المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
44. نَقْلُ عِظَامِ يُوسُفَ مِنْ مِصْرَ فِي عَهْدِ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں حضرت یوسف علیہ السلام کی ہڈیوں کو مصر سے منتقل کرنا
حدیث نمبر: 4132
حدثنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخاري، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أحمد بن عِمران الأخنسي، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بُردة، عن أبي موسى: أن رسول الله ﷺ نَزَل بأعرابيٍّ فأكرمَه، فقال له:"يا أعرابيُّ، سَلْ حاجتَك"، قال: يا رسول الله، ناقةٌ برَحْلِها، وأعنُزٌ يَحلُبها أهلي، قالها مرتين، فقال له رسول الله ﷺ:"أعجَزْتَ أن تكون مثلَ عجُوزِ بني إسرائيل؟"، فقال له أصحابه: يا رسول الله، وما عَجوزُ بني إسرائيل؟ قال:"إنَّ موسى أراد أن يَسيرَ ببني إسرائيل، فأضَلَّ عن الطريق، فقال له عُلماءُ بني إسرائيل: نحن نُحدِّثك: إنَّ يوسف أخذ علينا مَواثيقَ اللهِ أن لا نَخرُج من مصرَ حتى نَنقُلَ عِظامَه معنا، قال: وأيكم يدري أين قبرُ يوسف؟ قالوا: ما ندري أين قبرُ يوسفَ إلّا عجوزُ بني إسرائيل، فأرسل إليها، فقال لها: دُلِّيني على قبر يوسف، قالت: لا والله لا أفعَلُ حتى أكونَ معك في الجنة، قال: وكَرِه رسولُ الله ما قالت، فقيل له: أعطِها حُكمَها، فأعطاها حُكمَها، فأتت بُحَيرةً، فقالت: أَنضِبُوا هذا الماءَ، فلما نَضَّبُوه، قالت: احفِرُوا هاهنا، فلما حَفَروا إذا عظامُ يُوسفَ، فلما أقلُّوها من الأرض فإذا الطريقُ مثلُ ضَوْء النهارِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کے پاس ٹھہرے تو اس نے آپ کی بہت عزت و تکریم کی۔ آپ نے اس دیہاتی سے فرمایا: اے اعرابی! تو مجھ سے اپنی حاجت کا سوال کر۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک اونٹنی کجاوہ سمیت اور کچھ بکریاں عطا فرما دیں، میرے گھر والے اس کا دودھ دوہیں گے۔ اس نے اپنا یہ سوال دو مرتبہ دہرایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا: کیا تو بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسا ہونے سے بھی عاجز ہے۔ آپ کے صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بنی اسرائیل کی بڑھیا کا کیا قصہ ہے؟ آپ نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اپنے ہمراہ لے جانے کا ارادہ کیا تو راستہ گم کر بیٹھے۔ تو آپ سے بنی اسرائیل کے علماء نے کہا: ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ جب مصر سے نکلیں گے تو میرا جسم بھی ساتھ لے کر جائیں گے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: تو تم میں سے یوسف علیہ السلام کی قبر انور کا کس کو پتہ ہے؟ انہوں نے کہا: یوسف علیہ السلام کی قبر کا صرف بنی اسرائیل کی (فلاں) عورت کو پتہ ہے۔ آپ نے اس بڑھیا کی طرف پیغام بھیجا اور کہا کہ ہمیں یوسف علیہ السلام کی قبر کا پتہ بتاؤ۔ اس نے کہا: نہیں خدا کی قسم! میں اس وقت تک نہیں بتاؤں گی جب تک آپ مجھے اپنے ساتھ جنت میں رکھنے کا وعدہ نہیں کر لیتے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی یہ بات (اس طرح برملا کہنا) اچھی نہ لگی۔ آپ سے عرض کی گئی: یہ جو کچھ مانگ رہی ہے آپ عطا فرما دیجئے۔ تو آپ نے اس کے ساتھ وعدہ کر لیا۔ وہ ان کو ایک جھیل پر لے آئی اور بولی: یہ پانی خشک کرو۔ جب انہوں نے وہ پانی خشک کر لیا تو اس نے کہا: یہاں سے کھدائی کرو۔ جب انہوں نے وہاں سے کھدائی کی تو ان کو سیدنا یوسف علیہ السلام کا جسم مبارک مل گیا۔ جب انہوں نے آپ کا جسم اطہر زمین سے نکال لیا تو (وہ گمشدہ) راستہ روز روشن کی طرح واضح ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4132]
حدیث نمبر: 4133
أخبرني أبو سعيد أحمد بن محمد الأحمسي بالكوفة، حدثنا الحسين بن حُميد بن الربيع، حدثني الحسين بن علي السُّلَمي، حدثني محمد بن حسان، عن محمد بن جعفر بن محمد، عن أبيه، قال: كان عِلمُ الله وحِكمتُه في وَرَثة إبراهيم، فعند ذلك أتى اللهُ يوسفَ بنَ يعقوب مُلكَ الأرض المقدّسة، فمَلَكَ اثنتين وسبعين سنة، وذلك قوله فيما أنزل من كتابه: ﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ﴾ الآية [يوسف: 101] (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4089 - لم يصح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4089 - لم يصح
سیدنا جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی حکمت مسلسل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ورثاء میں رہی تو اللہ تعالیٰ نے یوسف بن یعقوب علیہما السلام کو ارض مقدسہ کی حکومت عطا فرمائی، چنانچہ آپ نے 72 سال حکومت کی۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: رَبِّ قَدْ ٰاتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ (یوسف: 101) ” اے میرے رب بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا “ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4133]
45. كَانَ فِرَاقُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ ثَمَانِينَ سَنَةً
حضرت یوسف علیہ السلام کی اپنے والد سے جدائی اسی برس رہی
حدیث نمبر: 4134
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامِري، حدثنا الحسين بن علي الجُعْفي، حدثنا الفُضَيل بن عِيَاض، قال: كان بين فِراقِ يوسف حِجْرَ يعقوبَ إلى أن التَقَيا ثمانون سنةً (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4090 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4090 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یوسف علیہ السلام کے سیدنا یعقوب علیہ السلام سے جدا ہونے سے لے کر دوبارہ ملنے تک فراق کی مدت 80 سال تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4134]
حدیث نمبر: 4135
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدل، حدثنا أحمد بن نَضْر، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا زهير، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله، قال: إنما اشتُريَ يوسفُ بعشرين درهمًا، وكان أهلُه حين أَرسَلَ إليهم وهم بمصرَ ثلاثَ مئة وتسعين إنسانًا، رجالُهم أنبياءُ ونساؤهم صِدِّيقاتٌ، والله ما خرجُوا مع موسى حتى بلغوا ستَّ مئة ألف وسبعين ألفًا (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4091 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4091 - صحيح
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا یوسف علیہ السلام کو 20 درہموں میں خریدا گیا تھا اور جب آپ نے اپنے گھر والوں کو مصر میں بلوایا اس وقت ان (کے خاندان کے افراد) کی تعداد 370 تھی۔ ان میں مرد نبی تھے اور عورتیں صدیقات تھیں۔ اور خدا کی قسم! جب یہ لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ نکلے تو ان کی تعداد (670000) چھ لاکھ ستر ہزار تھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4135]
46. حُسْنُ آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَبْلَ الْمَعْصِيَةِ
حضرت آدم علیہ السلام کا گناہ سے پہلے حسن و جمال
حدیث نمبر: 4136
أخبرني أبو سعيد الأحمَسي، حدثنا الحسين بن حُميد، حدثنا مروان بن جعفر السَّمُري، حدثني حُميد بن معاذ، حدثني مُدرِك بن عبد الرحمن، حدثنا الحسن بن ذَكْوان، عن الحسن، عن سَمُرة، عن كعب، قال: ثم وُلِد ليعقوبَ يوسفُ الصِّدِّيق الذي اصطفاهُ الله واختارَه وأكرمَه، وقَسَمَ له من الجَمَالِ الثُّلثَين، وقَسَمَ بين عباده الثُّلث، وكان يُشبِه آدمَ يومَ خَلَقَهُ اللهُ وصَوَّره ونفخَ فيه من رُوحه قبل أن يُصيب المعصيةَ، فلما عصى آدمُ نُزِع منه النورُ والبهاءُ والحُسنُ، وكان الله أعطى آدمَ الحُسنَ والجَمالَ والنورَ والبهاءَ يوم خَلَقه، فلما فَعَل ما فعل وأصاب الذنبَ، نُزع ذلك منه، ثم وَهَبَ اللهُ لآدم الثُّلُث من الجمال مع التوبة الذي تاب عليه، ثم إنَّ الله أعطى يوسفَ الحُسنَ والجَمالَ والنورَ والبَهاءَ الذي كان نزعَه مِن آدم حين أصابَ الذّنْبَ، وذلك أنَّ الله أحبَّ أن يُريَ العبادَ أنه قادرٌ على ما يشاء، وأعطى يوسفَ من الحُسن والجَمال ما لم يُعطِه أحدًا من الناس، ثم أعطاهُ اللهُ العِلمَ بتأويل الرؤيا، وكان يُخبِرُ بالأمر الذي رآه في منامه أنه سيكون قبل أن يكون، عَلَّمه الله كما عَلَّم آدمَ الأسماءَ كلَّها، وكان إذا تبسَّم رأيتَ النورَ في ضَواحِكِه، وكان إذا تكلَّم رأيتَ شُعاعَ النورِ في كلامِه ويَلتهِبُ التهابًا بين ثَناياه (1) . قد اختصرتُ من أخبار يوسفَ ﵇ ما صَحَّ إليه الطريقُ، ولو أخذتُ في عجائبِ وهب بن مُنبِّه وأبي عبد الله الواقِدي لطالتِ الترجمةُ بها. ذكر النبيِّ الكَلِيم موسى بن عِمران وأخيه هارون بن عِمران
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4092 - عن سمرة عن كعب والسند واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4092 - عن سمرة عن كعب والسند واه
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر سیدنا یعقوب علیہ السلام کے ہاں یوسف الصدیق علیہ السلام پیدا ہوئے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا تھا اور منتخب فرما لیا تھا اور ان کو عزت بخشی تھی اور حسن کا دو تہائی حصہ ان کو دیا تھا اور باقی ایک تہائی پوری دنیا میں تقسیم فرمایا اور آپ سیدنا آدم علیہ السلام کی اس صورت کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے جو معصیت میں مبتلا ہونے سے پہلے اس دن تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا، ان کی صورت بنائی اور ان میں اپنی روح پھونکی تھی لیکن جب آدم علیہ السلام معصیت میں مبتلا ہوئے تو آپ کا وہ نور، وہ خوبصورتی اور وہ حسن جاتا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کو حسن و جمال اور نور اور رعب عطا فرمایا تھا لیکن جب ان سے ذنب کا ارتکاب ہوا تو یہ تمام حسن و جمال ان سے ختم ہو گیا۔ پھر جب آپ کی توبہ قبول ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ایک تہائی حسن آپ کو عطا فرما دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے وہ حسن و جمال جو سیدنا آدم علیہ السلام سے اتارا تھا وہ سیدنا یوسف علیہ السلام کو عطا فرما دیا اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو یہ دکھا دینا چاہتا ہے کہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو وہ حسن و جمال عطا فرمایا جو کسی اور انسان کو نہیں دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا اور جو کوئی خواب دیکھتا تو آپ اس کی تعبیر کرتے ہوئے مستقبل میں ہونے والے کام کی پہلے ہی خبر دے دیا کرتے تھے اور اس کے ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی خبر دے دیتا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نام سکھا دئیے تھے۔ جب سیدنا یوسف علیہ السلام مسکراتے تو آپ کے دانتوں سے نور کی شعائیں نکلتی تھیں اور جب آپ گفتگو کرتے تو آپ کے کلام میں نور نظر آتا اور آپ کے دانتوں میں روشنی نظر آتی۔ ٭٭ میں نے مختصراً سیدنا یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان کر دیا ہے اور اس کی سند بھی صحیح ہے اور اگر وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ اور ابوعبداللہ واقدی کے عجائب شروع کر دیتا تو بہت زیادہ طوالت ہو جاتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4136]
47. ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا ذکر — حضرت خضر کے ساتھ والے موسیٰ کے بارے میں اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 4137
حدثنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن شَبَّوَيهِ الرئيس بمَرْو، حدثنا جعفر بن محمد النَّيسابُوري، حدثنا علي بن مِهْران، حدثنا سلمة بن الفضل، حدثني محمد بن إسحاق، قال: وُلِد موسى بن مِيْشا بن يوسف بن يعقوب، فتنبّأ في بني إسرائيل قبل موسى بن عِمران فيما يَزعُمون، ويزعمُ أهل التيقُّن بها أنه هو الذي طلب العالِمَ ليتعلَّمَ منه حتى أدركَ العالِمَ الذي خَرَق السفينةَ، وقَتلَ الغُلامَ، وبنى الجِدار، وموسى بن مِيْشا معه، ثم انصرف عنه حتى بَلَغَ مَا بَلَغَ (2) . قال الحاكم: هكذا يَذكُر محمد بن إسحاق، ويُستَدَلُّ بالحديث الثابت الصحيح (1) عن عمرو بن دينار عن سعيد بن جُبَير، قال: قلت لابن عبّاس: إنَّ نَوفًا (2) البِكَاليّ يزعُم أنَّ موسى صاحِبَ الخَضِر ليس موسى بنَ عِمران صاحبَ بني إسرائيل، إنما هو موسى آخر، فقال ابن عبّاس: كَذَبَ عدوُّ الله، حدثنا أُبيُّ بن كعبٍ أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"قام موسى بنُ عِمران خَطيبًا في بني إسرائيل" الحديثَ بطولِه.
