🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ
منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 831
أخبرني أبو الحسن إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن موسى بن إبراهيم قال: سمعت سَلَمةَ بن الأكوع يقول: سألتُ النبيَّ ﷺ فقلت: أكونُ في الصيد وليس عليَّ إلّا قميصٌ واحد، أو جُبَّة واحدة، فأشُدُّه - أو قال: أزرُّه -؟ قال:"نعم، ولو بشَوْكةٍ" (1) .
هذا حديث مَدِيني صحيح، فإنَّ موسى هذا هو ابن إبراهيم التَّيْمي، أخو محمد (2) ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 913 - والحديث صحيح
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: میں شکار پر ہوتا ہوں اور میرے جسم پر صرف ایک قمیص یا ایک چغہ ہوتا ہے، کیا میں (ستر ڈھانپنے کے لیے) اسے باندھ لوں یا بٹن لگا لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، خواہ کانٹے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔
یہ مدنی حدیث صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 831]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي لِحَافٍ لَا يُتَوَشَّحُ بِهِ، وَنَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ فِي سَرَاوِيلَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ
اس بات سے منع فرمایا گیا کہ آدمی ایسی چادر میں نماز پڑھے جو جسم پر لپیٹی نہ ہو، اور اس سے بھی منع فرمایا کہ صرف شلوار میں بغیر اوپر کی چادر کے نماز پڑھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 832
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا إبراهيم بن عبد الله المُخرِّمي (3) ، حدثنا سعيد بن محمد الجَرْمي، حدثنا أبو تُمَيلة يحيى بن واضح، حدثنا أبو المُنِيب، عن عبد الله بن بُرَيْدَة، عن أبيه قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ أَن يُصلَّى في لحافٍ لا يُتوَشَحُ به، ونهى أن يُصلِّيَ الرجلُ في سراويلَ وليس عليه رداءٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، واحتجَّا بأبي تُمَيلة، وأما أبو المُنِيب المروَزي فإنه عُبيد الله بن عبد الله العَتَكي (2) من ثِقات المَراوِزة وممَّن يُجمَع حديثه في الخُراسانيين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 914 - على شرطهما
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کے والد سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا جسے (صرف لپیٹ لیا گیا ہو اور) اوڑھا نہ گیا ہو، اور اس بات سے بھی منع فرمایا کہ آدمی صرف شلوار میں نماز پڑھے جبکہ اس پر چادر یا بالائی لباس نہ ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے راوی ابو منیب مروزی ثقہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 832]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. تُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا
عورت قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھ سکتی ہے اگر قمیص لمبی ہو اور پاؤں کی پشت کو ڈھانپتی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 833
أخبرنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا محمد بن نُعَيم، حدثنا مجاهد بن موسى، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن محمد بن زيد بن قُنفُذ، عن أمِّه (3) ، عن أم سلمة: أنها سأَلَت النبيَّ ﷺ: أتصلِّي المرأة في دِرْعٍ، وخِمار ليس عليها إزار؟ قال:"إذا كان الدِّرعُ سابغًا يُغطِّي ظُهورَ قَدَميها" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 915 - على شرط البخاري
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا عورت قمیص اور دوپٹے میں نماز پڑھ سکتی ہے جبکہ اس نے (نیچے) تہبند نہ پہنا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بشرطیکہ قمیص اتنی لمبی ہو کہ اس کے پاؤں کی پشت کو چھپا لے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 833]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 834
أخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو بكر محمد بن محمد بن رجاء، حدثنا صفوان بن صالح الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا زهير بن محمد التَّميمي، حدثنا زيد بن أسلمَ قال: رأيتُ ابنَ عمر يصلِّي محلولٌ إزارُه، فسألتُه عن ذلك فقال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يفعلُه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 916 - على شرطهما
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا کہ ان کے تہبند کے بندھن کھلے ہوئے تھے، میں نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 834]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ
بالغ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں ہوتی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 835
حدثنا علي بن حَمْشَاذ، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حَجَّاج بن مِنْهال، حدثنا حمّاد، عن قَتَادة، عن محمد بن سِيرِينَ، عن صفيَّة بنت الحارث، عن عائشة، عن النبي ﷺ أنه قال:"لا تُقبَلُ صلاةُ حائض إلّا بخِمَار" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وأظنُّ أنه لخلافٍ فيه على قتادةَ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 917 - على شرط مسلم وعلته ابن أبي عروبة
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالغہ عورت کی نماز دوپٹے (اوڑھنی) کے بغیر قبول نہیں ہوتی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، غالباً قتادہ پر اسناد کے اختلاف کی وجہ سے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 835]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 836
أخبرَناه الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادة عن الحسن، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا تُقبلُ صلاةُ حائضٍ إلا بخِمَار" (4) .
حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالغہ عورت کی نماز دوپٹے کے بغیر قبول نہیں ہوتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 836]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْحَمَّامُ وَالْمَقْبَرَةُ
ساری زمین مسجد ہے سوائے حمام اور قبرستان کے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 837
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عمرو بن يحيى عمرو بن يحيى الأنصاري، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"الأرضُ كلُّها مسجدٌ إِلَّا الحمَّامَ والمَقبُرةَ" (1) . تابعه عبدُ العزيز بن محمد عن عمرو بن يحيى:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 919 - تابعه عبد العزيز بن محمد عن عمرو
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام زمین سجدہ گاہ (نماز کی جگہ) ہے سوائے غسل خانے اور قبرستان کے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 837]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 838
أخبرَناه عبد الله بن محمد الصَّيدَلاني، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا إبراهيم بن موسى، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثنا عمرو بن يحيى بن عُمَارة، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"الأرضُ كلُّها مسجدٌ إلّا الحمَّامَ والمَقبُرةَ" (2) . وقد تابع عُمارة بن غَزِيَّةَ عمرو بنَ يحيى على روايته عن أبيه يحيى بن عُمَارة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 920 - كلاهما يعني هذا الحديث ورقم 919 على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام زمین مسجد ہے سوائے غسل خانے اور قبرستان کے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 838]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 839
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بِشْر بن المفضَّل، حدثنا عُمَارة بن غَزِيَّةَ، عن يحيى بن عُمَارة الأنصاري، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"الأرضُ كلُّها مسجدٌ إِلَّا الحمّامَ والمَقبُرةَ" (1) . هذه الأسانيد كلُّها صحيحةٌ على شرط البخاري ومسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام زمین مسجد ہے سوائے غسل خانے اور قبرستان کے۔
یہ تمام اسناد امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں لیکن انہوں نے انہیں روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 839]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. لَا تُصَلُّوا إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ
سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو اور کسی کو اپنے آگے سے گزرنے نہ دو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 840
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو بكر الحَنَفي، حدثنا الضحَّاك بن عثمان، حدثني صَدَقة بن يَسَار، سمعتُ ابنَ عمر يقول: قال رسول الله ﷺ:"لا تُصلُّوا إلّا إلى سُتْرة، ولا تَدَعْ أحدًا يمرُّ بين يديكَ، فإن أَبَى فقاتِلْه فإنَّ معه القرينَ" (2) .
هذا حديث على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 921 - على شرط مسلم
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سترا (آڑ) کے بغیر نماز نہ پڑھو اور اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے نہ دو، اگر وہ نہ مانے تو اسے سختی سے روکو کیونکہ اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 840]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں