المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
64. الْبُكَاءُ عَلَى الْمَيِّتِ
میت پر رونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1429
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سلَّام، عن أبي سَلَّام قال: قال أبو مالكٍ الأشعريُّ: إنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ في أُمّتي أربعًا (2) من أَمْر الجاهلية ليسوا بتارِكيهِنَّ: الفَخْرُ في الأحساب، والطَّعْنُ في الأنساب، والاستسقاءُ بالنُّجوم، والنِّياحةُ على الميت، فإنَّ النائحة إن لم تَتُبْ قبل أن تموت، فإنها تقومُ يومَ القيامة عليها سَرَابيلُ من قَطِرانٍ، ثم يُغلَى عليهِنَّ دُروعٌ من لَهَبِ النار" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد أخرج مسلمٌ حديث أبان بن يزيد (1) عن يحيى بن أبي كَثِير، وهو مختصَرٌ، ولم يُخرجاه بالزيادات التي في حديث علي بن المبارك، وهو من شرطهما (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد أخرج مسلمٌ حديث أبان بن يزيد (1) عن يحيى بن أبي كَثِير، وهو مختصَرٌ، ولم يُخرجاه بالزيادات التي في حديث علي بن المبارك، وهو من شرطهما (2) .
ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں چار چیزیں جاہلیت کے کاموں میں سے ہیں جنہیں وہ نہیں چھوڑیں گے: حسب و نسب پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب پر طعنہ زنی کرنا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور مردے پر بین کرنا، اور بین کرنے والی عورت اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں کھڑی ہو گی کہ اس پر گندھک کا کرتہ ہوگا اور اس کے اوپر آگ کے شعلوں کی بنی ہوئی قمیص پہنائی جائے گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، امام مسلم نے ابان بن یزید کی یحییٰ بن ابی کثیر سے مختصر روایت نقل کی ہے لیکن ان اضافات کے ساتھ اسے شیخین نے روایت نہیں کیا جو علی بن مبارک کی حدیث میں ہیں، حالانکہ وہ ان دونوں کی شرط پر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1429]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، امام مسلم نے ابان بن یزید کی یحییٰ بن ابی کثیر سے مختصر روایت نقل کی ہے لیکن ان اضافات کے ساتھ اسے شیخین نے روایت نہیں کیا جو علی بن مبارک کی حدیث میں ہیں، حالانکہ وہ ان دونوں کی شرط پر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1429]
65. اسْتِثْنَاءُ النِّيَاحَةِ
نوحہ کرنے کی ممانعت میں بعض استثنا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1430
أخبرنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا جعفر بن محمد بن الحسين (3) ، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا عاصم بن سليمان، عن حَفْصة بنت سِيرين، عن أُم عَطيَّة قالت: لما نزلَتْ: ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ﴾ إلى قوله: ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ﴾ [الممتحنة: 12] ، كانت منه النِّياحةُ، فقلت: يا رسول الله، إلّا آلَ فلان، فإنهم كانوا أسعَدُوني في الجاهلية، فلا بدَّ لي من أن أُسعِدَهم، فقال:"إلّا آلَ فلان" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ﴾ [سورہ ممتحنہ: 12] ”جب آپ کے پاس مومن عورتیں بیعت کے لیے آئیں“ یہاں تک کہ اللہ کا یہ فرمان ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ﴾ ”اور وہ آپ کی نافرمانی نہ کریں“، تو اس بیعت کی شرائط میں بین نہ کرنا بھی شامل تھا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فلاں خاندان کے سوا (اجازت دے دیں)، کیونکہ انہوں نے جاہلیت کے زمانے میں (میرے غم میں رو کر) میرا ساتھ دیا تھا، تو میرے لیے ضروری ہے کہ میں بھی ان کا بدلہ اتاروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں خاندان کے سوا (یعنی تمہیں ان کے ہاں جانے کی اجازت ہے)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1430]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1430]
حدیث نمبر: 1431
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا سعيد بن عثمان التَّنُوخي، حدثنا بِشْر بن بكر، عن الأوزاعي، حدثني إسماعيل بن عبيد الله، قال: حدثتني كَرِيمةُ المُزَنيَّة، قالت: سمعتُ أبا هريرة وهو في بيت أُم الدَّرداء يقول: قال رسولُ الله ﷺ:"ثلاثةٌ من الكفر بالله: شَقُّ الجَيب، والنِّياحةُ، والطَّعْنُ فِي النَّسَب" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کے ساتھ کفر (کے کاموں) میں سے تین چیزیں یہ ہیں: گریبان پھاڑنا، میت پر بین کرنا اور کسی کے نسب پر طعنہ زنی کرنا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1431]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1431]
66. مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدٌ أَوْ وَلَدَانِ أَوْ ثَلَاثٌ
جس کے ایک، دو یا تین بچے فوت ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 1432
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا خَلّاد بن يحيى، حدثنا بَشِير بن مُهاجِر. وحدثنا بُكَير بن محمد بن الحدَّاد الصُّوفي بمكة، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا واصل بن عبد الأعلى، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا بَشِير بن مُهاجِر، عن عبد الله بن بُرَيدةَ، عن أبيه قال: كان رسولُ الله ﷺ يتعهَّد الأنصارَ ويَعُودُهم، ويَسأَل عنهم، فبَلَغَه عن امرأةٍ من الأنصار مات ابنُها وليس لها غيرُه، وأنها جَزِعَتْ عليه جَزَعًا شديدًا، فأَتى النبيُّ ﷺ فَأَمَرها بتقوى الله وبالصَّبر، فقالت: يا رسولَ الله، إنِّي امرأةٌ رَقُوبٌ لا أَلِدُ ولم يكن لي غيرُه، فقال رسول الله ﷺ:"الرَّقُوبُ الذي يبقى ولدُها"، ثم قال:"ما مِن امرِئٍ أو امرأةٍ مسلمةٍ يموتُ لها ثلاثةُ أولادٍ، إلّا أدخَلَهُم اللهُ بهم الجنةَ"، فقال عمر: يا رسولَ الله، بأبي وأمي، واثنان؟ قال:"واثنانِ" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بذِكر الرَّقُوب.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی خبر گیری فرماتے، ان کی عیادت کرتے اور ان کے حالات دریافت کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک انصاری خاتون کے بارے میں معلوم ہوا جس کا اکلوتا بیٹا فوت ہو گیا تھا اور وہ اس پر شدید غمزدہ تھی، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور اسے تقویٰ اور صبر کی تلقین فرمائی، اس خاتون نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسی عورت «رَقُوب» (جس کی اولاد زندہ نہ رہے) ہوں، میں اب مزید اولاد کی امید بھی نہیں رکھتی اور اس کے سوا میرا کوئی بیٹا نہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حقیقی «رَقُوب» تو وہ ہے جس کی اولاد (آخرت میں اس کے لیے) باقی رہ جائے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بھی مسلمان مرد یا عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ان بچوں کے سبب اسے ضرور جنت میں داخل فرمائے گا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اور اگر دو فوت ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور دو (کے بدلے) بھی۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے لفظ «رَقُوب» کے ذکر کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1432]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے لفظ «رَقُوب» کے ذکر کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1432]
حدیث نمبر: 1433
حدثنا أبو الصَّقْر أحمد بن الفَضْل الكاتب بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة، سمعت معاوية بن قُرَّة. وحدثنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن معاوية بن قُرَّة، يحدِّث عن أبيه: أنَّ رجلًا كان يأتي النبيَّ ﷺ ومعه ابنٌ له، فقال له النبيُّ ﷺ:"أتحبُّه؟" فقال: أَحبَّك الله كما أُحبُّه، ففَقَدَه النبيُّ ﷺ، فقال:"ما فَعَلَ فلان؟" قالوا: مات ابنُه، فقال النبيُّ ﷺ:"أما يَسرُّك أن لا تأتيَ بابًا من أبواب الجنة إلّا وَجَدْتَه يَنتظِرُك؟" فقال رجل: أَلَه خاصّةً أو لِكُلِّنا؟ قال:"بل لِكُلِّكُم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، لمَا قدَّمتُ الذِّكر من تفرُّد التابعي الواحد بالرواية عن الصحابي (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، لمَا قدَّمتُ الذِّكر من تفرُّد التابعي الواحد بالرواية عن الصحابي (1) .
سیدنا معاویہ بن قرہ اپنے والد (سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے بیٹے کو ساتھ لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: اللہ آپ سے ویسے ہی محبت کرے جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پھر کچھ عرصہ بعد وہ بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر نہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”فلاں کا کیا ہوا؟“ لوگوں نے بتایا: اس کا بیٹا فوت ہو گیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ تم جنت کے جس بھی دروازے پر جاؤ، اسے وہاں اپنا انتظار کرتے ہوئے پاؤ؟“ ایک شخص نے عرض کیا: کیا یہ خوشخبری خاص طور پر اسی کے لیے ہے یا ہم سب کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تم سب کے لیے ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ ایک تابعی کا صحابی سے روایت کرنے میں منفرد ہونا (صحت کے منافی نہیں)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1433]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ ایک تابعی کا صحابی سے روایت کرنے میں منفرد ہونا (صحت کے منافی نہیں)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1433]
67. أَوْلَادُ الْمُؤْمِنِينَ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيمُ وَسَارَةُ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ
مؤمنوں کے بچوں کی کفالت سیدنا ابراہیم اور سیدہ سارہ علیہما السلام کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1434
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا حميد بن عيَّاش الرَّمْلي، حدثنا مُؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن الأصبهاني، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"أولادُ المؤمنينَ في جَبَلٍ في الجنة، يَكْفُلُهم إبراهيم وسارةُ حتى يَرُدَّهم إلى آبائِهم يومَ القيامة" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومنوں کی (فوت شدہ) اولاد جنت کے ایک پہاڑ میں ہے، جہاں ابراہیم علیہ السلام اور سارہ علیہا السلام ان کی کفالت کر رہے ہیں یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن انہیں ان کے والدین کے حوالے کر دیں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1434]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1434]
68. النَّهْيُ عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ
مردوں (مرحومین) کو گالی دینے سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 1435
حدثنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجية، حدثنا رجاء بن محمد العُذْري، حدثنا عمرو بن محمد بن أبي رَزِين، حدثنا شعبة، عن مِسعَر، عن زياد بن عِلَاقة، عن عمِّه: أنَّ المغيرة بن شعبة سبَّ عليَّ بن أبي طالب، فقام إليه زيدُ بنُ أرقمَ، فقال: يا مُغيرةُ، ألم تعلم أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن سبِّ الأموات، فلِمَ تسُبُّ عليًّا وقد مات؟ (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا على حديث الأعمش عن مجاهد عن عائشة: أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"لا تَسبُّوا الأمواتَ، فإنَّهم قد أَفضَوْا إلى ما قدَّموا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا على حديث الأعمش عن مجاهد عن عائشة: أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"لا تَسبُّوا الأمواتَ، فإنَّهم قد أَفضَوْا إلى ما قدَّموا" (1) .
زیاد بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازیبا کلمات کہے، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ان کی طرف کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے مغیرہ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے؟ تو پھر آپ علی کو کیوں برا بھلا کہہ رہے ہیں جبکہ وہ وفات پا چکے ہیں؟
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں (بخاری و مسلم) نے اعمش کی مجاہد سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ سے مروی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ اپنے بھیجے ہوئے اعمال تک پہنچ چکے ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1435]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں (بخاری و مسلم) نے اعمش کی مجاہد سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ سے مروی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ اپنے بھیجے ہوئے اعمال تک پہنچ چکے ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1435]
حدیث نمبر: 1436
أخبرنا علي بن أحمد بن قُرْقُوب التَّمَّار بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا أبو اليَمَان، أخبرني شعيب بن أبي حمزة، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين، حدثني نَوفَلُ بن مُسَاحِق، عن سعيد بن زيد، قال: قال رسولُ الله ﷺ:"لا تُؤذُوا مسلمًا بشَتْمِ كافر" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کو کسی کافر (مردے) کو گالی دے کر تکلیف نہ پہنچاؤ۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1436]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1436]
حدیث نمبر: 1437
أخبرنا أبو بكر محمد بن جعفر المزكِّي، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُرَيب [حدثنا معاوية بن هشام، عن عِمْران بن أنس المكّي، عن عطاءٍ، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ] (3) :"اذكُرُوا مَحاسِنَ موتاكُم، وكُفُّوا عن مَساوئِهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وهذه الأحاديث وجدتُها في الباب بعد نقل كتاب الجنائز، وسبيلُها أن تكون مخرَّجةً في مواضعها قبلَ هذا.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وهذه الأحاديث وجدتُها في الباب بعد نقل كتاب الجنائز، وسبيلُها أن تكون مخرَّجةً في مواضعها قبلَ هذا.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کیا کرو اور ان کی برائیوں سے زبان کو روکے رکھو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور یہ وہ احادیث ہیں جو مجھے کتاب الجنائز کی نقل کے بعد اس باب میں ملی ہیں، اور ان کا تقاضا یہ تھا کہ انہیں ان کے اصل مقامات پر پہلے ہی درج کر دیا جاتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1437]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور یہ وہ احادیث ہیں جو مجھے کتاب الجنائز کی نقل کے بعد اس باب میں ملی ہیں، اور ان کا تقاضا یہ تھا کہ انہیں ان کے اصل مقامات پر پہلے ہی درج کر دیا جاتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1437]
حدیث نمبر: 1438
أخبرنا إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العدل، حدثنا أبو مُسلِم المسيَّبُ بن زُهير البغدادي، حدثنا أبو بكرٍ وعثمانُ ابنا أبي شَيْبة، قالا: حدثنا سفيان بن عُيينةَ، عن عمرو بن دِينار، عن عطاء بن أبي رَبَاح، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"لا تُنجِّسوا موتاكُم، فإنَّ المُسلِمَ لا يَنجَسُ حَيًّا أو مَيْتًا" (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مردوں کو ناپاک نہ سمجھو، کیونکہ مسلمان زندگی اور موت دونوں حالتوں میں ناپاک نہیں ہوتا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1438]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1438]