هذا حديث مُخرَّج في"الصحيحين"، وإنما حَمَلَني على ذِكْره (3) ، لأني تركتُ ذِكْرَه من الوَسَطِ. فأما موسى بن عِمران الكَلِيمُ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4093 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث مُخرَّج في"الصحيحين"، وإنما حَمَلَني على ذِكْره (3) ، لأني تركتُ ذِكْرَه من الوَسَطِ. فأما موسى بن عِمران الكَلِيمُ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4093 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سیدنا موسیٰ بن عمران علیہما السلام سے پہلے سیدنا موسیٰ بن میشا بن یوسف بن یعقوب پیدا ہوئے اور بنی اسرائیل میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ اہل تیقن کا دعویٰ ہے کہ یہ وہی سیدنا موسیٰ ہیں جو علم حاصل کرنے کے لئے عالم کو ڈھونڈتے رہے حتیٰ کہ یہ اس عالم کے پاس گئے جس نے کشتی توڑ دی تھی، بچے کو قتل کیا تھا اور دیوار تعمیر کی تھی اور موسیٰ بن میشا ان کے ہمراہ تھے اور پھر واپس آ گئے تھے اور جہاں جانا تھا وہاں چلے گے۔ ٭٭ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: محمد بن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ ایسے ہی ذکر کیا کرتے ہیں اور ثابت صحیح حدیث سے استدلال کرتے ہیں (حدیث یہ ہے) سیدنا عمرو بن دینار رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نوفل البکالی یہ سمجھتا ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام جو سیدنا خضر کے ساتھی تھے وہ موسیٰ بن عمران (جو بنی اسرائیل کے نبی تھے) نہیں ہیں بلکہ وہ تو کوئی اور موسیٰ علیہ السلام ہے۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے دشمن نے جھوٹ بولا۔"" سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: موسیٰ بن عمران بنی اسرائیل میں خطیب کے طور پر کھڑے ہوئے پھر طویل حدیث بیان کی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیحین میں موجود ہے اور میں نے اس کو یہاں پر اس لئے درج کیا ہے کہ میں نے درمیان میں اس کو چھوڑ دیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4137]
حدیث نمبر: 4138
فحدَّثَنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بِهَمَذَان، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الحَنْظَلي، حدثنا عبد الله بن داهِر بن يحيى الرازي، حدثنا أبي، عن الأعمش، عن عَبَاية الأسدي، قال: سمعتُ عبد الله بن عبّاس يقول: إنَّ الله يقول في كتابه لموسى بن عِمران: ﴿إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾، قال: ﴿وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا﴾ [الأعراف: 144 - 145] ، فكان موسى يَرى أنَّ جميع الأشياء قد أُثبتت له، كما ترون أنتم أن علماءكم قد أثبتُوا لكم كلَّ شيءٍ، وكما يُثبِتُوه، فلما انتهى موسى إلى ساحِلِ البحر لقي العالِمَ فاستَنْطَقه فأقرَّ له بفَضْل علمه ولم يَحسُده، فقال له موسى ورَغِبَ إليه: ﴿هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴾ فعَلِمَ العالِمُ أنَّ موسى لا يُطيق صحبتَه، ولا يصبر على عِلْمِه، فقال له العالِمُ: إنك لا تَستطيعُ معي صَبْرًا، ﴿وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا﴾ [الكهف: 68] ؟! فقال له موسى وهو يعتذر: ﴿سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا﴾، فعَلِم أنَّ موسى لا يَصبِرُ على عِلْمِه، فقال له: ﴿فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا﴾ فرَكِبا في السفينة فخَرَقَها العالِمُ، وكان خَرْقُها لله رِضًا ولموسى سُخْطًا، ولَقِيَ الغلامَ فقتَلَه، وكان قتلُه لله رِضًا؛ ثم ذَكَر بعضَ القصةِ والكلام، ولم يُجاوِزِ ابنَ عبّاس (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4095 - عبد الله بن داهر الرازي وأبيه رافضيان
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4095 - عبد الله بن داهر الرازي وأبيه رافضيان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں سیدنا موسیٰ بن عمران علیہما السلام کے متعلق فرماتا ہے: اِنِّی اصْطَفَیْتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِکَلٰمِیْ فَخُذْ مَآ ٰاتَیْتُکَ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ وَکَتَبْنَا لَہٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ مَّوْعِظَۃً وَّ تَفْصِیلًا لِّکُلِّ شَیْئٍ (الاعراف: 144,145) ” اے موسیٰ! میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے، تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو، اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل “ سیدنا موسیٰ علیہ السلام یہ سمجھتے تھے کہ تمام چیزیں انہیں کے لئے ثابت ہیں۔ جیسا کہ تم لوگ دیکھتے ہو کہ تمہارے علماء تمہارے لئے تمام چیزیں ثابت کرتے ہیں جیسا کہ وہ جانتے ہیں۔ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام ساحل سمندر پر پہنچے تو عالم سے ملے اور اس سے گفت و شنید کی اور اس کے علم و فضل کا اقرار کیا اور حسد نہ کیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اس کی طرف دلچسپی سے درخواست کی: کیا میں تمہارے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ تم مجھے وہ نیک باتیں سکھا دو گے جو تمہیں تعلیم ہوئیں؟ وہ عالم سمجھتا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام ان کی سنگت میں نہیں رہ سکتے اور اس کے علم پر صبر نہیں کر سکتے تو اس عالم نے ان سے کہا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے اور اس بات پر کیونکر صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے معذرت کرتے ہوئے کہا: عنقریب اللہ تعالیٰ چاہے تو تم مجھے صبر کرنے والا پاؤ گے اور میں تمہارے کسی حکم کے خلاف نہ کروں گا۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام ان کی صحبت میں رہنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور اس کے علم پر صبر نہیں کر سکتے۔ چنانچہ اس عالم نے کہا: اگر آپ میرے ساتھ رہتے ہیں تو مجھ سے کسی بات کو نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں۔ پھر یہ دونوں کشتی پر سوار ہوئے تو اس عالم نے اس کشتی کو چیر ڈالا۔ ان کا کشتی کو چیرنے کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے امتحان کے لئے تھا۔ پھر یہ ایک بچے سے ملے تو اس کو قتل کر ڈالا اور اس بچے کو قتل کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہی تھا پھر اس کے بعد مکمل قصہ اور گفتگو نقل کی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے تجاوز نہیں کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4138]
حدیث نمبر: 4139
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا حمزة الزَّيَّات، عن أبي إسحاق، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، عن أبيّ بن كَعْبٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"رحمةُ الله علينا وعلى موسى - فبدأ بنفسه - لو كان صَبَرَ لَقُصَّ علينا مِن خَبَرِه، ولكن قال: ﴿إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا﴾ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4096 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4096 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ہم پر اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے۔ انہوں نے خود ہی ابتداء کر لی اگر وہ صبر کر لیتے تو وہ ہمیں اپنا قصہ خود سناتے۔ لیکن انہوں نے کہا: اگر آئندہ میں تم سے کچھ پوچھوں تو تم میرے ساتھ نہ رہنا بے شک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہو چکا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4139]
48. ذِكْرُ وِلَادَةِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ -، ذِكْرُ تَرْبِيَةِ مُوسَى فِي حِجْرِ آسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور فرعون کی بیوی آسیہ کی گود میں ان کی پرورش کا ذکر
حدیث نمبر: 4140
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المُنعِم بن إدريس بن سِنان اليَمَاني، عن أبيه، عن وَهْب بن مُنبِّه، قال: ذِكْرُ مولد موسى بن عِمران بن قاهَث بن لاوِي بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم، وحديثُ عدوِّ الله فِرعونَ حين كان يَستعبِدُ بني إسرائيلَ في أعمالِه بمصر، وأمرِ موسى والخَضِر، قال وهبٌ: ولما حَمَلتْ أمُّ موسى بموسى كتَمَتْ أمرَها جميعَ الناسِ، فلم يَطَّلِع على حَمْلِها أحدٌ من خلق الله، وذلك شيءٌ سَتَرها (1) الله به لما أراد أن يَمُنَّ به على بني إسرائيل، فلما كانت السنةُ التي يُولَد فيها موسى بن عِمران بعثَ فرعونُ القَوابِلَ وتقدَّم إليهنّ، وفَتَّش النساء تَفتِيشًا لم يُفتِّشْهُنَّ قبلَ ذلك، وحَمَلت أمُّ موسى بموسى، فلم يَنِتَّ بطنُها (2) ، ولم يَتغيَّر لونُها، ولم يفسُد لبنُها، وكُنَّ القوابلُ لا يَعرِضْنَ لها، فلما كانتِ الليلةُ التي وُلِد فيها موسى وَلَدَتْه أمُّه ولا رَقِيبَ عليها ولا قابِلَ، ولم يَطَّلع عليها أحدٌ إلّا أخته مريم، وأوحى الله إليها: ﴿أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾ [القصص: 7] ، قال: فكتَمَتْه أمُّه ثلاثةَ أشهر تُرضِعُه في حِجْرها لا يبكي ولا يتَحرّك، فلما خافتْ عليه وعليها عَمِلتْ له تابُوتًا مُطبَقًا ومَهَّدَتْ له فيه، ثم ألقتْه في البحر ليلًا كما أمرها اللهُ، وعُمِلَ التابوتُ على عَمَلِ سُفنِ البحرِ خمسةَ أشبارٍ في خمسةِ أشبارٍ، ولم يُقيَّر، فأقبل التابوتُ يَطفُو على الماء، فألقى البحرُ التابوتَ بالساحِل في جَوف الليل. فلما أصبح فرعونُ جَلَس في مجلسِه على شاطئ النيل، فبَصُرَ بالتابُوت، فقال لمن حولَه من خَدَمِه: ائتُوني بهذا التابوت، فأَتَوه به، فلما وُضِعَ بين يديه فتحُوه، فوَجَدَ فيه موسى، قال: فلما نظر إليه فرعون قال: عِبْرانيٌّ من الأعداء، فأعْظَمَه ذلك وغاظَه، وقال: كيف أخْطى هذا الغلامُ الذَّبحَ وقد أمرتُ القَوابِلَ أن لا يَكتُمْنَ مولودًا يُولَد، قال: وكان فرعون قد استَنْكَح امرأةً من بني إسرائيل يُقال لها: آسيةُ بنتُ مُزاحِم، وكانت من خِيار النساء المعدُودات ومن بنات الأنبياء، وكانت أمًّا للمسلمين تَرحَمُهم وتتصدّق عليهم وتُعطِيهم ويدخُلُون عليها، فقالت لفرعون وهي قاعدة إلى جنبه: هذا الوليد أكبرُ من ابن سَنَةٍ، وإنما أَمرْتَ أن يُذبَحَ الوِلْدانُ لهذه السنةِ، فدَعْه يكن قُرّةَ عَين لي ولك، ﴿لَا تَقْتُلُوهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾، أَنَّ هلاكهم على يديه، وكان فِرعونُ لا يُولَد له إلَّا البنات، فاستحياهُ فرعون ورَمَقَه (1) ، وألقى الله عليه محبتَه ورأفتَه ورحمتَه، وقال لامرأته: عسى أن ينفعَك أنتِ، فأما أنا فلا أُريد نَفْعَه. قال وهب: قال ابن عبّاس: لو أنَّ عدوَّ الله قال في موسى كما قالتِ امرأتُه آسية: ﴿عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا﴾ لَنفعَهُ اللهُ به، ولكنه أبى للشَّقاء الذي كتبَه اللهُ عليه. وحَرَّم اللهُ على موسى المَراضِعَ ثمانيةَ أيامٍ ولياليَهنَّ، كلما أُتِي بِمُرضِعةٍ لم يَقبَلْ ثَدْيَها، فرَقَّ له فرعونُ ورحِمَه، وطُلِبتْ له المَراضِعُ. وذَكَر وهبٌ حُزنَ أمِّ موسى وبُكاءَها عليه، حتى كادتْ أن تُبْدِيَ به، ثم تَدارَكَها الله برحمتِه، فرَبَطَ على قلبِها إلى أن بلغها خَبَرُه، فقالت لأُختِه: تَنكَّري واذهبي مع الناس وانظُري ماذا يفعلون به، فدخلت أختُه مع القوابل على آسية بنت مُزاحِم، فلما رأت وَجْدَهم بموسى وحبَّهم له ورِقَّتَهم عليه، قالت: هل أدلُّكم على أهل بيتٍ يَكفُلُونه لكم وهم له ناصحون؟ إلى أن رُدَّ إلى أمِّه، فمَكَث موسى عند أمِّه حتى فَطَمَتْه، ثم ردَّتْه إليه، فنشأ موسى في حِجْر فرعون وامرأتِه يَربِّيانه بأيديهما، واتخَذَاه ولدًا، فبَيْنا هو يلعب يومًا بين يدَي فرعون وبيده قَضِيبٌ له خفيفٌ صغيرٌ يلعب به، إذ رفع القَضِيبَ فضرب به رأسَ فرعون، فغَضِب فِرعون وتَطَيَّر مِن ضَرْبِه حتى همَّ بقتله، فقالت آسيةُ بنت مُزاحِم: أيها الملِك، لا تغضب ولا يَشُقَّنَّ عليك، فإنه صبيٌّ صغير لا يَعقِل جَرِّبه إن شئتَ اجعلْ في هذا الطَّسْتِ جَمْرةً وذَهبًا، فانظُرْ على أيِّهما يَقبِض، فأمَر فِرعون بذلك، فلما مَدّ موسى يدَه ليقبِضَ على الذَّهَب قبض المَلَكُ المُوكَّل به على يدِه فردَّها إلى الجَمْرة، فقبض عليها موسى فألقاها في فيه، ثم قَذَفَها حين وَجَدَ حرارتَها، فقالت آسيةُ لفرعون: ألم أقل لك: إنه لا يَعقِل شيئًا ولا يَعلَمُه، وكَفَّ عنه فرعونُ وصَدَّقها، وكان أَمر بقَتْله، ويقال: إنَّ العُقدة التي كانت في لسان تلك أثرُ تلك الجَمْرةِ التي الْتَقَمَها. قال وهب بن مُنبِّه: ولما بلغ موسى أشُدَّه وبلغ أربعين سنةً آتاهُ الله عِلْمًا وحُكْمًا وفَهْمًا، فَلَبِثَ بذلك اثنتي عشرة سنة، فلما تمَّت له ثلاثون سنة، دعا إلى دِين إبراهيم وشرائعِه وإلى دِين إسحاقَ ويعقوبَ، فآمنت به طائفة من بني إسرائيل، ثم ذَكَرَ القصة بطولها (1) .
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے موسیٰ بن عمران بن قاہت بن لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام کی ولادت کا واقعہ اور اللہ تعالیٰ کے دشمن فرعون کا قصہ جب وہ بنی اسرائیل سے اپنے اعمال میں اپنی عبادت کرواتا تھا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا خضر کا واقعہ مروی ہے۔ چنانچہ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو حمل ہوا (جس سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے) تو انہوں نے یہ معاملہ ہر کسی سے پوشیدہ رکھا اور اپنے حمل کے متعلق اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کو نہ بتایا اور یہی چیز تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے چھپایا کیونکہ وہ اس کے ذریعے بنی اسرائیل پر احسان کرنا چاہتا تھا۔ جب وہ سال شروع ہوا جس میں سیدنا موسیٰ بن عمران علیہما السلام پیدا ہوئے تو فرعون نے دائیاں بھیجیں جو عورتوں کی اس قدر سختی سے چھان بین کرتیں کہ اس سے پہلے کبھی ایسی تفتیش نہ ہوئی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ حاملہ ہوئیں، حمل میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام تھے تو آپ کی والدہ کا نہ تو پیٹ بڑھا ہوا اور نہ ان کا رنگ بدلا اور نہ ان کے دودھ میں کوئی فرق آیا یہی وجہ ہے کہ دائیاں ان کی جانب توجہ نہیں دیتیں تھیں۔ جب وہ رات آئی جس میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے، تو اس رات نہ کوئی وہاں نگران تھا نہ کوئی دائی تھی اور ان (سیدنا موسیٰ علیہ السلام والدہ) کی بہن کے سوا کسی کو بھی اس معاملہ کا پتہ نہ چلا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف الہام فرمایا کہ اسے دودھ پلائیں پھر جب تجھے اس سے اندیشہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور نہ ڈر اور غم نہ کر بے شک ہم اسے تیری طرف پھیر لائیں گے اور اسے رسول بنائیں گے آپ کی والدہ نے تین مہینے تک آپ کو دودھ پلایا، آپ نہ روتے تھے اور نہ حرکت کرتے۔ پھر جب ان کی والدہ نے ان کے اور خود اپنے متعلق خوف محسوس کیا تو ان کے لئے ایک مضبوط (واٹر پروف) صندوق بنایا اور اس میں ان کے لئے بستر بچھا کر اس میں لٹا دیا اور پھر یہ صندوق اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق رات کے وقت دریا میں ڈال دیا، یہ تابوت کشتی کی طرز پر پانچ بالشت مربع سائز میں بنایا گیا تھا جبکہ اس میں تارکول نہیں ملایا گیا تھا۔ یہ تابوت پانی پر تیرے لگا، دریا نے یہ تابوت رات کے اندھیرے میں ساحل پر پہنچا دیا۔ جب صبح ہوئی تو فرعون دریائے نیل کے کنارے اپنی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے تابوت کو دیکھ لیا اور اپنے خدام سے کہا: یہ تابوت میرے پاس لے کر آؤ۔ انہوں نے تابوت لا کر فرعون کے سامنے رکھ دیا، جب اس کو کھولا تو اس میں موسیٰ علیہ السلام موجود تھے۔ جب فرعون نے آپ کو دیکھا تو بولا: یہ تو مجھے میرے دشمنوں میں سے لگتا ہے وہ اس سے بہت گھبرایا اور بہت غصہ میں کہنے لگا: یہ بچہ ذبح ہونے سے کیسے بچ گیا باوجودیکہ میں نے دائیوں کو حکم دے رکھا ہے کہ کوئی بھی نومولود ان کی نگاہ سے اوجھل نہیں رہنا چاہیے۔ فرعون نے بنی اسرائیل کی خاتون آسیہ بنت مزاحم سے نکاح کر رکھا تھا یہ خاتون بنی اسرائیل کی گنتی کی چند نیک خواتین میں سے ایک تھیں اور بنات انبیاء میں سے تھیں۔ اس کے دل میں مسلمانوں کے لئے بہت نرم گوشہ تھا۔ یہ ان کا بہت خیال رکھتی تھیں ان پر صدقہ کرتیں اور بہت کچھ عطا کرتی رہتی تھیں اور مسلمان ان کے پاس آیا کرتے تھے، یہ اس وقت فرعون کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے فرعون سے کہا: یہ بچہ تو ایک سال سے زیادہ عمر کا لگتا ہے جبکہ تو نے اس سال کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، اس کو چھوڑ دے کہ یہ تیرے اور میرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہو جائے۔ تم لوگ اس کو قتل مت کرو، ہو سکتا ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ دے یا ہم اسے اپنا بچہ بنا لیں اور ان کو اس کا پتہ بھی نہ تھا کہ ان کی بربادی اسی کے ہاتھوں ہو گی اور فرعون کا کوئی بیٹا زندہ نہ رہتا تھا، صرف بیٹیاں زندہ بچتی تھیں، تو فرعون کے دل میں اس کا حیا آ گیا اور اس نے موسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں موسیٰ علیہ السلام کی محبت، الفت اور شفقت ڈال دی۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا: ہو سکتا ہے کہ یہ تمہیں کوئی فائدہ دے، بہرحال مجھے اس کا کوئی فائدہ نہیں چاہیے۔ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ اللہ تعالیٰ کا دشمن بھی اگر موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنی بیوی کی طرح کہہ دیتا کہ ” ہو سکتا ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ دے “ تو اللہ تعالیٰ اسے بھی فائدہ دے دیتا لیکن اس کو اس کی بدبختی نے ایسا بولنے سے روک دیا جو ازل سے ہی اس کے نصیب میں لکھی جا چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آٹھ دن اور آٹھ راتیں موسیٰ علیہ السلام پر دودھ پلانے والیاں حرام کیں۔ جب بھی کوئی دودھ پلانے کی کوشش کرتی تو آپ اس کا پستان قبول نہ کرتے۔ اس پر فرعون کو بہت ترس اور رحم آیا، اس نے آپ کے لئے دودھ پلانے والیاں منگوائیں۔ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی پریشانی اور ان کی آہ و بکا کا ذکر کیا ہے (آپ فرماتے ہیں) قریب تھا کہ وہ سب راز افشاء کر دیتی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس کا تدارک فرمایا، اس کے دل کو مضبوط کیا حتیٰ کہ اس تک سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی خبر پہنچ گئی۔ انہوں نے اپنی بہن سے کہا: تو بھیس بدل کر لوگوں کے ہمراہ وہاں پر جا اور دیکھ وہ کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کی بہن دوسری دائیوں کے ہمراہ آسیہ بنت مزاحم کے پاس گئی۔ وہاں پر اس نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کی محبت اور شفقت دیکھی تو بولی: میں تمہیں ایک ایسا گھر بتا سکتی ہوں جو نیک جذبات کے ساتھ اس کی کفالت کر سکتے ہیں۔ المختصر کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو ان کی ماں کی طرف لوٹا دیا۔ اس طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام دودھ پینے کا پورا عرصہ اپنی ماں کے پاس رہے۔ جب وہ کھانا وغیرہ کھانے کے قابل ہو گئے تو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ فرعون کے سپرد کر دیا پھر موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کی بیوی کی گود میں پلتے رہے، وہ دونوں اپنے ہاتھوں سے ان کی پرورش کرتے رہے اور انہوں نے آپ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس کھیل رہے تھے، آپ کے ہاتھ چھوٹی سی ڈنڈی تھی، جس کے ساتھ آپ کھیل رہے تھے، اچانک آپ نے وہ ڈنڈی فرعون کے سر میں دے ماری، فرعون نے آپ کی اس مار پر بہت غور و فکر کیا، اور بالآخر آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا، تو آسیہ بنت مزاحم بولیں: اے بادشاہ! غصہ مت کیجئے! اور یہ بدبختی اپنے اوپر مت ڈالئے کیونکہ یہ تو چھوٹا ناسمجھ بچہ ہے۔ اگر تو چاہتا ہے تو اس کو آزما لے، میں اس تھال میں سونا اور انگارہ رکھ دیتی ہوں تو دیکھ کہ یہ کس کو اٹھاتا ہے۔ فرعون اس کے لئے تیار ہو گیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے سونے کی جانب ہاتھ بڑھایا تو فرشتے نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انگارے کی طرف کر دیا۔ آپ نے وہ انگارہ اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لیا۔ پھر جب اس کی تپش محسوس ہوئی تو اسے پھینک دیا۔ سیدنا آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرعون سے کہا: میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ یہ ناسمجھ بے عقل بچہ ہے۔ اس طرح فرعون رک گیا اور آسیہ کی بات تسلیم کر گیا ورنہ اس نے تو آپ کو قتل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں جو گرہ تھی وہ اسی انگارے کی وجہ سے تھی جو آپ نے اپنے منہ میں ڈالا تھا۔ سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام جوان ہوئے اور آپ کی عمر چالیس سال کو پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم، حکمت (نبوت) اور فہم و فراست عطا فرمائی تو آپ وہاں پر 12 سال تک سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کے دین اور شریعت کی تبلیغ کرتے رہے تو بنی اسرائیل کی ایک مختصر سی جماعت آپ پر ایمان لائی۔ پھر اس کے بعد تفصیلی قصہ بیان کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4140]
حدیث نمبر: 4141
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا أحمد بن يحيى الحُلْواني، حدثنا محمد بن الصَّبّاح، حدثنا إسماعيل بن زكريا، عن عاصم الأحول، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله اصطَفَى موسى بالكَلام، وإبراهيمَ بالخُلَّة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4098 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4098 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کلام کے لئے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو خلت کے منتخب فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4141]