المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. مَنْ تَزَوَّجَ وَلَمْ يَفْرِضْ صَدَاقًا
جس نے نکاح کیا اور مہر مقرر نہ کیا
حدیث نمبر: 2773
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، عن سفيان، عن فِراس، عن الشَّعبي، عن مسروق، عن عبد الله: في رجلٍ تزوّج امرأةً، فمات ولم يَدخُل بها، ولم يَفْرِض لها، فقال: لها الصَّداقُ كاملًا وعليها العِدّة، ولها الميراث، فقام مَعقِل بن سِنان فقال: شهدتُ رسولَ الله ﷺ قَضَى به في بَرْوَعَ بنتِ واشِقٍ (1) . فصار الحديث صحيحًا على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2738 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2738 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے ایک عورت کے ساتھ نکاح کیا تھا اور ہمبستری سے پہلے انتقال کر گیا تھا۔ اور اس کا حق مہر بھی مقرر نہیں کیا تھا۔ تو انہوں نے جواباً فرمایا: اس کے لیے پورا مہر ہے اس پر عدت بھی لازم ہے۔ اور وہ وراثت کی حقدار بھی ہے۔ تو معقل بن سنان بولے: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق کے متعلق بھی یہی فیصلہ کیا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح قرار پائی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2773]
33. صَدَاقُ النَّبِيِّ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
سیدنا رسول اللہ ﷺ کا مہر
حدیث نمبر: 2774
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا الربيع بن سليمان المُرادي، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ صفوان بن سُليم حدّثه عن عُرْوة بن الزُّبَير، عن عائشة، أنها قالت: قال رسول الله ﷺ:"مِن يُمنِ المرأةِ أن يُتَيسَّرَ في خِطبتِها، وأن يَتَيَسَّر صَدَاقُها، وأن يَتَيسَّر رَحِمُها" (1) . قال عُرْوة: يعني يَتَيسَّر رحمُها للولادة. قال عُرْوة: وأنا أقول من عندي: من أول شُؤْمها أن يَكثُر صَداقُها.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2739 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2739 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کی نیک بختی میں سے یہ بھی ہے کہ اس کو آسانی سے پیغام نکاح ملے، اور اس کا حق مہر بھی آسان ہو اور اس کا رحم بھی آسان ہو۔ عروہ فرماتے ہیں یعنی ولادت کے لیے اس کو تکلیف زیادہ نہ ہو۔ عروہ فرماتے ہیں۔ اور (اس مقام پر) میں اپنی طرف سے یہی بھی کہنا چاہوں گا کہ عورت کی سب سے پہلی بدبختی یہ ہے کہ اس کا حق مہر بہت زیادہ ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2774]
حدیث نمبر: 2775
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثنا يزيد بن الهَادِ، عن محمد بن إبراهيم، عن أبي سلمة، قال: سألتُ عائشةَ عن صَدَاقِ النبي ﷺ، قالت: ثنتا عشرة أُوقِيّةً ونَشٌّ، فقلت: ما نَشٌّ؟ قالت: نصفُ أُوقِيّة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2740 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2740 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق مہر کے متعلق پوچھا (کہ کتنا تھا؟) تو انہوں نے فرمایا: 12 اوقیہ اور ایک ” نش “۔ میں نے پوچھا: نش کتنا ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آدھا اوقیہ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2775]
34. مَهْرُ أُمِّ حَبِيبَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَرْبَعَةُ آلَافٍ
سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا مہر چار ہزار تھا
حدیث نمبر: 2776
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أبو بكر محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا مُعلَّى بن منصور، حدثنا ابن المُبارك، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن أم حَبيبة: أنها كانت تحت عُبيد الله بن جَحْش، فمات بأرضِ الحبشة، فزَوَّجَها النجاشيُّ النبيَّ ﷺ، وأَمهَرَها عنه أربعةَ آلافٍ، وبعث بها إلى رسول الله ﷺ مع شُرَحْبيل بن حَسَنةَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2741 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2741 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا، عبداللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں۔ (عبداللہ بن جحش) سرزمین حبشہ میں انتقال کر گئے۔ تو نجاشی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے نجاشی نے چار ہزار (درہم) بطور مہر دیئے اور شرحبیل بن حسنہ کے ہمراہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2776]
35. خَيْرُ الصَّدَاقِ أَيْسَرُهُ
سب سے بہتر مہر وہ ہے جو آسان ہو
حدیث نمبر: 2777
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثني أبو الأَصبَغ عبد العزيز بن يحيى الحرّاني، أخبرنا محمد بن سلمة، عن أبي عبد الرحيم خالد بن أبي يزيد، عن زيد بن أبي أُنَيسة، عن يزيد بن أبي حبيب، عن مَرثَد بن عبد الله، عن عُقْبة بن عامر: أنَّ النبي ﷺ قال لرجل:"أترضى أن أُزوِّجَك فلانةَ؟" قال: نعم، وقال للمرأة:"أترضَينَ أن أُزوِّجَك فلانًا؟" قالت: نعم، فزوَّج أحدَهما صاحبَه، ولم يُفرِضْ لها صَداقًا، ولم يُعطِها شيئًا، وكان ممَّن شهد الحُديبيَة، وكان مَن شهد الحُديبيَةَ له سهمٌ بخيبر، فلما حَضَرتْه الوفاةُ قال: إنَّ رسول الله ﷺ زَوَّجني فلانةَ ولم أفرضْ لها صَداقًا، ولم أُعطِها شيئًا، وإني أُشْهِدُكم أني أعطيتُها صَداقَها سَهمِي بخيبر، فأخذتْ سهمَه فباعتْه بمئة ألفٍ. قال: وقال رسول الله ﷺ:"خيرُ الصَّداقِ أيسَرُه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2742 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2742 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں فلاں عورت کے ہمراہ تیرا نکاح کر دوں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے کہا: کیا تمہیں یہ بات منظور ہے کہ میں فلاں شخص کے ساتھ تیرا نکاح کر دوں؟ اس نے بھی ہاں کر دی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کر دیا۔ اور ان کا کوئی حق مہر مقرر نہیں کیا تھا اور نہ ہی کوئی چیز اس کو دی۔ یہ شخص صلح حدیبیہ کے شرکاء میں سے تھا۔ اور شرکاء حدیبیہ کے ہر فرد کے لیے فتح خیبر سے ایک سہم مقرر کیا گیا تھا۔ جب اس شخص کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کے ساتھ میرا نکاح کیا تھا لیکن میں نے نہ تو اس کے لیے کوئی حق مہر مقرر کیا تھا اور نہ ہی کوئی دوسری چیز اس کو دی تھی۔ میں تم سب کو گواہ بنا کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے اپنا خیبر کا حصہ (جو بھی میرے حصے میں آئے) اس کا مہر کر دیا ہے۔ (پھر جب خیبر کا مالِ غنیمت تقسیم ہوا تو) اس خاتون نے وہ حصہ وصول کر کے فروخت کیا تو ایک لاکھ میں فروخت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین حق مہر وہ ہے جو تھوڑا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2777]
36. أَعْظَمُ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللَّهِ
اللہ کے نزدیک سب سے بڑے گناہ
حدیث نمبر: 2778
أخبرني أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث العَنْبري، حدثني أبي، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن محمد بن سِيرِين، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ أعظمَ الذُّنوب عند الله رجلٌ تَزوّج امرأةً، فلما قضى حاجتَه منها طَلَّقها وذَهَب بمَهرِها (1) ، ورجلٌ استعملَ رجلًا فذهب بأُجرتِه، وآخَرُ يَقتُل دَابَّةً (2) عَبَثًا" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2743 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2743 - على شرط البخاري
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی کسی عورت سے نکاح کرے اور جب اس کی ضرورت پوری ہو جائے تو اس کو طلاق دے دے۔ اور اس کا حق مہر ہڑپ کر لے۔ اور ایسا آدمی جو کسی آدمی سے اجرت پر کام کروائے لیکن اس کی اجرت ہڑپ کر جائے۔ اور ایسا آدمی جو کسی جانور کو بلاوجہ مار ڈالے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2778]
37. خُطْبَةُ الْحَاجَةِ
خطبةُ الحاجة
حدیث نمبر: 2779
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النضر بن شُميل، حدثنا شعبة. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، قال: سمعت أبا إسحاق يحدِّث عن أبي عُبيدة، عن عبد الله، عن النبي ﷺ: أنه عَلَّمنا خُطبةَ الحاجَةِ:"الحمدُ لله نَحَمَدُه ونَستعينُه ونَستَغفِرُه، ونَعوذُ بالله من شُرور أنفُسِنا، من يَهْدِه اللهُ فلا مُضِلَّ له، ومن يُضلِلْ فلا هادي له، وأشهدُ أن لا إله إلا الله، وأشهدُ أنَّ محمدًا عبده ورسوله"، ثم يقرأُ ثلاث آيات: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: 102] ، ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [النساء: 1] ، ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ [الأحزاب: 70، 71] ، ثم يذكر حاجتَه (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2744 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2744 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعائے حاجت سکھائی۔ (وہ یہ تھی): (اَلْحَمْدُلِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ، وَنَسْتَغْفِرُہُ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا، مَنْ یَّھْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ، وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ، وَاَشْھَدُ اَنْ الَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مَحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ) “ پھر یہ تین آیتیں پڑھیں: (1) (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ) ” اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان “۔ (2) (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَنِسَائً وَاتَّقُوْ اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائِ لُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا) ” اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور دونوں سے بہت مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو، بے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھا رہا ہے۔ (3) (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ، وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَاْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا) ” اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو، تمہارے اعمال تمہارے لیے سنوار دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔ (یہ تینوں آیتیں پڑھنے کے بعد) پھر اپنی حاجت کا ذکر کرے۔ (یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2779]
38. الدُّعَاءُ فِي حَقِّ الزَّوْجَيْنِ عِنْدَ النِّكَاحِ
نکاح کے وقت میاں بیوی کے حق میں دعا
حدیث نمبر: 2780
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا جعفر بن محمد بن سَوّار ومحمد بن نُعَيم، قالا: حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سُهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ كان إذا رَفّأ الإنسانَ إذا تَزوّج قال:"بارَكَ اللهُ لك وبارَكَ عليكَ، وجَمَعَ بينكما في خَيرٍ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2745 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2745 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو شادی کی مبارک دیتے تو یوں کہتے ” (بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ، وَبَارَکَ عَلَیْکَ، وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِیْ خَیْرٍ) “ (اللہ تعالیٰ تمہیں خیر و برکت عطا کرے اور تم دونوں میں اتفاق دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2780]
حدیث نمبر: 2781
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو بكر محمد بن محمد بن رجاء، حدثنا محمد بن أبي السَّرِي العَسْقلاني، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، عن صفوان بن سُليم، عن سعيد بن المسيّب، عن رجل من أصحاب رسول الله ﷺ من الأنصار، يقال له: نَضْرة، قال: تزوّجتُ امرأة بِكْرًا في سِتْرها، فدخلتُ عليها فإذا هي حُبلَى، فقال لي النبي ﷺ:"لها الصَّداقُ بما استَحلَلْتَ من فَرجِها، والولدُ عَبدٌ لك، فإذا وَلَدَت فاجلِدُوها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث يحيى بن أبي كثير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2746 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث يحيى بن أبي كثير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2746 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا نضرہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایک کنواری لڑکی کے ساتھ شادی کی تو وہ (پہلے ہی) حاملہ تھی۔ (میں نے یہ مسئلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی شرمگاہ سے تو نے جس قدر فائدہ اٹھایا ہے، اس کی مقدار اس کا مہر دے دے۔ اور بچہ تیرا غلام ہے۔ جب یہ بچہ پیدا کر دے تو اس کو کوڑے مارو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یحیی بن ابی کثیر سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2781]
39. الْأَمْرُ بِإِعْلَانِ النِّكَاحِ
نکاح کے اعلان کا حکم
حدیث نمبر: 2782
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن المثنّى، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن أبي كثير، عن يزيد بن نُعيم، عن سعيد بن المسيّب، عن نَضْرة بن أكْثم: أنه نكَحَ امرأةً بِكرًا، ودخل بها، فوجَدَها حُبلَى، فجعل النبي ﷺ ولدها عبدًا له، وفَرّق بينهما (1) .
سیدنا سعید بن مسیّب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نضرہ بن اکثم نے ایک کنواری لڑکی سے شادی کی، جب اس کے ساتھ ہمبستری کی تو (پتہ چلا کہ) وہ (پہلے سے ہی) حاملہ تھی۔ (جب یہ معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا لڑکا اس (نضرہ بن اکثم) کا غلام ہے۔ اور ان دونوں میں تفریق کرا دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2782]