المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
40. خَيْرُ مَسَاجِدِ النِّسَاءِ قَعْرُ بُيُوتِهِنَّ
عورتوں کے لیے سب سے بہتر مسجد ان کے گھروں کا اندرونی حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 851
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أحمد الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مَهْدي بن رُسْتُم الأصبهاني، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلَابي، حدثنا همَّام، عن قَتَادة، عن مُوَرِّق، عن أبي الأحوَص، عن عبد الله، عن النبي ﷺ قال:"صلاةُ المرأة في بيتها أفضلُ من صلاتها في حُجْرتِها، وصلاتُها في مَخدَعِها أفضلُ من صلاتها في بيتها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا جميعًا بالمورِّق بن مُشَمرِج العِجْلي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 757 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا جميعًا بالمورِّق بن مُشَمرِج العِجْلي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 757 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کا (اندرونی) کمرے میں نماز پڑھنا اس کے (باہر والے) کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اس کا اپنی کوٹھڑی (نہایت چھپے ہوئے حصے) میں نماز پڑھنا اس کے کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ انہوں نے مورق بن مشمرج عجلی سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 851]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ انہوں نے مورق بن مشمرج عجلی سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 851]
41. إِقَامَةُ الْجَمَاعَةِ فِي الْمَسَاجِدِ مَرَّتَيْنِ
مسجد میں جماعت دو مرتبہ قائم کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 852
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو بكر بن أبي خَيثَمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب، عن سليمان الأسود، عن أبي المتوكِّل الناجيِّ، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ النبي ﷺ أبصَرَ رجلًا يصلِّي وحدَه، فقال:"ألا رجلٌ يتصدَّقُ على هذا فيصلِّيَ معه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وسليمان الأسود هذا: هو سليمان بن سُحَيم (3) ، قد احتَجَّ مسلم به وبأبي المتوكِّل، وهذا الحديث أصلٌ في إقامة الجماعة في المساجد مرَّتَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 758 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وسليمان الأسود هذا: هو سليمان بن سُحَيم (3) ، قد احتَجَّ مسلم به وبأبي المتوكِّل، وهذا الحديث أصلٌ في إقامة الجماعة في المساجد مرَّتَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 758 - على شرط مسلم
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اس پر صدقہ کرے اور اس کے ساتھ مل کر نماز پڑھے؟“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، یہ حدیث مساجد میں دوسری بار جماعت قائم کرنے کے بارے میں اصل دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 852]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، یہ حدیث مساجد میں دوسری بار جماعت قائم کرنے کے بارے میں اصل دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 852]
42. مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَأَصَابَ الْوَقْتَ فَلَهُ وَلَهُمْ وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ
جو شخص لوگوں کی امامت کرے اور نماز وقت پر درست ادا کرے تو اس کا اجر بھی اسے ملتا ہے اور مقتدیوں کو بھی، اور جو کمی کرے اس کا وبال اسی پر ہوگا، مقتدیوں پر نہیں۔
حدیث نمبر: 853
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عبيد بن شَرِيك، حدثنا ابن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب. وأخبرني إسماعيل بن أحمد التاجرُ - واللفظ له - حدثنا محمد بن الحسن العَسقَلاني، حدثنا حَرمَلة بن يحيى، حدثنا ابن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن عبد الرحمن بن حَرمَلة، عن أبي علي الهَمْداني قال: سمعت عُقْبة بن عامر الجُهَني يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"مَن أَمَّ قومًا فأصابَ الوقتَ، فله ولهم، ومَن انتقَصَ شيئًا، فعليه ولا عليهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 759 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 759 - على شرط البخاري
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے لوگوں کی امامت کی اور صحیح وقت پر نماز پڑھائی، تو اس کا اجر اسے بھی ملے گا اور مقتدیوں کو بھی، اور اگر اس نے (ارکان یا وقت میں) کوئی کمی کی تو اس کا وبال اس پر ہوگا نہ کہ مقتدیوں پر۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 853]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 853]
43. نَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ فَوْقُ وَيَبْقَى النَّاسُ خَلْفَهُ
رسولُ اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ امام اونچی جگہ کھڑا ہو اور لوگ اس کے پیچھے نیچے رہیں۔
حدیث نمبر: 854
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا الأعمش، عن إبراهيم، عن همَّام: أنَّ حذيفة أَمَّ الناسَ بالمدائن على دُكّان، فأخذ أبو مسعود بقميصِه فجَذَبَه، فلما فَرَغَ من صلاته قال: ألم تَعلَمْ أنهم كانوا يَنهَونَ عن ذلك؟ - أو قال: ألم تَعلَمْ أنه كان يُنهَى عن ذلك؟ - قال: بلى، قد ذَكَرتُ حين مَدَدْتَني (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 760 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 760 - على شرطهما
ہمام بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن میں ایک چبوترے پر لوگوں کی امامت کی، تو سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کی قمیص پکڑ کر انہیں نیچے کھینچ لیا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ابو مسعود نے کہا: ”کیا آپ کو معلوم نہیں کہ وہ (صحابہ) اس سے منع کیا کرتے تھے؟“ حذیفہ نے کہا: ”کیوں نہیں، جب آپ نے مجھے کھینچا تو مجھے یاد آ گیا تھا۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 854]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 854]
حدیث نمبر: 855
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا زكريا بن يحيى، حدثنا زياد بن عبد الله، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن همَّام قال: صلَّى حذيفةُ بالناس بالمدائن فتقدَّم فوقَ دكَّانٍ، فأخذ أبو مسعود بمَجامِع ثيابِه فمَدَّه، فَرَجَعَ، فلما قَضَى الصلاةَ قال له أبو مسعود: ألم تَعلَمْ أنَّ رسول الله ﷺ نَهَى أن يقومَ الإمامُ فوقُ ويبقى الناسُ خلفَه؟ قال: فلَمْ تَرَني أجبتُك حين مَدَدتَني؟ (1)
ہمام بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن میں ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھائی، تو سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے کپڑے پکڑ کر انہیں نیچے کھینچا جس پر وہ پیچھے ہٹ آئے، جب نماز مکمل ہوئی تو ابو مسعود نے کہا: ”کیا آپ کو علم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ امام اونچی جگہ کھڑا ہو اور لوگ اس کے پیچھے (نیچی جگہ) ہوں؟“ حذیفہ نے کہا: ”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جب آپ نے مجھے کھینچا تو میں نے آپ کی بات مان لی تھی؟“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 855]
حدیث نمبر: 856
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّنْعاني (2) ، حدثنا محمد بن جُعشُم، عن سفيان. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن يحيى بن هانئ بن عُرْوة المُرَادي، عن عبد الحميد بن محمود قال: صلَّينا خلفَ أميرٍ من الأمراء فاضطَرَّنا الناسُ فصلَّينا ما بين سارِيتَينِ، فلما صلَّينا قال أنس بن مالك: كنا نَتَّقي هذا على عَهْد رسول الله ﷺ (3) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 762 - صحيح
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 762 - صحيح
عبد الحمید بن محمود بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ایک امیر کے پیچھے نماز پڑھی تو لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے ہمیں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنی پڑی، جب ہم نماز پڑھ چکے تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اس (ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے) سے بچا کرتے تھے۔“
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 856]
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 856]
حدیث نمبر: 857
حدثنا أبو عبد الله محمد بن الخليل الأصبهاني، حدثنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا مِنْجاب بن الحارث. وحدثنا أبو بكر محمد بن جعفر المزكِّي في آخرين قالوا: حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا علي بن حُجْر، قالا: حدثنا علي بن مُسهِر، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة وأبي سعيد، عن النبي ﷺ في قوله - جلَّ وعزَّ - ﴿إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ [الإسراء: 78] ، قال:"تَشْهَدُه ملائكةُ الليل، وملائكةُ النهار، تَجتمِعُ فيها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 763 - على شرطهما ثقات
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 763 - على شرطهما ثقات
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ [سورة الإسراء: 78] (بے شک فجر کے وقت قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا ہے) کے بارے میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور جمع ہو جاتے ہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 857]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 857]
44. كُنَّا إِذَا فَقَدْنَا الْإِنْسَانَ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَالصُّبْحِ أَسَأْنَا بِهِ الظَّنَّ
ہم جب کسی شخص کو عشاء اور فجر کی نماز میں غیر حاضر پاتے تو اس کے بارے میں برا گمان کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 858
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا وُهَيب بن خالد، حدثنا يحيى بن سعيد. وأخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا نُعَيم بن حمّاد، حدثنا عبد الله بن المبارَك، عن يحيى بن سعيد. وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن النَّضْر الجارُودي، حدثنا بكر بن خلف، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، قال: سمعتُ يحيى بن سعيد يقول: سمعتُ نافعًا يحدِّث، أنَّ عبد الله بن عمر كان يقول: كنا إذا فَقَدْنا الإنسانَ في صلاة العشاءِ الآخِرة والصبحِ أسَأْنا به الظنَّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 764 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 764 - على شرطهما
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: ”جب ہم کسی شخص کو عشاء اور صبح کی نماز میں غائب پاتے تو اس کے بارے میں (نفاق کا) برا گمان کرتے تھے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 858]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 858]
حدیث نمبر: 859
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأزْدي، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، حدثنا السائب بن حُبَيش الكَلَاعي، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعمَري قال: قال أبو الدَّرداء: أين مَسكنُك؟ قال: قريةٌ دون حِمْص، قال أبو الدرداء: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ما من ثلاثةِ نَفَرٍ في قريةٍ ولا بَدْوٍ لا تُقامُ فيهم الصلاةُ إلّا استَحوَذَ عليهم الشيطان"، فعليك بالجماعة، فإنما يَأكُلُ الذئبُ (2) القاصيةَ (3) .
هذا حديث صَدُوقٌ رواتُه، شاهدٌ لما تقدَّمه، متَّفَق على الاحتجاج برواته إلَّا السائبَ بن حُبيش، وقد عُرِفَ من مذهب زائدة أنه لا يحدِّث إلَّا عن الثِّقات.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 765 - زائدة مذهبة أن لا يحدث إلا عن الثقات
هذا حديث صَدُوقٌ رواتُه، شاهدٌ لما تقدَّمه، متَّفَق على الاحتجاج برواته إلَّا السائبَ بن حُبيش، وقد عُرِفَ من مذهب زائدة أنه لا يحدِّث إلَّا عن الثِّقات.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 765 - زائدة مذهبة أن لا يحدث إلا عن الثقات
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس بستی یا ریگستان میں بھی تین آدمی ہوں اور وہ وہاں (مل کر باجماعت) نماز قائم نہ کریں، تو ان پر شیطان غالب آ جاتا ہے، پس تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑیہ ہمیشہ اس بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو جاتی ہے۔“
اس کے راوی سچے ہیں اور یہ سابقہ روایات کے لیے شاہد ہے، اس کے تمام راویوں سے احتجاج پر اتفاق ہے سوائے سائب بن حبیش کے، اور زائدہ کا اصول ہے کہ وہ صرف ثقات سے روایت کرتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 859]
اس کے راوی سچے ہیں اور یہ سابقہ روایات کے لیے شاہد ہے، اس کے تمام راویوں سے احتجاج پر اتفاق ہے سوائے سائب بن حبیش کے، اور زائدہ کا اصول ہے کہ وہ صرف ثقات سے روایت کرتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 859]
45. فَضِيلَةُ الْمَشْيِ إِلَى الْمَسْجِدِ
مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 860
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن أبي عُشَّانةَ، أنه سمع عُقْبةَ بن عامر الجُهَني يحدِّث عن رسول الله ﷺ أنه قال:"إذا تَطهَّرَ الرجلُ، ثم مرَّ إلى المسجد فيَرعَى الصلاةَ، كَتَبَ له كاتبُه - أو كاتباه - بكلِّ خَطْوةٍ يَخطُوها إلى المسجد عشرَ حَسَنات، والقاعدُ يَرعَى الصلاةَ كالقانت، ويُكتَبُ من المصلِّين من حينِ يخرجُ من بيتِه حتى يَرجِعَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 766 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 766 - على شرط مسلم
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص پاکیزگی حاصل کر کے مسجد کی طرف جاتا ہے اور نماز کا انتظار کرتا ہے، تو اس کے کاتبین (فرشتے) اس کے ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں لکھتے ہیں، اور نماز کا انتظار کرنے والا تسبیح پڑھنے والے (عبادت گزار) کے مانند ہے، اور وہ اپنے گھر سے نکلنے کے وقت سے واپسی تک نمازیوں ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 860]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 860]