المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
51. كَانَ مَلَكُ الْمَوْتِ يَأْتِي النَّاسَ عِيَانًا قَبْلَ مُوسَى
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے فرشتۂ موت لوگوں کے پاس ظاہر ہو کر آتا تھا
حدیث نمبر: 4152
حدثنا علي بن حمشاذ ومحمد بن صالح، قالا: حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا عفّان بن مُسلِم، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا عمار بن أبي عمار، قال: سمعتُ أبا هريرةَ يقول: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ مَلَكَ الموت كان يأتي الناسَ عِيانًا، فأتى موسى بنَ عِمران، فلَطَمَهُ موسى فَفَقأ عينَه، فعَرَجَ مَلَكُ الموتِ، فقال: يا رب، عبدُك موسى فَعَلَ بي كذا وكذا، ولولا كرامتُه عليك لَشَقَقْتُ عليه، فقال الله: ائتِ عبدي موسى فخَيِّرْه بين أن يَضَعَ يدَه على مَتْنِ ثَور، فله بكل شَعرةٍ وارَتْها كفُّه سنةً، وبين أن يموتَ الآن، فأتاه فخَيَّرَه، فقال موسى: فما بعدَ ذلك؟ قال: الموتُ، قال: فالآنَ إذًا، فشَمَّه شَمَّةً فقبض رُوحَه، وردَّ الله على ملك الموت (2) بَصَرَه، فكان بعد ذلك يأتي الناسَ في خُفْيةٍ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكر وفاة هارون بن عِمران، فإنه مات قبل موسى ﵉
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4107 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكر وفاة هارون بن عِمران، فإنه مات قبل موسى ﵉
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4107 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا عزرائیل علیہ السلام لوگوں کے پاس ظاہراً آیا کرتے تھے۔ اسی طرح یہ سیدنا موسیٰ بن عمران علیہما السلام کے پاس آ گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان کو تھپڑ مارا، جس کی وجہ سے ان کی آنکھ پھوٹ گئی تو ملک الموت علیہ السلام واپس چلے گئے اور عرض کی: اے میرے رب! تیرے بندے موسیٰ علیہ السلام نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا۔ اگر وہ تیری بارگاہ میں معزز نہ ہوتا تو میں اسے مشقت میں ڈال دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے کے پاس چلا جا اور اسے اختیار دے دے کہ وہ بیل کی کمر پر ہاتھ رکھیں، جتنے بال ان کے ہاتھ کے نیچے آئیں، ان میں سے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اصافہ کر دیا جائے گا یا وہ موت کے لئے تیار ہو جائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا (جو اضافی سال مجھے مل جائیں گے جب) وہ بھی گزر جائیں گے تو پھر کیا ہو گا؟ اس نے کہا: موت۔ آپ نے فرمایا: تو پھر ابھی جان نکال لے۔ ملک الموت علیہ السلام نے آپ کو ایک خوشبو سونگھائی اور ان کی روح قبض کر لی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی آنکھ لوٹا دی۔ اس کے بعد ملک الموت لوگوں کے پاس خفیہ طریقے سے آنے لگ گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4152]
52. ذِكْرُ وَفَاةِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُ مَاتَ قَبْلَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ
حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات کا ذکر
حدیث نمبر: 4153
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وَهْب بن مُنبِّه، قال: ونَعَى الله هارون لموسى حين أراد الله أن يَقبِضَه، فلما نعاهُ له حَزِنَ، فلما قُبض جَزِعَ جزعًا شديدًا، وبكى بكاءً طويلًا، فلما تَمادى في ذلك، أقبلَ الله عليه يُعزِّيه ويَعِظُه فقال له: يا موسى، ما كان يَنبَغي لك أن تَحِنَّ إلى فَقْدِ شيءٍ معي، ولا أن تستأنِسَ بِغَيري، ولا أن تَشُدَّ رُكنَك إلَّا بي، ولا أن يكون جَزَعُك هذا وبكاؤك الآن على هارون إلّا لي، وكيف تَستَوحِش إلى شيءٍ من الأشياء وأنت تسمع كلامي؟ أم كيف تَحِنُّ إلى فَقْد شيءٍ من الدنيا بعدَ إذ اصطفيتُك برسالاتي وبكلامي؟ وذكر مُناجاةً طويلة. قال: وقُبض هارون وموسى ابن سبعَ عشرةَ ومئة سنةٍ قبل أن ينقضيَ التِّيْهُ بثلاث سنين، وقُبض هارون وهو ابن عشرين ومئة سنة، فبقي موسى بعده ثلاث سنين حتى تمَّ له مئة وعشرون سنةً، وبنو إسرائيل مُتفرِّقون عليه، يَجتمِعُون له مرةً ويتفرقون أخرى (1) .
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا ہارون علیہ السلام کو وفات دینے کا ارادہ کیا تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو ان کی وفات کی اطلاع (پہلے ہی) دے دی تھی۔ جب ان کی وفات ہوئی تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام بہت رنجیدہ ہوئے اور آپ بہت روئے۔ جب آپ کو کچھ قرار آیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی اور ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اے موسیٰ علیہ السلام! میرے ہوتے ہوئے آپ کو کسی چیز کے کھونے پر اس قدر پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ میرے علاوہ کسی اور سے اس قدر انس بھی نہیں رکھنا چاہئے اور آپ کو ہمیشہ میری جانب ہی متوجہ رہنا چاہئے اور اس موقع پر آپ کو ہارون علیہ السلام کے لئے اس قدر آہ و بکا نہیں کرنی چاہئے تھی بلکہ میرا کلام سنتے ہوئے آپ کسی بھی چیز سے مانوس کیسے رہ سکتے ہیں۔ یا آپ دنیا کی کوئی چیز کھو جانے پر کیسے رو سکتے ہیں جبکہ میں نے تمہیں اپنی رسالت اور کلام کے لئے منتخب فرمایا ہے اور بہت طویل مناجات کرنے کے لئے منتخب فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اور مقام تیہ کی مدت پوری ہونے سے تین سال قبل جب سیدنا ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا تو اس وقت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی عمر 117 سال تھی جبکہ سیدنا ہارون علیہ السلام کی عمر، ان کی وفات کے وقت 120 سال تھی۔ آپ کے انتقال کے بعد تین سال تک مزید سیدنا موسیٰ علیہ السلام مقام تہیہ میں رہے۔ حتیٰ کہ آپ کی عمر بھی 120 سال مکمل ہو گئی اور بنی اسرائیل بکھرے ہوئے تھے۔ کبھی تو آپ کی بات پر اکٹھے ہو جاتے اور کبھی پھر بکھر جاتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4153]
53. رَفْعُ نَعْشِ هَارُونَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ نُزُولُهُ بِدُعَاءِ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت ہارون علیہ السلام کے جنازے کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اس کا واپس آنا
حدیث نمبر: 4154
حدثنا محمد بن إسحاق الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، في خبر ذَكَره عن أبي مالك، عن ابن عبّاس، وعن مُرَّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود، وعن ناسٍ من أصحاب النبي ﷺ: أن الله أوحَى إلى موسى بن عِمران أني مُتَوفٍّ هارون فائتِ به جَبَلَ كذا وكذا، فانطلَقَ موسى وهارون نحو ذلك الجبل، فإذا هم فيه بشجرةٍ لم يُرَ شجرةٌ مثلُها، وإذا هم ببيتٍ مَبنيٍّ، وإذا هم فيه بسَريرٍ عليه فَرْشٌ، وإذا فيه رِيحٌ طَيِّبٌ، فلما نظر هارون إلى ذلك الجبل والبيتِ وما فيه أعجَبَه، قال: يا موسى، إنِّي لأحِبُّ أن أنامَ على هذا السَّرير، قال له موسى: فنَمْ عليه، قال: إني أخافُ أن يأتيَ ربُّ هذا البيتِ فيغضبَ علَيَّ، قال له موسى: لا تَرْهَب، أنا أكفيكَ ربَّ هذا البيت فنَمْ، فقال: يا موسى، بل نَمْ معي، فإن جاء ربُّ هذا البيت غَضِبَ علَيَّ وعليك جميعًا، فلما ناما أَخَذَ هارونَ الموتُ، فلما وَجَدَ حِسَّه، قال: يا موسى، خَدَعْتَني، فلما قُبِضَ رُفِع ذلك البيتُ، وذهبتْ تلك الشَجرةُ، ورُفِعَ السريرُ إلى السماء، فلما رَجَعَ موسى إلى بني إسرائيل وليس معه هارون، قالوا: إنَّ موسى قتل هارون وحَسَده حُبَّ بني إسرائيل له، وكان هارون أكفَّ عنهم وألْينَ لهم من موسى، كان في موسى بعضُ الغِلَظِ عليهم، فلما بلغه ذلك قال لهم: وَيحَكُم إنه كان أخي، أفترَوني أقتُلُه؟ فلما أكثَروا عليه قام فصلَّى ركعتَين، ثم دعا الله فنزَل بالسريرِ، حتى نَظَروا إليه بين السماء والأرض، فصدَّقُوه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4109 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4109 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ میں ہارون علیہ السلام کو وفات دینے والا ہوں، اس لئے اس کو فلاں فلاں پہاڑ پر لے آؤ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام سیدنا ہارون علیہ السلام کو ہمراہ لے کر اس پہاڑ پر چلے گئے۔ وہاں انہوں نے ایک درخت دیکھا جو ایک مکان کی طرح تھا۔ اچانک انہوں نے اپنے آپ کو ایک چارپائی پر موجود پایا جس کے اوپر بستر بچھا ہوا تھا اور اس سے بہت عمدہ خوشبو آ رہی تھی۔ جب سیدنا ہارون علیہ السلام نے وہ پہاڑ اور مکان اور جو کچھ اس میں تھا اس کو دیکھا تو یہ سب ان کو بہت اچھا لگا اور بولے: اے موسیٰ علیہ السلام میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں اس چارپائی پر سو جاؤں، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: سو جائیے۔ سیدنا ہارون علیہ السلام نے کہا: لیکن مجھے یہ خدشہ ہے کہ اگر اس گھر کا مالک آ گیا تو وہ مجھ پر ناراض ہو گا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اس کی آپ فکر نہ کریں، اس سے میں خود نمٹ لوں گا۔ آپ سو جائیے۔ وہ بولے! آپ بھی میرے ساتھ لیٹیں تاکہ اگر اس گھر کا مالک آئے تو ہم دونوں پر ناراض ہو۔ جب وہ دونوں سو گئے تو سیدنا ہارون علیہ السلام کی وفات ہو گئی۔ جب انہوں نے اپنی موت کو محسوس کر لیا تو بولے: اے موسیٰ علیہ السلام! تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ جب ان کی روح قبض ہو گئی تو وہ مکان اوپر اٹھا لیا گیا اور وہ درخت بھی چلا گیا اور وہ چارپائی آسمانوں کی طرف اٹھا لی گئی۔ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام واپس بنی اسرائیل کی طرف آئے اور ان کے ہمراہ سیدنا ہارون علیہ السلام نہ تھے تو وہ ولے: بنی اسرائیل کی ہارون علیہ السلام کے ساتھ محبت کی وجہ سے حسد میں آ کر موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔ بنی اسرائیل، ہارون علیہ السلام سے بہت الفت رکھتے تھے اور ویسے بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بہ نسبت آپ نرم مزاج تھے جبکہ موسیٰ علیہ السلام کی طبیعت میں کچھ سختی تھی۔ جب آپ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے ان سے فرمایا: وہ تو میرے بھائی تھے، کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے اپنے بھائی کو قتل کیا ہے؟ جب ان لوگوں کی طرف سے یہ الزام زور پکڑ گیا تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے وہ چارپائی اتار دی اور ان لوگوں نے خود اپنی آنکھوں سے زمین اور آسمان کے درمیان دیکھا۔ تب انہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بات کا اعتبار کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4154]
حدیث نمبر: 4155
حدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا محمد بن شاذان الجَوْهَري، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عَبَّاد بن العَوّام، عن سفيان بن حُسين، عن الحَكَم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، عن عليٍّ في قوله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا﴾ [الأحزاب: 61] ، قال: صَعِد موسى وهارون الجبلَ، فمات هارونُ، فقالت بنو إسرائيل لموسى: أنت قَتلْتَه، كان أشدَّ حُبًّا لنا منك وألْيَنَ لنا منك، فآذَوه في ذلك، فأمر الله الملائكةَ فحمَلَتْه فَمَرُّوا به على مَجالس بني إسرائيل، حتى عَلِمُوا بموته، فدفنُوه، ولم يَعرِفْ قَبرُه إلَّا الرَّخَمُ، وإنَّ الله جعلَه أصَمَّ أبْكَمَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر وفاة موسى بن عِمران صلوات الله عليه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4110 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر وفاة موسى بن عِمران صلوات الله عليه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4110 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ ٰاذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْٓا) (الاحزاب: 69) ” اے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ ہو جانا جنہوں نے سیدنا موسیٰ کو تکلیف دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے الزامات سے ان کو بری کر دیا “ کے متعلق فرماتے ہیں: سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا ہارون علیہ السلام پہاڑ پر چڑھے تو سیدنا ہارون علیہ السلام کا وہاں انتقال ہو گیا، تو بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ تم نے ان کو قتل کیا ہے۔ ان کی ہمارے ساتھ محبت تم سے زیادہ تھی اور وہ ہم پر آپ سے زیادہ نرم بھی تھے۔ تو اس سلسلہ میں الزام لگا کر انہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ تکلیف دی تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا۔ فرشتوں نے ان کو اٹھایا اور بنی اسرائیل کی مجالس سے گزرے۔ تب ان کو سیدنا ہارون علیہ السلام کی وفات کا یقین ہوا پھر انہوں نے ان کو دفن کیا اور آپ کی قبر کو سوائے ایک ” رضم “ نامی آدمی کے اور کوئی نہیں جانتا تھا اور اس ” رضم “ کو اللہ تعالیٰ نے گونگا بہرا بنا دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4155]
54. ذِكْرُ وَفَاةِ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ذکر اور فرشتوں کا ان کی قبر کھودنا
حدیث نمبر: 4156
حدثنا أبو الحسن بن شَبَّويهِ، حدثنا أبو الفضل جعفر بن محمد بن الحارث، حدثنا علي بن مِهْران، حدثنا سلمة بن الفضل، عن محمد بن إسحاق، قال: كان صفيُّ الله موسى قد كَرِهَ الموتَ وأعظمَه، فلما كَرِهَه أحبَّ الله أن يُحبِّب إليه الموتَ ويُكرِّه إليه الحياةَ، فحُوِّلت النبوةُ إلى يُوشَع بن نُون، فكان يَغدُو إليه ويَرُوح، فيقول له موسى: يا نبيَّ الله، ما أحدَثَ اللهُ إليك؟ فيقول له يُوشَع بن نُون: يا نبي الله، ألم أصحَبْك كذا وكذا سنةً، فهل كنتُ أسألُك عن شيءٍ مما أحدَثَ اللهُ إليك حتى تكون أنت الذي تَبتدئ به وتَذكُرُه، فلما رأى ذلك موسى كَرِهَ الحياةَ وأحبَّ الموت (1) .
محمد اسحاق کہتے ہیں: سیدنا موسیٰ صفی اللہ علیہ السلام موت کو بہت ناپسند کرتے تھے اور اس سے بہت گھبراتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کے دل میں موت کی محبت اور زندگی کی نفرت پیدا کر دے تو نبوت سیدنا یوشع بن نون علیہ السلام کی طرف منتقل فرما دی تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام صبح شام ان کے پاس آیا کرتے تھے اور ان سے پوچھا کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نیا کیا حکم دیا ہے؟ تو سیدنا یوشع بن نون علیہ السلام فرماتے: اے اللہ تعالیٰ کے نبی علیہ السلام! کیا میں نے اتنے اتنے سال تمہاری صحبت اختیار نہیں کی؟ میں نے کبھی آپ سے اس طرح کے سوالات کئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نیا کیا حکم دیا؟ بلکہ آپ خود ہی اس کو بیان کیا کرتے تھے۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے یہ حالات دیکھے تو ان کو زندگی سے نفرت ہو گئی اور ان کو موت سے محبت ہو گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4156]
حدیث نمبر: 4157
