المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
30. تَغْطِيَةُ الْوَجْهِ لِلْمُحْرِمَةِ
احرام والی عورت کے لیے چہرہ ڈھانپنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1686
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا زكريا بن عَدِيّ، حدثنا علي بن مُسهِر، عن هشام بن عُروة، عن فاطمةَ بنت المُنذِر، عن أسماء بنت أبي بكرٍ قالت: كنا نُغطِّي وُجوهَنا من الرِّجال، وكنا نَتمشِطُ قبلَ ذلك في الإحرام (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدہ اسماء بنتِ ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں: پہلے ہم حالتِ احرام میں اپنے چہروں کو مردوں سے چھپایا کرتی تھیں اور بالوں مں کنگھی بھی کیا کرتی تھیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1686]
حدیث نمبر: 1687
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد الحسن بن عبد الصَّمد، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلمَ، عن أبيه قال: سمعتُ عمر بنَ الخطاب يقول: فيمَ الرَّمَلانُ الآن والكشفُ عن المَناكِب؟! وقد أطَّأَ (1) اللهُ الإسلامَ ونَفَى الكفرَ وأهلَه، ومع ذلك لا نتركُ شيئًا كُنّا نَصنعُه مع رسول الله ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: اب رمل کرنے کی اور کندھے کھولنے کی ضرورت تو نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا ہے۔ کفر اور کافروں کو کمزور کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود ہم ایسا کوئی عمل بھی ترک نہیں کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1687]
31. اسْتِلَامُ الْحَجَرِ وَتَقْبِيلُهُ وَالْبُكَاءُ
حجرِ اسود کو چھونے، بوسہ دینے اور وہاں رونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1688
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني الزاهد إملاءً، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حدثنا يعلى بن عُبيد الطَّنافِسي، حدثنا محمد بن عَوْن، عن نافع، عن ابن عمرَ قال: استقبَلَ رسولُ الله ﷺ الحَجَرَ واسْتَلَمَه، ثم وَضَعَ شَفَتَيْه عليه يَبكي طويلًا، فالتَفَتَ فإذا عمرُ يبكي، فقال:" يا عمرُ، هاهنا تُسكَبُ العَبَراتُ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرِ اسود کی طرف متوجہ ہوئے، اس کو استلام کیا، پھر اپنے ہونٹ اس پر رکھ کر بہت دیر تک روتے رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر کی طرف دیکھا تو وہ بھی رو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! (یہ مقام ہی ایسا ہے) یہاں پر آنسو بہتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1688]
حدیث نمبر: 1689
أخبرني أبو بكر محمد بن المُؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيّب، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا محمد بن إسحاق، عن أبي جعفر - وهو محمد بن علي بن الحسين - عن جابر بن عبد الله قال: دَخَلْنا مكةَ عند ارتفاع الضُّحى، فأَتى النبيُّ ﷺ بابَ المسجد، فأناخَ راحلتَه ثم دَخَلَ المسجد، فبدأ بالحَجَر فاستَلَمَه، وفاضت عيناهُ بالبكاء، ثم رَمَلَ ثلاثًا، ومَشَي أربعًا حتى فَرَغَ، فلما فَرَغَ قبل الحَجَر، ووَضَعَ يدَيهِ عليه، ومَسَحَ بهما وجهه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم دوپہر کے وقت مکہ میں داخل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے دروازے پر اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور مسجد میں داخل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کے استلام سے (طواف کا) آغاز کیا، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت روئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے تین چکروں میں رمل کیا اور چار بغیر رمل کے۔ جب فارغ ہوئے تو حجرِ اسود کا بوسہ لیا اور اس پر اپنے ہاتھ رکھے پھر آپ نے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1689]
حدیث نمبر: 1690
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا محمد بن معاذ، حدثنا أبو عاصم النبيل، حدثنا جعفر بن عبد الله - وهو ابن الحَكَم - قال: رأيتُ محمد بن عبَّاد بن جعفر قَبَّلَ الحَجَرَ وسجد عليه، ثم قال: رأيتُ خالَكَ ابنَ عباس يُقبِّله ويسجُدُ عليه، وقال ابن عباس: رأيتُ عمر بنَ الخطاب قبَّله وسَجَدَ عليه، ثم قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ فَعَلَ هكذا ففعلتُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا جعفر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن عباد بن جعفر رضی اللہ عنہ کو حجر اسود کا بوسہ لیتے اور اس پر سجدہ کرتے دیکھا۔ پھر فرمایا: میں نے تیرے ماموں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کا بوسہ لیتے اور اس کا سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس کا بوسہ لیتے اور اس پر سجدہ کرتے دیکھا ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے کرتے دیکھا ہے، اس لیے میں نے ایسا کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1690]
حدیث نمبر: 1691
أخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكْرَم البزاز، حدثنا عثمان بن عمر، أخبرنا ابن جُرَيج. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن بكر، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني يحيى بن عُبيد مولى السائب، أنَّ أباه أخبره، أنَّ عبد الله بن السائب أخبره: أنه سَمِع النبيَّ ﷺ فيما بين ركن بني جُمَحَ والركنِ الأسود يقول:"ربَّنا آتِنا في الدُّنيا حَسَنَةً وفي الآخرة حَسَنَةً وقِنا عَذابَ النار" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن سائب فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن بنی جمح اور رکن اسود کے درمیان یہ دعا مانگتے سُنا ہے: ” رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً، وَفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً، وَقِنَا عَذَابَ النَّار “ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1691]
32. الدُّعَاءُ بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ
دو رکنوں کے درمیان دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1692
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسد بن موسى، حدثنا سعيد بن زيد، حدثنا عطاء بن السائب، حدثنا سعيد بن جُبير قال: كان ابن عباسٍ يقول: احفَظوا هذا الحديث، وكان يرفعه إلى النبي ﷺ وكان يدعو به بين الرَّكنين:"ربِّ قنِّعني بما رَزَقْتَني، وباركْ لي فيه، واخلُفْ علَيَّ كلَّ غائبةٍ لي بخير" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنهما لم يحتجا بسعيد بن زيد أخي حماد بن زيد.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنهما لم يحتجا بسعيد بن زيد أخي حماد بن زيد.
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا (عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: اس حدیث کو یاد کر لو اور وہ اس بات کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکنوں کے درمیان یہ دعا مانگا کرتے تھے: ” رَبِّ قَنِّعْنِیْ بِمَا رَزَقْتَنِیْ، وَبَارِکْ لِیْ فِیْہِ، وَاخْلُفْ عَلٰی کُلِّ غَائِبَۃٍ لِیْ بِخَیْرٍ “ ” اے اللہ تو مجھے جو رزق عطا کرے اس پر مجھے قناعت عطا فرما اور مجھے اس میں برکت عطا فرما اور میری غیر موجودگی میں بہتر نائب بنا۔ “ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے حماد بن زید کے بھائی سعید بن زید کی روایات نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1692]
33. تَقْبِيلُ الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ وَوَضْعُ الْخَدِّ عَلَيْهِ
رکنِ یمانی کو بوسہ دینے اور اس پر رخسار رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1693
أخبرنا عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا أبو سعيد مولى بني هاشم عبدُ الرحمن بن عبد الله، حدثنا إسرائيل، عن عبد الله بن مسلم بن هُرْمُز، عن مجاهد، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ قبَّل الرُّكنَ اليمانيَ ووَضَعَ خَدَّه عليه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکن یمانی کا بوسہ لیا۔ اور اپنا رخسار اس پر رکھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1693]
حدیث نمبر: 1694
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة الأصبهاني، حدثنا عبد الله بن محمد بن زكريا، حدثنا بِشْر بن خالد العسكري، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، قال: سمعتُ عبد العزيز بن أبي رَوَّاد يحدِّث عن نافع، عن ابن عمر: أَنَّ نبيَّ الله ﷺ كان إذا طاف بالبيت مَسَحَ - أو قال: استَلَم - الحَجَرَ والرُّكنَ في كلِّ طواف (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا طواف کرتے تو ہر طواف میں رکن اور حجر اسود کو ہاتھ لگاتے یا استلام کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1694]
34. الرُّكْنُ وَالْمَقَامُ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَوَاقِيتِ الْجَنَّةِ
رکن اور مقام (ابراہیم) جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں۔
حدیث نمبر: 1695
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أيوب بن سُوَيد، حدثنا يونس بن يزيد، عن الزُّهري، عن مُسافِع الحَجَبي، عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسولُ الله ﷺ:"الرُّكنُ والمَقامُ ياقوتتان من يَواقِيتِ الجَنَّة طَمَسَ الله نُورَهما، ولولا ذلك لأضاءَتا ما بين المشرق والمغرِب" (1) .
هذا حديث تفرد به أيوب بن سُويد عن يونس، وأيوب ممَّن لم يحتجّا به، إلّا أنه من أَجِلَّة مشايخ الشام (1) . ولهذا الحديث شاهد صحيحٌ:
هذا حديث تفرد به أيوب بن سُويد عن يونس، وأيوب ممَّن لم يحتجّا به، إلّا أنه من أَجِلَّة مشايخ الشام (1) . ولهذا الحديث شاهد صحيحٌ:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رکن اور مقام دونوں جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں۔ اللہ نے ان کی روشنی کو کم کر دیا ہے۔ اگر ان کی روشنی کو کم نہ کیا ہوتا تو یہ مشرق سے لے کر مغرب تک پوری روئے زمین کو روشن کر دیتے۔ ٭٭ اس حدیث کو یونس سے روایت کرنے میں ایوب بن سوید منفرد ہیں۔ اور ایوب کی روایات امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے نقل نہیں کی ہیں۔ لیکن ان کا شمار شام کے جلیل القدر مشائخ میں ہوتا ہے اور اس حدیث کی شاہد حدیث بھی ہے۔ (جو کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1695]