المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
46. إِنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ أَهْلَ السَّمَاءِ
اللہ تعالیٰ اہلِ عرفات پر آسمان والوں کے سامنے فخر فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 1726
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن مجاهد، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ:"إنَّ الله يُباهي بأهل عَرَفاتٍ أهلَ السماء، فيقول لهم: انظُرُوا إلى عبادي، جاؤوني شُعْثًا غُبْرًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اہلِ عرفات کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: میرے بندوں کو دیکھو یہ میرے پاس غبارآلود پراگندہ حال آئے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1726]
47. الْإِفَاضَةُ مِنْ عَرَفَةَ بِالسَّكِينَةِ
عرفات سے وقار اور سکون کے ساتھ روانہ ہونے کا حکم۔
حدیث نمبر: 1727
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامِري، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن الحَكَم، عن مِقْسَم، عن ابن عباس، عن أسامة: أنَّ النبيَّ ﷺ أردَفَه حين أفاضَ من عَرفةَ، فأفاض بالسَّكِينة، وقال:"أيُّها الناسُ، عليكم بالسَّكِينة" وقال:"ليس البِرُّ بإيجافِ الخيلِ والإبل"، فما رأيتُ ناقتَه رافعةً يدَها حتى أتَى مِنى (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے پیچھے سوار کرا لیا۔ اور بڑے اطمینان سے روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اطمینان سے چلو، گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے۔ (اسامہ فرماتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد منٰی کے پہنچنے تک میں نے کسی اونٹنی کو تیز چلتے نہیں دیکھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1727]
حدیث نمبر: 1728
أخبرنا أبو عبد الله محمد بنُ عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو النُّعمان محمد بن الفضل، حدثنا حمّاد بن زيد، عن كَثِير بن شِنْظِير، عن عطاء، عن ابن عباس قال: إنَّما كان بَدْءُ الإيضاع من أهل البادية؛ كانوا يَقِفُون حافَتَي الناسِ قد علَّقوا (1) القِعابَ والعِصِيَّ، فإذا أفاضُوا تَقَعقَعوا، فَأَنفَرَتْ بالناس، فلقد رأيتُ رسول الله ﷺ وإن ذِفْرَى (2) ناقتِه لَيَمَسُّ حارِكَها (3) ، وهو يقول:"يا أيُّها الناسُ، عليكم بالسَّكِينة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: گھوڑے دوڑانے کا آغاز دیہاتیوں کی طرف سے ہوا، وہ لوگ دوسرے لوگوں کے کناروں پر ٹھہرتے تھے اور اپنا سازوسامان (پہلے سے ہی) باندھ کر رکھتے تھے، جب لوگ وہاں سے کوچ کرتے (تو سب سے پہلے یہ لوگ) بھاگتے پھر دوسرے لوگ بھی نکل پڑتے اور جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ سبک رفتاری کے باعث آپ کی اونٹنی کے ناخن زمین پر نہیں لگتے تھے، اس وقت آپ ارشاد فرما رہے تھے: اے لوگو! اطمینان کے ساتھ چلو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1728]
48. رَمْيُ الْجِمَارِ وَمِقْدَارُ الْحَصَى
جمرات کو کنکریاں مارنے اور کنکریوں کی مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 1729
أخبرنا جعفر بن محمد (2) بن نُصَير الخوّاص، حدثنا الحارث بن محمد التَّميمي، حدثنا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حدثنا عَوف بن أبي جَميلة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا عَوف، عن زياد بن الحُصَين، حدثنا أبو العاليَة، قال: قال لي ابنُ عباس: قال لي رسولُ الله ﷺ غَداةَ العَقَبة:"هاتِ الْقُطْ لي (3) حَصَيَاتٍ من حَصَى الخَذْف"، فلمّا وُضِعنَ في يده قال:"بأمثال هؤلاءِ، بأمثال هؤلاء، وإياكم والغُلوَّ في الدِّين؛ فإنَّما هَلَكَ مَن كان قبلَكم بالغُلوِّ في الدِّين" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جس دن کنکریاں ماری جاتی ہیں، اس دن صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: ادھر آؤ! کنکریاں جمع کر کے مجھے دو، جب وہ کنکریاں آپ کے ہاتھ میں رکھی گئیں تو آپ نے (متوسط سائز کی کنکریوں کی طرف اشارہ کر کے) فرمایا: ان کنکریوں جیسی (کنکریاں مارنی چاہئیں) اور اپنے دین میں غلو سے بچو! کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1729]
حدیث نمبر: 1730
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النضر بن شُمَيل. وحدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك، حدثنا عبد الرحمن بن منصور، حدثنا يحيى بن سعيد القطّان. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو علي الحَنَفي وأبو عاصم النَّبيل، قالوا: حدثنا أيمن بن نابِلٍ قال: سمعتُ قُدامةَ بن عبد الله بن عمّار الكِلَابيَّ يقول: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يرمي الجَمْرةَ يومَ النَّحر على ناقةٍ صَهباءَ، لا ضَرْبَ ولا طَرْدَ، ولا إليكَ إليكَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا قدامہ بن عبداللہ، عمار کلابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی صہباء اونٹنی پر شیطان کو کنکریاں مارتے دیکھا۔ اس میں نہ کسی کو مارا گیا نہ الگ ہو کر کھڑے ہوئے اور نہ ہٹو بچو کا شور ہوا۔ (یہ تعریض ہے امراء کے لیے کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی نیا انداز نہ اپنا لیں)۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1730]
حدیث نمبر: 1731
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنسٍ القُرَشي، حدثنا حفص بن عبد الله، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، حدثنا الحسن بن عُبيد الله، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن ابن عباسٍ رفَعَه، قال:"لما أتى إبراهيمُ خليلُ الله المناسكَ عَرَضَ له الشيطانُ عند جَمْرةِ العَقَبة، فرماه بسَبعِ حَصَياتٍ حتى ساخَ في الأرض [ثم عَرَضَ له عند الجَمرة الثانية، فرماه بسَبْع حَصَياتٍ حتى ساخ في الأرض، ثم عَرَضَ له عند الجَمرة الثالثة، فرماه بسَبع حَصَياتٍ حتى ساخ في الأرض] (1) ". قال ابن عباس: الشيطانَ تَرجُمون، وملَّةَ أبيكم تتَّبعون (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مرفوعاً روایت کرتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام مناسک حج ادا کرنے لگے تو جمرہ عقبہ کے پاس شیطان آپ کے پاس آیا: (اور ورغلانے کی کوشش کرنے لگا) تو آپ علیہ السلام نے اس کو سات کنکریاں ماریں جس کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر دوسرے جمرہ کے قریب وہ دوبارہ آپ علیہ السلام کے پاس آیا، آپ علیہ السلام نے پھر اس کو سات کنکریاں ماریں، تو وہ زمین میں دھنس گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تم (بھی عجیب لوگ ہو) شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہو اور اپنے باپ کی ملت کا انکار کرتے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1731]
49. مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ
مِنیٰ جس نے پہلے جگہ لی وہی اس کا حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 1732
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهري، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن يوسف بن ماهَكَ، عن أمه مُسَيكة، عن عائشةَ قالت: قيل: يا رسولَ الله، ألا نَبْني لك بمِنًى بناءً يُظِلُّك؟ قال:"لا، مِنًى مُناخُ مَن سَبَق" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کیا ہم آپ کے لیے منٰی میں کوئی عمارت نہ بنا دیں؟ جس سے آپ کو سایہ ملتا رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں، کیونکہ) منٰی میں (قیام کا حق) پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1732]
حدیث نمبر: 1733
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا محمد بن إسحاق. وحدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عيّاش بن الوليد الرَّقّام، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، عن محمد بن إسحاق، حدثني عبد الله بن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عباس قال: أَهدَى رسولُ الله ﷺ عامَ الحُدَيبية في هداياهُ جَمَلًا لأبي جَهْل، في رأسه بُرَةٌ من فضَّة، لِيَغيظَ المشركين بذلك (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال اپنی قربانیوں میں ابوجہل کا ایک اونٹ روانہ فرمایا: جس کے سر میں چاندی کے زیورات ڈالے ہوئے تھے تاکہ اس سے مشرکین کا غم و غصہ اور بڑھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1733]
50. ضَحَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أُمَّتِهِ
رسولُ اللہ ﷺ نے اپنی پوری امت کی طرف سے قربانی کی۔
حدیث نمبر: 1734
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعيُّ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثني أبي، عن ابن إسحاق، حدثني يزيد بن أبي حَبِيب المِصْري، عن خالد بن أبي عِمْران، عن أبي عيّاش، عن جابر بن عبد الله الأنصاري: أنَّ رسولَ الله ﷺ ذَبَحَ يومَ العيد كَبشَين، ثم قال حين وَجَّهَهما:" ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [الأنعام: 79] ، ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (162) لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [الأنعام: 162، 163] ، باسمِ الله، واللهُ أكبرُ، اللهمَّ منكَ ولكَ عن محمدٍ وأُمّتِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو مینڈھے ذبح کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو قبلہ رُو لٹا لیا تو یوں دعا مانگی: (وجھت وجھی للذی فطر السماوات والارض حنیفا وما انا من المشرکین، انّ صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للّٰہِ رب العالمین لا شریک لہ، وبذلک امرت وانا اول المسلمین (الانعام: 162) بسم اللہ واللہ اکبر، اللھمّ منک ولک عن محمد وّأمّۃ۔) میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے، ایک اسی کا ہو کر اور میں مشرکوں میں نہیں، تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا، اس کا کوئی شریک نہیں مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ “ (پھر) (بسم اللہ واللہ اکبر اللّٰھمّ منک ولک عن محمدٍ وّأمّتہ) (پڑھ کر جانور ذبح کر دیا)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1734]
51. ذَبَحَ الْبَقَرَةَ عَنْ نِسَائِهِ فِي الْحَجِّ
نبی ﷺ نے حج میں اپنی ازواج کی طرف سے ایک گائے ذبح کی۔
حدیث نمبر: 1735
أخبرنا أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ، أخبرنا أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب الفقيه بمصر، حدثنا محمد [بن عبد الله بن ميمون الإسكندراني، حدثنا الوليد بن مُسلِم، حدثنا الأوزاعي، حدثني يحيى] (1) بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: ذَبَحَ النبيُّ ﷺ عمَّنِ اعتَمَرَ من نسائِه في حَجَّة الوداع بقرةً بينَهنَّ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی ازواج نے حجۃ الوداع میں عمرہ کیا تھا، ان سب کی جانب سے حضور علیہ السلام نے ایک گائے ذبح کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1735]