المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. فَضِيلَةُ آيَةِ الْكُرْسِيِّ
آیۃ الکرسی کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2083
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله الدَّشْتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن عاصم بن أبي النَّجُود، عن أبي الأحوص، عن عبد الله بن مسعود قال: إنَّ لكلِّ شيء سَنَامًا، وسنامُ القرآن سورةُ البقرة، وإنَّ الشيطانَ إذا سمع سورةَ البقرة تُقرَأُ خرجَ من البيت الذي يُقرأ فيه سورةُ البقرة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد وقد روي مرفوعًا بمثل هذا الإسناد.
هذا حديث صحيح الإسناد وقد روي مرفوعًا بمثل هذا الإسناد.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: بے شک ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے اور قرآن کی چوٹی سورہ بقرہ ہے، اور بے شک شیطان جب سورہ بقرہ کو تلاوت ہوتے ہوئے سنتا ہے تو اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جا رہی ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اسی سند کے ساتھ یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2083]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اسی سند کے ساتھ یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2083]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد لا بأس برجاله، لكنه اختُلف في رفعه ووقفه، فقد رواه عمرو بن أبي قيس وزائدة بن قدامة فرفعاه تارةً ووقفاه تارةً، والوقف أشبه، لأنَّ حماد بن زيد وحماد بن سلمة قد وافقاهما عليه.»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2084
أخبرَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن عبد الرحمن الدَّشْتَكي، حدثنا أَبي، حدثنا أَبي (1) ، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن عاصم، عن أبي الأحوص، عن عبد الله، عن النبي ﷺ (2) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اسی طرح جیسا کہ حدیث 2083 میں گزرا ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2084]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم كسابقه.»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
26. سُورَةُ الْبَقَرَةِ مِنَ الذِّكْرِ الْأَوَّلِ
سورۂ بقرہ اولین ذکر میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 2085
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكيّ بن إبراهيم، حدثنا عبيد الله بن أبي حُميد، عن أبي المَليح، عن مَعقِل بن يَسار قال: قال رسول الله ﷺ:"أُعطِيتُ سورةَ البقرةِ من الذِّكرِ الأوّلِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سورہ بقرہ پہلے ذکر (لوحِ محفوظ) سے عطا کی گئی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2085]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2085]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل عبيد الله بن أبي حميد، فهو متروك الحديث كما قال الحافظ في "إتحاف المهرة" (16897).»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل عبيد الله بن أبي حميد
27. إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَدْخُلُ بَيْتًا يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جائے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 2086
أخبرنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ بالكوفة، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التميمي، حدثنا الفضل بن دُكين، حدثنا شعبة، عن سلمة بن كُهيل، عن أبي الأحوص، عن عبد الله قال: اقرؤُوا سورة البقرة في بيوتكم، فإنَّ الشيطان لا يدخلُ بيتًا يُقرأُ فيه سورةُ البقرة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد أسنده عاصم بن بَهْدَلة عن أبي الأحوص:
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد أسنده عاصم بن بَهْدَلة عن أبي الأحوص:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اپنے گھروں میں سورہ بقرہ پڑھا کرو، کیونکہ شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2086]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2086]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أبو بكر بن أبي دارم»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2087
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي، حدثنا إبراهيم بن يوسف بن خالد، حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا حسين بن علي الجُعْفي، عن زائدة، عن عاصم، عن أبي الأحوص، عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"اقرؤوا سورةَ البقرةِ في بُيوتكم، فإنَّ الشيطانَ لا يدخُلُ بيتًا يُقرأ فيه سورةُ البقرة" (1) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں میں سورہ بقرہ پڑھا کرو، کیونکہ شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2087]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكنه اختُلف في رفعه ووقفه كما بيناه عند الحديث المتقدم برقم (2083). يوسف بن موسى: هو التُّسْتَري.»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
28. قِرَاءَةُ آيَةِ الْكُرْسِيِّ يُجِيرُ مِنَ الْجِنِّ
آیۃ الکرسی پڑھنے سے جنّات سے حفاظت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 2088
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق بن يوسف، حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا أبو داود الطّيالسي، حدثنا حَرْب بن شدَّاد، عن يحيى بن أبي كَثير، حدثني الحَضْرمي بن لاحِقٍ، عن محمد بن عمرو بن أُبيّ بن كعب، عن جدِّه أُبيّ بن كعب: أنه كان له جَرِينُ تمرٍ (2) ، فكان يجدُه ينقُصُ، فحرسَه ليلةً، فإذا هو بمثل الغلامِ المحتلِم، فسلَّم عليه، فردَّ عليه السلامَ، فقال: أجِنّيٌّ، أم إنسيٌّ؟ فقال: بل جِنّيٌّ، فقال: أرِني يدَكَ، فأراه، فإذا يدُ كلبٍ، وشعرُ كلبٍ، فقال: هكذا خَلْقُ الجنِّ، فقال: لقد عَلِمَتِ الجنُّ أنه ليس فيهم رجلٌ أشدَّ مني، قال: ما جاء بك؟ قال: أُنبئنا أنك تحبُّ الصدقةَ، فجئنا نُصيبُ من طعامِكَ، قال: ما يُجِيرُنا منكم؟ قال: تقرأ آيةَ الكرسيّ من سورة البقرة ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [البقرة: 255] ؟ قال: نعم، قال: إذا قرأتها غَدوةً أُجِرْتَ مِنّا حتى تُمسيَ، وإذا قرأتها حين تمسي أُجِرتَ مِنّا حتى تصبحَ. قال أُبي: فغَدَوتُ إلى رسول الله ﷺ، فأخبرتُه بذلك، فقال:"صَدَقَ الخَبِيثُ" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس کھجوروں کا ایک کھلیان تھا جس میں سے کھجوریں کم ہو جاتی تھیں، انہوں نے ایک رات پہرہ دیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک نوجوان لڑکے جتنا جثہ نظر آیا، انہوں نے اسے سلام کیا، اس نے سلام کا جواب دیا، انہوں نے پوچھا: تم جن ہو یا انسان؟ اس نے کہا: میں جن ہوں، انہوں نے کہا: اپنا ہاتھ دکھاؤ، اس نے دکھایا تو وہ کتے کے ہاتھ اور کتے کے بالوں جیسا تھا، انہوں نے کہا: جنوں کی پیدائش ایسی ہی ہوتی ہے، پھر اس نے کہا: تمام جن جانتے ہیں کہ ان میں مجھ سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں، انہوں نے پوچھا: تمہیں یہاں کون لایا؟ اس نے کہا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ صدقہ پسند کرتے ہیں تو ہم آپ کے کھانے میں سے کچھ لینے آئے ہیں، انہوں نے پوچھا: ہمیں تم سے کون سی چیز پناہ دے گی؟ اس نے کہا: کیا آپ سورہ بقرہ کی آیت الکرسی ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة البقرة: 255] پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: اگر آپ اسے صبح کے وقت پڑھیں گے تو شام تک ہم سے محفوظ رہیں گے، اور اگر شام کو پڑھیں گے تو صبح تک محفوظ رہیں گے۔ ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس خبیث نے سچ کہا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2088]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2088]
حدیث نمبر: 2089
أخبرني أبو نصر أحمد بن سَهْل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أبو هشام محمد بن يزيد، حدثنا محمد بن فُضيل، حدثنا محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حبيب، عن مَرْثَد بن عبد الله، عن عُقبة بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ:"اقرأْ بالآيتَين من آخرِ سورة البقرة، فإني أُعطِيتُهما من تحتِ العرش" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھا کرو، کیونکہ یہ دونوں مجھے عرش کے نیچے سے عطا کی گئی ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2089]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أبو هشام محمد بن يزيد»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
29. آيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَلَا تُقْرَآنِ فِي دَارٍ فَيَقْرَبُهَا الشَّيْطَانُ ثَلَاثَ لَيَالٍ
سورۂ بقرہ کی آخری دو آیات، جس گھر میں پڑھی جائیں وہاں تین راتوں تک شیطان قریب نہیں آتا۔
حدیث نمبر: 2090
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصغَاني، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا الأشعثُ بن عبد الرحمن، عن أبي قِلابة، عن أبي الأشعث، عن النعمان بن بَشير، عن النبي ﷺ قال:"إنَّ الله ﵎ كتب كتابًا قبل أن يَخلُقَ السماواتِ والأرضَ بألفَي عام، وأَنزل (1) منه آيتين خَتَمَ بهما سورةَ البقرة، ولا تُقرآنَ في دارٍ فيَقرَبَها شيطانٌ ثلاثَ ليالٍ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی اور اس میں سے دو ایسی آیات نازل کیں جن پر سورہ بقرہ کو ختم فرمایا، وہ (آیات) جس گھر میں تین راتیں پڑھی جائیں شیطان اس کے قریب نہیں آتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2090]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2090]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل الأشعث بن عبد الرحمن. أبو قلابة: هو عبد الله بن زيد الجَرْمي، وأبو الأشعث: هو شَراحيل بن آدَهْ الصنعاني.»
الحكم على الحديث: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2091
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا عبد الله بن صالح المصري، أخبرني معاوية بن صالح، عن أبي الزاهريّة، عن جُبير بن نُفير، عن أبي ذرٍّ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ الله خَتَمَ سورةَ البقرة بآيتين أعطانِيهما من كَنْزِه الذي تحت العرش، فتعلَّمُوهنَّ وعَلِّمُوهُنَّ نِساءَكم وأبناءَكم، فإنها صلاةٌ وقرآنٌ ودعاءٌ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري (1) ، ولم يُخرجاه. وقد رواه عبد الله بن وهب عن معاوية بن صالح مرسلًا:
هذا حديث صحيح على شرط البخاري (1) ، ولم يُخرجاه. وقد رواه عبد الله بن وهب عن معاوية بن صالح مرسلًا:
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کا اختتام دو ایسی آیات پر فرمایا ہے جو اس نے مجھے اپنے اس خزانے سے عطا فرمائی ہیں جو عرش کے نیچے ہے، پس تم انہیں خود بھی سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی سکھاؤ، کیونکہ یہ (تلاوت) نماز بھی ہے، قرآن بھی ہے اور دعا بھی ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبداللہ بن وہب نے اسے معاویہ بن صالح سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2091]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبداللہ بن وہب نے اسے معاویہ بن صالح سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2091]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: "فتعلَّموهن وعلِّموهن" إلى آخر الحديث، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ عبد الله بن صالح - وهو كاتب الليث. وقد خالفه عبد الله بن وهب ومعن بن عيسى القزاز، وهما ثقتان، فأرسلا الحديث، وكذلك رواه عبد الله بن صالح مرةً مرسلًا. وقد جاء شطر الحديث الأول من وجه آخر عن أبي ذر، وله شواهد تقدم ذكرها عند الحديث (2089).»
الحكم على الحديث: صحيح دون قوله: "فتعلَّموهن وعلِّموهن" إلى آخر الحديث
حدیث نمبر: 2092
أخبرَنيهِ عبد الله بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا يونس بن عبد الأعلى، أخبرنا ابن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن أبي الزاهرية، عن جُبير بن نُفير، عن رسول الله ﷺ، مثلَه (1) . وقد أخرج مسلم حديث أبي مالك الأشجعي عن رِبْعيّ بن حِراش عن حذيفة أنَّ رسول الله ﷺ قال:"أُعطيتُ خَواتيمَ سورةِ البقرةِ من كَنْزٍ تحتَ العرشِ" (2) .
سیدنا جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ سے مرسلاً مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مثل فرمایا۔
امام مسلم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سورہ بقرہ کی آخری آیات عرش کے نیچے موجود ایک خزانے سے عطا کی گئی ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2092]
امام مسلم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سورہ بقرہ کی آخری آیات عرش کے نیچے موجود ایک خزانے سے عطا کی گئی ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2092]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه مرسلٌ، وهو أصح من الموصول الذي قبله.»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره