المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. دُعَاءُ إِسْحَاقَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
سیدنا اسحاق علیہ السلام کی وہ دعا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمائی تھی
حدیث نمبر: 4093
فأخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا أبو الحسن بن البراء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن منبِّه، قال: حديث إسحاق حين أمر الله إبراهيم أن يذبحه: وهبَ الله لإبراهيم إسحاق في الليلة التي فارقته الملائكة، فلما كان ابن سبع سنين أوحى الله إلى إبراهيم أن يذبحه ويجعله قُربانًا، وكان القُربان يومئذ يُتقبَّل ويُرفَع، فكتم إبراهيمُ ذلك إسحاق وجميع الناس وأسره إلى خليلٍ له يُقال له: العازَرُ الصِّدِّيق، وهو أول من آمَنَ بإبراهيم وقوله، فقال له الصديق: إنَّ الله لا يبتلي بمثل هذا مثلك، ولكنه يريد أن يُجرِّبَك ويَختبرك، فلا يَسُوءنَّ بالله ظَنُّك، فإنَّ الله يجعلك للناس إمامًا، ولا حول ولا قوة لإبراهيم وإسحاق إلّا بالله الرحمن الرحيم؛ فذكر وهب حديثًا طويلًا. إلى أن قال وهبٌ: وبلغني أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لقد سَبَقَ إسحاق الناسَ إلى دعوةٍ ما سبقه إليها أحدٌ، وليقومن يوم القيامة فليشفَعَن لأهل هذه الدعوة، وأقبل الله على إبراهيم في ذلك المقام، فقال: اسمع مني يا إبراهيم، يا (1) أصدق الصادقين، وقال لإسحاق: اسمع مني يا أصبَرَ الصابرين، فإني قد ابتليتكما اليوم ببلاء عظيم لم أبتل به أحدًا من خلقي: ابتليتك يا إبراهيم بالحريق فصبرت صبرًا لم يصبر مثله أحدٌ من العالمين، وابتليتك بالجهاد في وأنت وحيدٌ وضعيفٌ فصدَقْتَ وصبرت صبرًا وصِدْقًا لم يصدق مثله أحدٌ من العالمين، وابتليتك يا إسحاق بالذَّبح، فلم تبخل بنفسك، ولم تُعظم ذلك في طاعةِ أبيك، ورأيتَ ذلك هيِّنًا صغيرًا في الله، بما ترجو من حُسن ثوابه، ويُسرِّيهِ (1) حسن لقائه، وإني أعاهدكما اليوم عهدًا لا أَخِيسُ به، أما أنت يا إبراهيم، فقد وَجَبَتْ لك الخُلّة على نفسي، فأنت خليلي من بين أهل الأرض دون رجال العالمين، وهي فَضيلةٌ لم ينلها أحدٌ قبلك ولا بُدَّ أحدٌ بعدك، فخَرَّ إبراهيم ساجدًا تعظيمًا لِما سَمِعَ من قول الله مُتشكِّرًا الله، وأما أنت يا إسحاق فتمنَّ علي بما شئت، وسَلْني واحتكم أُوتِكَ سؤالك، قال: أسألك يا إلهي أن تصطفيني لنفسك، وأن تُشفِّعَني في عبادك المُوحِّدين، فلا يلقاك عبدٌ لا يُشرك بك شيئًا إلا أجرته من النار، قال له ربه: قد أوجبتُ لك ما سألت وحتّمتُ لك وِلايتك، ما وعدتكما على نفسي وعدًا لا أُخْلِفُه، وعهدًا لا أَخِيسُ به، وعطاءً هنيئًا ليس بمردود (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4049 - عبد المنعم بن إدريس لا شيء
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4049 - عبد المنعم بن إدريس لا شيء
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سیدنا اسحاق علیہ السلام کا قصہ ” کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ سیدنا اسحاق علیہ السلام کو ذبح کریں “ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو سیدنا اسحاق علیہ السلام عطا فرمائے، جس رات فرشتے ان سے جدا ہوئے۔ پھر جب سیدنا اسحاق علیہ السلام سات سال کے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ اس کو ذبح کر کے ان کی قربانی پیش کریں۔ ان دنوں قربانی کی قبولیت کی یہ نشانی تھی کہ اسے اٹھا لیا جاتا تھا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہ بات سیدنا اسحاق علیہ السلام اور تمام لوگوں سے پوشیدہ رکھی اور صرف اپنے ایک بہت قریبی دوست کو یہ راز بتایا۔ آپ کا یہی دوست سب سے پہلے آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لایا۔ اس گہرے قریبی دوست نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی آزمائش میں ہرگز نہیں ڈالے گا، البتہ وہ تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے۔ اس لئے آپ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان ہرگز نہ کیجئے کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں کا امام اور پیشوا بنانا چاہتا ہے اور کوئی ہمت اور طاقت نہیں ہے ابراہیم علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام کی، اس اللہ کے سوا جو رحمن اور رحیم ہے۔ پھر سیدنا وہب رضی اللہ عنہ نے لمبی حدیث ذکر کی یہاں تک کہ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا اسحاق علیہ السلام ایک دعا کی طرف تمام لوگوں سے آگے نکل گئے اور کوئی بھی اس میں سبقت نہ کر سکا۔ یہ قیامت کے دن اس دعا کے اہل لوگوں کی شفاعت کریں گے اور اسی مقام پر اللہ تعالیٰ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو گا اور فرمائے گا: اے اصدق الصادقین! (یعنی اے سب سچوں سے بڑے سچے) میری بات سن اور سیدنا اسحاق علیہ السلام سے فرمائے گا: اے اصبر الصابرین (یعنی اے تمام صبر کرنے والوں سے برے صبر کرنے والے) میری بات سنو! میں نے تم دونوں کو بہت بڑی آزمائش میں ڈالا، ایسی آزمائش میں تم سے پہلے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں ڈالا۔ اے ابراہیم! میں نے تمہیں آگ کی آزمائش میں ڈالا، جس پر تم نے ایسا صبر کیا کہ اس جیسا صبر دنیا میں کوئی نہ کر سکا اور تمہیں اپنی ذات کے متعلق جہاد میں مبتلا کیا حالانکہ تو اکیلا اور ضعیف تھا لیکن اس کے باوجود تم نے سچائی اختیار کی اور ایسا صبر کیا کہ اس کی مثل دنیا میں کوئی بھی صبر اور سچائی اختیار نہ کر سکا اور اے اسحاق علیہ السلام! میں نے تمہیں ذبح کی آزمائش میں ڈالا لیکن تم نے اپنی جان کا بخل نہیں کیا اور تم نے اپنے والد کی فرمانبرداری میں اس معاملہ کو بہت بڑا نہیں سمجھا بلکہ تم نے اس معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہلکا پھلکا اور چھوٹا جانا جیسا کہ وہ امید کرتا ہے کہ حسن ثواب کی اور اس کی ملاقات پر وہ خوش ہوتا ہے۔ میں آج تم دونوں سے ایک وعدہ کرتا ہوں جس کی خلاف ورزی نہیں ہو گی۔ اے ابراہیم علیہ السلام! تمہارے لئے میرے اوپر جنت واجب ہے، ساری دنیا میں تم میرے دوست ہو اور یہ ایسی فضیلت ہے جو نہ تو تم سے پہلے کسی کو نصیب ہوئی اور نہ تمہارے بعد کسی کو ملی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ انعام سن کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سجدہ شکر ادا کیا اور اے اسحاق علیہ السلام! تم مجھ سے جو چاہو مانگو میں تمہارا سوال پورا کروں گا۔ سیدنا اسحاق علیہ السلام نے عرض کی: یا الٰہی! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنے لئے چن لے اور تو اپنے توحید پرست بندوں کے حق میں میری شفاعت کو قبول فرما۔ چنانچہ تیری بارگاہ میں جو بھی آئے اور وہ مشرک نہ ہو تو اس کو دوزخ سے اپنی پناہ عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: تم نے جو سوال کیا ہے میں نے اس کو قبول کر لیا ہے اور میں تجھے تیری ولایت کی ضمانت دیتا ہوں کہ میں نے تم سے اپنے اوپر جس چیز کا وعدہ کیا ہے میں اس کی خلاف ورزی نہیں کروں گا اور تم سے ایسا عہد کیا ہے جس کو روکوں گا نہیں اور ایسی عطاء کروں گا جو واپس نہیں لی جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4093]
حدیث نمبر: 4094
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا أبو غسان النَّهْدي، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن التّمِيمي، عن ابن عباس، قوله: ﴿وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ﴾ [البقرة:124] ، قال: مناسك الحج (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وشواهدها كثيرة قد خرَّجتُها في كتاب"المناسك". ذكر لوطٍ النبي ﷺ قد اتفقت الروايات في أنه من بيت إبراهيم ﷺ، ثم اختلفوا أهو من ولده أو من ولد أخيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4050 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، وشواهدها كثيرة قد خرَّجتُها في كتاب"المناسك". ذكر لوطٍ النبي ﷺ قد اتفقت الروايات في أنه من بيت إبراهيم ﷺ، ثم اختلفوا أهو من ولده أو من ولد أخيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4050 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ اِذِ ابْتَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ (البقرۃ: 124) کے بارے میں فرمایا: (اس سے مراد) مناسک حج ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کے بہت سارے شواہد موجود ہیں جن کو میں نے کتاب المناسک میں نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4094]
26. ذِكْرُ لُوطٍ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
سیدنا لوط علیہ السلام کا ذکر — سیدنا لوط علیہ السلام کا نسب
حدیث نمبر: 4095
فأخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا أبو الحسن بن البراء، حدثنا عبد المنعم، عن أبيه، عن وهب بن منبه، قال: لما توفيت سارة تزوج إبراهيم امرأة يقال لها: حجورا، فولدت له سبعة نفرٍ: نافسُ ومدين وكيسان، ولوط وسرخ وأميم ونغشان، وذكر أيضًا في هذا الكتاب: وَهَب مدين درجات (1) لإبراهيم، وأن لوطًا كان منهم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4051 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4051 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا سارہ کا انتقال ہو گیا تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ایک حجورا نامی خاتون سے نکاح فرمایا۔ اس سے سات بچے پیدا ہوئے: (1) بافس (2) مدین (3) کیسان (4) لوط (5) سرخ (6) امیم اور (7) نعشان۔ اور اس کتاب میں سیدنا وہب رضی اللہ عنہ نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ مدین سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے درجات میں سے ہے اور لوط بھی ان میں سے ایک ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4095]
حدیث نمبر: 4096
وأخبرنا محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القناد، حدثنا أسباط بن نصر، عن السُّدِّي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: ولوطٌ النبي صلى الله عليه كان ابن أخي إبراهيم الخليل ﵉ (3) . هذا إسناد صحيح. وفي كتاب إسماعيل بن عبد الكريم عن عبد الصمد بن مَعقِل، قال: سمعت وهب بن مُنبِّه يقول: خرج إبراهيم بامرأته سارة ومعها أخوها لوط إلى أرض الشام (4) . وهو قول ثالث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4052 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4052 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا لوط علیہ السلام سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے بھتیجے تھے۔ یہ اسناد صحیح ہے اور اسماعیل بن عبدالکریم کی عبدالصمد بن مغفل سے روایت کردہ کتاب میں یہ ہے کہ وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنی زوجہ سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ہمراہ لے کر ملک شام کی طرف روانہ ہوئے تو اس وقت سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا کے بھائی لوط علیہ السلام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ یہ تیسرا قول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4096]
حدیث نمبر: 4097
حدثنا أبو الحسن بن شَبَّوَيه الرئيس، حدثنا [يحيى] (1) بن ساسَويه، حدثنا محمد بن حُميد، حدثنا سلمة بن الفضل، عن محمد بن إسحاق، قال: ولوطٌ النبي ﵇ هو لوط بن فاران (2) بن آزر بن ناحُور ابن أخي إبراهيم خليل الرحمن، والمؤتفكة هم قوم لوطٍ (3) .
محمد بن اسحاق (سیدنا لوط علیہ السلام کا نسب بیان کرتے ہوئے) کہتے ہیں: لوط النبی لوط بن فاران بن آزر بن باخورا بن اخی ابراہیم الخلیل اور ” الموتفکۃ “ سیدنا لوط کی قوم ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4097]
27. لَمْ يُبْعَثْ نَبِيٌّ قَطُّ بَعْدَ لُوطٍ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ
سیدنا لوط علیہ السلام کے بعد کوئی نبی ایسی قوم میں نہیں بھیجا گیا جو مال و دولت میں کمزور ہو
حدیث نمبر: 4098
حدثنا أحمد بن يعقوب وعبد الله بن محمد بن موسى الصَّيدلاني، قالا: حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، في قوله ﷿: ﴿أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ﴾ [هود:80] ، قال: قال رسول الله ﷺ:"رَحِمَ اللهُ لوطًا، كان يأوي إلى رُكْنٍ شديد، وما بعث الله بعده نبيًا إلّا في ثَروةٍ من قومه" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه بهذه الزيادة، إنما اتفقا على حديث الزهري عن سعيد وأبي عُبيد عن أبي هريرة مختصرًا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4054 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه بهذه الزيادة، إنما اتفقا على حديث الزهري عن سعيد وأبي عُبيد عن أبي هريرة مختصرًا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4054 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اَوْ ٰاوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ ” یا کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا۔“ کے متعلق فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سیدنا لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے، انہوں نے مضبوط پائے کی پناہ لی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا لوط علیہ السلام کے بعد ہر نبی کو اپنی قوم کے مالدار لوگوں میں مبعوث فرمایا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے اس زیادتی کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اضافے کے ساتھ نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے زہری کی سعید سے اور ابوعبید کی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختصر روایت نقل کی ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4098]
حدیث نمبر: 4099
أخبرنا محمد بن علي الصَّنْعاني، حدثنا علي بن المبارك الصَّنْعاني، حدثنا زيد بن المبارك، حدثنا محمد بن ثَور، عن ابن جريج: ﴿أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ﴾ [هود: 80] ، قال: بلغنا أنه لم يُبعث نبيٌّ قَطُّ بعد لوط إلا في ثروة من قومه (2) .
سیدنا ابن جریج رضی اللہ عنہ: ” اَوْ ٰاوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ “ کے بارے میں فرماتے ہیں: ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ سیدنا لوط علیہ السلام کے بعد ہر نبی اپنی قوم کے مالدار لوگوں میں مبعوث کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4099]
حدیث نمبر: 4100
أخبرنا محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القنَّاد، حدثنا أسباطٌ، عن السُّدِّي، قال: انطلق لوطٌ ونَزَل على أهل سَدُوم، فوجدَهم يَنكِحُون الرجال، فنزل فيهم فبعثه الله إليهم، فدعاهم ووَعَظَهم، وكان من خبرهم ما قَصَّ الله في كتابه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4056 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4056 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سدی بیان کرتے ہیں: سیدنا لوط علیہ السلام چلے اور اہل سدوم کے پاس آ کر ٹھہرے، آپ نے ان لوگوں کو دیکھا کہ مرد، مردوں کے ساتھ نکاح کرتے تھے۔ آپ وہیں قیام پذیر ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو انہی کا نبی بنا دیا۔ آپ نے ان کو دعوت دی اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان کی خبر میں سے وہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں قصہ بیان فرمایا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4100]
28. حِلْيَةُ لُوطٍ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
سیدنا لوط علیہ السلام کی وضع قطع کا بیان
حدیث نمبر: 4101
أخبرنا أحمد بن محمد الأحمسي، حدثنا الحسين بن حميد، حدثني مروان بن جعفر، حدثني حميد بن مُعاذ، حدثني مُدرِك بن عبد الرحمن، حدثنا الحسن بن ذكوان، عن الحسن، عن سُمرة، عن كَعْب الأحبار، قال: كان لوط نبي الله، وكان ابن أخي إبراهيم، وكان رجلًا أبيض حسن الوجه، دقيق الأنف، صغير الأذن، طويل الأصابع، جيّد الثَّنايا، أحسنَ الناسَ مَضْحَكًا إِذا ضحك، وأحسَنَه وأَرْزَنَه وأحكمه، وأقله أذًى لقومه، وهو حين بلغه عن قومه ما بلغه من الأذى العظيم الذي أرادوه عليه حين يقول: ﴿لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ﴾ [هود: 80] (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4057 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4057 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا لوط علیہ السلام کے نبی تھے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ آپ کا رنگ سفید تھا، چہرہ خوبصورت، ناک باریک، کان چھوٹے، انگلیاں لمبی، دانت خوبصورت، آپ کی مسکراہٹ بہت خوبصورت تھی۔ آپ سب سے زیادہ حسین، سب سے زیادہ سنجیدہ اور سب سے زیادہ انصاف پسند تھے اور اپنی قوم کو سب سے کم تکلیف دینے والے اور جب آپ کو اپنی قوم کی جانب سے شدید تکالیف پہنچیں تو بولے: کاش کہ مجھے تم پر طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4101]
29. أَحْوَالُ إِبْرَاهِيمَ وَسَارَّةَ وَلُوطٍ وَقَوْمِهِ
سیدنا لوط علیہ السلام کی قوم کے حالات کا بیان
حدیث نمبر: 4102
أخبرنا أبو عبد الله بن بُطّة، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفرج، حدثنا الواقدي، قال: وبلغنا أنَّ إبراهيم لما هاجر إلى أرض الشام وأخرجوه منها طَرِيدًا، فانطلق ومعه سارة، وقالت له: إني قد وهبتُ نفسي لك، فأوحى الله إليه أن يتزوَّجها، فكان أول وحيٍ أنزله عليه، وآمن به لوط في رهطٍ معه من قومه، وقال: ﴿إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [العنكبوت:26] ، فأخرجوه من أرض بابل آمِّين الأرضَ المقدسة، حتى ورد حَرّان، فأخرجُوه منها، حتى دَفَعُوا إلى الأردن، وفيها جَبّار من الجبارين حتى قَصَمَه الله، ثم إن إبراهيم رجع إلى الشام ومعه لوط، فنبَّأ الله لوطًا وبعثه إلى المؤتفكات رسولًا وداعيًا إلى الله، وهي خمسة مدائن، أعظمُها سَدُوما، ثم عَمُودا، ثم أرُوما، ثم صَعُورا، ثم صابورا، وكان أهل هذه المدائن أربعة آلاف ألفِ إنسان، فنزل لوطٌ سَدُوما، فلبث فيهم بضعًا وعشرين سنة يأمرهم وينهاهم ويدعوهم إلى الله وإلى عبادته، وتَرْكِ ما هم عليه من الفواحش والخبائث، وكانت الضِّيافةُ مُفتَرَضَةً على لوطٍ كما افتُرِضَت على إبراهيم وإسماعيل، فكان قومه لا يُضيفون أحدًا، وكانوا يأتون الذُّكْران من العالمين، ويدَعُون النساء، فعيَّرهم الله بذلك على لسان نبيهم في القرآن فقال: ﴿أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ (165) وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ﴾ [الشعراء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4058 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4058 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
واقدی کہتے ہیں: ہمیں یہ روایت بھی پہنچی ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جب ملک شام کی جانب ہجرت اختیار کی اور لوگوں نے آپ کو وہاں سے دھتکار کر نکال دیا تو آپ سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا کو ہمراہ لے کر چل دئیے۔ سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہا: میں نے تو اپنے کو ہبہ کر دیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ وہ ان سے نکاح کر لیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر نازل ہونے والی یہ سب سے پہلی وحی تھی اور آپ کی قوم میں سے سیدنا لوط علیہ السلام آپ پر ایمان بھی لے آئے تھے اور آپ نے کہا: میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں، بے شک وہ غالب حکمت والا ہے۔ لوگوں نے آپ کو بابل کی سرزمین سے ارض مقدسہ کی جانب نکال دیا تو آپ ” حران “ چلے گئے، لیکن وہاں سے بھی لوگوں نے آپ کو نکال دیا تو آپ اردن کی طرف تشریف لے گئے، وہاں پر ایک ظالم بادشاہ تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک فرما دیا۔ پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا لوط علیہ السلام کی معیت میں شام کی طرف لوٹ آئے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا لوط علیہ السلام کو نبوت عطا فرما کر تباہ شدہ بستیوں کی طرف رسول اور داعی الی اللہ بنا کر بھیجا۔ یہ بستیاں پانچ شہروں پر مشتمل تھیں۔ ان میں سب سے بڑا شہر سدوم تھا، پھر عمود، پھر اروم پھر صعور اور پھر صابور۔ ان شہروں کی آبادی چالیس لاکھ افراد پر مشتمل تھی۔ سیدنا لوط علیہ السلام نے سدوم میں قیام کیا اور ان میں بیس 20 سے زائد سال تک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہے، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے اور برائی و بے حیائی سے ٹوکتے رہے اور سیدنا لوط علیہ السلام پر مہمان نوازی فرض تھی جیسا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام پر فرض تھی جبکہ ان کی قوم میں مہمان نوازی کا کوئی رواج نہ تھا۔ یہ لوگ مردوں سے بدفعلی کرتے تھے اور عورتوں کے قریب بھی نہ جاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی کی زبان سے غیرت دلائی، جیسا کہ قرآن میں ہے: اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ (الشعراء: 165، 166) ” کیا مخلوق میں مردوں سے بدفعلی کرتے ہو، اور چھوڑتے ہو وہ جو تمہارے لیے تمہارے رب نے جورو (بیویاں) بنائیں “۔ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے بدفعلی کرنے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ: ان کے کچھ باغات اور کھیت وغیرہ تو ان کی رہائش کے مقام پر تھے اور کچھ باغات اور کھیت وغیرہ عین راستے پر تھے۔ ان کو ایک دفعہ شدید قحط اور بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ ان لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا کہا اگر ہم مسافروں سے اپنے پھلوں کو بچا لیں تو یہ ہمارے کھانے کے کام آئے گا۔ پھر یہ سوچنے لگے: کہ مسافروں کو کس طرح منع کیا جائے؟ آخر یہ طے ہوا کہ یہ قانون بنا لیا جائے کہ ہمارے علاقے میں جو بھی اجنبی شخص آئے، جس کو یہ پہچانتے نہ ہوں، اس کو پکڑ کر اس سے بدفعلی کرو اور اسے خوب مارو پیٹو، زمین پر گھسیٹو جب ایسا رویہ اپنایا جائے گا تو کوئی شخص بھی تمہارے شہر کی جانب نہیں آئے گا (جب ان لوگوں نے یہ طے کر لیا تو) شیطان ایک انتہائی حسین و جمیل خوبرو لڑکے کی شکل میں اس پہاڑ پر ان کے پاس آیا لوگوں نے اس کو دیکھ لیا اور اسے پکڑ کر اس کے ساتھ بدفعلی بھی کی اور بہت مارا پیٹا پھر وہ چلا گیا۔ اس کے بعد جو بھی اس طرف آتا، یہ لوگ اس کے ساتھ یہی سلوک کرتے۔ یہ ان کا طریقہ کار بن چکا تھا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا لوط علیہ السلام کو ان کی جانب بھیجا۔ سیدنا لوط علیہ السلام نے ان کو اس عمل سے روکا اور ان کو عذاب الٰہی سے ڈرایا اور کہا: کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی۔ پھر اس کے بعد سیدنا وہب نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے باقی حدیث بیان کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4102]