المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. بَيَانُ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ
نو واضح نشانیوں کا بیان
حدیث نمبر: 20M
سمعتُ أبا عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وسأله محمدُ بن عُبيدٍ (2) فقال: لِمَ تَرَكا حديثَ صفوان بن عسَّال أصلًا؟ فقال: لفسادِ الطريق إليه. قال الحاكم: وإنما أراد أبو عبد الله ب
هذا حديثَ عاصم عن زِرٍّ، فإنهما تَرَكا عاصمَ بن بَهْدلةَ، فأمّا عبد الله بن سَلِمةَ المُرادي، ويقال: الهَمْداني، وكنيته أبو العالية، فإنه من كبار أصحاب عليٍّ وعبدِ الله، وقد روى عن سعد بن أبي وقَّاص وجابر بن عبد الله وغيرهما من الصحابة، وقد روى عنه أبو الزُّبير المكي وجماعةٌ من التابعين (3) .
هذا حديثَ عاصم عن زِرٍّ، فإنهما تَرَكا عاصمَ بن بَهْدلةَ، فأمّا عبد الله بن سَلِمةَ المُرادي، ويقال: الهَمْداني، وكنيته أبو العالية، فإنه من كبار أصحاب عليٍّ وعبدِ الله، وقد روى عن سعد بن أبي وقَّاص وجابر بن عبد الله وغيرهما من الصحابة، وقد روى عنه أبو الزُّبير المكي وجماعةٌ من التابعين (3) .
میں نے ابوعبداللہ محمد بن یعقوب حافظ کو سنا، ان سے محمد بن عبید نے سوال کیا کہ ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے صفوان بن عسال کی حدیث کو اصلاً کیوں چھوڑ دیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: اس کی طرف جانے والے راستے (سند) کے فساد کی وجہ سے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: ابوعبداللہ کی مراد اس سے «عاصم عن زر» والی سند ہے، کیونکہ ان دونوں نے عاصم بن بہدلہ کو چھوڑ دیا ہے، لیکن جہاں تک عبداللہ بن سلمہ مرادی (جن کی کنیت ابوالعالیہ ہے) کا تعلق ہے، تو وہ سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے کبار اصحاب میں سے ہیں، اور انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور جابر بن عبداللہ وغیرہم سے روایات لی ہیں، اور ان سے ابوالزبیر مکی اور تابعین کی ایک جماعت نے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 20M]
امام حاکم فرماتے ہیں: ابوعبداللہ کی مراد اس سے «عاصم عن زر» والی سند ہے، کیونکہ ان دونوں نے عاصم بن بہدلہ کو چھوڑ دیا ہے، لیکن جہاں تک عبداللہ بن سلمہ مرادی (جن کی کنیت ابوالعالیہ ہے) کا تعلق ہے، تو وہ سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے کبار اصحاب میں سے ہیں، اور انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور جابر بن عبداللہ وغیرہم سے روایات لی ہیں، اور ان سے ابوالزبیر مکی اور تابعین کی ایک جماعت نے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 20M]
14. لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ
وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو
حدیث نمبر: 21
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر الخَوْلاني، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني ابن أبي ذِئْب. وحدثني أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، أخبرني ابن أبي ذِئب عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"واللهِ لا يُؤمِنُ، واللهِ لا يؤمنُ، واللهِ لا يؤمنُ" قالوا: وما ذاكَ يا رسول الله؟ قال:"جارٌ لا يَأمَنُ جارُه بَوَائقَه" قالوا: وما بوائقُه؟ قال:"شَرُّه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما خرَّجا حديث أبي الزِّناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"لا يدخلُ الجنةَ من لا يَأمَنُ جارُه بوائقَه" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 21 - في الصحيحين نحوه للأعرج
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما خرَّجا حديث أبي الزِّناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"لا يدخلُ الجنةَ من لا يَأمَنُ جارُه بوائقَه" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 21 - في الصحيحين نحوه للأعرج
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں“، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پڑوسی جس کا ہمسایہ اس کی شرارتوں (اور تکلیفوں) سے محفوظ نہ ہو“، انہوں نے پوچھا: اس کی «بوائق» سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا شر۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف «ابوالزناد عن الاعرج عن ابي هريره» کی روایت نقل کی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 21]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف «ابوالزناد عن الاعرج عن ابي هريره» کی روایت نقل کی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 21]
15. صِفَةُ الْمُسْلِمِ وَالْمُؤْمِنِ
مسلمان اور مومن کی صفات
حدیث نمبر: 22
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن سلمان الفقيهان قالا: حدثنا عبُيد بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، حدثني محمد بن عَجْلان، عن القعقاع بن حَكيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"المسلمُ مَن سَلِمَ المسلمون من لسانِه ويدِه، والمؤمنُ مَن أَمِنَه الناسُ على دمائِهم وأموالِهم" (2) . قد اتفقا على إخراج طرف حديث:"المسلمُ من سَلِمَ المسلمون من لسانِه ويدِه" (1) ، ولم يُخرجا هذه الزيادةَ وهي صحيحةٌ على شرط مسلم. وفي هذا الحديث زيادةٌ أخرى على شرطه ممّا لم يخرجاها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 22 - لم يخرج مسلم نصفه الثاني
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 22 - لم يخرج مسلم نصفه الثاني
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں، اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے خون اور مال کے بارے میں بے خوف ہو جائیں۔“
ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے حدیث کے ایک حصے ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں“ کی تخریج پر اتفاق کیا ہے، لیکن اس (مومن والی) زیادتی کو روایت نہیں کیا حالانکہ یہ امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ اس حدیث میں امام مسلم کی شرط پر ایک اور زیادتی بھی ہے جسے ان دونوں نے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 22]
ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے حدیث کے ایک حصے ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں“ کی تخریج پر اتفاق کیا ہے، لیکن اس (مومن والی) زیادتی کو روایت نہیں کیا حالانکہ یہ امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ اس حدیث میں امام مسلم کی شرط پر ایک اور زیادتی بھی ہے جسے ان دونوں نے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 22]
16. تَعْرِيفُ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ
کامل ایمان والے کی تعریف
حدیث نمبر: 23
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو الحسن محمد بن سِنَان القَزّاز، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني أبو الزُّبير، سمع جابرًا يقول: قال رسول الله ﷺ:"أكمَلُ المؤمنين مَن سَلِمَ المسلمون من لسانِه ويدِه" (2) . وزيادة أخرى صحيحةٌ على شرطهما ولم يُخرجاها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 23 - لم يخرجا أكمل المؤمنين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 23 - لم يخرجا أكمل المؤمنين
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامل ترین مومن وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔“
اس میں ایک اور صحیح زیادتی ہے جو ان دونوں کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 23]
اس میں ایک اور صحیح زیادتی ہے جو ان دونوں کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 23]
حدیث نمبر: 24
حدَّثَناه عبدُ الرحمن بن الحسن بن أحمد القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا سعيد بن أبي مريم وعبدُ الله بن صالح، قالا: حدثنا الليث، حدثني أبو هانئٍ الخَوْلاني، عن عمرو بن مالك اللَّيثي (3) ، عن فَضَالةَ بن عُبيدٍ قال: قال رسول الله ﷺ في حَجَّة الوداع:"ألا أُخبِرُكم بالمؤمن، مَن أَمِنَه الناسُ على أموالِهم وأنفُسِهم، والمسلمُ مَن سَلِمَ المسلمون من لسانِه ويدِه، والمجاهدُ مَن جَاهَدَ نفسَه في طاعةٍ، والمهاجرُ من هَجَرَ الخطايا والذُّنوبَ" (1) . وزيادة أخرى على شرط مسلم، ولم يُخرجاها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 24 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 24 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ مومن کون ہے؟ (مومن وہ ہے) جس سے لوگ اپنے اموال اور اپنی جانوں کے متعلق پرامن ہو جائیں، اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں، اور مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے، اور مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو چھوڑ دے۔“
اس میں امام مسلم کی شرط پر ایک اور زیادتی ہے جسے ان دونوں نے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 24]
اس میں امام مسلم کی شرط پر ایک اور زیادتی ہے جسے ان دونوں نے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 24]
حدیث نمبر: 25
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحسن بن موسى الأَشيَبُ، حدثنا حمّاد، عن يونس بن عُبيد وحُميدٍ، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"المؤمنُ مَنْ أَمِنَه الناسُ، والمسلمُ مَن سَلِمَ المسلمون من لسانِه ويدِه، والمهاجرُ من هَجَرَ السُّوءَ، والذي نفسي بيده، لا يَدخُلُ الجنةَ عبدٌ لا يَأمَنُ جارُه بَوَائقَه" (2) . وزيادة أخرى صحيحة سليمة من رواية المجروحين في مَتْن هذا الحديث ولم يُخرجاها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 25 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 25 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن وہ ہے جس سے لوگ پرامن رہیں، مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں، اور مہاجر وہ ہے جو برائی کو چھوڑ دے، اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، وہ بندہ جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو۔“
اس حدیث کے متن میں مجروح راویوں سے پاک ایک اور صحیح زیادتی بھی ہے جسے ان دونوں نے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 25]
اس حدیث کے متن میں مجروح راویوں سے پاک ایک اور صحیح زیادتی بھی ہے جسے ان دونوں نے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 25]
17. الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ وَالشُّحَّ
قیامت کے دن ظلم کی تاریکیاں، اور بے حیائی، بدکلامی اور بخل سے بچنے کی تاکید
حدیث نمبر: 26
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان (1) بن حَرْب، حدثنا شُعْبة. وأخبرني أبو عمرو محمد بن جعفرٍ العَدْل، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا عُبيد الله بن معاذ، حدثنا أبي، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرَّة قال: حدثني عبد الله بن الحارث - وأثنى عليه خيرًا - عن أبي كَثير، عن عبد الله بن عمرو قال: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ فقال:"إيّاكم والظُّلمَ، فإنَّ الظُّلمَ ظُلُماتٌ يومَ القيامة، وإيّاكم والفُحْشَ والتفحُّشَ، وإيّاكم والشُّحَّ، فإنما هَلَكَ مَن كان قَبلَكم بالشُّحِّ، أَمَرَهم بالقَطِيعة فقَطَعُوا، وبالبُخْل فبَخِلوا، وبالفجور ففَجَرُوا" فقام رجل فقال: يا رسولَ الله، أيُّ الإسلام أفضلُ؟ قال:"أن يَسلَمَ المسلمون من لسانِك ويدِك"، فقال ذلك الرجل أو غيرُه: يا رسولَ الله، أيُّ الهجرةِ أفضلُ؟ قال:"أنْ تَهجُرَ ما كَرِهَ ربُّك"، قال:"والهِجرةُ هجرتانِ: هجرةُ الحاضر، وهجرةُ البادِي، فهجرةُ البادي: أن يجيبَ إذا دُعِيَ، ويطيعَ إذا أُمِرَ، وهجرةُ الحاضر أعظَمُهما بَلِيَّةً، وأفضلُهما أجرًا" (2) . قد خرَّجا جميعًا حديث الشَّعْبي عن عبد الله بن عمرو مختصرًا ولم يُخرجا هذا الحديث، وقد اتَّفقا على عمرو بن مُرَّة وعبد الله بن الحارث النَّجْراني (1) ، فأما أبو كَثير زهير بن الأَقمَر الزُّبيدي فإنه سمع عليًّا وعبدَ الله فمَن بعدَهما من الصحابة. وهذا الحديث بعَينِه عند الأعمش عن عمرو بن مُرَّة:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا سبب ہوگا، اور فحش گوئی و بدزبانی سے بچو، اور حرص و بخل سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ حرص و بخل ہی کی وجہ سے ہلاک ہوئے، اسی نے انہیں قطع رحمی کا حکم دیا تو انہوں نے ناطے توڑ لیے، بخل کا حکم دیا تو انہوں نے بخل کیا، اور گناہوں کا حکم دیا تو وہ گناہوں میں پڑ گئے۔“ تب ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ (دوسرے) مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں“، پھر اسی شخص یا کسی اور نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناپسند ہو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مزید) فرمایا: ”ہجرت دو طرح کی ہے: ایک شہری (مقیم) کی ہجرت اور دوسری دیہاتی (بدوی) کی ہجرت؛ دیہاتی کی ہجرت یہ ہے کہ جب اسے (جہاد کے لیے) پکارا جائے تو جواب دے اور جب حکم دیا جائے تو اطاعت کرے، اور شہری کی ہجرت ان دونوں میں آزمائش کے اعتبار سے زیادہ بڑی اور اجر کے لحاظ سے زیادہ فضیلت والی ہے۔“
ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے شعبی عن عبداللہ بن عمرو کی حدیث مختصر طور پر روایت کی ہے لیکن اس حدیث کو روایت نہیں کیا، حالانکہ ان دونوں کا عمرو بن مرہ اور عبداللہ بن حارث نجرانی پر اتفاق ہے، جبکہ ابوکثیر زہیر بن اقمر زبیدی نے سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اور ان کے بعد کے صحابہ سے سماع کیا ہے۔ بعینہ یہی حدیث امام اعمش کے ہاں بھی عمرو بن مرہ کے واسطے سے موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 26]
ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے شعبی عن عبداللہ بن عمرو کی حدیث مختصر طور پر روایت کی ہے لیکن اس حدیث کو روایت نہیں کیا، حالانکہ ان دونوں کا عمرو بن مرہ اور عبداللہ بن حارث نجرانی پر اتفاق ہے، جبکہ ابوکثیر زہیر بن اقمر زبیدی نے سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اور ان کے بعد کے صحابہ سے سماع کیا ہے۔ بعینہ یہی حدیث امام اعمش کے ہاں بھی عمرو بن مرہ کے واسطے سے موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 26]
حدیث نمبر: 27
حدَّثَناه عليُّ بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا عبد الله بن عمر بن أَبَان، حدثنا حسين بن علي، عن الفُضَيل بن عِيَاض، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرَّة، عن عبد الله بن الحارث، عن زهير بن الأَقمَر، عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ:"اتقُوا الظلمَ"، فذكر الحديث بطوله (2) . ولهذه الزيادات التي ذَكَرْناها عن عبد الله بن عمرو شاهدٌ صحيح على شرط مسلم من رواية أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 26 - اتفقا على عمرو عن عبد الله بن الحارث النجراني فأما أبو كثير زهير بن الأقمر الزبيدي فإنه سمع عليا وعبد الله ورواه الأعمش عن الأعمش عن عمرو
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 26 - اتفقا على عمرو عن عبد الله بن الحارث النجراني فأما أبو كثير زهير بن الأقمر الزبيدي فإنه سمع عليا وعبد الله ورواه الأعمش عن الأعمش عن عمرو
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اتقوا الظلم» ”ظلم سے بچو“، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
عبداللہ بن عمرو سے مروی ان زیادتیوں کے لیے امام مسلم کی شرط پر سیدنا ابوہریرہ کی روایت سے ایک صحیح شاہد موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 27]
عبداللہ بن عمرو سے مروی ان زیادتیوں کے لیے امام مسلم کی شرط پر سیدنا ابوہریرہ کی روایت سے ایک صحیح شاہد موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 27]
حدیث نمبر: 28
أخبرَناه أبو الحسين محمد بن أحمد القَنطَري، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، عن ابن عَجْلان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق - واللفظ له - أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا ابن بُكَير، حدثني الليث، عن محمد بن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد المقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إياكم والفُحْشَ والتفحُّشَ، فإنَّ الله لا يحبُّ الفاحشَ المتفحِّشَ، وإياكم والظُّلمَ فإنه هو الظُّلُماتُ يومَ القيامة، وإياكم والشُّحَّ، فإنه دعا مَن قَبلَكم فَسَفَكُوا دماءَهم، ودعا مَن قَبلَكم فَقَطَعُوا أرحامَهم، ودعا مَن قَبلَكم فاستَحلُّوا حُرُماتِهم" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 28 - رواه الليث والنبيل عنه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 28 - رواه الليث والنبيل عنه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فحش گوئی اور بدزبانی سے بچو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فحش گوئی کرنے والے اور زبان درازی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا، اور ظلم سے بچو کیونکہ یہی قیامت کے دن کی تاریکیاں ہیں، اور حرص و بخل سے بچو، کیونکہ اسی (بیماری) نے تم سے پہلے لوگوں کو اس بات پر ابھارا کہ انہوں نے خون بہائے، اپنوں سے ناطے توڑے اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کر لیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 28]
18. لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيِّ
مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 29
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الفقيه، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا محمد بن سابقٍ، حدثنا إسرائيل، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلْقمة، عن عبد الله، عن النبي ﷺ قال:"ليس المؤمنُ بالطَّعَانِ ولا اللَّعّانِ، ولا الفاحشِ ولا البَذِيء" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بهؤلاء الرواة عن آخرهم، ثم لم يخرجاه، وأكثرُ ما يمكن أن يقال فيه أنه لا يوجدُ عند أصحاب الأعمش، وإسرائيلُ بن يونس السَّبِيعي كبيرُهم وسيِّدهم، وقد شاركَ الأعمشَ في جماعة من شيوخه، فلا يُنكَرُ له التفرُّدُ عنه بهذا الحديث (3) . وللحديث شاهدٌ آخرُ على شرطهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 29 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بهؤلاء الرواة عن آخرهم، ثم لم يخرجاه، وأكثرُ ما يمكن أن يقال فيه أنه لا يوجدُ عند أصحاب الأعمش، وإسرائيلُ بن يونس السَّبِيعي كبيرُهم وسيِّدهم، وقد شاركَ الأعمشَ في جماعة من شيوخه، فلا يُنكَرُ له التفرُّدُ عنه بهذا الحديث (3) . وللحديث شاهدٌ آخرُ على شرطهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 29 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، فحش گوئی کرنے والا اور بے ہودہ بکنے والا نہیں ہوتا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے ان تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن پھر بھی اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اعمش کے (عام) شاگردوں کے ہاں موجود نہیں ہے، حالانکہ اسرائیل بن یونس سبیعی ان کے بڑے شاگرد اور سردار ہیں اور وہ اعمش کے کئی اساتذہ میں ان کے شریک ہیں، لہٰذا اس حدیث میں ان کا اکیلا ہونا (منفرد ہونا) باعثِ نکارت نہیں۔ اس حدیث کا ان دونوں کی شرط پر ایک اور شاہد بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 29]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے ان تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن پھر بھی اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اعمش کے (عام) شاگردوں کے ہاں موجود نہیں ہے، حالانکہ اسرائیل بن یونس سبیعی ان کے بڑے شاگرد اور سردار ہیں اور وہ اعمش کے کئی اساتذہ میں ان کے شریک ہیں، لہٰذا اس حدیث میں ان کا اکیلا ہونا (منفرد ہونا) باعثِ نکارت نہیں۔ اس حدیث کا ان دونوں کی شرط پر ایک اور شاہد بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 29]