🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
629. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر العلامة الثالثة التي تظهر في العرب عند خروج الدجال من وثاقه كفانا الله وكل مسلم شره وفتنته-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر تیسری علامت جو عربوں میں دجال کے بندھن سے نکلنے پر ظاہر ہوگی، اللہ ہمیں اور ہر مسلمان کو اس کے شر اور فتنے سے بچائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6788
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُرْقُسَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُمِّيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، تَقُولُ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أُنْذِرُكُمُ الدَّجَّالَ، فَإِِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِِلا وَقَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ، وَهُوَ كَائِنٌ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الأُمَّةُ، إِِنَّهُ لا نَبِيَّ بَعْدِي وَلا أُمَّةَ بَعْدَكُمْ، أَلا إِِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنَ عَمٍّ لَهُ وَأَصْحَابَهُ رَكِبُوا بَحْرَ الشَّامِ، فَانْتَهَوْا إِِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِهِ، فَإِِذَا هُمْ بِدَهْمَاءَ تَجُرُّ شَعْرَهَا، قَالُوا: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: الْجَسَّاسَةُ أَوِ الَجَاسِسَةُ، قَالُوا: أَخْبِرِينَا، قَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ عَنْ شَيْءٍ وَلا سَائِلَتِكُمْ عَنْهُ، وَلَكِنِ ائْتُوا الدَّيْرَ، فَإِِنَّ فِيهِ رَجُلا بِالأَشْوَاقِ إِِلَى لِقَائِكُمْ، فَأَتَوَا الدَّيْرَ، فَإِِذَا هُمْ بِرَجُلٍ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ إِِلَى سَارِيَةٍ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَنْتُمْ؟ وَمَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، قَالَ: فَمَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْعَرَبُ، قَالَ: فَمَا فَعَلْتِ الْعَرَبُ؟ قَالُوا: خَرَجَ فِيهِمْ نَبِيٌّ بِأَرْضِ تَيْمَاءَ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ النَّاسُ؟ قَالُوا: فِيهِمْ مَنْ صَدَّقَهُ، وَفِيهِمْ مَنْ كَذَّبَهُ، قَالَ: أَمَا إِِنَّهُمْ إِِنْ يُصَدِّقُوهُ وَيَتَّبِعُوهُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ قَالَ: مَا بُيُوتُكُمْ؟ قَالُوا: مِنْ شَعَرٍ وَصُوفٍ تَغْزِلُهُ نِسَاؤُنَا، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ طَبَرِيَّةَ؟ قَالُوا: تَدَفَّقُ جَوَانِبُهَا يَصْدُرُ مَنْ أَتَاهَا، فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟ قَالُوا: تَدَفَّقُ جَوَانِبُهَا يَصْدُرُ مَنْ أَتَاهَا، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ؟ قَالُوا: يُؤْتِي جَنَاهُ فِي كُلِّ عَامٍ، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِِنِّي لَوْ قَدْ حُلِلْتُ مِنْ وَثَاقِي هَذَا لَمْ يَبْقَ مَنْهَلٌ إِِلا وَطِئْتُهُ إِِلا مَكَّةَ وَطَيْبَةَ، فَإِِنَّهُ لَيْسَ لِي عَلَيْهِمَا سَبِيلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذِهِ طَيْبَةُ، حَرَّمْتُهَا كَمَا حَرَّمَ إِِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا فِيهَا نَقْبٌ فِي سَهْلٍ وَلا جَبَلٍ إِِلا وَعَلَيْهِ مَلَكَانِ شَاهِرَا السَّيْفِ يَمْنَعَانِ الدَّجَّالَ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
امام شعبی بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تم لوگوں کو دجال سے ڈرا رہا ہوں، مجھ سے پہلے کے ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا ہے اور وہ تمہارے درمیان ظہور پذیر ہو گا، اے امت! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور تمہارے بعد کوئی اور امت نہیں ہے، البتہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ ان کے چچازاد اور ان کے ساتھی شام کے سمندر میں سفر کر رہے تھے، وہ کسی جزیرے تک پہنچ گئے، وہاں ایک عورت تھی جو اپنے بال کھینچ رہی تھی، ان لوگوں نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: جساسہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جاسسہ۔ ان لوگوں نے کہا: تم ہمیں کسی چیز کے بارے میں بتاؤ، اس نے کہا: میں تمہیں کسی چیز کے بارے میں نہیں بتاؤں گی اور نہ ہی کسی چیز کے بارے میں تم سے دریافت کروں گی، لیکن تم لوگ عبادت خانے میں چلے جاؤ، وہاں ایک شخص ہے جو تم سے ملاقات کا مشتاق ہے، وہ لوگ عبادت خانے میں آئے تو وہاں ایک شخص تھا جس کی آنکھ کانی تھی، وہ لوہے کی زنجیروں میں ستون کے ساتھ بندھا ہوا تھا، اس نے دریافت کیا: تم لوگ کہاں سے آئے ہو، تم لوگ کون ہو؟ ان لوگوں نے جواب دیا: اہل شام سے۔ اس نے دریافت کیا: تم لوگ کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ہم عربی ہیں۔ اس نے کہا: عربوں کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: ان میں ایک نبی کا ظہور ہوا ہے جو تیماء کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نے دریافت کیا: لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے بتایا: ان میں کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے ان کی تصدیق کی ہے اور کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے انہیں غلط قرار دیا ہے، تو اس نے کہا: اگر وہ ان کی تصدیق کر دیں اور ان کی پیروی کریں، تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہے اگر انہیں علم ہو، پھر اس نے دریافت کیا: تمہارے گھر کس چیز کے ہیں؟ ان لوگوں نے بتایا: بالوں کے اور اون کے بنے ہوئے جنہیں ہماری عورتیں تیار کرتی ہیں۔ (راوی کہتے ہیں) تو اس نے اپنا ہاتھ اپنے زانو پر مارا پھر بولا: یہی۔ پھر اس نے دریافت کیا: بحیرہ طبریہ کا کیا حال ہے؟ انہوں نے بتایا: اس کے کنارے چھلک رہے ہیں، اس نے اپنے زانو پر ہاتھ مارا پھر بولا: جلدی کرو، پھر اس نے دریافت کیا: زغر کے چشمے کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: اس کے کنارے چھلکتے ہیں، جو اس تک آتا ہے وہ سیر ہوتا ہے، تو اس نے اپنے زانو پر ہاتھ مارا اور پھر بولا: جلدی کرو، پھر اس نے دریافت کیا: بیسان کے نخلستان کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے کہا: اس کی ٹہنیاں سارا سال پھل دیتی ہیں، اس نے پھر اپنے زانو پر ہاتھ مارا اور بولا: جلدی کرو، پھر اس نے کہا: اگر میں اپنی ان بیڑیوں سے آزاد ہو گیا تو کوئی چشمہ ایسا نہیں ہو گا جسے میں روند نہ دوں، البتہ مکہ اور طیبہ (یعنی مدینہ منورہ) کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ میرے لیے وہاں جانے کی گنجائش نہیں ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ طیبہ ہے، میں اسے اسی طرح حرم قرار دیتا ہوں جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا، اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، عام زمین اور پہاڑوں میں اس میں داخلے کا جو بھی راستہ ہے اس پر دو فرشتے تعینات ہیں جنہوں نے تلواریں سونتی ہوئی ہیں اور وہ قیامت کے دن تک دجال کو (اس میں داخل ہونے سے) روکنے کے لیے (تیار رہیں گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6788]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2942، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3730، 6787، 6788، 6789، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4244، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4325، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2253، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4074، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27743» «رقم طبعة با وزير 6750»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره. تنبيه هام!! وقع لقب الراوي «عِمْرَانُ بْنُ سُلَيْمَانَ» في «طبعة باوزير»: «القيسي» بدلا من «الْقُمِّيُّ» وكتب الشيخ تعليقا على هذه اللفظة فقال: [في «طبعة المؤسسة»: «القمي»، وفي «الثقات» (7/ 241): «القبي»! فلعلَّه: «القيسي»؛ كما وقع في «المعجم الكبير» للطبراني (24/ 391)، وروى عنه حفصُ بن غَياثٍ. وقد تُوبِعَ من جمع على رواية الحديث؛ مِنْ قَولِه: «إِنَّ تَمِيماً ... » إلخ. رواه مسلم (8/ 203 - 206)، والمصنِّفُ عقب هذا، وأحمد (6/ 373 - 374 و 412 و 413 و 416 - 418 و 418)، والحميدي (رقم 364)، والطبراني (24/ 385 - 403)، والبغوي في «شرح السنة» (15/ 65 - 68)، وعنده من رواية عمران هذه. وقد عزاهُ المُعَلِّقُ عليه لمسلم! فَوَهِمَ؛ لأنَّهُ لم يَرْوِهِ بالزيادة الَّتي في أوَّلِهِ؛ كما تَقَدَّمَتِ الإشارةُ إلى ذلك آنفاً. وزاد الحميدي في روايته: «من نحو المشرق ما هو، من نحو المشرق ما هو ... ». وهو رواية لمسلم (8/ 205)، والطبراني (ص 388 و 395)، وكذا ابن أبي شيبة (15/ 189 - 191)، وأبي عمرو الدانيِّ في «الفتن» (ق 122/ 1 - 125/ 1)، والطحاوي في «المشكل» (4/ 100). وسنده لا بأس به. ] - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح عبد الملك بن سليمان القرقساني ذكره المؤلف في "الثقات" 8/ 39، وقال: مستقيم الحديث، وقال العقيلي في "الضعفاء" 3/ 24: حديثه غير محفوظ، وعمران بن سليمان لقمي ذكره المؤلف في "الثقات" 7/ 241، وكذا البخاري ف تاريخه 6/ 426، وابن أبي حاتم 6/ 299، ولم يذكرا فيه جرحا ولا تعديلا.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6789
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ مُسْرِعًا، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَنُودِيَ فِي النَّاسِ الصَّلاةُ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِِنِّي لَمْ أَدْعُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلا لِرَهْبَةٍ نَزَلَتْ، وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا الْبَحْرَ، فَقَذَفَتْهُمُ الرِّيحُ إِِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَإِِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ لا يُدْرَى أَذَكَرٌ هُوَ أَمْ أُنْثَى مِنْ كَثْرَةِ الشَّعْرِ، فَقَالُوا: مَنْ أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: أَخْبِرِينَا؟ قَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ وَلا مُسْتَخْبِرَتِكُمْ، وَلَكِنَّ هَا هُنَا مَنْ هُوَ فَقِيرٌ إِِلَى أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَإِِلَى أَنْ يَسْتَخْبِرَكُمْ، فَأَتَوَا الدَّيْرَ، فَإِِذَا بِرَجُلٍ مَرِيرٍ مُصَفَّدٍ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْعَرَبُ، قَالَ: هَلْ بُعِثَ النَّبِيُّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ تَبِعَتْهُ الْعَرَبُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ، قَالَ: مَا فَعَلَتْ فَارِسُ؟ قَالُوا: لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا، قَالَ: أَمَا إِِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟ قَالُوا: تَدَفَّقُ مَلأَى، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ؟ قَالُوا: قَدْ أَطْعَمَ أَوَائِلُهُ، فَوَثَبَ عَلَيْهِ وَثْبَةً، حَتَّى خَشِينَا أَنْ سَيَغْلِبَ، فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ، أَمَا إِِنِّي سَأَطَأُ الأَرْضَ كُلَّهَا إِِلا مَكَّةَ وَطَيْبَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، هَذِهِ طَيْبَةُ لا يَدْخُلُهَا" .
امام شعبی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ: ”اکٹھے ہو جاؤ“، تو لوگ اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں نے تمہیں کسی رغبت یا کسی پریشانی کے نازل ہونے کی وجہ سے نہیں بلایا ہے، البتہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ فلسطین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ سمندری سفر پر روانہ ہوئے، تو ہوا نے انہیں سمندر میں موجود کسی جزیرے تک پہنچا دیا، وہاں ایک جانور موجود تھا جس کا یہ پتا نہیں چلتا تھا کہ وہ مذکر ہے یا مؤنث ہے کیونکہ اس کے جسم پر بال بہت زیادہ تھے، تو میں نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا: میں «الْجَسَّاسَةُ» ”جساسہ“ ہوں۔ ان لوگوں نے کہا: تم ہمیں کسی چیز کے بارے میں بتاؤ، تو اس نے کہا: میں تمہیں کسی چیز کے بارے میں نہیں بتاؤں گی اور نہ ہی تم سے کسی چیز کے بارے میں معلوم کروں گی، البتہ وہاں ایک شخص ہے جو اس بات کا محتاج ہے کہ وہ تمہیں کوئی اطلاع دے اور اس بات کا بھی ضرورت مند ہے کہ تم سے کسی چیز کے بارے میں معلوم کرے، تو وہ اس عبادت خانے تک آئے، وہاں ایک شخص تھا جو لوہے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ ان لوگوں نے جواب دیا: ہم عرب ہیں۔ اس نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو گئے ہیں؟ ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: کیا عربوں نے ان کی پیروی کر لی ہے؟ ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! اس نے کہا: یہ ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے، پھر اس نے دریافت کیا: اہل فارس کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: وہ ابھی اس پر غالب نہیں آئے۔ اس نے کہا: وہ عنقریب اہل فارس پر غالب آ جائیں گے، پھر اس نے دریافت کیا: «زُغَرَ» ”زغر“ کے چشمے کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: اس کے کنارے بھرے ہوئے ہیں۔ اس نے دریافت کیا: «بَيْسَانَ» ”بیسان“ کے نخلستان کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: وہ پیداوار دے رہا ہے، پھر وہ شخص اچھلا، یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ غالب آ جائے گا (یعنی اپنے آپ کو چھڑا لے گا)، ہم نے کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں دجال ہوں، میں ساری روئے زمین کو روند دوں گا البتہ مکہ اور «طَيْبَةُ» ”طیبہ“ (نہیں جا سکوں گا)۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمانوں کے گروہ! تمہیں خوشخبری ہے کہ یہ (مدینہ منورہ) «طَيْبَةُ» ”طیبہ“ ہے، وہ (دجال) اس میں داخل نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6789]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2942، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3730، 6787، 6788، 6789، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4244، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4325، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2253، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4074، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27743» «رقم طبعة با وزير 6751»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «قصة المسيح - عليه السلام -» (ص 42 - 43): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
630. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من المبادرة بالأعمال الصالحة قبل خروج المسيح نعوذ بالله منه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مسیح کے نکلنے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرنی چاہیے، ہم اللہ سے اس سے پناہ مانگتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6790
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَادِرُوا بِالْعَمَلِ سِتًّا: الدَّجَّالَ، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الأَرْضِ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ، وَخُوَيْصَةَ أَحَدِكُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”چھ (نشانیوں کے ظہور پذیر) ہونے سے پہلے عمل کر لو: دجال، دھواں، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے نکلنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6790]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2947، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6790، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8669، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8419» «رقم طبعة با وزير 6752»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (759): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
631. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن هذا العدد المذكور للأشياء المتوقعة قبل خروج المسيح ليس بعدد لم يرد به النفي عما وراءه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ مسیح کے خروج سے پہلے متوقع چیزوں کی تعداد اس سے آگے کی نفی کے لیے نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6791
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُرَاتُ الْقَزَّازُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ تَحْتَهَا، إِِذَا أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَاذَا تَتَذَاكَرُونَ؟ قُلْنَا: نَذَكْرُ السَّاعَةَ، قَالَ:" فَإِِنَّهَا لا تَكُونُ حَتَّى يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْهَا عَشَرُ آيَاتٍ: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالُ، وَالدُّخَانُ، وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَالدَّابَّةُ، وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ مَوْضِعِ كَذَا ، قَالَ: أَحْسَبُهُ، قَالَ: تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا، وَتَنْزِلُ مَعَهُمْ حَيْثُ يَنْزِلُونَ"، قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ ، مِثْلَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانہ میں موجود تھے، ہم اس کے نیچے موجود تھے، پھر اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھانک کر دریافت فرمایا: ”تم لوگ کس بارے میں بات چیت کر رہے ہو؟