🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. الْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا
ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2764
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا المُعَافى بن سليمان الحرّاني، حدثنا زهير، حدثنا أبو إسماعيل الأسْلمي، أنَّ أبا حازم حدّثه عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ، فقال: إني تزوّجتُ امرأةً من الأنصار على ثماني أَواقٍ، فتَفزَّع لها رسولُ الله ﷺ، فقال:"كأنما تَنحِتُون الفضةَ من عُرْضِ هذا الجبل، هل رأيتَها، فإنَّ في عُيون الأنصار شيئًا؟" قال: قد رأيتُها، قال:"ما عندنا شيءٌ، ولكنا سنبعثُك في بَعْثٍ، وأنا أرجو أن تُصيبَ خيرًا"، فبعثه في ناسٍ إلى ناسٍ من بني عَبْس، وأمر لهم النبي ﷺ بناقةٍ فحَمَلُوا عليها متاعَهم، فلم تَرِمْ إلّا قليلًا حتى بَرَكَتْ فأعْيَتْهم أن تَنبَعِثَ، فلم يكن في القوم أصغرَ من الذي تزوّج، فجاء إلى نبيّ الله ﷺ وهو مُستلْقٍ في المسجد، فقام عند رأسه كراهيةَ أن يُوقظه، فانتبه نبيُّ الله ﷺ، فقال: يا نبيّ الله، إنَّ الذي أعطيتَنا أحببنا أن تَبتَعِثَه، فناولَه نبيُّ الله ﷺ يمينَه، وأخذَ رداءه بشمالِه فوضعه على عاتِقِه، وانطلق يمشي حتى أتاها، فضربها بباطن قدمِه، والذي نفسُ أبي هريرة بيده لقد كانت بعدَ ذلك تَسبِقُ القائد، وإنهم نزلوا بحَضْرة العدوّ، وقد أوقَدُوا النيران، فأحاط بهم فتفرَّقوا عليهم، وكبَّروا تكبيرةَ رجلٍ واحدٍ، وإِنَّ الله هَزمَهم وأَسَرَ منهم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرج مسلم من حديث شعبة (1) ، عن أبي إسماعيل، عن أبي حازم، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا تزوج، فقال رسول الله ﷺ:"هلّا نظرتَ إليها" فقط، وأبو إسماعيل هذا هو بَشير بن سلْمان، وقد احتجا جميعًا به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2729 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میں نے ایک انصاری خاتون کے ساتھ 8 اوقیہ حق مہر کے بدلے شادی کر لی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (یہ بات سن کر) گھبرا کر بولے: لگتا ہے پہاڑ کے اس پہلو سے تمہاری چاندی نکلتی ہے۔ کیا تو نے اس کو دیکھا ہے؟ کیونکہ (بعض) انصاری عورتوں کی آنکھ میں کچھ (عیب سا) ہوتا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں نے اس کو دیکھ لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تیرے مہر کی ادائیگی کے لیے) فی الحال تو میرے پاس کچھ نہیں ہے، البتہ بہت جلد میں تجھے ایک لشکر کے ہمراہ بھیج دوں گا، مجھے امید ہے کہ وہاں سے آپ کو کچھ مال مل جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک لشکر کے ہمراہ بنی عبس کی جانب بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک اونٹنی کا حکم دیا۔ انہوں نے اس پر اپنا سامان لاد دیا۔ ابھی یہ قافلہ زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ اونٹنی بیٹھ گئی اور اس نے ان کو تھکا ڈالا لیکن چلنے کا نام تک نہیں لے رہی تھی، اور اس شادی شدہ آدمی سے چھوٹا اس لشکر میں کوئی نہیں تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آرام کر رہے تھے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کی جانب (خاموش) کھڑا ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی بیدار ہوئے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عطا فرمائی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے ہاتھوں سے روانہ فرمائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اس کو پکڑایا اور بائیں ہاتھ سے اپنی چادر اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈالی۔ اور چلتے ہوئے اس اونٹنی کے پاس آ پہنچے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے قدم کی نچلی جانب سے مارا، (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے، اس کے بعد وہ اس قدر تیز چلنے لگی کہ سب سے اگلے اونٹ کو بھی پیچھے چھوڑ گئی۔ پھر یہ لوگ دشمن کے مقابلے میں جا کر خیمہ زن ہوئے، دشمن آگ جلا کر بیٹھے ہوئے تھے، ان لوگوں نے بکھر کر ان کا گھیراؤ کیا اور ایک شخص کی آواز پر نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یکبارگی حملہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو شکست دی۔ اور بہت لوگ قیدی بھی ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابوحازم کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ایک آدمی نے شادی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو دیکھ کیوں نہیں لیا؟ (امام کی روایت کردہ حدیث کا متن صرف اتنا ہی ہے) اور یہ ابواسماعیل بشیر بن سلیمان ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے ان کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2764]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2765
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد. وأخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن إبراهيم التَّيمي، عن أبي حَدْرد الأسلَمي: أنه أتى النبي ﷺ يَستعينُه في مهر امرأةٍ، فقال:"كم أمهَرْتَها؟"، فقال: مئتي درهم، فقال ﷺ:"لو كنتم تَعْرِفُون من بُطحانَ ما زِدْتُم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2730 - صحيح
سیدنا ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، وہ اپنے مہر کی ادائیگی کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد لینے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو نے کتنا مہر مقرر کیا ہے؟ اس نے کہا 200 درہم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بطحان وادی سے چلو بھرتے تب بھی تم زیادہ نہ دیتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2765]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. تَفْسِيرُ الْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ
قناطیرِ مقنطرہ کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2766
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى بن زيد اللَّخْمي بتِنِّيس، حدثنا عمرو بن أبي سلمة، حدثنا زهير بن محمد، حدثنا حميد الطويل ورجل آخر، عن أنس بن مالك، قال: سُئل رسول الله ﷺ عن قول الله ﷿: ﴿وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ﴾ [آل عمران: 14] ، قال:"القِنطار ألفا أُوقيّة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2731 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے قول وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قنطار 100 اوقیہ ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2766]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا
سب سے بابرکت عورت وہ ہے جس کا مہر کم ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2767
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا عفّان، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرني عمر بن طُفيل بن سَخْبرة المدني، عن القاسم بن محمد، عن عائشة، أنَّ النبي ﷺ قال:"أعظمُ النساء بَرَكةً أيسَرُهنَّ صَدَاقًا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2732 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے زیادہ بابرکت وہ خاتون ہے جس کا مہر سب سے کم ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2767]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2768
أخبرني محمد بن عبد الله بن قُريش، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو ثَوْر، حدثنا إبراهيم بن خالد الصنعاني، حدثنا عبد الله بن مصعب بن ثابت، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: زَوَّج رسول الله ﷺ رجلًا امرأةً بخاتم من حديد فَصُّهُ فِضّةٌ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2733 - صحيح
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی ایک عورت کے ساتھ لوہے کی ایک انگوٹھی کے عوض شادی کرائی جس کا نگینہ چاندی کا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2768]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2769
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت البُناني، حدثني عمر بن أبي سلمة، عن أمه أم سَلَمة، قالت: قال رسول الله ﷺ:"مَن أصابَه مُصيبةٌ فليقُل: إنا لله وإنا إليه راجعون، اللهم عندك أحتسِبُ مُصيبتي، فأْجُرْنِي فيها وأَبدِلْني خيرًا منها"، فلما مات أبو سلمة قُلتُها، فجعلتُ كلّما بلغتُ أبدِلْني بها خيرًا منها، قلت في نفسي: ومَن خيرٌ من أبي سلمة؟! ثم قلتُها. فلما انقَضَت عِدّتُها بعثَ إليها رسولُ الله ﷺ عمرَ بنَ الخطاب يَخطُبها عليه، فقالت لابنها: يا عمرُ، قم فزَوِّجْ رسولَ الله ﷺ، فزوَّجَه، فكان رسولُ الله ﷺ يأتيها ليدخُلَ بها، فإذا رأتْه أخذت ابنتَها زينبَ فجعلتْها في حَجْرها، فيَنقلِبُ رسولُ الله ﷺ، فعَلِمَ بذلك عمارُ بن ياسر، وكان أخاها من الرَّضاعة، فجاء إليها، فقال: أين هذه المَقبُوحة المَنبُوحة التي قد آذتْ رسولَ الله ﷺ، فأخذها فذهب بها، فجاءَها (1) رسولُ الله ﷺ فدخل عليها، فجعلَ يَضرِبُ ببصره في جوانب البيت، فقال:"ما فعلتْ زُنابُ؟" قالت: جاء عمارٌ فأخذها فذهب بها. فبَنَى بها رسولُ الله ﷺ، وقال:"إني لا أنقُصُكِ شيئًا مما أعطيتُ فلانةَ: رَحَاءَينِ وجَرَّتين ومِرفَقةً حَشْوُها لِيفٌ"، وقال:"إن سَبَّعتُ لكِ، سَبَّعتُ لنسائي" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2734 - على شرط النسائي
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی کو کوئی مصیبت آئے تو وہے کہے: (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اللّٰھُمَّ عَنْدَکَ اَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِیْ، فَأْجُرْنِیْ فِیْھَا، وَاَبْدِلْنِیْ خَیْرً مِّنْھَا) ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی جانب ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے اے اللہ! میں اپنی مصیبت کا تجھ ہی سے ثواب چاہتا ہوں تو مجھے اس میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما ۔ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب ان کے شوہر) ابوسلمہ کا انتقال ہو گیا تو میں نے یہ دعا پڑھی (اور یہ دعا پڑھتے ہوئے) جب میں (اَبْدِلْنِیْ خَیْرً مِّنْھَا) کے الفاظ پر پہنچتی تو میں اپنے دل میں سوچتی کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ لیکن بہرحال میں یہ پڑھتی رہی، جب ان کی عدت گزر گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ ان کی جانب پیغام نکاح بھیجا، انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے عمر! جاؤ اور اس کا (یعنی میرا) نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دو۔ چنانچہ ان کے بیٹے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ہمبستری کے لیے تشریف لاتے تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اپنی گود میں بٹھا لیتی، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (بغیر ہمبستری کے) واپس چلے جاتے، اس بات کا عمار بن یاسر کو پتا چلا، عمار، ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے رضاعی بھائی تھے، وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور بولے: کہاں ہے یہ قبیحہ اور گالیوں کی مستحق؟ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی ہے۔ عمار اس (زینب) کو اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمرے کی چاروں جانب نظریں گھما کر دیکھا (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زینب کہیں نظر نہ آئی تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: زینب کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: عمار آئے تھے، وہ اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمبستری کی اور فرمایا: میں نے جو کچھ دوسری ازواج کو دیا تھا، تجھے اس سے کم نہیں دوں گا، وہ دو چکیاں، دو مٹکے اور ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تجھے سات چیزیں دوں تو پھر تمام بیویوں کو سات سات دوں گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2769]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. تَزْوِيجُ أَبِي طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -
سیدنا ابو طلحہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے نکاح کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2770
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم وحجاج بن مِنهال، قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت وإسماعيل بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس: أنَّ أبا طلحة خَطَب أمَّ سُلَيم، فقالت: يا أبا طلحة، ألستَ تعلمُ أنَّ إلهكَ الذي تعبُدُ خشبةٌ نَبَتَت من الأرض نَجَرَها حَبَشيُّ بني فلان؟! إن أنت أسلمتَ لم أُرِدْ منك من الصَّداق غيرَه، قال: حتى أنظُرَ في أمري، قال: فذهب ثم جاء فقال: أشهد أن لا إله إلّا الله وأشهد أنَّ محمدًا رسولُ الله، قالت: يا أنس، زَوِّج أبا طلحة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2735 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابوطلحہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کو پیغام نکاح بھیجا۔ انہوں نے جواباً کہا: اے ابوطلحہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تو جس کی عبادت کرتا ہے وہ صرف ایک لکڑی ہے جو زمین سے اُگی ہے اور فلاں قبیلے کے ایک حبشی شخص نے اس کو تراشا ہے۔ اگر تو اسلام قبول کر لے تو میں تجھ سے اس کے علاوہ اور کسی چیز کا مطالبہ نہ کروں گی۔ اس نے کہا مجھے سوچنے کی مہلت دو۔ وہ چلے گئے۔ پھر آئے اور بولے: اشھدان لا الہ الا اللہ واشھدان محمد رسول اللہ (ام سلیم رضی اللہ عنہا) نے کہا: اے انس! ابوطلحہ کے ساتھ نکاح کر دو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2770]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. التَّزْوِيجُ عَلَى الْإِسْلَامِ
اسلام پر نکاح کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2771
أخبرني أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث بن سعيد العَنْبري، حدثني أبي، حدثنا حَرْب بن ميمون، عن النضر بن أنس، عن أنس: أنَّ أمّ سليم تَزوّجت أبا طلحة على إسلامِه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2736 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ابوطلحہ کے ساتھ ان کے اسلام کے عوض نکاح کیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2771]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. مَنْ تَزَوَّجَ وَلَمْ يَفْرِضْ صَدَاقًا
جس نے نکاح کیا اور مہر مقرر نہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2772
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا إسماعيل بن الخَليل، حدثنا علي بن مُسهِر، حدثنا داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن علقمة بن قيس: أنَّ قومًا أتوا عبد الله بن مسعود، فقالوا له: إنَّ رجلًا منا تزوّج امرأةً ولم يَفْرِضْ لها صداقًا، ولم يَجمَعْها إليه حتى مات، فقال لهم عبد الله: ما سُئلتُ عن شيءٍ منذ فارقتُ رسولَ الله ﷺ أشدَّ عليَّ من هذه، فأْتُوا غيري، قالوا: فاختلفوا إليه فيها شهرًا، ثم قالوا له في آخر ذاك: مَن نسألُ إذا لم نسألك وأنت آخِيّةُ أصحاب محمد ﷺ في هذا البلد، ولا نَجِدُ غيرك، فقال: سأقول فيها بجُهد رأيي، فإن كان صوابًا فمِن الله وحدَه لا شريك له، وإن كان خطأً فمنّي، واللهُ ورسولُه منه بَريء، أَرى أن أجعلَ لها صَداقًا كصَداق نسائها، لا وَكْسَ ولا شَطَطَ، ولها الميراث، وعليها العِدّة أربعةَ أشهر وعشرًا، قال: وذلك يَسمعُ ناسٌ من أشجَعَ، فقاموا، فقالوا: نشهدُ أنك قضيتَ بمثل الذي قضى به رسولُ الله ﷺ في امرأةٍ منا يقال لها: بَرْوَعُ بنتُ واشِقٍ، قال: فما رُئِيَ عبدُ الله فَرِحَ بشيءٍ ما فرحَ يومئذٍ إلّا بإسلامه، ثم قال: اللهم إن كان صوابًا فمنك وحدَك لا شريك لك، وإن كان خطأً فمنّي ومن الشيطان، واللهُ ورسولُه منه بَريءٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2737 - على شرط مسلم
سیدنا علقمہ بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہمارے قبیلے کے ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی ہے لیکن اس نے اس عورت کا کوئی حق مہر مقرر نہیں کیا۔ اور اس کا کوئی انتظام بھی نہیں کر پایا تھا کہ اس کا انتقال ہو گیا، عبداللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد آج تک اس قدر سنجیدہ مسئلہ مجھ سے دریافت نہیں کیا گیا۔ تم کسی اور سے یہ مسئلہ پوچھ لو۔ وہ لوگ اسی سلسلہ میں پورا مہینہ سرگرداں رہے بالآخر وہ دوبارہ ان کے پاس آ کر بولے: اگر ہم مسئلہ آپ سے نہیں پوچھیں گے تو کس سے پوچھیں گے؟ اس شہر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اصحاب رضی اللہ عنہم آپ کے بھائی اور دوست ہیں۔ ہماری نظر میں آپ کے سوا اور کوئی نہیں ہے (جو اس مسئلہ کا حل بتائے) آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے میں اپنی رائے کے مطابق اس مسئلہ کا حل کروں گا، اگر وہ درست ہوا تو وہ اللہ وحدہ لاشریک کی جانب سے ہو گا اور اگر خطا ہوئی تو وہ میری طرف سے ہو گی۔ اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہوں گے۔ میرا یہ خیال ہے کہ اس عورت کا مہر اس کے خاندان کی اس جیسی دوسری عورتوں کے برابر رکھا جائے، نہ ان سے کم ہو نہ زیادہ۔ اور اس کے لیے شوہر کی وراثت بھی ہو گی اور یہ چار مہینے دس دن عدت گزارے۔ (علقمہ) فرماتے ہیں۔ قبیلہ استجع کے کچھ لوگوں نے آپ کا یہ فیصلہ سنا تو کہنے لگے: ہم گواہی دیتے ہیں: آپ نے بالکل وہی فیصلہ کیا ہے جو فیصلہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے قبیلے کی ایک بروع بنت واشق نامی خاتون کے متعلق کیا تھا۔ (علقمہ) فرماتے ہیں: اس دن عبداللہ کو جس قدر خوش دیکھا گیا، اس سے پہلے وہ اپنے اسلام لانے کے علاوہ کسی موقع پر اتنے خوش نہیں ہوئے۔ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بولے: اے اللہ! اگر یہ ثواب ہے تو یہ تیری طرف سے ہے تو واحد اور لاشریک ہے۔ اور اگر خطا ہے تو یہ میری طرف سے ہے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ ابوعبداللہ محمد بن یعقوب الحافظ سے کہا گیا: حسن بن سفیان حرملہ بن یحیی کے حوالے سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: اگر بروع بنت واشق والی حدیث صحیح ہوتی تو میں یہی موقف اپنا لیتا۔ یہ سن کر عبداللہ بولے: اگر میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ہوتا تو ان کے شاگردوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہتا: میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث صحیح ہے، لہٰذا آپ یہی موقف اپناؤ۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے جو یہ شرط لگائی ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہو اگرچہ یہ روایت صحیح ہے، کیونکہ اس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مذہب پر فتویٰ ہے۔ لیکن اس کی سند اشجع کی ایک جماعت سے منسوب ہے۔ اور ہمارے استاد ابوعبداللہ نے اس حدیث کے صحیح ہونے کا جو فیصلہ کیا ہے۔ (اس کی وجہ یہ ہے کہ) ثقہ راوی نے اس صحابی رسول کا نام ذکر کیا ہے۔ اور وہ معقل بن سنان اشجعی ہیں۔ اور درج ذیل حدیث ہماری حدیث کی صحت کی دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2772]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2772M
سمعتُ أبا عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وقيل له: سمعتَ الحسن بن سفيان يقول: سمعتُ حرملة بن يحيى يقول: سمعتُ الشافعي يقول: إن صحَّ حديث بَرْوَعَ بنتِ واشِقٍ قلتُ به. فقال أبو عبد الله: لو حضرتُ الشافعيَّ رضي الله عنه لقمتُ على رؤوس أصحابه، وقلتُ: فقد صحَّ الحديثُ، فقُلْ به. قال الحاكم: فالشافعي إنما قال: لو صحَّ الحديثُ، لأنَّ هذه الرواية وإن كانت صحيحةً فإنَّ الفتوى فيه لعبد الله بن مسعود، وسنَدُ الحديث لِنَفَر من أشجَعَ، وشيخُنا أبو عبد الله رحمه الله إنما حَكَمَ بصحّة الحديث لأنَّ الثقة قد سمَّى فيه رجلًا من الصحابة، وهو مَعقِلُ بن سِنان الأشجعي. وبصحة ما ذكرتُه:
میں نے ابوعبداللہ محمد بن یعقوب الحافظ کو سنا، ان سے کہا گیا کہ میں نے حسن بن سفیان کو یہ کہتے سنا کہ میں نے حرملہ بن یحییٰ سے سنا: امام شافعی فرماتے تھے کہ اگر بروع بنت واشق والی حدیث (جس میں شوہر کے انتقال کے بعد مہر مقرر نہ ہونے کی صورت میں مہرِ مثل کا ذکر ہے) صحیح ثابت ہو جائے تو میں بھی وہی کہوں گا جو اس حدیث میں ہے۔ اس پر ابوعبداللہ نے فرمایا: اگر میں امام شافعی کے دور میں موجود ہوتا تو ان کے شاگردوں کے درمیان کھڑے ہو کر پکارتا کہ یہ حدیث تو صحیح ثابت ہو چکی ہے، لہٰذا اب آپ بھی یہی قول اختیار فرما لیں۔ امام حاکم فرماتے ہیں: امام شافعی نے یہ (شرط) اس لیے لگائی تھی کہ اگرچہ یہ روایت درست تھی، مگر اس میں فتویٰ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تھا اور حدیث کی سند قبیلہ اشجع کے چند افراد پر مشتمل تھی۔ ہمارے شیخ ابوعبداللہ نے اس حدیث کی صحت کا حکم اس لیے لگایا کیونکہ ایک ثقہ راوی نے اس کی سند میں ایک صحابی کا نام واضح کر دیا ہے اور وہ معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ ہیں، اور جو کچھ میں نے ذکر کیا ہے اس کی صحت کے بارے میں: [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2772M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں