المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا
یتیم لڑکی سے اس کے معاملے میں اجازت لی جائے
حدیث نمبر: 2735
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بُردة، عن أبي موسى سَمِعَ النبيَّ ﷺ يقول:"تُستأمَرُ اليتيمةُ في نفسها، فإن سَكَتَت فهو رضاها، وإن كَرِهَتْ، فلا كُرْهَ عليها" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2702 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2702 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یتیم لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مشورہ کیا جائے، اگر وہ خاموش رہے تو یہ رضامندی کی علامت ہے اور اگر وہ ناپسند کرے تو اس پر کوئی جبر نہیں کیا جا سکتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2735]
حدیث نمبر: 2736
أخبرَناه الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا محمد بن عمرو. وحدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا المعتمِر، قال: سمعت محمد بن عمرو يُحدّث عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"تُستأمَرُ اليتيمةُ في نفسها، فإن سَكَتَت فهو رضاها، وإن أبَتْ فلا جَوازَ عليها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یتیم لڑکی سے (نکاح کے معاملے میں) اس کی رائے لی جائے گی، پس اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی رضا مندی ہے، اور اگر وہ انکار کر دے تو اس پر زبردستی جائز نہیں ہے“۔ امام حاکم فرماتے ہیں: یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، مگر شیخین نے اسے تخریج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2736]
17. لَا تَنْكِحُوا النِّسَاءَ حَتَّى تَسْتَأْمِرُوهُنَّ
عورتوں کا نکاح ان سے اجازت لیے بغیر نہ کرو
حدیث نمبر: 2737
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا ابن أبي فُدَيك، عن ابنِ أبي ذئب، عن عمر بن حسين، عن نافع، عن ابن عمر: أنه تزوج ابنةَ خاله عثمان بن مَظْعُون، قال: فذهبتْ أمُّها إلى النبي ﷺ، فقالت: إنَّ ابنتي تَكْرَه والله، فأمره رسول الله ﷺ أن يُفارقها، ففارَقَها، وقال:"لا تُنكِحُوا النساءَ حتى تَستأمروهُنّ، فإذا سَكتْنَ فهو إذنُهُنَّ". فتزوّجها بعدَ عبدِ الله المغيرةُ بن شُعبة (1) .
هذا حديث كبيرٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2703 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث كبيرٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2703 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، انہوں نے اپنے ماموں عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کیا، (ابن عمر رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: اس کی والدہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! میری بیٹی کو یہ شادی پسند نہیں ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ اس کو جدا کر دو۔ تو (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) اس کو اس سے الگ کر دیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کا نکاح کرنے سے پہلے ان کی رائے لے لیا کرو، اگر وہ خاموش رہیں تو یہ اجازت ہے۔ چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بعد اس نے مغیرہ بن شعبہ سے شادی کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2737]
18. تَزْوِيجُ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 2738
أخبرنا مَخْلَد (2) بن جعفر الباقَرْحِيّ، حدثنا محمد بن جَرير (3) ، حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُموي، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن عمرو بن علقمة، حدثنا يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عائشة قالت: لما تُوفِّيَت خديجةُ قالت خولة بنت حكيم بنِ أُميّة بن الأَوْقَص امرأة عثمان بن مَظْعُون، وذلك بمكة: أيْ رسولَ الله، ألا تَزَوَّجُ؟ قال:"ومَن؟" قالت: إن شئت بِكرًا، وإن شئت ثيِّبًا، قال:"ومَن البِكرُ؟" قالت: ابنةُ أحبِّ خلق الله إليك، عائشةُ بنت أبي بكر، قال:"ومَن الثيِّبُ؟" قالت: سَوْدَةُ بنت زَمْعة بن قيس، قد آمنتْ بك واتبعتْك على ما أنتَ عليه، قال:"فاذهبي فاذكُرِيهما"، فجاءت فدخلتْ بيت أبي بكر، فقالت: يا أبا بكر، ماذا أدخلَ اللهُ عليك من الخير والبَرَكة، أرسلَني رسولُ الله ﷺ أخطُبُ عليه عائشةَ، قال: ادعِي لي رسولَ الله ﷺ، فدعَتْه، فجاء فأنكحه، وهي يومئذٍ ابنةُ سبع سنين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2704 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2704 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی، حکیم بن امیہ بن الاوقص کی بیٹی خولہ نے کہا: (یہ مکہ کا واقعہ ہے) یا رسول اللہ! آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کس کے ساتھ؟ اس نے کہا: اگر آپ کنواری لڑکی سے کرنا چاہتے تو اس کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے اور ” ثیبہ “ کے ساتھ کرنا چاہیں تو وہ بھی مل سکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کنواری لڑکی کون سی ہے؟ اس نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اور ثیبہ کون سی ہے؟ اس نے کہا: زمعہ بن قیس کی بیٹی سودہ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان بھی لا چکی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی پیروی بھی کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ! دونوں کی بات کر کے آؤ۔ تو خولہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آئیں اور بولیں: اے ابوبکر! اللہ تعالیٰ نے تجھے کیسی خیر و برکت سے نوازا ہے، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی طرف عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے پیغام نکاح دے کر بھیجا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاس بلا کر لاؤ، وہ بلا کر لے آئیں۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسی دن عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا اس وقت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر صرف سات سال تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2738]
حدیث نمبر: 2739
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم الباشاني، حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، حدثنا الحسين بن واقِد، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه قال: خطب أبو بكر وعمرُ فاطمةَ، فقال رسول الله ﷺ:"إنَّها صغيرة"، فخطبها عليٌّ فزَوَّجَها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2705 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2705 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بہت چھوٹی ہے۔ پھر علی نے پیغام بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2739]
19. اسْتِخَارَةُ خِطْبَةِ الْمَرْأَةِ يُرِيدُ نِكَاحَهَا
جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے
حدیث نمبر: 2740
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرْو، حدثنا محمد بن معاذ. وأخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا محمد بن الجَهْم السِّمَّري؛ قالا: حدثنا أبو عاصم الضحّاك بن مَخْلد، حدثنا ابن جُرَيج، قال: سمعت سليمان بن موسى يقول: حدثنا الزُّهْري، قال: سمعتُ عُروة يقول: سمعت عائشةَ تقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أيُّما امرأةٍ نَكَحَتْ بغير إذن وليِّها، فنِكاحُها باطِلٌ، فنِكاحُها باطِلٌ، فنِكاحُها باطِلٌ، فإن أصابها فلها مهرُها بما أصابها، وإن تَشاجَرُوا، فالسلطانُ وَليُّ مَن لا وَليَّ له" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تابع أبا عاصم على ذكر سماع ابنِ جُرَيج من سليمان بن موسى وسماع سليمان بن موسى من الزُّهْري: عبد الرزاق بن همّام ويحيى بن أيوب وعبد الله بن لَهِيعة وحَجّاج بن محمد المِصِّيصي. أما حديث عبد الرزاق:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تابع أبا عاصم على ذكر سماع ابنِ جُرَيج من سليمان بن موسى وسماع سليمان بن موسى من الزُّهْري: عبد الرزاق بن همّام ويحيى بن أيوب وعبد الله بن لَهِيعة وحَجّاج بن محمد المِصِّيصي. أما حديث عبد الرزاق:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔ اور اگر ان کے درمیان ازدواجی تعلقات قائم ہو جائیں تو ان تعلقات کی وجہ سے اس کے لیے مہر لازم ہو گا۔ اور اگر ان میں جھگڑا پڑ جائے تو جس کا کوئی ولی نہیں ہوتا حاکمِ اسلام اس کا ولی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ ابن جریج کے سلیمان بن موسیٰ سے سماع کے ذکر کے متعلق اور سلیمان بن موسیٰ کے زہری سے سماع کے متعلق عبدالرزاق بن ھمام، یحیی بن ایوب، عبداللہ بن لھعیہ اور حجاج بن محمد المصیصی نے ابوعاصم کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2740]
حدیث نمبر: 2741
فحدَّثَنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن سلمة ومحمد بن شاذان. وحدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا عبد الله بن محمد؛ قالوا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، أخبرني سليمان بن موسى، أنَّ الزُّهْري أخبره، أنَّ عُرْوة بن الزُّبَير أخبره، أنَّ عائشة أخبرته عن رسول الله ﷺ، نحوَه (1) . وأما حديث يحيى بن أيوب:
سیدنا عبدالرزاق رضی اللہ عنہ کی سند کے ہمراہ بھی ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2741]
20. السُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ .
جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2742
فحدَّثَناه أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، قال: قُرئ على محمد بن إسماعيل السُّلَمي وأنا أسمع، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثني ابن جُرَيج، أنَّ سُليمان بن موسى الدمشقي حدثه، أخبرني ابن شهاب، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"لا تُنكَحُ المرأةُ بغير إذن وليِّها، فإن نَكَحَت فنِكاحُها باطِلٌ - ثلاثَ مرّات - فإن أصابها، فلها مهرُها بما أصاب منها، فإن اشْتَجَروا، فالسلطان وليُّ من لا وليَّ له" (2) . وأما حديث حجَّاج بن محمد:
یحیی بن ایوب کی سند کے ہمراہ بھی مذکورہ حدیث منقول ہے۔ حجاج بن محمد کی حدیث۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2742]
حدیث نمبر: 2743
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيلُ بنُ قُتيبة. وأخبرني أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمرْقَنْدي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصر. وأخبرني أبو عمرو بن جعفر العَدْلُ، حدثنا إبراهيم بن علي الذُّهلي، قالوا: حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا حجّاج بن محمد، عن ابن جُرَيج، أخبرني سليمان بن موسى، أنَّ ابن شِهاب أخبره، أنَّ عُرْوة أخبره، أنَّ عائشة أخبرته، أنَّ النبي ﷺ قال:"أيُّما امرأةٍ نَكَحتْ بغير إذن وليّها، فنكاحُها باطلٌ، نكاحُها باطلٌ، ولها مَهرُها بما أصاب منها، فإن اشتَجَروا فالسلطان وَليُّ من لا وَليَّ له" (1) . فقد صحَّ وثبت بروايات الأئمة الأثبات سماعُ الرواة بعضِهم من بعض، فلا تُعلَّل هذه الروايات بحديثِ ابن عُليّة وسؤالِه ابنَ جُرَيج عنه، وقولِه: إني سألتُ الزُّهْري عنه فلم يعرفه، فقد ينسى الثقةُ الحافظُ الحديثَ بعد أن حدّث به، وقد فَعلَه غيرُ واحد من حفّاظ الحديث.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ تین بار دہرائے)۔ اور جس مرد نے اس سے تعلق قائم کیا، اس کے بدلے اس عورت کے لیے مہر ہے، پھر اگر ان کے درمیان (ولی کی عدم موجودگی یا کسی بات پر) جھگڑا ہو جائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو، حکومت (سلطان) اس کی ولی ہے“۔ (امام حاکم فرماتے ہیں:) ثقہ ائمہ کی روایات سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ ان راویوں کا ایک دوسرے سے سماع (سماعت) ثابت ہے، لہٰذا ان روایات پر ابن علیہ کی اس بات سے اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے ابن جریج سے اس بارے میں پوچھا اور انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے اس متعلق پوچھا تو وہ اسے نہیں پہچان سکے۔ کیونکہ بسا اوقات ایک ثقہ حافظِ حدیث خود حدیث بیان کرنے کے بعد اسے بھول جاتا ہے، اور حفاظِ حدیث میں سے کئی ایک کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2743]
حدیث نمبر: 2743M1
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، قال: سمعتُ أحمد بن حنبل يقول، وذُكر عنده أن ابن عُليَّة يذكُر حديثَ ابن جُرَيج في:"لا نِكاح إلّا بوليّ"، قال ابن جُرَيج: فلقيتُ الزُّهْري، فسألتُه عنه فلم يعرفه، وأثنى على سليمان بنِ موسى، قال أحمد بن حنبل: إنَّ ابنَ جُرَيج له كتبٌ مُدوَّنة، وليس هذا في كُتبه. يعني حكاية ابن عُليَّة عن ابن جُرَيج.
احمد بن حنبل کے سامنے جب یہ تذکرہ ہوا کہ ابن علیہ، ابن جریج کی اس روایت (نکاح بغیر ولی کے نہیں ہوتا) کے بارے میں کہتے ہیں کہ ابن جریج نے کہا: ”میں زہری سے ملا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو وہ اسے نہیں پہچان سکے، البتہ انہوں نے سلیمان بن موسیٰ کی تعریف کی“۔ (اس پر) امام احمد بن حنبل نے فرمایا: ابن جریج کی کتابیں مدون (تحریری شکل میں) موجود ہیں اور ان کی کتب میں یہ قصہ موجود نہیں ہے—یعنی ابن علیہ کا ابن جریج سے یہ حکایت نقل کرنا ان کی کتب میں درج نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2743M1]