المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْقُرْآنِ مِثْلُ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
قرآنِ مجید کے فضائل سے متعلق عمومی روایات — نہ تورات میں، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں سورۂ فاتحہ جیسی کوئی سورت نازل کی گئی۔
حدیث نمبر: 2073
فأخبرَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم المروَزي، حدثنا عبد الله بن روح المدائني، حدثنا شَبَابة بن سَوّار، حدثنا شعبة، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أُبي بن كعب: أنه قرأ على رسول الله ﷺ ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ حتى خَتَمَها، فقال رسول الله ﷺ:"إنها السبعُ المَثَاني، والقرآنُ العظيمُ الذي أُعطِيتُ" (3) . وقد وجدتُ لحديث عبد الحميد بن جعفر شاهدًا في سماع أبي هريرة هذا الحديثَ من أبيِّ بن كعب من حديث المدنيين:
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ مکمل تلاوت کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً یہ سبع مثانی اور وہ قرآنِ عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“ [سورة الحجر: 87] [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2073]
حدیث نمبر: 2074
أخبرَناه أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، حدثنا محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي بكر، عن أبي الزِّناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ نادى أبيَّ بن كعب وهو قائم يصلي، فلم يجبْه، فقال:"ما مَنَعَكَ أن تُجيبَني يا أبيُّ؟" فقال: كنت أصلي، فقال:"ألم يقلِ اللهُ ﵎: ﴿اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ﴾ [الأنفال: 24] ، لا تَخرُج من المسجد حتى أُعلِّمَك سورةً ما أَنزل الله في التوراة والإنجيل والزبُور مثلَها"، قال أبيّ: ثم اتَّكأَ على يدي، حتى إذا كان بأقصى المسجد قلتُ: يا نبيّ الله، قلتَ: كذا وكذا، قال:"نعم، هي أمُّ القرآن، والذي نفسي بيده، ما أنزل الله في التوراة والإنجيل والزَّبُور مثلَها، وإنها السبعُ الطُّوَلُ التي أُوتيتُ، وإنها القرآنُ العظيمُ" (1) . قد أخرج البخاري في"الجامع الصحيح" (2) حديثَ ابن أبي ذئب، عن سعيد المقبُري، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"الحمد لله، أمُّ القرآن، والسبعُ المثاني، والقرآنُ العظيمُ"، هذه اللفظةَ فقط.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو پکارا جب وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے جواب نہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابی! تمہیں میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: ﴿اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ﴾ ”اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں بلائیں“ [سورة الأنفال: 24] ، تم مسجد سے اس وقت تک باہر نہ جانا جب تک میں تمہیں ایسی سورت نہ سکھا دوں جس کی مثل اللہ نے تورات، انجیل اور زبور میں نازل نہیں فرمائی“، ابی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ کا سہارا لیا یہاں تک کہ جب آپ مسجد کے آخری کنارے پر پہنچے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ نے ایسا ایسا فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، یہ ام القرآن ہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اللہ نے اس جیسی سورت تورات، انجیل اور زبور میں نازل نہیں فرمائی، اور یہی وہ سات لمبی سورتیں (کے قائم مقام) ہے جو مجھے دی گئی ہیں، اور یہی قرآنِ عظیم ہے۔“ [سورة الحجر: 87] [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2074]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات غير محمد بن إسحاق»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
20. فَضِيلَةُ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ
سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2075
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا عمار بن رُزَيق، عن عبد الله بن عيسى، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، قال: بَيْنا جبريلُ ﵇ جالس عند رسول الله ﷺ إذ سمع نقيضًا من السماء، فرفع رأسه، ثم قال:"فُتحَ بابٌ من السماء لم يُفتَح قبلَه قطُّ، فإذا مَلَك يقول: أبشِرْ بِنُورَين أُوتِيتَهما لم يُؤتَهُما نبيٌّ قبلَك: فاتحةُ الكتاب، وخَواتيمُ سورة البقرة، لن تَقرأَ منهما (3) حرفًا إلَّا أُعطِيتَه" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما أخرج مسلم هذا الحديث عن أحمد بن جَوَّاس الحنفي، عن أبي الأحوص، عن عمار بن رُزَيق، مختصرًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما أخرج مسلم هذا الحديث عن أحمد بن جَوَّاس الحنفي، عن أبي الأحوص، عن عمار بن رُزَيق، مختصرًا (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اسی اثناء میں کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے آسمان سے ایک چرچراہٹ کی آواز سنی، انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”آسمان کا ایک ایسا دروازہ کھلا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا، پھر وہاں سے ایک فرشتہ اترا اور کہنے لگا: آپ کو ان دو نوروں کی خوشخبری ہو جو آپ کو دیے گئے ہیں اور آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے: ایک فاتحہ الکتاب اور دوسرا سورہ بقرہ کی آخری آیات، آپ ان میں سے جو بھی حرف پڑھیں گے وہ (اس میں مانگی گئی دعا) آپ کو ضرور دی جائے گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، امام مسلم نے اسے مختصراً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2075]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، امام مسلم نے اسے مختصراً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2075]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل معاوية بن هشام»
الحكم على الحديث: إسناده قوي
21. أُعْطِيتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ
سورۂ فاتحہ عرش کے نیچے سے عطا کی گئی۔
حدیث نمبر: 2076
أخبرَنا أبو أحمد بكر بن محمد الصيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكيُّ بن إبراهيم، عن عبيد الله بن أبي حُميد، عن أبي المَليح، عن مَعقِل بن يسار قال: قال النبي ﷺ:"أُعطيتُ فاتحةَ الكتابِ من تحت العرش، والمُفصَّلَ النافلةَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے فاتحہ الکتاب عرش کے نیچے سے عطا کی گئی ہے، اور مفصل سورتیں بطورِ نفل (زائد نعمت) ملی ہیں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2076]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2076]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل عبيد الله بن أبي حميد، فهو متروك الحديث كما أشار إليه الذهبي.»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل عبيد الله بن أبي حميد
22. رَقْيُ اللَّدِيغِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَشِفَاؤُهُ وَأَخْذُ الْعِوَضِ عَلَى الرُّقَى
سورۂ فاتحہ کے ذریعے سانپ کے کاٹے ہوئے کا دم کرنا، شفا پانا اور دم کی اجرت لینا۔
حدیث نمبر: 2077
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن محمد القَبّاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحَنْظَلي، أخبرنا جرير، عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد قال: بَعَثَنا رسولُ الله ﷺ في غَزاةٍ أو سَريّةٍ، فمررنا على أهل أبيات، فاستضفناهم، فلم يضيِّفُونا، فنزلنا بالعَراء، فلُدِغ سيدُهم، فأتَونا فقالوا: هل أحدٌ منكم يَرقي؟ فقلت: أنا رَاقٍ، قال: فارْقِ صاحِبَنا، فقلت: لا، قد استضَفْناكم فلم تُضَيِّفونا، قالوا: فإنا نجعلُ لكم، فجَعَلُوا لنا ثلاثين شاةً، قال: فأتيتُه فجعلتُ أمسَحُه وأقرأ فاتحةَ الكتاب وأُردِّدُها حتى بَرَأ، فأخذنا الشِّياه، فقلنا: أخذناه ونحن لا نُحسِنُ أن نَرقي، ما نحن بالذي نأكُلُها حتى نسألَ رسولَ الله ﷺ، فأتيناه فذكرنا ذلك له، قال: فجعل يقول:"وما يُدريكَ أنها رُقْيةٌ؟" قلت: يا رسول الله، ما دَرَيتُ أنها رُقْيةٌ، ولكن شيءٌ ألقى اللهُ في نفسي، فقال رسول الله ﷺ:"كُلُوا واضرِبُوا لي معكم بسَهمٍ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجه عن يحيى بن يحيى، عن هُشَيم، عن أبي بِشْر، عن أبي المتوكل، عن أبي سعيد، مختصرًا (2) . وأخرج البخاري أيضًا مختصرًا من حديث هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن أخيه مَعْبَد، عن أبي سعيد (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجه عن يحيى بن يحيى، عن هُشَيم، عن أبي بِشْر، عن أبي المتوكل، عن أبي سعيد، مختصرًا (2) . وأخرج البخاري أيضًا مختصرًا من حديث هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن أخيه مَعْبَد، عن أبي سعيد (3) .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جنگی مہم میں بھیجا، ہمارا گزر کچھ گھروں والوں پر ہوا، ہم نے ان سے ضیافت طلب کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا، ہم نے کھلے میدان میں پڑاؤ ڈال لیا، اسی دوران ان کے سردار کو (کسی زہریلے جانور نے) ڈس لیا، وہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا: کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ میں نے کہا: ہاں میں دم کرتا ہوں، انہوں نے کہا: ہمارے ساتھی کو دم کر دیں، میں نے کہا: نہیں، ہم نے تم سے ضیافت مانگی تھی اور تم نے انکار کر دیا تھا، اب ہم اجرت کے بغیر دم نہیں کریں گے، چنانچہ انہوں نے ہمارے لیے تیس بکریاں مقرر کر دیں، راوی کہتے ہیں: میں اس کے پاس گیا اور اس پر ہاتھ پھیرنے لگا اور فاتحہ الکتاب پڑھ کر بار بار دہرانے لگا یہاں تک کہ وہ تندرست ہو گیا، ہم نے بکریاں لے لیں لیکن ہم نے آپس میں کہا کہ ہم انہیں اس وقت تک نہیں کھائیں گے جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لیں، چنانچہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ (سورہ فاتحہ) دم ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے پہلے سے معلوم نہیں تھا لیکن یہ ایک بات تھی جو اللہ نے میرے دل میں ڈال دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں کھاؤ اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ نکالو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2077]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2077]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،جرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو نَضْرة: هو المنذر بن مالك بن قِطْعة.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
23. شِفَاءُ الْمَجْنُونِ بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَيْهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ
تین دن سورۂ فاتحہ پڑھ کر مجنون کا شفا پانا۔
حدیث نمبر: 2078
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا زكريا بن أبي زائدة. وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا بشر بن موسى الأسدي، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا زكريا بن أبي زائدة، عن الشعبي، عن خارجة بن الصَّلْت التميمي، عن عمه: أنه مرَّ بقوم وعندهم مجنون مُوثَقٌ في الحديد، فقال له بعضهم: أعندك شيء يُداوَى به هذا؟ فإنَّ صاحبكم قد جاء بخير، قال: فقرأت عليه فاتحة الكتاب ثلاثةَ أيام في كلِّ يوم مرتين، فبَرأ، فأعطاه مئةَ شاةٍ، فأتى النبيَّ ﷺ، فذكر ذلك له، فقال:"كُلْ، فمَن أكل برُقْيةِ باطلٍ، فقد أكلتَ برُقْيَةِ حَقٍّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کا گزر ایک قوم پر ہوا جن کے پاس ایک دیوانہ شخص تھا جو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، ان میں سے کسی نے ان سے کہا: کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس سے اس کا علاج کیا جا سکے؟ کیونکہ آپ کے ساتھی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) تو خیر لے کر آئے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے اس پر تین دن تک ہر روز دو مرتبہ فاتحہ الکتاب پڑھی، تو وہ ٹھیک ہو گیا، اس شخص نے انہیں سو بکریاں دیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، کیونکہ جس نے باطل دم کے ذریعے کھایا (وہ گناہ گار ہے) لیکن تم نے تو حق دم کے ذریعے کھایا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2078]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2078]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل خارجة بن الصلت، فقد روى عنه غير واحد، وذكره ابن حبان وابن خلفون في "الثقات"، وقال الذهبي: محله الصدق؛ وهو كما قال أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، والشعبي: هو عامر بن شَراحيل.»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2079
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا علي بن عبد الحميد المعنيّ، حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت، عن أنس بن مالك، قال: كان النبي ﷺ في مَسيرٍ فنزل ونزل رجلٌ إلى جانبه، قال: فالتفتَ النبيُّ ﷺ فقال:"ألا أُخبِرُك بأفضلِ القرآنِ؟"، قال: فتلا عليه: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [أخبار في فضل سورة البقرة]
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [أخبار في فضل سورة البقرة]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور ایک شخص بھی آپ کے پہلو میں اترا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا میں تمہیں قرآن کے سب سے افضل حصے کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ پڑھ کر سنائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2079]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2079]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو حاتم الرازي: هو محمد بن إدريس الحافظ المعروف.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
24. أَخْبَارٌ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ
سورۂ بقرہ اور آلِ عمران کی فضیلت سے متعلق روایات۔
حدیث نمبر: 2080
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدثنا بَشير بن المُهاجر. وأخبرنا أحمد بن محمد بن سلمة العَنَزي، حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، حدثنا خَلّاد بن يحيى، حدثنا بَشير بن المُهاجر، حدثنا عبد الله بن بُريدة، عن أبيه قال: كنت جالسًا عند النبي ﷺ، فقال:"تعلَّموا سورةَ البقرة وآل عمران، فإنهما الزَّهْراوانِ يُظِلّانِ صاحبَهما يومَ القيامةِ، كأنهما غَمَامتان - أو غَيَايتان - أو فِرْقانِ من طيرٍ صَوَافَّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران سیکھو، کیونکہ یہ دونوں روشن سورتیں ہیں جو قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے پر اس طرح سایہ کریں گی جیسے وہ دو بادل ہوں، یا دو سائبان ہوں، یا پرندوں کی دو قطاریں ہوں جو پر پھیلائے ہوئے ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2080]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2080]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، لكن بلفظ: "تُحاجّان عن أصحابهما" بدل: "تظلان أصحابهما"، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل بَشير بن المهاجر.»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2081
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وأبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، قالا: حدثنا محمد بن أحمد بن النضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، عن حَكيم بن جُبير، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ لكل شيءٍ سَنَامًا، وإنَّ سنامَ القرآن سورةُ البقرة" (1) . رواه سفيان بن عيينة عن حَكيم بن جبير بزيادة فيه:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے، اور قرآن کی چوٹی سورہ بقرہ ہے۔“ سفیان بن عیینہ نے حکیم بن جبیر سے یہ روایت کچھ اضافے کے ساتھ بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2081]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، حكيم بن جبير ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد كما تقدم بيانه برقم (1495)، ولحديثه هذا ما يشهد له كما سيأتي بيانه. زائدة: هو ابن قُدامة، وأبو صالح: هو ذكوان السمّان.»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
25. فَضِيلَةُ آيَةِ الْكُرْسِيِّ
آیۃ الکرسی کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2082
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا حَكيم بن جُبير الأَسَدي، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"سورةُ البقرة فيها آيةٌ سيِّدُ آيِ القرآن، لا تُقرأُ في بيتٍ وفيه شيطانٌ إلّا خرج منه؛ آيةُ الكُرْسي" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والشيخان لم يخرجا عن حكيم بن جبير لِوهَنٍ في رواياته، إنما تركاه لغُلوِّه في التشيُّع (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والشيخان لم يخرجا عن حكيم بن جبير لِوهَنٍ في رواياته، إنما تركاه لغُلوِّه في التشيُّع (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورہ بقرہ میں ایک ایسی آیت ہے جو قرآن کی تمام آیات کی سردار ہے، وہ جس گھر میں پڑھی جائے اور اس میں شیطان ہو تو وہ وہاں سے نکل جاتا ہے؛ اور وہ آیت الکرسی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ شیخین نے حکیم بن جبیر کی روایات میں کمزوری کی وجہ سے ان سے روایت نہیں لی، انہوں نے ان کی روایت کو ان کے غلو فی التشیع کی وجہ سے ترک کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2082]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ شیخین نے حکیم بن جبیر کی روایات میں کمزوری کی وجہ سے ان سے روایت نہیں لی، انہوں نے ان کی روایت کو ان کے غلو فی التشیع کی وجہ سے ترک کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2082]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره كسابقه، وله ما يشهد له كذلك. سفيان: هو ابن عيينة. وهو في "مسند الحميدي" (994).»
الحكم على الحديث: حسن لغيره كسابقه