🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. ذِكْرُ وِلَادَةِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ -، ذِكْرُ تَرْبِيَةِ مُوسَى فِي حِجْرِ آسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور فرعون کی بیوی آسیہ کی گود میں ان کی پرورش کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4142
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله البُوشَنْجِي، حدثنا مُسدَّد بن مُسرْهَد، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، عن إسماعيل بن أبي خالد [قال: أخبرني عامر] (2) عن عبد الله بن الحارث، عن كعب الأحبار، قال: إنَّ الله ﷿ قسم رؤيتَه وكلامَه بين محمد ﷺ وموسي، فرآه محمدٌ مرتَين، وكَلَّمَه موسى مرتَين (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4099 - على شرط مسلم
سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان اپنے دیدار اور اپنے کلام کو بانٹ دیا ہے۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا اور موسیٰ علیہ السلام نے دو بار اللہ تعالیٰ سے کلام کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4142]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4143
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن، حدثنا أبو ظَفَر عبد السلام بن مُطهَّر، حدثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت البُناني، عن أنس بن مالك، أنَّ النبي ﷺ قال:"موسى بن عِمران صَفِيُّ الله" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا موسیٰ بن عمران علیہما السلام صفی اللہ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4143]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4144
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد الجَلّاب، حدثنا أحمد بن بِشْر المَرْثَدي، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا حَجّاج، عن أبي مَعْشَر، عن أبي الحُويرِث عبد الرحمن بن معاوية، قال: مكث موسى بعد أن كَلّمه الله أربعين يومًا لا يراه أحدٌ إِلَّا مات (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4101 - إسناده لين
ابوالحویرث عبدالرحمن بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے بعد سیدنا موسیٰ علیہ السلام چالیس دن تک زندہ رہے اور اس کے بعد وفات تک آپ کو کسی نے نہیں دیکھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4144]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. سُؤَالُ مُوسَى رُؤْيَةَ الرَّبِّ وَصَعْقُهُ عِنْدَ التَّجَلِّي
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا رب کو دیکھنے کا سوال اور تجلی کے وقت بے ہوش ہو جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4145
أخبرني محمد بن إسحاق العدل، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ موسى بن عمران، لما كلَّمه ربُّه أحبَّ أن ينظر إليه، فقال: ﴿رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِي وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي﴾ [الأعراف:143] ، فحَفَّ حولَ الجبل الملائكة، وحَفَّ حول الملائكة بنارٍ، وحَفَّ حول النار بملائكةٍ، وحَفَّ حول الملائكة بنارٍ، ثم تجلَّى ربُّك للجبل، ثم تجلَّى منه مثل الخِنْصِر، فجعل الجبل دَكًّا، وخَرَّ موسى صَعِقًا ما شاء الله، ثم إنه أفاق فقال: ﴿سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ﴾. يعني أولَ مَنْ آمَنَ مِن بني إسرائيل (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4102 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا موسیٰ بن عمران علیہما السلام کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا تو آپ کے دل میں اس کے دیدار کی خواہش پیدا ہوئی۔ آپ نے عرض کی: اے میرے رب! مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں۔ فرمایا: تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔ ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھے گا۔ پھر پہاڑ کے گرد فرشتوں نے گھیرا ڈال لیا اور فرشتوں کے گرد آگ کا حالہ بنا دیا گیا اور آگ کو فرشتوں نے گھیرا ڈال لیا اور ان فرشتوں کے گرد بھی آگ نے گھیرا ڈالا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی مقدار تجلی ڈالی جس کی وجہ سے پہاڑ پاش پاش ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے، جتنی دیر اللہ نے چاہا (آپ بے ہوش گرے پڑے رہے) پھر آپ کو ہوش آیا تو بولے: پاکی ہے تجھے۔ میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں یعنی بنی اسرائیل کے ایمان لانے والوں میں سے میں سب سے پہلا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4145]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4146
حدثنا بَكْر بن محمد بن حَمْدانِ الصَّيْرفي بمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا خلف بن الوليد الجَوهَري، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله بن مسعود، قال: ذُكِرتْ لي الشجرةُ التي أَوى إليها موسى نبيُّ الله صلَّى الله عليه، فسِرْتُ إليها يومَين وليلتَين، ثم صبَّحتُها، فإذا هي خضراءُ تَرِفُّ (1) ، فصلَّيتُ على النبي ﷺ وسَلّمتُ، فأهوى إليها بَعِيري وهو جائع، فأخذ منها مِلءَ فِيهِ وهو جائع، فلاكَهُ، فلم يَستطِع أن يُسِيغَه فلَفَظَه، فصليتُ على النبي ﷺ وانصرفْتُ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4103 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے اس درخت کا پتہ چلا جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے پناہ لی تھی تو میں دو دن اور دو راتوں کا سفر کر کے وہاں پہنچا تو وہ سرسبز تھا، لہلہا رہا تھا۔ تو میں نے نبی پر درود شریف پڑھا۔ میرا اونٹ بھوکا تھا، اس نے اس درخت کی خواہش کی۔ اس نے منہ بھر اس کے پتے اپنے منہ میں لئے اور چبانا شروع کیے لیکن وہ ان کو نگل نہ سکا تو اس نے ان کو اگل دیا۔ میں نے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھا اور واپس لوٹ آیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4146]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4147
حدثنا إسماعيل بن علي الخُطَبي ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا محمد بن عبد الله الخُزاعي، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ تلا هذه الآية: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ﴾ [الأعراف: 143] - أشار حمادٌ ووضع إبهامَه على مَفصِل الخِنْصِر. قال:"فَساخَ الجبَلُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حماد بن سلمہ رضی اللہ عنہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا (الاعراف: 143) پھر حماد نے اشارہ کیا اور اپنا انگوٹھا اپنی چھنگلیا کے جوڑ پر رکھا اور فرمایا (صرف اتنی سی تجلی ڈالی تھی جس سے) پہاڑ دھنس گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4147]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4148
فحدَّثَناه الحسن بن يعقوب وإبراهيم بن عِصْمةَ، قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، عن النبي ﷺ إن شاء الله - شكَّ أبو سلمة موسى بن إسماعيل - ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا﴾ [الأعراف: 143] ، قال:"ساخَ الجبَلُ" (2) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے (ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے موسیٰ بن اسماعیل پر شک کیا ہے) آپ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو اس کو پاش پاش کر دیا۔ آپ فرماتے ہیں: پہاڑ دھنس گیا۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: حسن بن سفیان، عمران بن موسیٰ جرجانی اور احمد بن علی بن المثنی نے ہدبہ بن خالد کے حوالے سے حماد بن سلمہ سے خزاعی کی طرح حدیث روایت کی ہے اور اس میں ہدبہ کو شک نہیں ہے۔ سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ہارون بن عمران علیہما السلام فصیح اللسان، واضح البیان تھے۔ بہت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ گفتگو کرتے اور بردباری کے ساتھ عالمانہ کلام کیا کرتے تھے۔ ان کا قد سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے لمبا اور ویسے بھی آپ موسیٰ علیہ السلام سے عمر میں بھی بڑے تھے اور ان سے زیادہ جسیم تھے۔ ان کا رنگ بھی موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ سفید تھا اور ان کی تختیاں بھی زیادہ تھیں جبکہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگت کے گول جسامت والے شنوءۃ (علاقے) مردوں کی طرح تھے اور اللہ تعالیٰ نے جس کو بھی نبی بنا کر مبعوث فرمایا، اس کے داہنے بازو پر نبوت کی نشانی رکھی، سوائے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ کی مہر نبوت آپ کے کندھوں کے درمیان تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا بھی گیا تو آپ نے فرمایا: یہ مہر جو میرے کندھوں کے درمیان ہے یہ مجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی نشانیاں ہیں کیونکہ میرے بعد نہ کوئی نبی آ سکتا ہے نہ رسول۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4148]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4149
فحدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا الحسن بن سفيان وعِمران بن موسى الجُرْجاني وأحمد بن علي بن المُثنَّى، قالوا: حدثنا هُدْبة بن خالد، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، نحو حديث الخُزاعي، ولم يَشُكَّ فيه هُدبةُ (3) .
ہمیں یہ حدیث ابوعلی الحافظ نے بیان کی، انہوں نے حسن بن سفیان، عمران بن موسیٰ الجرجانی اور احمد بن علی بن مثنیٰ سے، انہوں نے ہدبہ بن خالد سے اور انہوں نے حماد بن سلمہ سے خزاعی کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، اور ہدبہ کو اس میں کوئی شک نہیں تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4149]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4150
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، قال: كان هارون بن عِمران فَصِيحَ اللسان بَيِّنَ المَنْطِق، يَتكلَّم في تُؤَدَةٍ، ويقولُ بعِلْمٍ وحِلْمٍ، وكان أطولَ من موسى طُولًا، وأكبرَهما في السِّنِّ، وكان أكثرَهما لَحْمًا وأبيضَهُما جِسْمًا وأغلظَهما ألواحًا، وكان موسى رَجُلًا جَعْدًا آدَمَ طُوالًا كأنه من رجال شَنُوءة، ولم يَبعَثِ اللهُ نبيًّا إلَّا وقد كانت عليه شامَةُ النبوة في يده اليُمْنَى إلَّا أن يكون نبيُّنا محمد ﷺ، فإنَّ شامةَ النبوة قد كانت بين كَتِفَيه، وقد سئل نبيُّنا ﷺ عن ذلك فقال:"هذه الشامةُ التي بين كَتِفَيَّ شامةُ الأنبياءِ قَبْلي، لأنه لا نَبيَّ بعدي ولا رسولَ" (1) .
وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ ہارون بن عمران (علیہ السلام) فصیح زبان اور واضح گفتگو والے تھے، وہ ٹھہر ٹھہر کر کلام فرماتے اور علم و بردباری کے ساتھ بات کرتے تھے۔ وہ قد میں موسیٰ (علیہ السلام) سے طویل تھے اور عمر میں ان سے بڑے تھے۔ وہ جسمانی طور پر ان سے زیادہ بھرے ہوئے، رنگت میں زیادہ سفید اور چوڑی ہڈیوں والے تھے۔ جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) گھنگھریالے بالوں والے، گندمی رنگت اور دراز قد تھے گویا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں۔ اور اللہ نے ایسا کوئی نبی نہیں بھیجا جس کے دائیں ہاتھ پر مہرِ نبوت نہ ہو، سوائے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرِ نبوت دونوں کندھوں کے درمیان تھی۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مہر جو میرے دونوں کندھوں کے درمیان ہے، مجھ سے پہلے کے انبیاء (کے ہاتھوں) کی مہر کی طرح ہے (جو یہاں منتقل کر دی گئی) کیونکہ میرے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی رسول۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4150]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. حِلْيَةُ مُوسَى وَهَارُونَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ -
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کی وضع قطع کا بیان، اور یہ کہ ہر نبی پر مہرِ نبوت ہوتی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4151
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد الأحمسي، حدثنا الحسين بن حُميد، حدثنا الحسين بن علي السُّلمي، حدثني محمد بن حسان، عن محمد بن جعفر بن محمد، عن أبيه قال: كان عِلمُ الله وحِكمتُه في ذُرِّية إبراهيمَ، فعند ذلك آتى اللهُ يوسفَ بن يعقوب مُلكَ الأرض المُقدَّسة، فمَلَك اثنتين وسبعين سنة، وذلك قولُه ﷿ فيما أَنزل من كتابه: ﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [يوسف: 101] ، فعند ذلك بعثَ اللهُ موسى وهارون فأورثَهما مَشارِقَ الأرضِ ومَغارِبَها ومَلَّكهما ملكًا ناعِمًا، فمَلَك موسى ومن معه من بني إسرائيل ثمان وثمانين سنة، ثم إنَّ الله أراد أن يَرُدّ ذلك عليهم، فمَلَّكَهم مَشارِقَ الأرضِ ومَغارِبَها وآتاهُم مُلكًا عظيمًا، حتى سألوا أن يَنظُروا إلى ربهم، فقالوا: ﴿أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً﴾ [النساء: 153] ، وذلك حينَ رأوا موسى كلَّمَه ربُّه وسمِعُوا، فطَلَبُوا الرؤيةَ، وكان موسى انتقَى خِيارَهم ليَشْهَدُوا له عند بني إسرائيل أنَّ ربَّه قد كَلَّمَه، فقالوا: لن نَشْهدَ لك حتى تُرِيَنا الله جَهْرةً، ﴿فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ﴾ [الذاريات: 44] (1) .
سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا علم و حکمت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ہی رہی، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف بن یعقوب علیہما السلام کو ارض مقدسہ کی حکومت عطا فرمائی چنانچہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے وہاں پر 72 سال حکومت کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رَبِّ قَدْ ٰاتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ (یوسف: 101) اے میرے رب بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا، اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا ہارون علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور ان کو زمین کے مشارق و مغارب کا وارث بنایا، ان کا ملک بہت سود مند تھا چنانچہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو 88 سال حکومت دی پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر مزید وسعت فرمائی اور ان کو زمین کے مشارق و مغارب کا مالک کر دیا اور ان کو عظیم حکومت عطا فرمائی، حتیٰ کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کر دیا اور بولے: تو ہمیں اللہ تعالیٰ کا دیدار کرا، اس کی وجہ یہ ہوئی کہ جب انہوں نے دیکھا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اپنے رب سے ہمکلام ہوتے ہیں اور انہوں نے خود سن بھی لیا تو اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مطالبہ کر دیا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان کے برگزیدہ لوگوں کو چن لیا تھا تاکہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آ کر اس بات کی گواہی دیں کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا لیکن یہ لوگ کہنے لگے: جب تک ہم خود اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ لیں گے اس وقت تمہارے حق میں گواہی نہیں دیں گے۔ تو ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ایک زور دار چیخ آئی (اور یہ لوگ مر گئے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4151]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں