🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. التَّشْدِيدُ فِي قَتْلِ الْمُؤْمِنِ
مومن کے قتل کی سخت ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 50
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الفقيه، حدثنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا يحيى بن مَعِين. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن نَجْدة، حدثنا سعيد بن منصور؛ قالوا: حدثنا هُشَيم، عن داود بن أبي هند، عن أبي حرب بن أبي الأسود، عن فَضَالة اللَّيثي قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ فقلت: إني أريدُ الإسلامَ فعلِّمني شرائعَ من شرائعِ الإسلام، فذكر الصلاةَ وشهرَ رمضان ومواقيتَ الصلاة، فقلت: يا رسول الله، إنك تَذكُر ساعاتٍ أنا فيهن مشغولٌ، ولكن علِّمني جِماعًا من الكلام، قال:"إِنْ شُغِلتَ فلا تُشغَلْ عن العصرَينِ" قلت: وما العصرانِ؟ ولم تكن لغةَ قومي، قال:"الفجرُ والعصرُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وفيه ألفاظٌ لم يُخرجاها بإسناد آخر، وأكثرها فائدةً ذِكرُ شرائع الإسلام، فإنه في حديث عبد العزيز بن أبي رَوَّاد (1) عن علقمة بن مَرثَدٍ، عن يحيى بن يَعمَرَ، عن ابن عمر (2) ، وليس من شَرْط واحدٍ منهما. وقد خُولِفَ هُشيم بن بَشير في هذا الإسناد عن داود بن أبي هند خلافًا لا يضرُّ الحديثَ، بل يزيده تأكيدًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 50 - على شرط مسلم
سیدنا فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں اسلام لانا چاہتا ہوں، پس مجھے اسلام کی کچھ شرائع (احکام) سکھا دیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، رمضان کے مہینے اور نماز کے اوقات کا ذکر فرمایا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ان اوقات کا ذکر فرما رہے ہیں جن میں، میں مصروف ہوتا ہوں، لہٰذا مجھے کوئی جامع بات سکھا دیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مصروف بھی ہو تو ان دو عصروں (عصرین) سے غافل نہ ہونا۔ میں نے پوچھا: یہ ’عصرین‘ کیا ہیں؟ کیونکہ یہ میری قوم کی لغت نہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر اور عصر۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، اس میں ایسے الفاظ ہیں جنہیں انہوں نے دوسری اسناد سے بھی روایت نہیں کیا، اور ان میں سب سے زیادہ فائدہ مند بات اسلام کی شرائع کا ذکر ہے، کیونکہ یہ عبدالعزیز بن ابی رواد کی روایت میں علقمہ بن مرثد عن یحییٰ بن یعمر عن ابن عمر کے واسطے سے ہے، جو ان دونوں میں سے کسی کی شرط پر نہیں ہے۔ اور اس سند میں ہشیم بن بشیر کی داؤد بن ابی ہند سے روایت میں ایسا اختلاف کیا گیا ہے جو حدیث کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اسے مزید تقویت دیتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 50]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. شِدَّةُ الِاهْتِمَامِ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَالْعَصْرِ
فجر اور عصر کی نماز پر خاص تاکید
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 51
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا محمد بن بِشْر بن مَطَر، حدثنا وهب بن بَقيَّة. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا إسحاق بن شاهين؛ قالا: حدثنا خالد بن عبد الله، عن داود عن أبي حَرْب، عن عبد الله بن فَضَالة، عن أبيه قال: عَلَّمَني رسول الله ﷺ، فكان فيما عَلَّمَني أن قال:"حافِظْ على الصَّلَوات الخَمْس" فقلت: هذه ساعاتٌ لي فيها أشغالٌ، فحدِّثني بأمرٍ جامعٍ إذا أنا فعلتُه أجزأَ عني، قال:"حافِظْ على العَصْرَينِ" - قال: وما كانت من لغتنا - قلت: وما العَصرانِ؟ قال:"صلاةٌ قبلَ طلوع الشمس، وصلاةٌ قبلَ غروبِها" (3) . أبو حرب بن أبي الأسود الدِّيلي تابعيٌّ كبير، عنده عن أكابر الصحابة لا يَقصُر سماعُه عن فَضَالة بن عبيد الليثي، فإنَّ هشيم بن بشير حافظ معروف بالحفظ، وخالد بن عبد الله الواسطي صاحبُ كتاب، وهذا في الجملة كما خرَّج مسلم في كتاب الإيمان (1) حديثَ شعبة عن عثمان بن عبد الله بن مَوْهَب، وبعده عن محمد بن عثمان عن أبيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 51 - وخولف هشيم رواه خالد بن عبد الله عن أبي حرب عن عبد الله بن فضالة عن أبيه قال علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم
سیدنا عبداللہ بن فضالہ اپنے والد (سیدنا فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دین کی باتیں) سکھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو باتیں سکھائیں ان میں یہ بھی فرمایا: پانچوں نمازوں کی حفاظت کیا کرو، میں نے عرض کیا: یہ ایسے اوقات ہیں جن میں، میں مصروف ہوتا ہوں، لہٰذا مجھے کوئی ایسی جامع بات بتا دیجیے کہ اگر میں اسے کر لوں تو وہ میری طرف سے کافی ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عصروں (عصرین) کی حفاظت کیا کرو - راوی کہتے ہیں کہ یہ لفظ ہماری لغت میں نہیں تھا - چنانچہ میں نے پوچھا: یہ ’عصرین‘ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نماز سورج نکلنے سے پہلے (فجر) اور ایک نماز سورج غروب ہونے سے پہلے (عصر)۔
ابو حرب بن ابی الاسود الدیلی ایک کبار تابعی ہیں، انہوں نے اکابر صحابہ سے روایت کی ہے اور ان کا سیدنا فضالہ بن عبید لیثی سے سماع بعید نہیں ہے، نیز ہشیم بن بشیر مشہور حافظِ حدیث ہیں اور خالد بن عبداللہ الواسطی صاحبِ کتاب (مستند) راوی ہیں، اور یہ مجموعی طور پر ویسے ہی ہے جیسے امام مسلم نے کتاب الایمان میں شعبہ عن عثمان بن عبداللہ بن موہب اور اس کے بعد محمد بن عثمان عن ابیہ کے واسطے سے تخریج کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 51]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 52
حدثني علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد. وأخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي؛ قالا: حدثنا محمد بن أبي السَّرِيِّ العَسقَلَاني، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"إِنَّ للإسلام صُوًى (2) ومَنارًا كمَنارِ الطريق" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري فقد روى عن محمد بن خلف العسقلاني (1) ، واحتجَّ بثور بن يزيد الشامي، فأما سماعُ خالد بن مَعْدان عن أبي هريرة فغير مُستبدَع، فقد حكى الوليد بن مسلم عن ثور بن يزيد عنه أنه قال: لقيتُ سبعةَ عشرَ رجلًا من أصحاب رسول الله ﷺ. ولعلَّ متوهِّمًا يَتوهَّمُ أنَّ هذا متنٌ شاذٌّ، فليَنظُر في الكتابين ليجدَ من المتون الشاذَّة (2) التي ليس لها إلّا إسناد واحد ما يُتعجَّب منه، ثم ليَقِسْ هذا عليها. حديث آخر بهذا الإسناد (3) :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 52 - غير مستبدع لقي خالد أبا هريرة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اسلام کے کچھ نمایاں نشانات اور مینار ہیں جیسے راستے کے نشانات (اور مینار) ہوتے ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے محمد بن خلف العسقلانی سے روایت کی ہے اور ثور بن یزید شامی سے احتجاج کیا ہے، رہا خالد بن معدان کا سیدنا ابوہریرہ سے سماع تو وہ بعید از قیاس نہیں ہے، کیونکہ ولید بن مسلم نے ثور بن یزید کے واسطے سے ان (خالد) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سترہ اصحاب سے ملاقات کی ہے۔ اور اگر کسی کے وہم میں یہ بات آئے کہ یہ متن شاذ ہے، تو وہ ان دونوں کتابوں (بخاری و مسلم) میں دیکھے جہاں اسے ایسے شاذ متون ملیں گے جن کی صرف ایک ہی سند ہے اور وہ باعثِ تعجب ہیں، پھر وہ اس حدیث کو بھی انہی پر قیاس کر لے۔ اسی سند کے ساتھ ایک اور حدیث درج ذیل ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 52]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 53
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا محمد بن أبي السَّرِيّ، حدثنا الوليد بن مسلم، عن ثَوْر بن يزيد عن خالد بن مَعْدان، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"الإسلام أن تَعبُدَ اللهَ لا تُشْرِكُ به شيئًا، وتقيمَ الصلاةَ، وتُؤتيَ الزكاةَ، وتصومَ رمضان، وتحجَّ البيتَ، والأمرُ بالمعروف والنهيُ عن المنكر، وتسليمُك على أهلِك، فمن انتَقَصَ شيئًا منهنَّ فهو سهمٌ من الإسلام يَدَعُه، ومَن تركهنَّ كلَّهنَّ فقد وَلَّى الإسلامَ ظهرَه". هذا الحديث مثلُ الأول في الاستقامة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 53 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے روکو، اور اپنے گھر والوں کو سلام کرو، پس جس نے ان میں سے کسی چیز میں کمی کی تو اس نے اسلام کا وہ حصہ چھوڑ دیا (جو اس کے ذمے تھا)، اور جس نے ان سب کو چھوڑ دیا اس نے اسلام کی طرف اپنی پیٹھ پھیر لی۔
یہ حدیث ثقاہت و درستگی میں پہلی حدیث کی طرح ہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 53]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. الِإْسَلَاُم أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ
اسلام یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 54
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبْة. وأخبرني الحسين بن علي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن يحيى بن أبي سُلَيم، قال: سمعت عمرَو بن ميمون يحدِّث عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ألَا أُعلمُك" أو"ألا أَدُلُّك على كلمةٍ مِن تحتِ العرش مِن كَنْز الجنة، تقول: لا حولَ ولا قوةَ إلَّا بالله، فيقول الله ﷿: أَسلَمَ عبدي واستَسلمَ" (1) .
هذا حديث صحيح ولا يُحفَظ له عِلَّة، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ مسلم بيحيى بن أبي سليم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 54 - صحيح لا علة له
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں عرش کے نیچے سے (نکلنے والا) جنت کا ایک خزانہ نہ سکھاؤں (یا فرمایا: اس کی طرف رہنمائی نہ کروں)؟ تم کہا کرو: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» (اللہ کی نافرمانی سے) پھرنے کی ہمت اور (نیکی کرنے کی) قوت اللہ ہی کی توفیق سے ہے، تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے سرِ تسلیم خم کر دیا اور وہ میرے تابع ہو گیا۔
یہ صحیح حدیث ہے اور اس کی کوئی علت معلوم نہیں ہے، اگرچہ ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس کی تخریج نہیں کی، لیکن امام مسلم نے یحییٰ بن ابی سلیم سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 54]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ
لا حول ولا قوة إلا بالله جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 55
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا محمد بن غالب بن حَرْب. وأخبرني الحسين بن علي، حدثنا محمد بن إسحاق؛ قالا: حدثنا علي بن مسلم الطُّوسِي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث. وحدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا علي بن العباس البَجَلي قال: ذَكَرَ عبدُ الوارث بن عبد الصمد، قال: حدثني أَبي، حدثنا شعبة، عن الأعمش، عن زيد بن وَهْب، عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"لو أنَّ رجلَينِ دَخَلا في الإسلام فاهتَجَرَا، كان أحدُهما خارجًا من الإسلام حتى يَرجِعَ الظالمُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين جميعًا، ولم يُخرجاه، وعبد الصمد بن عبد الوارث بن سعيد ثقة مأمون، وقد خرَّجا جميعًا له غيرَ حديث تفرَّد به عن أبيه وشعبة وغيرهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 55 - قد خرجا عنه يعني عبد الصمد بن عبد الوارث حديث تفرد به عبد الصمد عن أبيه وشعبة
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دو شخص اسلام میں داخل ہوں اور پھر ایک دوسرے سے قطع تعلق کر لیں (بول چال بند کر دیں)، تو ان میں سے ایک اسلام سے خارج رہے گا یہاں تک کہ ظالم (قطع تعلق کی ابتدا کرنے والا) رجوع کر لے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبدالصمد بن عبدالوارث بن سعید ثقہ اور مامون راوی ہیں، اور ان دونوں نے ان سے کئی ایسی احادیث روایت کی ہیں جن میں وہ اپنے والد، شعبہ اور دیگر سے روایت کرنے میں منفرد تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 55]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 56
حدثنا أبو النَّضْر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي (1) قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي. وحدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد؛ قالوا: حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا نافع بن يزيد، حدثنا ابنُ الهادِ، أنَّ سعيد بن أبي سعيد حدَّثه، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"إذا زنى العبدُ خرجَ منه الإيمانُ، فكان كالظُّلَّةِ، فإذا انقَلَعَ منها، رجعَ إليه الإيمان" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا برواته. وله شاهد على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 56 - على شرطهما
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل جاتا ہے اور اس کے سر پر سائبان کی طرح (معلق) ہو جاتا ہے، پھر جب وہ اس (فعل) سے الگ ہوتا ہے تو ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے۔ اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر بھی موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 56]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. إِذَا زَنَا الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ
جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 57
حدثنا بكر (3) بن محمد بن حمدان الصَّيْرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل. وحدثنا جعفر بن محمد بن نُصَير ببغداد، حدثنا بشر بن موسى؛ قالا: حدثنا أبو عبد الرحمن المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثنا عبد الله بن الوليد، عن ابن حُجَيرةَ، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"مَن زنى أو شرب الخمرَ، نَزَعَ اللهُ منه الإيمانَ كما يَخلَعُ الإنسانُ القميصَ من رأسه" (4) . قد احتجَّ مسلم بعبد الرحمن بن حُجَيرة وعبد الله بن الوليد، وهما شاميَّان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 57 - احتج مسلم بعبد الرحمن بن حجيرة وبعبد الله بن الوليد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے زنا کیا یا شراب پی، اللہ اس سے ایمان (کا نور) اس طرح کھینچ لیتا ہے جیسے انسان اپنے سر سے قمیص اتارتا ہے۔
امام مسلم نے عبدالرحمن بن حجیرہ اور عبداللہ بن ولید سے احتجاج کیا ہے اور یہ دونوں شامی راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 57]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 58
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا جرير بن حازم، عن يعلى بن حَكِيم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر قال: قال النبي ﷺ:"الحياءُ والإيمانُ قُرِنا جميعًا، فإذا رُفِعَ أحدُهما رُفِعَ الآخَرُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرطهما، فقد احتجَّا برواتِه ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 58 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیا اور ایمان دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، جب ان میں سے ایک اٹھا لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔
یہ حدیث ان دونوں (امام بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے اس کے راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 58]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 59
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا أحمد بن يحيى بن رَزِين (2) ، حدثنا هارون بن معروف، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني أبو صخر، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ المؤمن يَألَفُ، ولا خيرَ فيمن لا يَألَفُ ولا يُؤلَفُ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولا أعلمُ له عِلَّةً (1) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 59 - علته انقطاعه فإن أبا حازم هذا هو المديني لا الأشجعي ولم يلق أبو صخر الأشجعي ولا المديني لقي أبا هريرة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک مومن الفت و محبت کرنے والا ہوتا ہے، اور اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو نہ دوسروں سے الفت کرے اور نہ ہی اس سے الفت کی جائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس میں کوئی علت میری علمی حد تک نہیں ہے، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 59]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں