماعت حق پر ہوگی
حدیث نمبر: 6834
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْفَهَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَزَالُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ، لا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" .
معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کے کچھ لوگوں کی ہمیشہ مدد کی جاتی رہے گی، جو شخص انہیں رسوا کرنے کی کوشش کرے گا وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6834]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 61، 6834، 7302، 7303، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2192، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 6، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم:2375، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15836، 15837، 20688، 20694، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1172، والبزار فى (مسنده) برقم: 3303، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 33127، والطبراني فى(الكبير) برقم: 55، 56» «رقم طبعة با وزير 6795»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (270). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
675. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 6835
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَزَالُ عَلَى هَذَا الأَمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ، لا يَضُرُّهُمْ خِلافُ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس معاملے (یعنی دین اسلام) کے بارے میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر گامزن رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والوں کی مخالفت انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم ان تک آ جائے گا اور وہ اسی حالت پر ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6835]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6835، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 7، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2373، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8390» «رقم طبعة با وزير 6796»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الصحيحة» (1962). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
676. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف الطائفة المنصورة التي تكون على الحق إلى أن تأتي الساعة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس منصور جماعت کی وصف جو قیامت تک حق پر ہوگی
حدیث نمبر: 6836
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لا تَقُومُ السَّاعَةُ إِِلا عَلَى شِرَارِ الْخَلْقِ، هُمْ شَرٌّ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، لا يَدْعُونَ اللَّهَ بِشَيْءٍ إِِلا رَدَّهُ عَلَيْهِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، فَقَالَ لَهُ مَسْلَمَةُ: يَا عُقْبَةُ، اسْمَعْ مَا يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ عُقْبَةُ : هُوَ أَعْلَمُ، وَأَمَّا أَنَا، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَمْرِ اللَّهِ قَاهِرِينَ لِعَدُوِّهِمْ، لا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ" ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا، رِيحُهَا رِيحُ الْمِسْكِ، وَمَسُّهَا مَسُّ الْخَزِّ، فَلا تَتْرُكُ نَفْسًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ إِِيمَانٍ إِِلا قَبَضَتْهُ، ثُمَّ يَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ، فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ.
عبدالرحمن بن شماسہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے اور ان کے پاس سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہو گی اور وہ اہل جاہلیت سے بھی زیادہ برے لوگ ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگیں گے اللہ تعالیٰ ان کی دعا کو قبول نہیں فرمائے گا۔“ ابھی وہ اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران میں سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ آ گئے۔ تو مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عقبہ! آپ سنیے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کیا بیان کر رہے ہیں۔ تو عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ زیادہ علم رکھتے ہیں، بہرحال جہاں تک میری بات ہے تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے دین کے معاملے میں جنگ کرتا رہے گا اور وہ اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے، ان کی خلاف ورزی کرنے والے لوگ ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ ان تک قیامت آ جائے گی مگر وہ اسی حالت میں ہوں گے۔“ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بتایا: ”تو اللہ تعالیٰ ایک ہوا کو بھیجے گا جس کی خوشبو مشک کی خوشبو کی مانند ہو گی اور وہ چھونے میں ریشم کی طرح ہو گی، تو وہ ایسے کسی شخص کو نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو گا مگر یہ کہ اس کی روح قبض کر لے گی، پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے اور انہی لوگوں پر قیامت قائم ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6836]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1924، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6836، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8503، والطبراني فى(الكبير) برقم: 869، 870» «رقم طبعة با وزير 6797»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1108): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
677. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 6837
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس دین کے معاملے میں مسلمانوں کا ایک گروہ ہمیشہ جنگ کرتا رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6837]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1922، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6837، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8482، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21212» «رقم طبعة با وزير 6798»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (963): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن على شرط مسلم