“ ہم نے عرض کی: ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نمودار نہیں ہوتیں: سورج کا مغرب سے نکلنا، دجال، دھواں، سیدنا عیسیٰ بن مریم (کا نزول)، دابۃ الارض، یاجوج و ماجوج کا نکلنا، مشرق میں زمین میں دھنسنا، مغرب میں زمین میں دھنسنا اور جزیرہ عرب میں دھنسنا اور ایک آگ ہو گی، جو فلاں مقام سے نکلے گی۔“ (راوی کہتے ہیں:) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”وہ ان لوگوں کے ساتھ آرام کرے گی جہاں وہ لوگ آرام کریں گے اور وہ ان کے ساتھ پڑاؤ کرے گی جہاں وہ لوگ پڑاؤ کریں گے۔“ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی کی مانند منقول ہے، تاہم اس سند کے ساتھ مرفوع حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6791]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2901، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6791، 6843، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11316، 11418، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4311، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2183، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4041، 4055، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16391، والحميدي فى (مسنده) برقم: 849، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 3861» «رقم طبعة با وزير 6753»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «شرح الطحاوية» (500/ 759): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
632. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن الموضع الذي يخرج من ناحيته الدجال-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ دجال جس جگہ سے نکلے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6792
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ بِلالِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أبيه ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَشَارَ نَحْوَ الْمَشْرِقِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ: وَأَشَارَ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، أَرَادَ بِهِ الْبَحْرَيْنِ، لأَنَّ الْبَحْرَيْنِ مَشْرِقُ الْمَدِينَةِ، وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ يَكُونُ مِنْ جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِهَا، لا مِنْ خُرَاسَانَ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا أَنَّهُ مُوثَقٌ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، عَلَى مَا أَخْبَرَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، وَلَيْسَ بِخُرَاسَانَ بَحْرٌ وَلا جَزِيرَةٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دجال اس طرف سے نکلے گا“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کر کے (یہ بات ارشاد فرمائی)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا، اس کے ذریعے مراد بحرین ہے، کیونکہ بحرین مدینہ منورہ کے مشرق میں ہے اور دجال کا ظہور بھی انہی علاقوں میں سے ہو گا، خراسان سے نہیں ہو گا، اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے: دجال سمندر کے کسی جزیرے میں بندھا ہوا ہے جیسا کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں اطلاع دی ہے، جبکہ خراسان میں نہ تو کوئی سمندر ہے نہ ہی کوئی جزیرہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6792]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6792، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8704، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4518» «رقم طبعة با وزير 6754»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «المشكاة» (5480): م نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
633. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن السبب الذي يكون خروج المسيح به-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مسیح کے خروج کی وجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6793
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى ابْنَ صَائِدٍ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ، فَسَبَّهُ ابْنُ عُمَرَ، وَوَقَعَ فِيهِ، فَانْتَفَخَ حَتَّى سَدَّ الطَّرِيقَ، فَضَرَبَهُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا، فَسَكَنَ حَتَّى عَادَ، فَانْتَفَخَ حَتَّى سَدَّ الطَّرِيقَ، فَضَرَبَهُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا مَعَهُ، حَتَّى كَسَرَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ : مَا شَأْنُكَ وَشَأْنُهُ، مَا يُولِعُكَ بِهِ، أَمَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِِنَّمَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: رُؤْيَةُ حَفْصَةَ ابْنَ عُمَرَ، وَضَرْبَهُ حَيْثُ كَانَ يَضْرِبُ الْمَسِيحَ بِالْعَصَا، كَانَ ذَلِكَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مدینہ منورہ کی کسی گلی میں ابن صائد کو دیکھا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے برا کہا اور اسے ڈانٹنے لگے تو وہ اتنا پھول گیا کہ اس نے راستہ بند کر دیا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے عصا کے ذریعے مارا تو اسے سکون آیا، یہاں تک کہ وہ واپس اپنی اصل حالت میں آ گیا، پھر وہ پھول گیا، یہاں تک کہ اس نے راستہ بند کر دیا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے پاس موجود عصا سے پھر اسے مارا، یہاں تک کہ اسے اس پر توڑ دیا، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: تمہارا اور اس کا کیا واسطہ ہے؟ یہ تمہیں کیوں غصہ دلا دیتا ہے؟ کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا: ”دجال اس غضب کی وجہ سے باہر آئے گا جو اسے لاحق ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور ان کے مارنے کو دیکھنا اس صورت میں تھا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی عصا کے ذریعے ماریں گے، یہ واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں پیش آیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6793]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2932، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6793، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27068» «رقم طبعة با وزير 6755»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2457): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
634. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن العلامة التي يعرف بها الدجال عند خروجه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ دجال کے خروج پر اس کی شناخت کی علامت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6794
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ: كَ فَ رَ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ مِنْ أُمِّيٍّ وَكَاتِبٍ يَعْنِي الدَّجَّالَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان «ك ف ر» لکھا ہوا ہو گا، جسے ہر مومن پڑھ لے گا خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو۔“ (راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد دجال ہے (یعنی اس کی آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہو گا۔) [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6794]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7131، 7134، 7408، 7473، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2933، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6794، 6804، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4316، بدون ترقيم، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2242، 2245، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12186» «رقم طبعة با وزير 6756»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «شرح الطحاوية» (500/ 762)، «الصحيحة» (2457): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
635. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف عين الدجال التي هي العوراء من عينيه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ دجال کی اس آنکھ کی وصف جو اس کی آنکھوں میں سے کانا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6795
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الدَّجَّالُ عَيْنُهُ خَضْرَاءُ كَزُجَاجَةٍ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دجال کی آنکھیں شیشے کی طرح سبز ہوں گی، تم لوگ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6795]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6795، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21534، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 546» «رقم طبعة با وزير 6757»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1863). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
636. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف خلقة الدجال ومن كان يشبه من هذه الأمة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ دجال کی خلقت کی وصف اور اس امت میں سے کس سے مشابہت رکھتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6796
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: " أَعْوَرُ هِجَانٌ أَزْهَرُ، كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ، أَشْبَهُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ، فَإِِنْ هَلَكَ الْهُلَّكُ، فَإِِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”وہ کانا اور گورا چٹا ہو گا، اس کا سر سانپ کی طرح چھوٹا ہو گا، وہ لوگوں میں سے عبدالعزیٰ بن قطن کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے، خواہ کتنے ہی لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں، لیکن بہرحال تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6796]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6796، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2181، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2800، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38625» «رقم طبعة با وزير 6758»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1193). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
637. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن فرار الناس من المسيح عند ظهوره-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ دجال کے ظہور پر لوگوں کا اس سے بھاگنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6797
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمُخَرِّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ فِي الْجِبَالِ، قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: هُمْ قَلِيلٌ" .
سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کچھ لوگ دجال سے بھاگتے ہوئے پہاڑوں میں چلے جائیں گے۔“ سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس دن عرب کہاں ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (اس دن) تھوڑی تعداد میں ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6797]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2945، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6797، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3930، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28268، والطبراني فى(الكبير) برقم: 249» «رقم طبعة با وزير 6759»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3079): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں