المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
39. الْحِجْرُ مِنَ الْبَيْتِ
حِجر (حطیم) خانۂ کعبہ ہی کا حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 1706
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، عن هشام بن حُجَير، عن طاووس، عن ابن عباس قال: الحِجْرُ من البيت، لأنَّ رسول الله ﷺ طافَ بالبيت من وَرَائِه، قال الله ﵎: ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ [الحج: 29] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حجر اسود بیت اللہ کا حصہ ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اس کے پیچھے سے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:” وَلْیَظَّوَّفُوا بِالْبَیْتِ الْعَتِیق “ (اور اس آزاد گھر کا طواف کریں)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1706]
حدیث نمبر: 1707
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا مالك بن إسماعيل، أخبرنا عبد السلام بن حَرْب، عن شُعبة، عن عاصم، عن الشَّعْبي، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ شَرِبَ ماءً في الطَّواف (1) .
هذا حديث غريب (2) صحيح. ولم يُخرجاه يها اللفظ (1) .
هذا حديث غريب (2) صحيح. ولم يُخرجاه يها اللفظ (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے دوران پانی پیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح غریب ہے لیکن انہوں نے لفظوں کے ہمراہ اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1707]
حدیث نمبر: 1708
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني سليمان الأحول، أنَّ طاووسًا أخبره: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ وهو يطوف بالكعبة برجل يقودُ رجلًا بخِزامةٍ في أنفه، فقَطَعَه رسول الله ﷺ بيدِه، ثم أمرَهُ أن يقودَه بيدِه، قال: ومرَّ رسول الله ﷺ وهو يطوفُ برجلٍ قد رُبِقَ بسَيْرٍ بيدٍ أو رِجْلٍ أو بخَيطٍ، أو بشيء غير ذلك، فقَطَعَه رسولُ الله ﷺ وقال:"قُدْهُ بيَدِك". قال ابن جُريج: أخبرني بهذا أجمَعَ سليمانُ الأحولُ، أنَّ طاووسًا أخبره: أنَّ ابن عباسٍ قال ذلك عن النبيِّ ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
سیدنا طاؤس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو دوسرے آدمی کو نکیل کے ساتھ چلا رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکیل کو اپنے ہاتھ سے توڑ دیا اور حکم دیا: اس کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر چلاؤ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس کے پاس سے) گزرے تو وہ اس آدمی کو طواف کرا رہا تھا اور تسمے یا دھاگے یا کسی اور چیز کے ساتھ اس نے اپنے ہاتھ یا پاؤں سے باندھ رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی کاٹ دیا اور فرمایا: اس کو ہاتھ سے چلاؤ۔ ابن جریج فرماتے ہیں: یہ تمام حدیث مجھے سلیمان الاحول نے سنائی ہے کہ طاؤس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1708]
40. كُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ
مکہ کے تمام راستے راستہ بھی ہیں اور قربانی کی جگہ بھی۔
حدیث نمبر: 1709
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني أسامة بن زيد، عن عطاء بن أبي رباح، حدثه أنه سمع جابرَ بنَ عبد الله يقول: قال رسولُ الله ﷺ:"كلُّ فِجَاجِ مكّةَ طريقٌ ومَنْحَر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مکے کے تمام راستے طریق ہیں اور قربان گاہ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1709]
41. فَضِيلَةُ الْحَجِّ مَاشِيًا
پیدل حج کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1710
حدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا محمد بن الحسين بن حفص الخَثْعَمي، حدثنا علي بن سعيد بن مسروق الكِنْدي، حدثنا عيسى بن سَوَادةَ، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن زاذانَ قال: مَرِضَ ابن عباس مرضًا شديدًا، فدعا وَلَدَه فجمعهم، فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن حَجَّ من مكةَ ماشيًا حتى يَرجِعَ إلى مكة، كَتَبَ الله له بكلِّ خُطْوةٍ سبعَ مئة حسنةٍ، كلُّ حسنةٍ مثلُ حَسَنات الحَرَم"، قيل: وما حَسَناتُ الحَرَم؟ قال:"بكلِّ حسنةٍ مئةُ ألفِ حَسَنة" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا زاذان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا (عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما شدید بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنے تمام بچوں کو بلا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنایا: جو شخص مکہ سے پیدل حج کو جائے اور پیدل ہی واپس آئے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر قدم کے بدلے سات سو نیکیاں لکھتا ہے۔ ان میں سے ہر نیکی حرم کی نیکیوں کے برابر ہو گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: حرم کی نیکی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہر نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکی کا ثواب ملتا ہے۔ تبصری: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1710]
حدیث نمبر: 1711
أخبرنا أحمد بن محمد بن جعفر الجُلُودي، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا أبو قُرَّةَ، عن موسى بن عُقْبة، عن نافع، عن ابن عمرَ قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا كانَ قبلَ التَّرويةِ بيومٍ خَطَبَ الناسَ، فأخبَرَهم بمناسِكِهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم ترویہ (8 ذی الحج) سے ایک دن پہلے (یعنی 7 ذی الحج کو) لوگوں کو خطبہ دیا کرتے تھے اور انہیں مناسکِ حج سکھایا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1711]
حدیث نمبر: 1712
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا الأسود بن عامر، حدثنا أبو كُدَينةَ يحيى بن المُهلَّب البَجَلي، عن الأعمش، عن الحَكَم، عن مِقْسَم، عن ابن عباس: أنَّ النبيَّ ﷺ صلَّى خمسَ صلواتٍ بمِنًى (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے 5 نمازیں منٰی میں ادا کیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1712]
حدیث نمبر: 1713
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد، عن القاسم بن محمد، عن عبد الله بن الزُّبير قال: من سُنَّةِ الحجِّ أن يُصلِّي الإمامُ الظُّهرَ والعصرَ والمغربَ والعِشاءَ الآخرةَ والصُّبحَ بمنًى، ثم يَغدُوَ إلى عَرَفةَ، فيَقيلَ حيثُ قُضِي له، حتى إذا زالت الشمسُ خَطَبَ الناسَ، ثم صلَّى الظُّهرَ والعصرَ جميعًا، ثم وَقَفَ بعرفاتٍ حتى تَغيبَ الشمسُ، ثم يُفيض فيصلِّي بالمُزدلِفَةِ أو حيثُ قَضَى الله، ثم يقفُ بجَمْعٍ، حتى [إذا] أسفَرَ دَفَعَ قبلَ طُلوع الشمس، فإذا رَمَى الجمرةَ الكُبرى حلَّ له كلُّ شيءٍ حَرُمَ عليه إلَّا النساءَ والطِّيبَ حتى يَزورَ البيت (1) .
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حج کا طریقہ یہ ہے کہ امام ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نماز منٰی میں پڑھے، پھر صبح سویرے عرفات کی طرف چلا جائے پھر اس کے لیے اللہ کا جو فیصلہ ہو گا، اس کے مطابق اس کی عبادات قبول کی جائیں گی۔ یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جائے، تو وہ لوگوں کو خطبہ دے، پھر ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھے، پھر غروب آفتاب تک عرفات میں ٹھہرا رہے۔ (سورج غروب ہونے کے بعد) وہاں سے (مزدلفہ کی طرف) نکل جائے اور مزدلفہ میں جا کر نماز ادا کرے یا جہاں اللہ فیصلہ کرے۔ پھر صبح تک وہاں ٹھہرا رہے۔ اور طلوع آفتاب سے پہلے اس (وقوف) کو ختم کر دے پھر جب بڑے شیطان کو کنکریاں مار لے تو عورت اور خوشبو کے علاوہ ہر وہ چیز اس پر حلال ہو جائے گی (جو حالتِ احرام میں) حرام تھی۔ یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کی زیارت کر لے (کہ اس کے بعد عورت اور خوشبو بھی حلال ہو جاتی ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1713]
42. الْوُقُوفُ بِعَرَفَاتٍ
عرفات میں وقوف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1714
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا أبو بَكْرةَ بكَّارُ بن قُتيبة القاضي بمصر، حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا الحارث بن عبد الرحمن بن أبي ذُباب، عن مجاهد، عن عبد الله بن سَخْبَرةَ قال: غَدَوتُ مع عبد الله بن مسعودٍ من مِنى إلى عَرَفةَ، وكان عبد الله رجلًا آدمَ له ضَفِيرتانِ، عليه مَسْحةُ أهل البادية، وكان يُلبِّي، فاجتمع عليه غَوْغاءٌ من غَوْغاءِ الناس فقالوا: يا أعرابيُّ، إنَّ هذا ليس بيومِ تلبيةٍ، إنَّما هو التكبير، قال: فعند ذلك التَفَتَ إليَّ فقال: جَهِلَ الناسُ أم نَسُوا؟ والذي بَعَثَ محمدًا ﷺ بالحق، لقد خرجتُ مع رسول الله ﷺ من مِنى إلى عَرَفةَ، فما تَرَكَ التلبيةَ حتى رَمَى الجَمْرةَ، إلَّا أن يَخلِطَها بتكبيرٍ أو تهليلٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن سخبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ صبح کے وقت منٰی کی طرف نکلا، عبداللہ گندم گوں آدمی تھے، وہ بالوں کی دو چوٹیاں رکھتے تھے جو کہ ان کے اوپر دیہاتیوں کی نشانی ہوتی تھی۔ وہ مسلسل تلبیہ کہہ رہے تھے۔ (یہ سن کر بہت سارے) لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے: اے بدو! آج تلبیہ کا دن نہیں ہے۔ آج تو تکبیرات کا دن ہے۔ عبداللہ بن سخبرہ فرماتے ہیں: اس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: یہ لوگ جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں؟ اس ذات کی قسم! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منٰی سے عرفات کی طرف نکلا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہا: تاہم اس کے ساتھ ساتھ تکبیر یا تہلیل بھی پڑھتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1714]
حدیث نمبر: 1715
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا أحمد بن سيّار، حدّثنا محمد بن كَثير، حدّثنا سفيان بن عُيينة، عن زياد بن سعد، عن أبي الزُّبير، عن أبي مَعبَد (1) ، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ارفَعوا عن بَطْنِ عُرَنةَ، وارفَعوا عن بَطْنِ مُحسِّر" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده على شرط الشيخين صحيحٌ، إلَّا أنَّ فيه تقصيرًا في سنده:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده على شرط الشيخين صحيحٌ، إلَّا أنَّ فيه تقصيرًا في سنده:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” بطن عرنہ “ میں قیام نہ کرو اور ” بطن محسر “ میں بھی نہ کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور ایک صحیح حدیث اس کی شاہد ہے۔ جو کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار پر ہے تاہم اس کی سند میں کچھ کمی ہے۔ (وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1715]