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المُنعِم، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، قال: ذُكِر لي أنه كان مِن أمر وفاة صَفِيِّ الله موسى ﷺ أنه إنما كان يَستَظِلُّ في عَريشٍ ويأكُلُ ويَشربُ في نَقيرٍ من حَجَر، كما تَكْرَعُ الدابّةُ في ذلك النَّقير، تواضعًا لله، حتى أكرمَه اللهُ بما أكرمَه به من كلامِه، فكان مِن أمر وفاته أنه خرج يومًا من عَريشه ذلك لبعض حاجتِه، ولا يَعلَمُ أحدٌ مِن خَلْق الله، فمرَّ برَهْطٍ من الملائكة يَحفِرون قبرًا، فعرَفَهم فأقبل إليهم حتى وقف عليهم، فإذا هم يَحفِرون قبرًا، ولم يَرَ شيئًا قطُّ أحسنَ منه مِثلَ ما فيه من الخُضْرة والنَّضْرة والبَهْجة، فقال لهم: يا ملائكةَ الله، لمن تَحفِرون هذا القَبْرَ؟ قالوا: نَحفِرُه واللهِ لعبدٍ كريمٍ على ربّه، فقال: إنَّ هذا العبدَ مِن الله بمَنْزِلٍ، ما رأيتُ كاليوم مَضجَعًا ولا مَدْخلًا، وذلك حين حَضَرَ من الله ما حَضَرَ فِي قَبْضِه، فقالت له الملائكةُ: يا صفيَّ الله، أتُحبُّ أن تكون ذلك؟ قال: وَدِدتُ، قالوا: فانزِلْ فاضطجِعْ فيه وتَوجَّهْ إلى ربِّك، ثم تَنفَّسْ أسهلَ تَنفُّسٍ تَنفّسْتَه قطُّ، فنزل فاضطجع فيه وتوجَّه إلى ربِّه، ثم تنفَّسَ فقَبضَ اللهُ روحَه، ثم صَلَّت عليه الملائكةُ، وكان صفيُّ الله موسى صلى الله عليه زاهدًا في الدنيا راغبًا في الآخرة (1) . ذكر أيوب بن أموص نبيُّ الله المُبتلَى صلى الله عليه حدثنا الحاكمُ أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في رجب سنة إحدى وأربعِ مئةٍ:
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے واقعات میں سے یہ بھی تھا کہ آپ ایک جھونپڑی میں رہنے لگ گئے تھے اور آپ بارگاہ الٰہی میں عاجزی کے طور پر پتھر کے کھدے ہوئے ایک برتن میں کھاتے پیتے تھے جیسا کہ چوپائے اس برتن میں منہ لگا کر پانی وغیرہ پیتے ہیں۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ساتھ ہم کلامی کے شرف سے سرفراز فرمایا۔ آپ کی وفات کے واقعات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ اپنے کسی کام کے لئے اس جھونپڑی میں سے باہر نکلے۔ اس بات کا علم اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے کسی کو نہ تھا۔ آپ فرشتوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے وہ ایک قبر کھود رہے تھے۔ آپ نے ان کو پہچان لیا اور ان کی طرف چل دئیے اور ان کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔ یہ قبر کھود رہے تھے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اس قبر میں جو سبزہ، خوبصورتی اور سجاوٹ دیکھی، اس جیسی عمدگی کہیں نہ دیکھی تھی۔ آپ نے فرشتوں سے پوچھا: تم لوگ یہ قبر کس کے لئے کھود رہے ہو؟ فرشتوں نے کہا: ایک ایسے بندے کے لئے کھود رہے ہیں جو اپنے رب کی بارگاہ میں بہت عزت والا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: وہ بندہ اپنے رب کی طرف سے ایسے مرتبے پر فائز ہے کہ میں نے آج تک ایسا مقام اور ٹھکانہ نہیں دیکھا یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ کی موت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے کچھ حجابات اٹھ گئے تھے۔ فرشتوں نے آپ سے کہا: اے صفی اللہ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ یہ مقام و مرتبہ آپ کو ملے؟ آپ نے فرمایا: بالکل چاہتا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: تو آپ اس میں اتر کر لیٹ جائیں اور اپنے رب کی جانب متوجہ ہو جائیں اور اتنے آرام سے سانس لیں کہ کبھی بھی اتنے آرام سے سانس نہ لیا ہو، چنانچہ آپ اس میں اتر کر لیٹ گئے اور اپنے رب کی جانب متوجہ ہو گئے اور اسی طرح سانس لینے لگے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض فرما لی۔ پھر فرشتوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ سیدنا موسیٰ صفی اللہ علیہ السلام دنیا سے بے رغبت اور آخرت میں دلچسپی رکھنے والے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4157]
55. ذِكْرُ أَيُّوبَ بْنِ أَمُوصَ نَبِيِّ اللَّهِ الْمُبْتَلَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر — حضرت ایوب کے ماتھے پر لکھا تھا: آزمائش میں مبتلا صابر
حدیث نمبر: 4158
أخبرني أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمسي، حدثنا الحسين بن حُميد بن الربيع، حدثني مروان بن جعفر السَّمُري، حدثني حُميد بن مُعاذ، حدثنا مُدرِك بن عبد الرحمن، حدثنا الحسن بن ذَكْوان، عن الحسن بن أبي الحسن، عن سَمُرة بن جُندُب، عن كعب، قال: كان أيوب بن أموص نبيَّ الله الصابرَ الذي جَلَبَ عليه إبليسُ عدوُّ الله بجُنودِه وخَيلِه ورَجِلِه لِيَفتِنُوه ويُزيلُوه عن ذكر الله، فعصمَه اللهُ، ولم يجد إبليسُ إليه سبيلًا، فألقى اللهُ على أيوبَ السكينةَ والصبْرَ على بلائه الذي ابتلاهُ به، فسمّاه اللهُ: ﴿صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ [ص: 44] ، وكان أيوب رجُلًا طويلًا، جَعْدَ الشعر، واسعَ العَينَين، حسَنَ الخَلْقِ، وكان على جَبِينِه مكتوبٌ: المُبتلَى الصابر، وكان قصِيرَ العُنُق، عريضَ الصَّدر، غليظَ الساقَين والساعِدَين، وكان يُعطي الأرامِلَ ويَكسُوهُم، جاهدًا ناصحًا لله ﷿ (1) . قال الحاكم: قد اختلفوا في أيوب أنه في أيِّ وقت أُرسل، فقال وهب بن مُنبِّه: إنه من ولد إبراهيم بعد يوسف، وقال محمد بن إسحاق بن يسار: حدثني مَن لا أتَّهِمُ عن وهب: أنه أيوب بن أمُوص بن رَزاح بن عِيصا بن إسحاق بن إبراهيم، وذُكر عن محمد بن جَرير أنه كان قبل شعيب، وقد احتجَّ أبو بكر بن [أبي] خَيْثَمة أنه كان بعد سليمان بن داود، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4113 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4113 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ایوب بن اموص علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے وہ صابر نبی تھے جن کو آزمائش میں ڈالنے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روکنے کے لئے شیطان نے اپنی پیادہ اور سوار تمام فوجیں چڑھا ڈالیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی اور شیطان کو آپ کے فتنہ میں مبتلا کرنے کی جانب کوئی راہ نہ ملی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب سے سیدنا ایوب علیہ السلام پر نازل کردہ آزمائش میں، ان پر سکینہ اور صبر نازل فرمایا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نِعْمَ الْعَبْدُ اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ (ص: 30) ” کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا “ کے لقب سے نوازا۔ سیدنا ایوب علیہ السلام دراز قد تھے۔ آپ کے بال سیدھے، آنکھیں کشادہ تھیں، آپ حسن اخلاق کے پیکر تھے، آپ کی پیشانی مبارک پر لکھا ہوا تھا ” المبتلی الصابر “ آپ کی گردن چھوٹی تھی اور سینہ چوڑا تھا، کہنیاں اور پنڈلیاں بھری ہوئی تھیں، آپ رضائے الٰہی کی خاطر مساکین پر مہربانی کرتے اور انہیں کپڑے وغیرہ پہناتے تھے۔ نوٹ: امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس سلسلہ میں اختلاف ہے کہ سیدنا ایوب بن اموص علیہ السلام کو کون سے زمانے میں رسول بنا کر بھیجا گیا۔ سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور سیدنا یوسف علیہ السلام کے بعد ہوئے ہیں۔ اور محمد بن اسحاق بن یسار رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک غیر متہم شخص نے سیدنا وہب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان سنایا ہے کہ وہ ایوب بن اموص بن رزاخ بن عیصا بن اسحاق بن ابراہیم الخلیل ہیں۔ محمد بن جریر کا موقف ہے کہ وہ سیدنا شعیب علیہ السلام سے پہلے تھے جبکہ ابوبکر بن خیثمہ نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ آپ سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام سے پہلے تھے۔ (واللہ اعلم) [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4158]
حدیث نمبر: 4159
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرني علي بن زيد، عن يوسف بن مِهْران عن ابن عبّاس: أنَّ امرأة أيوبَ قالت له: قد والله نزلَ بى من الجَهْدِ والفاقَةِ ما أن بِعْتُ قَرْني (2) برغيف فأطعمْتُك، فادْعُ الله أن يَشفيَك، قال: ويحكِ، كنا في النَّعماء سبعين عامًا، فنحنُ في البلاء سبعَ سنين (3) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا ایوب علیہ السلام کی زوجہ نے آپ سے کہا: خدا کی قسم مجھ پر مشقت اور فاقہ مستی کی یہ کیفیت ہو چکی ہے، میرے رشتہ دار کوئی روٹی کا ٹکڑا بھیجتے ہیں تو میں وہ آپ کو کھلاتی ہوں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ آپ کو شفاء عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا: تیرا ستیاناس ہو، ہم ستر سال آسائشوں میں بھی تو رہے ہیں، اس لئے اب ستر سال آزمائش میں بھی (اللہ کا شکر ادا کر کے) گزارو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4159]
56. ذِكْرُ بَلَاءِ أَيُّوبَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش کا بیان
حدیث نمبر: 4160
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد إملاءً، حدثنا أحمد بن مِهْران حدثنا سعيد بن الحكم بن أبي مريم، حدثنا نافع بن يزيد، أخبرني عُقَيل بن خالد، عن ابن شِهَاب، عن أنس بن مالك، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ أيوبَ نبيَّ الله لَبِثَ به بَلاؤُه خمسَ عشرة سنةً، فرفَضَه القريبُ والبعيدُ، إلّا رجلَين من إخوانه، كانا من أخَصِّ إخوانِه، قد كانا يَغدُوان إليه ويَرُوحان، فقال أحدُهما لصاحبِه ذاتَ يوم: تَعلَمُ، والله لقد أذنب أيوبُ ذنْبًا ما أذنَبَه أحدٌ من العالمين، فقال له صاحبُه: وما ذاك؟ قال: منذ ثمانيةَ عشرَ سنةً لم يرحمْه اللهُ فيكشفَ عنه ما به، فلما راحا إلى أيوبَ لم يَصبِرِ الرجلُ حتى ذَكَر له ذلك، فقال أيوبُ: لا أدري ما تقول، غيرَ أنَّ الله يعلمُ أني كنتُ أمُرُّ بالرجُلَين يَتنازَعان يَذكُران الله، فأرجعُ إلى بيتي فأُكفِّرُ عنهما كراهيةَ أن يُذكَر اللهُ إلَّا في حَقٍّ، وكان يَخرُج لحاجته، فإذا قضى حاجتَه أمسكتِ امرأتُه بيدِه حتى يَبلُغَ، فلما كان ذاتَ يوم أبطأَ عليها، فأوحَى اللهُ إلى أيوبَ في مكانِه أنِ ﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾ [ص: 42] ، فاستبطأتْه، فتَلقَّتْه يَنْضُو (1) ، وأقبلَ عليها قد أذهبَ اللهُ ما به من البَلاء، وهو أحسنُ ما كان، فلما رأتْه قالت: أيْ بارَكَ اللهُ فيكَ، هل رأيتَ نبيَّ الله هذا المبتلَى؟ واللهِ على ذاك ما رأيتُ رجلًا أشبَهَ به منكَ إذ كان صحيحًا، قال: فإني أنا هُو، قال، وكان له أنْدَرَانِ: أنْدَرٌ للقمح، وأنْدَرٌ للشعير، فبعث الله سحابتَين، فلما كانت إحداهُما على أندرِ القَمْح أفرغَتْ فيه الذَّهَبَ حتى فاضَ، وأفرغتِ الأُخرى في أنْدَرِ الشعير الوَرِقَ حتى فاضَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4115 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4115 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا ایوب علیہ السلام (جو کہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے) 15 سال آزمائش میں رہے۔ اس دوران آپ کے قریب و بعید (کے تمام تعلق دار) آپ کو چھوڑ گئے۔ آپ کے صرف دو رشتہ دار جو کہ آپ کے خاص الخاص رشتہ دار تھے، وہ صبح شام آپ کے پاس آتے تھے۔ ایک دن ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم جانتے ہیں کہ یقیناً ایوب علیہ السلام نے کوئی ایسا گناہ کیا ہے جو پوری دنیا میں کسی نے نہیں کیا ہو گا۔ اس کے ساتھی نے کہا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: آج سے اٹھارہ سال پہلے کی بات ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہ کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی آزمائش ختم فرما دی تو جب وہ دونوں شام کے وقت آپ کے پاس آئے تو وہ آدمی وہ بات آپ سے کہنے سے نہ رہ سکا تو سیدنا ایوب علیہ السلام نے اس سے فرمایا: جو کچھ تم نے کہا ہے وہ مجھے تو معلوم نہیں ہے تاہم اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے دو جھگڑنے والے آدمیوں میں فیصلہ کیا تھا، وہ دونوں اللہ کی قسمیں کھا رہے تھے۔ پھر میں اپنے گھر چلا گیا تاکہ ان دونوں کی جانب سے کفارہ ادا کروں کیونکہ مجھے یہ بات ناپسند تھی کہ ناحق اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی جائے۔ سیدنا ایوب علیہ السلام قضائے حاجت کے لئے باہر جایا کرتے تھے اور فراغت کے بعد آپ کی زوجہ محترمہ آپ کو سہارا دے کر واپس گھر لاتی تھیں۔ ایک دن آپ نے کافی دیر لگا دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی کہ زمین پر اپنا پاؤں مار، یہ نہانے اور پینے کے لئے ٹھنڈا چشمہ ہے۔ آپ کی زوجہ نے بھی دیر محسوس کی۔ پھر وہ ان سے ملیں تو وہ بھی ان کی طرف متوجہ ہوئے تو ان کی تمام بیماری اللہ تعالیٰ نے ختم فرما دی تھی اور آپ پہلے کی طرح خوبصورت تھے۔ جب آپ کی زوجہ نے آپ کو دیکھا تو بولیں: اے فلاں! اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا ایوب علیہ السلام کو کہیں دیکھا ہے؟ خدا کی قسم! تیری شکل و صورت ان کی صحت کے زمانے کی صورت سے بالکل ملتی جلتی ہے، وہ بولے: میں ہی تو وہ ہوں۔ آپ کے دو کھلیان تھے ایک گندم کا اور ایک جو کا۔ اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے ان میں سے ایک گندم کے کھلیان پر سایہ فگن ہوا اور اس پر سونا برسایا اور دوسرا بادل جو کے ڈھیر پر آیا اور اس نے اس پر چاندی برسائی۔ حتیٰ کہ وہ بہہ گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4160]
57. أُمْطِرَ عَلَى أَيُّوبَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - جَرَادًا مِنْ ذَهَبٍ
حضرت ایوب علیہ السلام پر سونے کے ٹڈے برسائے گئے
حدیث نمبر: 4161
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا محمد بن أيوب وأبو مسلم وأحمد بن عمرو بن حفص، قالوا: حدثنا عمرو بن مرزوق، حدثنا همّام، عن قَتَادة، عن النضر بن أنس، عن بَشير بن نَهِيك، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، قال:"لما عافَى اللهُ أيوبَ أمطرَ عليه جَرادًا من ذَهَبٍ - أو قال: أُمطِرَ عليه - قال: فجعل يأخذُه بيده، ويجعلُه في ثَوبِه، فقيل له: يا أيوبُ، أما تَشْبَعُ؟ قال: ومَن يَشبَعُ من رحمتِك؟" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4116 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4116 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا ایوب علیہ السلام کو صحت عطا فرمائی تو ان پر سونے کی ٹڈیوں کی برسات کی تو وہ ان کو اٹھا اٹھا کر اپنے کپڑوں میں ڈالنے لگے۔ آپ سے کہا گیا: اے ایوب! کیا تو سیر نہیں ہو گا؟ تو آپ بولے: (اے اللہ!) تیری رحمت سے کون سیر ہو سکتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4161]