🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. التَّكْبِيرُ عَلَى الْجَنَائِزِ أَرْبَعًا
نمازِ جنازہ میں چار تکبیریں کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1439
أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو الوليد محمد بن أحمد بن بُرْدٍ الأنطاكي، حدثنا الهَيثَم بن جَمِيل، حدثنا مُبارَك بن فَضَالة، عن الحسن، عن أنس قال: كبَّرتِ الملائكةُ على آدمَ أربعًا، وكبَّر أبو بكرٍ على النبيِّ ﷺ أربعًا، وكبَّر عمرُ على أبي بكرٍ أربعًا، وكبَّر صُهيبٌ على عمرَ أربعًا، وكبَّر الحسنُ بن عليٍّ على عليٍّ أربعًا، وكبَّر الحسينُ على الحسنِ أربعًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، والمُبارَك بن فَضَالة من الزُّهد والعلم بحيثُ لا يُجرَح مثلُه، إلّا أنَّ الشيخين لم يخرجاه لِسوءِ حفظِه. ولهذا الحديث شاهد:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فرشتوں نے آدم علیہ السلام کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے علی رضی اللہ عنہ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے حسن رضی اللہ عنہ کے جنازے پر چار تکبیریں کہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مبارک بن فضالہ زہد و علم کے اس مقام پر ہیں کہ ان جیسے راوی پر جرح نہیں کی جاتی، البتہ شیخین نے ان کے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ان کی روایات نہیں لیں۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث درج ذیل ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1439]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1440
أخبرَناه أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا خُنَيس بن بكر بن خُنَيس، حدثنا الفُرات بن السائب الجَزَري، عن مَيمُون بن مِهْران، عن عبد الله بن عباسٍ قال: آخرُ ما كبَّر رسولُ الله ﷺ على الجنائزِ أربعًا، وكبَّر عمرُ على أبي بكرٍ أربعًا، وكبَّر عبدُ الله بن عمر على عمر أربعًا، وكبَّر الحسنُ بن عليٍّ على عليٍّ أربعًا، وكبَّر الحسينُ بن عليٍّ على الحسنِ أربعًا، وكبَّرتِ الملائكةُ على آدمَ أربعًا (1) . لستُ ممن يَخفَى عليه أنَّ الفُرات بن السائب ليس من شَرْط هذا الكتاب، وإنما أخرجتُه شاهدًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری مرتبہ جنازے پر جو تکبیریں کہیں وہ چار تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمر رضی اللہ عنہ پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے علی رضی اللہ عنہ پر چار تکبیریں کہیں، سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے حسن رضی اللہ عنہ پر چار تکبیریں کہیں، اور فرشتوں نے آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں۔
مجھ پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ فرات بن سائب اس کتاب کی شرط پر پورا نہیں اترتے، میں نے اسے صرف شاہد کے طور پر پیش کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1440]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70. قِرَاءَةُ الْفَاتِحَةِ فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ مِنَ السُّنَّةِ
نمازِ جنازہ میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا سنت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1441
أخبرنا أبو علي محمد بن عليٍّ الواعظ ببُخارى، حدثنا علي بن عبد الله بن مُبشِّرٍ الواسطي، حدثنا أحمد بن سِنَان، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا سفيان، عن سعد بن إبراهيم، عن طلحة بن عبد الله بن عَوف، قال: صلَّى ابنُ عباسٍ على جنازةٍ، فقرأ بفاتحة الكتاب، فقلتُ له، فقال: إنَّه من السُّنة، أو من تَمَامِ السُّنة (2) .
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه!
طلحہ بن عبداللہ بن عوف بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک جنازہ پڑھایا اور اس میں سورہ فاتحہ کی تلاوت فرمائی، میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سنت ہے، یا (فرمایا) یہ سنت کی تکمیل میں سے ہے۔
یہ حدیث ان دونوں (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1441]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ
جو شخص میت کو غسل دے وہ خود بھی غسل کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1442
حدثنا أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ، حدثنا أبو العباس أحمد بن محمد الهَمْداني، حدثنا أبو شَيْبة إبراهيم بن عبد الله، حدثنا خالد بن مَخلَد، حدثنا سليمان بن بلال، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ليس عليكم في غَسْلِ ميِّتِكم غُسْلٌ إذا غَسَّلتُموه، فإنَّ ميِّتَكم ليس بنَجِسٍ، فَحَسْبُكم أن تَغْسِلوا أيديَكم" (1) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وفيه رَفْضٌ لحديثٍ مختلَفٍ فيه على محمد بن عمرٍو بأسانيد:"مَن غسَّلَ ميتًا فليغتسل" (1) . [أول كتاب الزكاة]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے کسی میت کو غسل دے دو تو تم پر غسل کرنا لازم نہیں ہے، کیونکہ تمہارا میت ناپاک نہیں ہوتا، بلکہ تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ تم اپنے ہاتھ دھو لو۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس میں محمد بن عمرو سے مروی اس اختلافی حدیث کی تردید ہے جس کے مختلف طرق میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جس نے میت کو غسل دیا وہ خود بھی غسل کرے۔ [اول کتاب الزکاۃ] [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1442]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں