🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. التِّجَارَةُ وَالْكِرَاءُ فِي الْحَجِّ
حج کے دوران تجارت اور کرایہ داری (اجرت پر کام) کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1666
حدثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذئب، عن عطاء بن أبي رباح، عن عُبيد بن عُمَير، عن ابن عباس: أنَّ الناس في أول الحج كانوا يَتَبَايعون بمِنًى وعرفةَ وسوقِ ذي المَجَاز ومواسمِ الحجِّ، فخافوا البيعَ وهم حُرُم، فأنزل الله ﵎: (لا جُناحَ عليكم (1) أن تَبتَغُوا فَضْلًا من ربكُم) في مواسمِ الحجِّ، قال (2) : فحدثني عُبيد بن عُمير أنه كان يقرؤُها في المصحف (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پہلے پہل حج کے موسم میں لوگ منٰی، عرفہ اور ذی المجاز بازار میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ لیکن پھر حالت احرام میں خرید و فروخت کرنے سے ان لوگوں کو خوف آیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّکُم (البقرۃ: 198) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ (کنزالایمان) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عبید ابن عمیر نے ہمیں یہ بتایا کہ وہ اس آیت کو قرآن سے پڑھتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1666]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1667
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا أحمد بن إسحاق الحضرمي، حدثنا وُهَيب، حدثنا موسى بن عُقبة، حدثني نافعٌ وسالم: أن ابن عمر كان إذا مَرَّ بذِي الحُلَيفة بات بها حتى يُصبحَ، ويخبرُ أنَّ رسول الله ﷺ كان يفعلُ ذلك (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا.
سیدنا نافع اور سالم بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ جاتے تو صبح تک وہیں رہتے اور فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1667]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. مِنْ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
رسولُ اللہ ﷺ کے تلبیہ کے الفاظ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1668
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب إملاءً، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سَلَمة، أنَّ عبد الله بن الفضل حدَّثه عن عبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرةَ قال: كان من تَلبيةِ رسول الله ﷺ:"لبيك إلهَ الحَقِّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ میں یہ الفاظ بھی تھے لَبَّیْکَ إلٰہَ الْحَقِّ ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (احرام کی حالت میں) اپنے سر پر (سر دھونے والی مٹی) کی لیپ کی۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1668]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1669
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا عُبيد الله بن عمر القَوَارِيري، حدثنا عبد الأعلى، حدثنا محمد بن إسحاق، عن نافع عن ابن عمر: أنَّ النبيَّ ﷺ لَبَّدَ رأسَه بالغِسْل (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه، إنما اتفقا على حديث سالم عن ابن عمر: أَنَّ النبي ﷺ كان يُهِلُّ مُلبِّدًا (1) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1669]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1670
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن أبي بكر، عن عبد الملك بن أبي بكر بن الحارث بن هشام، عن خَلّاد بن السائب، عن أبيه، عن النبيّ ﷺ قال:"أتاني جبريلُ فقال: مُرْ أصحابَك أن يَرفَعوا أصواتَهم بالإهلال والتَّلبية" (2) . وقد قيل: عن خَلّاد بن السائب عن زيد بن خالد الجُهَني:
سیدنا خلاد بن سائب اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے۔ اور کہا: اپنے اصحاب سے فرما دیجیے کہ وہ بلند آواز میں تلبیہ اور تسبیح پڑھا کریں۔ ٭٭ اور یہی حدیث خلاد بن سائب نے زید بن خالد جہنی سے بھی روایت کی ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1670]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1671
أخبرَناه عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن أبي لَبيد، عن المُطَّلب بن عبد الله بن حَنْطَب، عن خَلَّاد بن السائب، عن زيد بن خالد الجُهَنيِّ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"جاءني جبريلُ فقال: يا محمد، مُرْ أصحابَك فليرفَعوا صِياحَهم بالتَّلبية، فإنها شِعارُ الحج" (1) . وقيل: عن المطَّلب بن عبد الله بن حَنْطب عن أبي هريرة:
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا جبرائیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے محمد! اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دو کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ کہا کریں کیونکہ یہ حج کی علامت ہے۔ ٭٭ بعض راویوں نے یہ حدیث مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے (جیسا کہ مندرجہ ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1671]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1672
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أنبأ ابن وَهْب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان وعبدَ الله بنَ أبي لَبِيد، أخبراه عن المطَّلب بن عبد الله بن حَنْطَب قال: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:" أمرني جبريلُ برفع الصَّوت بالإهلال، فإنَّه من شعائر الحج" (2) . هذه الأسانيد كلُّها صحيحة، وليس يُعلِّل واحدٌ منها الآخر، فإنَّ السلف ﵃ كان يجتمع عندهم الأسانيد لمتنٍ واحدٍ كما يجتمع عندنا الآن، ولم يخرج الشيخان هذا الحديث.
سیدنا عبدالمطلب بن عبداللہ بن حنطب فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبرائیل علیہ السلام نے بلند آواز سے تسبیح پڑھنے کا حکم دیا کیونکہ یہ حج کی علامات میں سے ہے۔ ٭٭ یہ تمام سندیں صحیح ہیں اور ان میں سے کوئی ایک، دوسری کو معلل نہیں کرتی، کیونکہ جس طرح اس وقت ہمارے پاس ایک متن کی متعدد سندیں جمع ہیں، اسی طرح گزشتہ بزرگوں کے پاس بھی ایک متن کی متعدد سندیں جمع ہوا کرتی تھیں۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدث کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1672]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ " الْعَجُّ وَالثَّجُّ "
پوچھا گیا کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا: بلند آواز سے تلبیہ کہنا اور قربانی کا خون بہانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1673
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثني محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك، أخبرنا الضَّحّاك بن عثمان، عن محمد بن بن المُنكَدِر، عن عبد الرحمن بن يَرْبُوع، عن أبي بكرٍ الصِّدِّيق: أنَّ رسولَ الله ﷺ سُئِل: أيُّ العملِ أفضل؟ قال:"العَجُّ والثَّجُّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قال أبو عُبيد: العَجُّ: رفع الصوت بالتلبية، والثّجُ: نحر البُدْن ليثُجَّ الدم من المَنْحَر.
سیدنا ابوبکر صدیق فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: (حج کے موقع پر) کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عج (بلند آواز سے تلبیہ کہنا) اور ثج (قربانی کے جانوروں کو ذبح کر کے ان کا خون بہانا)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1673]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. تَلْبِيَةُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ يَمِينِ الْمُلَبِّي وَشِمَالِهِ
تلبیہ کہنے والے کے دائیں بائیں زمین کی ہر چیز کا تلبیہ کہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1674
حدثني أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا الحسين بن إدريس الأنصاري، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا عَبيدة بن حُميد، حدثني عُمارة بن غَزِيّة، عن أبي حازم، عن سَهْل بن سعدٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ما من مُلَبٍّ يُلبِّي إلَّا لَبّى ما عن يَمينه وعن شِمالِه من شجرٍ وحَجَرٍ حتى تنقطعَ الأرضُ من هاهنا وهاهنا، عن يَمينِه وعن شِمالِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا سہل بن سعد فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن جب تلبیہ کہتا ہے تو اس کے دائیں بائیں تمام درخت اور پتھر بھی تلبیہ کہتے ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کر کے بتایا) یہاں سے یہاں تک، دائیں بائیں جہاں پر زمین ختم ہو جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1674]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1675
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثني يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، حدثني خُصَيف بن عبد الرحمن الجَزَري، عن سعيد بن جُبير قال: قلتُ لعبد الله بن عباس: يا أبا العباس عَجِبتُ لاختلاف أصحاب رسول الله ﷺ في إهلالِ رسولِ الله ﷺ حين أَوجَبَ، فقال: إنِّي لأعلمُ الناسِ بذلك، إِنَّهَا إِنَّما كانت من رسول الله ﷺ حَجةٌ واحدة، فمن هناك اختَلَفوا، خرج رسولُ الله ﷺ حاجًّا، فلمّا صلَّى في مسجده بذي الحُلَيفة ركعتيه أوجَبَه في مَجلِسه، فأهلَّ بالحجِّ حين فَرَغَ من ركعتيه، فسمع ذلك منه أقوامٌ فحَفِظَه (2) عنه، ثم ركب، فلمّا استَقلَّت به ناقتُه أهلَّ، وأدرَكَ ذلك منه أقوامٌ، وذلك أنَّ الناس كانوا يأتون أرسالًا، فسَمِعوه حين استقلَّت به ناقتُه يُهِلُّ، فقالوا: إنما أهلَّ رسول الله ﷺ حين استقلَّت به ناقتُه، ثم مَضَى رسولُ الله ﷺ، فلما عَلَا على شَرَفِ البَيْداء أهلَّ، وأدرَكَ ذلك منه أقوامٌ، فقالوا: إنما أهلَّ حين عَلَا على شَرَفِ البيداء، وايمُ الله، لقد أوجَبَ في مُصلّاه، وأهلَّ حين استقلَّت به ناقتُه وأهلَّ حين عَلَا شَرَفَ البَيْداء. قال سعيد بن جُبير: فمَن أخذ بقول ابن عباس، أهلَّ في مُصلّاه إِذا فَرَغَ من ركعتيه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم مفسَّر في الباب، ولم يخُرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في جُمادى الآخرة سنة سَتِّ وتسعين وثلاث مئة:
سیدنا سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! مجھے بڑی حیرانگی ہوتی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تسبیح پڑھنے میں صحابہ کرم رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہے، انہوں نے جواب دیا: اس سلسلہ میں میرے پاس سب سے زیادہ معلومات ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی حج میں یہ عمل کیا ہے، اس لیے صحابہ رضی اللہ عنہم کا آپس میں اختلاف ہو گیا (اصل واقعہ میں آپ کو بتاتا ہوں) رسول اللہ حج کے کرنے کیلئے روانہ ہوئے، آپ نے ذوالحلیفہ کے اندر مسجد میں جب دو رکعتیں پڑھ لیں تو اسی مسجد میں احرام کا ایجاب کیا اور جب دو رکعتیں پڑھ کے فارغ ہوئے تو حج کے لیے تسبیح پڑھی۔ کچھ لوگوں نے اس وقت کی تسبیح سنی اور اسی کو یاد کر لیا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار ہوئے اور اونٹنی (روانہ ہونے کے لیے اٹھ کر مکمل طور پر) کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تسبیح پڑھی، کچھ لوگوں نے اس وقت آپ کی تسبیح سنی، بات دراصل یہ تھی کہ لوگ گروہ در گروہ آتے تھے اور جب آپ کی اونٹنی اٹھتی تو وہ آپ کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے تو انہوں نے یہ سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تسبیح پڑھی ہے، جب آپ کی اونٹنی کھڑی ہوئی پھر آپ چلتے رہے اور جب آپ مقام بیداء کی اونچائی میں پہنچے تو اس وقت بھی تسبیح پڑھی کچھ لوگوں نے اس وقت تسبیح سنی، تو انہوں نے یہ کہہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت (فلاں) تسبیح کہی ہے۔ اور خدا کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں پر نماز پڑھی تھی وہیں پر احرام کا ایجاب کیا اور جب آپ کی اونٹنی مقام بیداء میں (روانگی کے لیے اُٹھ کر مکمل طور پر) کھڑی ہوئی تو اس وقت آپ نے تسبیح کہی۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں: جو لوگ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول پر عمل کرتے ہیں وہ جب دو رکعتیں پڑھ کر فارغ ہوتے ہیں، تب تسبیح کہتے ہیں۔ ٭٭ اس باب میں یہ حدیث تفصیلی حدیث ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1675]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں