المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. إِذَا نَكَحَ الوَلِيَّانِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ، وَإِذَا بَاعَ الْمُجِيزَانِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ
اگر دو ولی نکاح کر دیں تو پہلا معتبر ہوگا اور اگر دو اجازت دینے والے بیع کریں تو پہلا معتبر ہوگا
حدیث نمبر: 2755
فأخبرَناه أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا سعيد، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جُندُب، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"أيُّما رجل باع مِن رجلَين بيعًا، فهو للأوّل منهما، وأيُّما امرأةٍ زَوَّجها وَليّان، فهي للأوّل" (2) . وأما حديث سعيد بن بَشير:
سعید بن ابی عروبہ کی سند کے ہمراہ مروی ہے کہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو آدمی کوئی چیز دو آدمیوں کو بیچے تو وہ پہلے خریدار کے لیے ہے۔ اور جس عورت کا نکاح اس کے دو ولی کریں تو وہ پہلے کے لیے ہے۔ سعید بن بشیر کی حدیث۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2755]
حدیث نمبر: 2756
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عُبيد بن شَريك، حدثنا أبو الجُمَاهِر، حدثنا سعيد بن بَشير، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جندب، قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا أنكَحَ الوَليّان، فهو للأول، وإذا باع المُجِيزان، فهو للأول" (1) . وقد تابعَ (2) قَتَادة على روايته عن الحسن أشعثُ بن عبد الملك الحُمْراني:
سعید بن بشیر اپنی سند کے ہمراہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب دو ولی نکاح کر دیں تو وہ پہلے کے لیے ہے اور جب دو مجیر (وہ غلام جس کو تجارت کی اجازت دی گئی ہو) کو چیز بیچ دیں تو وہ پہلے کے لیے ہے۔ ٭٭ اس حدیث کو حسن سے روایت کرنے میں اشعث بن عبدالملک الحمرانی نے قتادہ کی متابعت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2756]
حدیث نمبر: 2757
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزير، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثني أشعثُ بن عبد الملك، عن الحسن، عن سَمُرة، عن النبي ﷺ قال:"إذا أنكَحَ المُجِيزان، فالأولُ أحقُّ" (3) . هذه الطرقُ النّواصعُ التي ذكرتُها لهذا المتن، كلُّها صحيحة على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2723 - على شرط البخاري
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2723 - على شرط البخاري
مذکورہ سند کے ہمراہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں، جب دو ولی نکاح کر دیں تو وہ پہلے کے لیے ہے۔ ٭٭ مذکورہ متن کے لیے یہ تمام طرق واضح ہیں اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہیں لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2757]
24. كَانَ صَدَاقُنَا إِذَا كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ أَوَاقٍ
جب ہم میں سیدنا رسول اللہ ﷺ ہوتے تو ہمارا مہر دس اوقیہ ہوا کرتا تھا
حدیث نمبر: 2758
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرّة، حدثنا يحيى بن محمد الجاريّ (4) ، حدثنا داود بن قيس الفرّاء، أخبرني موسى بن يسار، عن أبي هريرة، قال: كان صَداقُنا إذْ كان فينا رسولُ الله ﷺ عشر (5) أَوَاقٍ (6) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2724 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2724 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہم عموماً دس اوقیہ (ایک اوقیہ سات مثقالوں کا ہوتا ہے) حق مہر مقرر کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2758]
25. مَنْ قُتِلَ أَوْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ
جو اللہ کی راہ میں قتل ہو یا مر جائے وہ جنت میں ہے
حدیث نمبر: 2759
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر بن يزيد الأَدَمي القارئ ببغداد، حدثنا عبد الله بن الحسن الهاشمي، حدثنا يزيد بن هارون. وأخبرني أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا عبد الله بن أبي شَيْبة وزهير بن حَرْب، قالا: حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الله بن عَوْن، عن ابن سِيرين، عن أبي العَجْفاء السُّلَمي، قال: خَطَبَنا عمرُ بن الخطّاب فقال: ألا لا تُغالُوا صُدُقَ النساء، فإنها لو كانت مَكرُمةً في الدنيا أو تقوى عند الله كان أَوْلاكم بها وأحقَّكم بها محمدٌ ﷺ، ما أصْدَقَ امرأةً من نسائه أكثرَ من ثِنتَي عشرةَ أُوقيّةً، وإن أحدَكم ليُغْلي بصَدُقةِ امرأتِه، حتى يكون لها عداوةٌ في نفسِه، ويقول: قد كَلِفْتُ إليك عَلَقَ (1) القِرْبة. وأخرى تقولونها لمن قُتل في مغازيكم هذه لو ماتَ: قُتِلَ فلان شهيدًا، ومات فلان شهيدًا، وعسى أن يكون قد أَثقَلَ عَجُزَ دابّته أو دفَّ راحلتِه (2) ذهبًا ووَرِقًا يبتغي الدنيا، فلا تقولوا ذلك، ولكن قولوا كما قال رسول الله ﷺ:"مَن قُتِل أو مات في سبيل الله، فهو في الجنّة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه أيوب السَّخْتياني وحبيب بن الشَّهيد (1) وهشام بن حسّان وسلَمة بن علقمة (2) ومنصور بن زاذان وعوف بن أبي جَميلة (3) ويحيى بن عَتيق، كلُّ هذه التراجم من رواياتٍ صحيحةٍ عن محمد بن سِيرين. وأبو العَجْفاء السُّلَمي اسمه هَرِم بن حيّان، وهو من الثِّقات.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه أيوب السَّخْتياني وحبيب بن الشَّهيد (1) وهشام بن حسّان وسلَمة بن علقمة (2) ومنصور بن زاذان وعوف بن أبي جَميلة (3) ويحيى بن عَتيق، كلُّ هذه التراجم من رواياتٍ صحيحةٍ عن محمد بن سِيرين. وأبو العَجْفاء السُّلَمي اسمه هَرِم بن حيّان، وهو من الثِّقات.
سیدنا ابوالعجفاء سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: خبردار! عورتوں کا حق مہر بہت زیادہ مقرر نہ کیا کرو۔ اس لیے کہ اگر یہ دنیا میں کوئی باعث عزت و تکریم یا عنداللہ تقویٰ کی بات ہوتی تو تم سب سے زیادہ اس بات کے مستحق محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا حق مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا۔ تم لوگ عورت کا مہر بہت زیادہ مقرر کرتے ہو، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شوہر کے دل میں اس عورت کے متعلق نفرت بیٹھ جاتی ہے۔ اور وہ کہتا ہے کہ مجھے تجھ سے بہت شدید تکلیف اٹھانا پڑی ہے۔ اور ایک بات مزید یہ ہے کہ تم ان جنگوں میں قتل ہونے والے کے بارے میں کہتے ہو کہ وہ شہید مرا ہے، ہو سکتا ہے اس کی سواری کی پچھلی جانب خالی ہو اور وہ دنیا کی طلب میں اپنی سواری کو سونے اور چاندی کے پیچھے بھگا رہا ہو، اس لیے ایسے مت بولا کرو بلکہ اس طرح کہا کرو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے:” جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے مر جائے یا قتل کر دیا جائے وہ جنتی ہے “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ایوب سختیانی، حبیب الشہید، ہشام بن حسان، سلمہ بن علقمہ، منصور بن زاذان، عوف بن ابی جمیلہ اور یحیی بن عقیق نے اسی عنوان کے تحت محمد بن سیرین کے حوالے سے صحیح روایات نقل کی ہیں۔ اور ابوالعجفاء سلمی کا نام ہرم بن حیان ہے اور ان کا شمار ثقہ راویوں میں ہوتا ہے۔ اور یہی حدیث سالم بن عبداللہ اور نافع کے حوالے سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ سالم کی حدیث۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2759]
حدیث نمبر: 2759M
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العباس بن محمد الدُّوري يقول: سمعت يحيى بن مَعين يقول: حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، قال: اسمُ أبي العَجْفاء هَرِم. وقد روي هذا الحديث من رواية مستقيمة عن سالم بن عبد الله ونافع عن ابن عمر. أما حديث سالم:
عباس بن محمد دوری بیان کرتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہمیں عبدالرحمن بن مہدی نے بیان کیا کہ: ”ابوالعجفاء کا نام ہرم ہے“۔ اور یہ حدیث سالم بن عبداللہ اور نافع کے واسطے سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک درست (مستقیم) روایت کے طور پر بھی مروی ہے۔ جہاں تک سالم کی حدیث کا تعلق ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2759M]
26. يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تُغَالُوا مَهْرَ النِّسَاءِ
اے لوگو! عورتوں کے مہروں میں غلو نہ کرو
حدیث نمبر: 2760
فحدَّثَناه أبو الوليد الفقيه وأبو بكر بن عبد الله بن قُريش، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا شَيْبان بن فَرُّوخَ، حدثنا عيسى بن ميمون، حدثنا سالم ونافع، عن ابن عمر: أنَّ عمر بن الخطاب خطب الناسَ فقال: يا أيها الناسُ، لا تُغالُوا مَهْر النساء، فإنها لو كانت مَكرُمةً لم يكن منكم أحدٌ أحقَّ بها ولا أَولَى مِن النبي ﷺ، ما أمْهَرَ أحدًا من نسائه ولا أصْدَقَ أحدًا من بناته أكثرَ من اثنتي عشرة أُوقيّةً. والأوقيّة أربعُون درهمًا - إلّا شيءٌ أصدَقَ عنه النجاشيُّ؛ أربعَ مئة دينار بأرض الحبشة (2) . وأما حديث نافع:
سالم بن عبداللہ، نافع کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! عورتوں کے حق مہر بہت زیادہ مت مقرر کیا کرو، اس لیے کہ اگر یہ بات باعث عزت و تکریم ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی اس بات کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حقدار نہ ہوتا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بھی زوجہ اور بیٹی کا حق مہر 12 اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا اور اوقیہ کی قیمت چالیس درہم ہوتی ہے۔ تو یہ 480 درہم بنتے ہیں۔ اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ حق مہر میں سب سے زیادہ ہے۔ ورنہ میری معلومات کے مطابق 400 سے زیادہ کسی کا حق مہر نہیں رکھا۔ ٭٭ ایک سند صحیح کے ہمراہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2760]
حدیث نمبر: 2761
فأخبرَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا الحسين بن عبد الله بن شاكر، حدثنا أبو حُمَة، حدثنا أبو قُرَّة، عن عبد العزيز بن أبي رَوَّاد وعبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ عمر بن الخطاب خطب الناس، ثم قال: أيها الناس، أقِلُّوا مُهور النساء، فإنَّ كثرة مُهورهن لو كان تقوى عند الله ومَكَرُمَةً في الدنيا؛ كان أَولاكُم بذلك رسولُ الله ﷺ، ما علِمنا أعطى رسولُ الله ﷺ امرأةً من نسائه أكثرَ من اثنتي عشرة أُوقيّةً - والوُقيّة أربعون درهمًا، فذلك ثمانون وأربعُ مئة درهم - وذلك أعلى ما كان رسول الله ﷺ أمْهَرَ، فلا أعْلمَنَّ أحدًا زاد على أربع مئة درهم (1) . وقد رُويَ من وجه صحيح عن عبد الله بن عباس عن عمر:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا، پھر فرمایا: ”اے لوگو! عورتوں کے مہر (کی رقم) میں کمی کرو، کیونکہ اگر مہر کی زیادتی اللہ کے ہاں تقویٰ اور دنیا میں عزت و شرافت کا باعث ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے تم سب سے زیادہ حقدار ہوتے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کو بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر دیا ہو—اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس طرح یہ (کل) چار سو اسی درہم بنتے ہیں—اور یہی وہ زیادہ سے زیادہ مقدار تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور مہر ادا فرمائی، لہٰذا میں کسی ایسے شخص کو نہ جانوں (یعنی میرے علم میں نہ آئے) جس نے چار سو درہم سے زیادہ مہر مقرر کیا ہو“۔ اور یہ (روایت) ایک صحیح سند کے ساتھ عبداللہ بن عباس کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2761]
حدیث نمبر: 2762
حدَّثَناه محمد بن مُظفَّر الحافظ، حدثنا أبو محمد بن صاعِد، حدثني محمد بن علي بن ميمون الرَّقِّي، حدثني سعيد بن عبد الملك بن واقِد الحَرّاني، حدثنا محمد بن فُضيلٍ الضَّبِّي، عن أبيه، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس، قال: قال عمر: لا تُغالُوا بمُهور النساء، قال: وذكر الحديث (1) . وكذلك رُوي عن سعيد بن المسيّب عن عمر:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورتوں کے حق مہر بہت مہنگے مت رکھا کرو۔ اس کے بعد مفصل حدیث بیان کی۔ ٭٭ یونہی سعید بن مسیّب کے واسطے سے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2762]
27. الْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا
ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہے
حدیث نمبر: 2763
حدَّثَناه أبو الحسن بن منصور، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجيَة، حدثنا كُردُوس بن محمد أبو الحسن القافِلَاني، حدثنا مُعلَّى بن عبد الرحمن، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب: أنَّ عمر بن الخطاب قام على مِنبره، فحمِد اللهَ وأثنى عليه، فقال: ألا لا تُغالُوا في صَدُقات النساء، فإنها لو كانت مَكرُمةً في الدنيا أو تقوى عند الله، كان أَولاكُم بها نبيُّكم ﷺ، والله ما زِيدَتِ امرأةٌ من نسائه ولا بناتِه على اثنتي عشرةُ أُوقيّة؛ وذلك أربع مئة درهم وثمانون درهمًا، الأُوقية أربعون درهمًا (2) . فقد تواترت الأسانيدُ الصحيحة بصحَّة خطبة أمير المؤمنين عمر بن الخطاب ﵁، وهذا البابُ لي مجموعٌ في جزء كبير، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعید بن مسیّب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: خبردار! عورتوں کے حق مہر بہت مہنگے مقرر مت کرو اس لیے کہ یہ بات اگر دنیاوی طور پر باعث عزت و تکریم ہوتی یا عنداللہ تقویٰ کا درجہ رکھتی تو تمہارے نبی اس بات کے تم سے زیادہ حقدار تھے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی کسی زوجہ اور بیٹی کا حق مہر 12 اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا۔ اور یہ 480 درہم بنتے ہیں۔ کیونکہ ایک اوقیہ 40 درہموں کا ہوتا ہے۔ ٭٭ سیدنا امیرالمومنین عمر بن خظاب رضی اللہ عنہ کے خطبہ کے صحیح ہونے کے متعلق صحیح سندیں حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں اور میرا یہ باب ایک بہت بڑے جزء کا مجموعہ ہے۔ لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2763]