المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. كَرَمُ الْمُؤْمِنِ دِينُهُ وَمُرُوَّتُهُ عَقْلُهُ وَحَسَبُهُ خُلُقُهُ .
مومن کی بزرگی اس کا دین ہے، اس کی شرافت اس کی عقل ہے اور اس کا حسب اس کا اخلاق ہے
حدیث نمبر: 2725
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا هاشم بن يونس العَصّار بمصر، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، حدثني عبد الرحمن ابن خالد - هو ابن مُسافِر - عن ابن شِهاب، عن عُرْوة بن الزُّبَير وعَمْرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة: أنَّ أبا حذيفة بن عُتْبة بن ربيعة بن عبد شمس - وكان ممَّن شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ تبنَّى سالمًا وأنكَحَه ابنةَ أخيه هندَ بنت الوليد بن عُتبة بن ربيعة بن عبد شمس - وكان ممَّن شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ (1) وهو مولًى لامرأة من الأنصار، فتبنّاهُ كما تبنَّى رسولُ الله ﷺ زيدًا، فكان من تبنّى رجلًا في الجاهلية، دعاه الناس إليه، ووَرِثَ من ميراثه، حتى أنزل الله في ذلك: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ [الأحزاب: 5] ، فرُدُّوا إلى آبائهم، فمن لم يُعلَم له أبٌ، كان مولاهُ أو أخاهُ في الدِّين. قالت عائشة: وإِنَّ سَهْلة بنت سُهيل بن عمرو القرشي ثم العامري - وكانت تحت أبي حذيفة بن عُتبة بن ربيعة - جاءت رسولَ الله ﷺ حين أنزل الله ذلك، فقالت: يا رسول الله، إنا كنا نَرى سالمًا ولدًا - وكان رسول الله ﷺ قد آواه، فكان يأوي معه ومع أبي حذيفة في بيت واحد - ويَراني وأنا فُضُلٌ، وقد أُنزِلَ فيهم ما قد علمتَ، فما ترى في شأنه يا رسولَ الله؟ فقال لها رسول الله ﷺ:"أرضِعيهِ"، فأرضعته خمسَ رَضَعات، فحَرُم بهنّ، وكان بمنزلة ولدِها من الرَّضاعة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وفيه أنَّ الشَّريفة تَزوَّجُ من كل مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2692 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وفيه أنَّ الشَّريفة تَزوَّجُ من كل مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2692 - على شرط البخاري
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں، ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بدری صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں، انہوں نے ایک انصاری خاتون کے غلام ” سالم “ کو منہ بولا بیٹا بنایا اور اپنے بھائی ولید بن عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی ہند کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا۔ جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا اسی طرح حذیفہ نے بھی سالم کو منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ اور ان لوگوں کی عادت یہ تھی لوگ اس بیٹے کو اس متبنی (جس نے بیٹا بنایا ہے) کے نسب سے پکارا کرتے تھے اور اس کی وراثت سے حصہ بھی دیتے تھے۔ پھر یہ آیت نازل ہو گئی: (اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْآ ٰابَآئَ ھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْکُمْ) (الاحزاب: 5) ” انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچازاد “۔ تو لوگوں نے ان کو ان کے باپ کے ناموں سے پکارنا شروع کر دیا اور جس کے باپ کا پتہ نہ چل سکے تو پھر اس کا آقا یا دینی بھائی زیادہ مستحق ہیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سہیل بن عمرو القرشی عامری کی بیٹی سہلہ، ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ کے نکاح میں تھیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ! ہم تو سالم کو بچہ سمجھتے ہیں، اور رسول اللہ نے اپنے منہ بولے بیٹے کو اپنے گھر میں رہائش دی تھی اسی طرح یہ بھی ابوحذیفہ کے ہمراہ انہی کے گھر میں رہتے ہیں۔ اور میں گھر کے کپڑوں میں ہوتی ہوں اور مجھ پر اس کی نظر پڑتی ہے۔ اور اب تو قرآن کریم کی آیت بھی نازل ہو چکی ہے۔ جس کو آپ باخوبی جانتے ہیں۔ تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس سلسلے میں کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مشورہ دیا کہ تو اس کو دودھ پلا دے۔ سہلہ نے اس کو پانچ گھونٹ دودھ پلا دیا۔ تو وہ ان پر حرام ہو گیا، اس کے بعد وہ اس کے رضاعی بیٹوں کی طرح ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اس میں یہ ہے ” شریف عورت کا ہر مسلمان سے نکاح ہو سکتا ہے “۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2725]
حدیث نمبر: 2726
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسَد بن موسى، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: يا بني بَيَاضةَ، أَنكِحُوا أبا هندٍ وانكِحُوا إليه". قال: وكان حجّامًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2693 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2693 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بنی بیاضہ: تم ابوہند کو رشتہ دیا کرو اور ان سے لیا بھی کرو۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں، وہ حجام تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2726]
12. مَنْ أَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ، وَأَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَنْكَحَ لِلَّهِ، فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ
جس نے اللہ کے لیے دیا، اللہ کے لیے روکا، اللہ کے لیے محبت کی، اللہ کے لیے نفرت کی اور اللہ کے لیے نکاح کیا اس نے ایمان کو مکمل کر لیا
حدیث نمبر: 2727
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ وإبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم، قالا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، عن أبي مَرحُوم، عن سهل بن معاذ - وهو ابن أنس الجُهَني - عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن أعطى لله، ومَنَع لله، وأحبَّ لله، وأبغَضَ لله، وأنكَحَ لله، فقد استَكمَل إيمانَهُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2694 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2694 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو اللہ کی رضا کی خاطر دے، اسی کی رضا کے لیے منع کرے، اس کی رضا کے لیے کسی سے محبت کرے، اسی کی رضا کے لیے بغض رکھے اور اسی کی رضا کے لیے نکاح کرے تو اس نے اپنا ایمان کامل کر لیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2727]
حدیث نمبر: 2728
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الحميد بن سليمان، حدثنا محمد بن عَجْلان، عن وَثِيمة النَّصْري (2) ، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا أتاكُم مَن تَرْضَوْنَ خُلُقَه ودِينَه، فأنكِحُوه، إلّا تفعَلُوا تَكُن فتنةٌ في الأرض وفَسادٌ عَريضٌ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہیں کوئی رشتہ ملے جس کے دین اور اخلاق پر تمہیں اطمینان ہو تو وہاں نکاح کر لو۔ ورنہ روئے زمین پر بہت بڑا فتنہ اور فساد عظیم ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2728]
13. إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً، فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى بَعْضِ مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ
جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو اگر ممکن ہو تو اس چیز کو دیکھ لے جو اسے نکاح پر آمادہ کرے
حدیث نمبر: 2729
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله بن قريش، حدثنا الحسن بنُ سفيان، حدثنا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، أخبرني عُمَرُ بنُ علي بن مُقدَّم، حدثنا محمد بن إسحاق، عن داود بن الحُصين، عن واقِد بن عمرو بن معاذ، عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ:"إِذا خَطَبَ أحدُكم امرأةً، فإنِ استطاعَ أن يَنظُرَ إِلى بعضِ ما يَدعُو إلى نِكاحِها فليَفعَلْ"، فخطبتُ امرأةً من بني سُلَيم، فكنت أتخبّأُ لها في أُصولِ النخل، حتى رأيتُ منها ما دعاني إلى نِكاحها فتزوجتُها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وإنما أخرج مسلم في هذا الباب حديث يزيد بن كَيْسان عن أبي حازم (2) مختصرًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2696 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وإنما أخرج مسلم في هذا الباب حديث يزيد بن كَيْسان عن أبي حازم (2) مختصرًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2696 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم کسی عورت کو پیغام نکاح بھیجو تو اگر اسے دیکھنا ممکن ہو تو دیکھ لو (جابر فرماتے ہیں) میں نے بنی سلیم کی ایک خاتون کو پیغام نکاح بھیجا، تو میں نے درختوں کے پیچھے چھپ کر چپکے سے اسے دیکھ لیا۔ وہ مجھے پسند آ گئی تو پھر میں نے اس سے شادی کر لی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اس باب میں امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابوحازم کے حوالے سے یزید بن کیسان کی حدیث نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2729]
حدیث نمبر: 2730
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل وأحمد بن جعفر القَطِيعي، قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ثابت، عن أنس: أنَّ المغيرة بن شعبة خطب امرأةً، فقال رسول الله ﷺ:"اذهب فانظُرْ إليها، فإنه أحْرَى أن يُؤدَمَ (3) بينكما"، قال: فذهب فنَظَر إليها، فذكر من مُوافَقَتِها (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2697 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2697 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو پیغام نکاح بھیجا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: جا کر اس کو دیکھ لو کیونکہ اس سے تم دونوں کے درمیان اتفاق ہو گا (انس) فرماتے ہیں: انہوں نے اس کو دیکھا اور پھر موافقت کا اظہار کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2730]
14. استخارة خطبة المرأة يريد نكاحها
جس عورت سے نکاح کا ارادہ ہو اس کے پیغام کے وقت استخارہ کرنا
حدیث نمبر: 2731
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابنُ شُريح، أنَّ الوليد بن أبي الوليد أخبره، أنَّ أيوب بن خالد بن أبي أيوب الأنصاري حدثه عن أبيه، عن جده، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"اكتُم الْخِطبةَ ثم توضأْ فأحسِنْ وُضوءَك، ثم صلِّ ما كَتَبَ الله تعالى لكَ، ثم احمَدْ ربك ومَجِّدْه، ثم قل: اللهمَّ إنك تَقدِرُ ولا أَقدِرُ، وتَعلمُ ولا أَعلمُ، وأنت عَلّامُ الغُيوب، فإن رأيتَ لي في فلانة - يُسمِّيها باسمِها - خيرًا لي في دِيني ودُنياي وآخرتي، فاقدُرْها لي، فإن كان غيرُها خيرًا لي في دِيني ودُنياي وآخرتي، فاقدُرْها لي" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2698 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2698 - صحيح
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پیغام نکاح کو چھپا کر رکھو پھر وضو کرو اور اچھا وضو کرو پھر نوافل ادا کرو پھر اپنے رب کی حمد کرو اس کی بزرگی بیان کرو پھر یوں دعا مانگو: (اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ، فَاِنْ رَاَیْتَ لِیَ فِیْ فُلَانَۃٍ (یہاں پر اس کا نام لے)، خَیْرًا لِیْ فِیْ دِیْنِیْ وَدُنْیَایَ وَآخِرَتِیْ فَاقْدُرْھَا لِی، فَاِنْ کَانَ غَیْرُھَا خَیْرًا لِیْ فِیْ دِیْنِیْ وَدُنْیَایَ وَآخِرَتِیْ فَاقْدُرْھَا لِیْ) ” اے اللہ! تو قادر ہے، میں قادر نہیں ہوں، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو علام الغیوب ہے اگر تو جانتا ہے کہ فلانہ (یہاں اس کا نام لے) میری دنیا اور آخرت کے حوالے سے میرے لیے بہتر ہے تو وہ میرے مقدر میں کر دے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور میری دنیا اور آخرت کے حوالے سے میرے لیے بہتر ہے تو وہ میرے لیے مقدر کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2731]
حدیث نمبر: 2732
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا هشام بن علي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ أراد أن يتزوج امرأةً، فبعث امرأةً لِتنظُرَ إليها، فقال:"شُمِّي عَوارِضَها، وانظُري إلى عُرقُوبَيها"، قال: فجاءت إليهم فقالوا: ألا نُغدِّيكِ يا أمَّ فلانٍ؟ فقالت: لا آكلُ إلّا من طعامٍ جاءت به فُلانةُ، قال: فصَعِدَتْ في رفٍّ لهم، فنظرَتْ إلى عُرقُوبَيها، ثم قالت: افْلِيني يا بُنيّةُ، قال: فجعلَتْ تَفْلِيها وهي تَشَمُّ عَوارِضَها، قال: فجاءتْ فَأَخبَرَتْ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2699 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2699 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے نکاح کا ارادہ کیا تو ایک خاتون کو اسے دیکھنے کے لیے بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ ہدایت کر کے بھیجا کہ اس کے رخسار سونگھ کر اور اس کی کونچوں کو دیکھ کر آنا۔ وہ خاتون ان کے گھر گئی۔ انہوں نے اس سے پوچھا: اے فلانہ! کیا تو کھانا نہیں کھائے گی؟ اس نے کہا: میں تو صرف وہ کھانا کھاؤں گی جو فلانہ لے کر آئے گی، (انس) فرماتے ہیں۔ وہ عورت ان کی خدمت کے لیے جب آئی تو اس نے اس کی کونچوں کو دیکھ لیا۔ پھر اس نے کہا: اے بیٹی! ذرا میری جوئیں نکالنا۔ وہ اس کی جوئیں نکالنے لگ گئی اور اس خاتون نے اس کے رخسار سونگھ لیے۔ پھر اس نے واپس آ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2732]
15. أَلَا لَا يَنْكِحِ الزَّانِي الْمَجْلُودُ إِلَّا مِثْلَهُ
خبردار! حد لگے ہوئے زانی کا نکاح اسی جیسی عورت سے ہوگا
حدیث نمبر: 2733
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا علي بنُ الحسن الهِلالي، حدثنا أبو مَعمَر، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن حَبيب المعلِّم، عن عمرو بن شعيب. قال أبو مَعمَر: وقد حدَّثَناه حَبيبٌ المعلّم، عن عمرو بن شعيب، عن سعيد المقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يَنكِحُ الزاني المجلودُ إلّا مثلَه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2700 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2700 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار! وہ زانی جس کو کوڑے مارے گئے ہوں وہ اپنے ہی جیسی سے نکاح کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2733]
حدیث نمبر: 2734
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثني عبيد الله بن الأخْنَس، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده: أنَّ مَرثَد بن أبي مَرثَد الغَنَوي كان يَحمِل الأُسارى بمكة، وكان بمكة بَغِيٌّ يقال لها: عَنَاقٌ، وكانت صديقتَه، قال: فجئتُ النبيَّ ﷺ فقلتُ: يا رسولَ الله، أنكِحُ عَنَاقًا؟ قال: فسكت عنّي، فنزلت: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ [النور: 3] ، فقرأه عليَّ رسول الله ﷺ، وقال:"لا تَنكِحْها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2701 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2701 - صحيح
سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں: مرثد بن ابی مرثد غنوی قیدیوں کو مکہ تک لے جایا کرتے تھے اور مکہ میں طوائفہ تھی جس کو عناق کہا جاتا تھا، وہ اس کی جان پہچان والی تھی۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ! میں عناق سے نکاح کر لوں؟ (راوی) فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور یہ آیت نازل ہو گئی: (اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلاَّ زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃًز وَّ الزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُھَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَ حُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ) (النور: 3) ” بدکار مرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شرک والی سے اور بدکار عورت سے نکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مشرک اور یہ کام ایمان والوں پر حرام ہے “۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ آیت سُنا کر فرمایا: اس سے نکاح مت کرنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2734]